دربار شہباز میں عدل
  25  جنوری‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

ننھی زینب اور اس جیسی7 سے زائد معصوم بچیوں کا درندہ صفت قاتل عمران کیا پکڑا گیا کہ وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے دربار سجا کر پوری پریس کانفرنس کھڑکا ڈالی… پریس کانفرنس مردود قاتل کی گرفتاری کے اعلان تک محدود رہتی تو ممکن ہے کہ کسی کو اعتراض کی کوئی گنجائش نہ رہتی … مگر شہباز شریف نے حیرت انگیز طور پر پولیس' انتظامیہ اور ایجنسیوں کے افسران کے نام لے کر … ان کی تعریفوں کے پل باندھنا شروع کر دیئے … صرف وہ اسی پر اکتفا کرلیتے تو تب بھی خیر تھی … مگر انہوں نے تالیاں پیٹنے کے ساتھ ساتھ تالیاں بجوانا شروع کر دیں اور یہ سب کچھ اس وقت ہو رہا تھا کہ جب معصوم زینب کے والد بھی وہاں بیٹھے ہوئے تھے … ''دربار شہباز'' میں ہونے والے ''عدل شہباز'' کی یہ جھلکیاں دیکھ کر … ہر درد مند دل رکھنے والا پاکستانی یہ سوچنے پر مجبور ہوگیا ہوگا کہ جن افسران نے معصوم زینب کے قاتل تک پہنچنے کے لئے چودہ دن لگا دیئے … موذی قاتل کو گرفتار کرکے انہوں نے تو اپنا فرض ادا کیا لیکن انہیں افسران اور انتظامیہ کی موجودگی میں یہ موذی درندہ زینب سے پہلے دیگر7 بچیوں کے ساتھ درندگی کرکے … انہیں قتل کرکے پھینکتا رہا لیکن یہ سارے افسران بلکہ پوری پنجاب حکومت اس موذی درندے کو پکڑنے میں ناکام کیوں رہی؟ کوئی ''خادم اعلیٰ'' کا لاحقہ لگانے والے شہباز شریف کو بتائے کہ وہ7 بچیاں بھی انسانوں کی بیٹیاں تھیں … ان کا تعلق بھی اشرف الخلوقات سے تھا ان کے بھی ماں باپ ' بہن بھائی اورخاندان ہیں … ان جیتی جاگتی ننھی پریوں کو یہ شیطان صفت درندہ ایک ایک کرکے اپنی درندگی کا نشانہ بناکر ان کے خون آلود جسموں کوکوڑے کے ڈھیر پرپھینکتا رہا … مگر قصور کی انتظامیہ کے افسران یہ سارا ظلم ہوتا ہوا اپنی آنکھوں سے دیکھتے رہے … قصور کا مسلم لیگ (ن) کا ایم این اے ہو یا ایم پی اے ان میں سے کسی ایک نے بھی … ان 7 معصوم پریوں کے گھروں میں تعزیت تک کرنا گوارا نہ کیا … بچیوں کی مائیں روتی رہیں' بلکتی رہیں … بچیوں کے بھائی تڑپتے رہے' تاآنکہ اس شیطان صفت درندے نے معصوم پری زینب کو بھی مارا ڈالا … ''زینب'' کے کیس کا حشر بھی ممکن ہے کہ دوسری سات بچیوں کے کیسزز کی طرح ہوجاتا کہ … اگر ''میڈیا'' اس پر طوفان کھڑا نہ کر دیتا … اور قصور کے عوام اگر سڑکوں پر نکل کر سینوں پر گولیاںنہ کھاتے … تو ''زینب'' بھی بھولی بسری داستان بن جاتی۔ اپنے افسروںپر شاباشی تالیاں بجانے والے شہباز شریف کو … میڈیا اور عوام کو داد دینی چاہیے کہ جن کے دبائو پر … پنجاب حکومت کی نیندیں حرام ہوگئیں … اور یہ تالیاں بجانے کا نہ مقام تھا اور نہ کوئی موقع … بلکہ یہ تو شرمندگی کا مقام تھا کہ قانون کی رٹ نہ ہوسکنے کے باعث8 معصوم بیٹیاں اپنی عزت اور جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھیں ۔ جناب شہباز شریف کو یہ بات تسلیم کرلینی چاہیے کہ باوجود اس کے کہ وہ گزشتہ تین دہائیوں سے پنجاب کے منظرنامے پر چھائے ہوئے ہیں اور مسلسل دس سالوں سے پنجاب پر شہباز شریف کی حکومت ہے … مگر پنجاب پولیس میں کوئی خاطر خواہ بہتری نہیں لائی جاسکی … نہ تھانہ کلچر تبدیل کیا جاسکا … نہ ایس ایچ اوز اور دیگر افسران کی فرعونیت کو ختم کیا جاسکا' یہ کہہ دینا کافی نہیں ہے کہ دیگر صوبوں سے پنجاب کے حالات بہتر ہیں … یقینا بہتر ہوںگے … لیکن کسی تھانے یا کسی ادارے کی اس سے بڑھ کر نااہلی کیا ہوسکتی ہے کہ … صرف ایک کلومیٹر کے ایریا میں 8 بچیاں یکے بعد دیگرے اغواء ہوتی رہیں … ان کی آبرو لوٹنے کے بعد ان کو قتل کیا جاتا رہا … اور پھر ان کی لاشیں کوڑا کرکٹ کے ڈھیر پر پھینکی جاتی رہیں … مگر یہ سب کچھ تخت لاہور سے ایک ڈیڑھ گھنٹے کے فاصلے پر ہوتا رہا … مگر قاتل دندناتا رہا … اور پولیس سوئی رہی' انتظامیہ غافل رہی' یہ رونے کا مقام ہے … ماتم کرنے کا مقام ہے' شرمندگی کا مقام ہے … کہ زینب کے خوفناک واقعے کے بعد بھی … پنجاب اور کے پی کے سمیت ملک کے دیگر حصوں میں اس طر ح کے درجنوں مزید واقعات ہوگئے … باریاں بدل بدل کر حکمرانی کرتے رہے ' شریف برادران' بھٹو خاندان یا پھر آمر اور ڈکٹیٹر … پاکستانی قوم کی معصوم بچیوں اور بچوں کو تحفظ دینا کس کی ذمہ داری بنتی تھی؟ سگندل ڈکٹیٹر ہوںیا ظالم جمہوری حکمران … ان سب نے ''پولیس'' کو اپنی جانوں' اپنی اولادو اور محلات کے تحفظ کے لئے تو استعمال کیا … مخالفین کو مروانے اور ان پر مقدمات بنانے کے لئے تو استعمال کیا … مگر عوام تحفظ کی بھیک مانگتے رہے۔

بچیاں سب کی سانجھی ہوتی ہیں … مگر ایک تلخ سوال اٹھایا جارہاہے آخر زینب جیسے واقعات … کسی حکمران خاندان کے بچوں کے ساتھ پیش کیوں نہیں آتے؟… اس لئے کہ انہوں نے اپنی اولادوں کے تحفظ کے لئے پولیس کو وقف کر رکھا ہوتا ہے' اس لئے یہ لکھے بغیر چارہ نہیں ہے کہ سندھ پولیس بھٹو اور زرداری خاندان کی … اور پنجاب پولیس شریف خاندان کی و فادار ہے مگر عوام پولیس اور تھانے خوف سے ہی لرزہ براندام رہتے ہیں۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved