ایوان صدر میں منعقدہ تقریب کا اجمالی جائزہ
  26  جنوری‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

دین اسلام کا پرچار کرنے والے علماء کرام' دینی مدارس اور دینی تنظیموں نے ایک دفعہ پھر ثابت کر دیا کہ ... وہ ایک بیانئیے پر متحد ہوسکتے ہیں... کیا ''دیسی لبرلز'' اور قوم پرستوں کو بھی ایک ''بیانئیے'' پر متفق کیا جاسکتا ہے؟ اس سوال کا جواب کسی دوسرے وقت کے لئے اٹھا رکھتے ہیں... فی الحال 16جنوری کو ایوان صدر اور اسلام آباد میں ''پیغام پاکستان کانفرنس'' کے احوال کی طرف آتے ہیں کہ جس میں دیوبندی' بریلوی' اہلحدیث ' شیعہ اور جماعت اسلامی کے اکابرین' علماء اور مشائخ نے بھرپور انداز میں شرکت کرکے... ان لادین عناصر کا منہ بند کر دیا کہ جو خود تو ہمیشہ سیاسی' سماجی اور مذہبی انتشار اور بے حیائی و فحاشی کو پروان چڑھانے کا سبب بنتے ہیں... مگر اس کا الزام علماء دینی مدارس اور اسلام پسندوں پر دھر کر اسلام کو بدنام کرنے کی کوشش کرتے ہیں... گزشتہ دنوں مولانا فضل الرحمن خلیل روزنامہ اوصاف کے دفتر میں تشریف لائے... تو ان سے پیغام پاکستان... فتوے اور بیانیئے کے حوالے سے تفصیلی بات چیت ہوئی... پیغام پاکستان کے نام پر اٹھارہ سو سے زائد علماء کرام کے متفقہ فتوے اور قومی بیانیہ کی تشکیل میں فضل الرحمن خلیل بھی چونکہ پیش پیش رہے... اس لئے اس حوالے سے انہوں نے تفصیلی بریفنگ دی۔ پاکستان میں ہونے والے خودکش حملوں... ریاستی اداروں کے خلاف مسلح جدوجہد سیکورٹی فورسز پر ہونے والے حملوں کو... اگر کچھ گمراہ کن عناصر جہاد سے تعبیر کر رہے تھے... تو ''پیغام پاکستان'' کے متفقہ فتوے اور بیانیئے میں ان سب عناصر سے نہ صرف کھل کر اظہار لاتعلقی کیا گیا... بلکہ ان ساری باتوں کو شرعاً ناجائز اور حرام قرار دیا گیا۔ فضل الرحمن خلیل کا کہنا تھا کہ ایوان صدر میں ہونے والی ''پیغام پاکستان'' کانفرنس کا سب سے خوبصورت پہلو یہ تھا کہ ... اہلسنت' شیعہ اور سلفی علماء اور اکابرین نے متحد ہو کر... پاکستان میں نہ صرف فرقہ وارانہ نفرتوں کو پھیلانے والوں کی کمر توڑ دی... بلکہ غیروں سے اسلحہ اور فنڈز حاصل کرکے... پاکستان کی سیکورٹی فورسز پر حملے کرنے والے دہشت گردوں کو بھی بڑا واضح پیغام دے دیا کہ ... پاکستان کے تمام مسالک کے علمائ' شیوخ الحدیث... خانقاہوں کے صوفیائ' دینی مدارس کے مہتمین ' طلبائ' اساتذہ بلکہ اسلام سے محبت کرنے والا... ہر اسلام پسند ریاست پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے... اور پاکستانی ریاست پر جو بھی حملہ آور ہونے کی کوشش کرے گا... پاکستانی قوم کا ایک ایک بچہ پاک فوج کے شانہ بشانہ اس کے خلاف لڑنا اپنے ایمان کا حصہ سمجھتا ہے۔ ''پیغام پاکستان'' کے متفقہ فتوے اور قومی بیانیئے کے مندرجات پر بحث آئندہ کسی کالم میں کروں گا... (انشاء اللہ) آج کے کالم میں ایوان صدر میں منعقدہ تقریب کا اجمالی جائزہ لیتے ہیں 'ایوان صدر میں منعقدہ تقریب صدر مملکت جناب ممنون حسین کی صدارت میں ہوئی... اس تقریب میں راجہ ظفرالحق اور وزیر داخلہ سمیت ... دیگر کئی حکومتی شخصیات بھی شریک ہوئیں... مختلف اکابر علماء کے علاوہ صدر ممنون حسین نے خطاب بھی کیا۔ مگر پیغام پاکستان قومی بیانیہ کانفرنس میں سب سے خوبصورت خطاب... جمعیت علمائے اسلام کے امیر مولانا فضل الرحمن کا تھا... 16جنوری کے دن ایوان صدر میں منعقدہ کانفرنس سے مولانا فضل الرحمن کے خطاب کی بازگشت تادم تحریر ملک بھر میں سنائی دے رہی ہے... تمام مسالک کے علماء اور کارکن کہہ رہے کہ مولانا فضل الرحمن کے خطاب کو سن کر ایسے لگتا ہے کہ جیسے وہ ان کے دل کی بات ہو' ہم تو ''مولانا'' کی دلائل کے حسن سے مزین خطابت کے پہلے دن سے ہی گردیدہ ہیں... مگر پیغام پاکستان کانفرنس میں پرمغز خطاب کرکے دوست' دشمن دونوں کو ہی ''مولانا'' نے اپنا گرویدہ بنالیا' مولانا فضل الرحمن کے خطاب کی کچھ جھلکیاں نذر قارئین ہیں' ''مولانا'' نے کہا کہ ''ہمارے'' تمام اکابر پارلیمنٹ سے وابستہ رہے ... پارلیمانی سیاست سے وابستہ رہے ہیں... ہم اب بھی آج کے اس بیانیئے سے مکمل اتفاق کرتے ہیں۔ بندوق کے ذریعے شریعت کا مطالبہ غلط ہے... جو لوگ اس قسم کا مطالبہ بندوق کے ذریعے کرتے ہیں... ان سے ہزار' ہزار مرتبہ برات کا اعلان... لیکن سوال یہ ہے کہ جمہوریت اور پارلیمان کے جائز راستے سے مجھے ''شریعت'' کب ملے گی؟ آئینی راستے سے میری یہ تشنگی کب دور ہوگی؟ ریاست اس کا بھی احتساب کرے... میرا احتساب تو کرتی ہے اپنا احتساب بھی کرے... مجھ سے تو روز روز لکھوایا جاتا ہے کہ میں پاکستان کا وفادار ہوں... سوال یہ ہے کہ میرا مدرسہ' میری مسجد' میرے مدرسے کا استاد' میرے مدرسے کے طالب علم' میرے مدرسے کے قرآن و سنت کا نظام تعلیم' میری ڈاڑھی اور پگڑی پر اعتماد کب کیا جائے گا؟ وہ دن بھی تو بتا دو ہمیں' اعتماد دوطرفہ ہونا چاہیے... مدارس پر روزانہ چھاپے لگائے جارہے ہوں... آدھی رات میں طلباء کو اٹھا کر میدان میں لایا جاتا ہے... تشدد کیا جاتا ہے... مارا پیٹا جاتا ہے''

مولانا فضل الرحمن نے صدر مملکت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ''میں نے اپنی ساری سیاسی اور مذہبی زندگی اس موقف پر گزار دی ہے کہ میں دہشت گردوں اور ان مسلح تنظیموں کو اور اسلحہ کے ذریعے شریعت کی بات کرنے والوں کو تنہا کر دوں... اور ہم نے انہیں تنہا کیا ہے... آج تمام مدارس اور تمام مکاتب فکر کی تنظیمیں آپ کے ساتھ ہیں... مگر مدرسے کے اجتماعی نظام پر حملہ کیا جاتا ہے ... علماء کرام کو فورتھ شیڈول میں مستقل مجرم قرار دیا جاتا ہے... جناب صدر مملکت اگر ہم نے آپ پر اعتماد کرنا ہے تو پھر آج کے بعد آپ نے بھی ہمیں شک کی نگاہ سے نہیں دیکھنا... دونوں طرف اعتماد ہونا چاہیے تب بات چلے گی۔'' مولانا فضل الرحمن نے صدر مملکت اور دوسرے حکومتی زعماء کے سامنے مذہبی حلقوں کی ترجمانی کا حق ادا کرنے کی پوری کوشش کی... پیغام پاکستان کے فتوے اور بیانیئے کو مجموعی سطح پر ملک بھر میں سراہا جارہا ہے... اگر اس قومی بیانیئے کے مطابق... قانون سازی کی گئی تو یہ امن اور خوشحالی کی طرف تیز رفتار پیش رفت ثابت ہوگی۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
100%


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved