قادیانیت کے حوالہ سے سرکاری پالیسیوں کا یکساں تسلسل
  26  جنوری‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

(گزشتہ سے پیوستہ) ظاہر ہے یہ اقدامات قادیانیوں کے مفاد میں نہیں تھے۔ سازش اور جاسوسی جس گروہ کے ضمیر میں ہو اسے بہرحال الگ تھلگ ماحول کی ضرورت ہوتی ہے اور تحصیل اور تھانہ کے واسطے سے ہزاروں مسلمانوں کی ربوہ میں آمد و رفت یقینا قادیانیوں کی مخصوص سرگرمیوں کی راہ میں رکاوٹ تھی۔ یہ اقدامات سابقہ حکومت کے ہیں جنہیں اسلام کے نفاذ کا دعوی نہیں تھا۔ موجودہ حکومت سے توقع تو یہ تھی کہ اس کے دور میں ربوہ کو کھلا شہر قرار دینے کے فیصلوں پر نہ صرف عمل ہوگا بلکہ مزید اقدامات بھی ہوں گے۔ مگر اس احساس کو دکھ کے سوا اور کیا عنوان دیا جا سکتا ہے کہ پہلے سے طے شدہ فیصلے بھی ابھی تشنہ تکمیل ہیں اور اس وقت صورتحال یہ ہے کہ: لالیاں سب تحصیل کے ہیڈکوارٹر کو ایک سازش کے تحت ربوہ سے دوبارہ لالیاں منتقل کرایا گیا اور مسلمان عوام کے شدید احتجاج پر اب پھر سب تحصیل ربوہ لائی گئی ہے۔ مسلم کالونی کے پلاٹوں کی الاٹمنٹ کا کام ایک عرصہ سے معطل پڑا ہے اور اس تعطل کو دور کرنے کے لیے کوئی پیش رفت دیکھنے میں نہیں آرہی۔ قادیانی کلیدی اسامیوں پر اور تحریک ختم نبوت کے بنیادی مطالبات میں ایک مطالبہ یہ بھی تھا کہ فوج اور سول محکموں کی کلیدی اسامیوں پر فائز قادیانی افسران کو ان کے عہدوں سے الگ کیا جائے کیونکہ: ایک مسلمان ملک میں کلیدی عہدوں پر غیر مسلموں کو فائز نہیں کیا جا سکتا۔ قادیانی اپنے مخصوص جاسوسی کردار اور عالمی سامراجی طاقتوں کا گماشتہ ہونے کے باعث اس اعتماد کے اہل نہیں کہ انہیں کلیدی عہدوں پر فائز کیا جائے۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے جہاد کی حرمت اور منسوخی کا اعلان کیا تھا جبکہ پاکستانی فوج کی بنیاد ہی جذبہ جہاد پر ہے۔ اس لیے فوج میں قادیانی امت کے افراد کی بھرتی اور قادیانی آفیسرز کا تقرر بلاجواز اور خود ان کے عقیدے کے خلاف بلکہ پاکستان کے مجموعی مفاد کے بھی خلاف ہے۔ ملتِ اسلامیہ کے اس مطالبے پر ان قادیانیوں کو سامنے سے ہٹا لیا گیا تھا جو نمایاں کلیدی عہدوں پر فوج اور سول میں نظر آرہے تھے۔ لیکن موجودہ حکومت کے دور میں فوج اور سول دونوں شعبوں میں قادیانی افسران دوبارہ کلیدی آسامیوں پر فائز ہو چکے ہیں اور ان کے اثر و رسوخ کا یہ عالم ہے کہ وہ حکومت کی مجموعی پالیسیوں کا رخ اپنے مفادات کی طرف موڑنے پر دسترس رکھتے ہیں جیسا کہ مذکورہ بالا مثالوں سے واضح ہے۔ یہ بات ملت اسلامیہ کے لیے سب سے زیادہ پریشان کن ہے اور باخبر حلقے فوج اور سول میں کلیدی اسامیوں پر قادیانیوں کی واپسی کو جنوبی ایشیا کی موجودہ علاقائی صورتحال، اس خطہ میں عالمی طاقتوں کی بڑھتی ہوئی دلچسپی اور پاکستان کی سلامتی کو درپیش خدشات کے پس منظر میں بھی شدید خطرات کا پیش خیمہ سمجھ رہے ہیں۔ مولانا محمد اسلم قریشی کا اغوا:مولانا محمد اسلم قریشی کے اغوا اور ان کی بازیابی میں مسلسل نو ماہ کی تاخیر نے بھی مسلمانوں کے اس احساس اور شبہ کو تقویت پہنچائی ہے کہ قادیانی گروہ موجودہ حکومت کے سائے میں خود کو نہ صرف مضبوط دیکھ رہا ہے بلکہ مسلمانوں کے خلاف جارحانہ اقدامات اور اشتعال انگیز کاروائیوں کا بھی حوصلہ رکھتا ہے۔ مولانا محمد اسلم قریشی کا اغوا قادیانیوں نے کیا اور اس ضمن میں مولانا موصوف کے فرزند صہیب اسلم قریشی کو اغوا کرنے کی کوشش میں گرفتار ہونے والے شخص صفدر رانا نے کرائمز برانچ کی تفتیش میں اعتراف کیا ہے کہ وہ قادیانی گروہ کے سربراہ مرزا طاہر سے ملا ہے اور ان کے حکم پر لاہور میں ریٹائرڈ قادیانی بریگیڈیر وکیع الزمان سے ملا ہے اور پھر اس کی ہدایت پر سیالکوٹ میں صہیب اسلم قریشی سے ملاقاتوں کا سلسلہ اس نے جاری رکھا ہے۔ ملت اسلامیہ کا مطالبہ ہے کہ مرزا طاہر کو گرفتار کر کے اسلم قریشی کیس میں شامل تفتیش کیا جائے اور جب صفدر رانا نے تسلیم کیا ہے کہ مرزا طاہر اس کیس میں ملوث ہیں مگر حکومت مولانا اسلم قریشی کیس میں مرزا طاہر کو شامل تفتیش کرنے سے مسلسل گریزاں ہے بلکہ اس کیس کا رخ موڑنے کی جو کوشش کی جا رہی ہے وہ انتہائی افسوسناک بات ہے۔ ربوہ کالج کی زمین:جب ملک میں پرائیویٹ تعلیمی ادارے قومی ملکیت میں لیے گئے تو ان کے ساتھ ان کی جائیدادیں بھی قومیا لی گئیں لیکن ربوہ کے تعلیم الاسلام کالج کو قومیاتے وقت اس کے ساتھ ملحقہ کروڑوں روپے کی جائیداد کو قادیانیوں کے تصرف میں رہنے دیا گیا اور مسلمانوں کے مسلسل مطالبے کے باوجود ربوہ کالج کی زمین کو قومیانے سے عملا گریز کیا جا رہا ہے۔ ایک مرحلہ میں موجودہ حکومت کے سربراہ نے اس کے احکام جاری کر دیے تھے مگر خدا جانے وہ احکام کونسے سرد خانے میں ہیں کیونکہ ربوہ کالج کی زمین ابھی تک قادیانیوں کے تصرف میں ہے۔ یہ ہیں وہ چند واقعات اور حکومت کے اقدامات اور پالیسیوں کا تسلسل جس نے لوگوں کے ذہنوں میں شکوک و شبہات کو جنم دیا اور وہ شبہات بڑھتے بڑھتے اس موڑ پر آ پہنچے کہ بعض حلقے خود صدر محمد ضیا الحق کو قادیانی قرار دینے سے بھی نہیں ہچکچائے اور صدر موصوف کو اپنے عقیدہ اور جذبات کا اظہار کرنا پڑا۔ صدر محمد ضیا الحق کی وضاحت سے ہمیں خوشی ہوئی ہے اور ہم اس کا خیرمقدم کرتے ہیں لیکن یہ وضاحت ان کی ذات کی حد تک ہے جبکہ ان کی پالیسیوں کا مسئلہ جوں کا توں ہے اور اس وقت تک جوں کا توں رہے گا جب تک صدر کے ذاتی عقائد و جذبات کی واضح جھلک ان کی حکومت کی پالیسیوں میں نظر نہیں آتی۔

تمام مذہبی مکاتب فکر کے اکابر نے مرکزی مجلس عمل کی تشکیل کا فیصلہ اسی لیے کیا ہے کہ وہ قادیانی فتنہ کو ملک و ملت کے لیے تباہ کن سمجھتے ہیں، اس گروہ کی اندرون ملک اور بیرون ملک سرگرمیوں کو ملک و قوم کے لیے شدید خطرات کا باعث سمجھتے ہیں، کلیدی آسامیوں پر قادیانیوں کی واپسی کو ملک و ملت کے مفاد کے خلاف گردانتے ہیں، ان کی بڑھتی ہوئی جارحانہ سرگرمیوں اور مولانا محمد اسلم قریشی کے اغوا کو ملت اسلامیہ کے خلاف چیلنج خیال کرتے ہیں، اور ملت اسلامیہ کے اکابر دیانت داری کے ساتھ یہ محسوس کرتے ہیں کہ اس وسعت پذیر فتنہ کی سرکوبی کے لیے فوری اور مشترکہ جدوجہد نہ کی گئی اور اس کے بڑھتے ہوئے اثر و نفوذ کو کنٹرول نہ کیا گیا تو یہ فتنہ ملک و قوم کے لیے شدید نقصانات کا باعث بنے گا۔ صدر محمد ضیا الحق اور ان کے رفقا کو اس صورتحال کا سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لینا چاہیے اور ملت اسلامیہ کی شکایات پر ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ غور کرنا چاہیے۔ قادیانی جارحیت کے خلاف ملت اسلامیہ کی متحدہ جدوجہد ناگزیر ہے، اس جدوجہد میں حکومت اپنا مقام خود متعین کرے، اسے ملت اسلامیہ کے خلاف قادیانیوں کا فریق بننے سے گریز کرنا چاہیے۔ اور اگر خدانخواستہ حکمرانوں نے اپنے لیے یہی رول پسند کر لیا ہے تو پھر عوامی اور دینی بیداری کی راہ تو بہرحال کسی طرح بھی نہیں روکی جا سکے گی البتہ اس کے نتائج و نقصانات کا اندازہ حکمران گروہ جتنی جلدی کر لے بہتر ہوگا۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved