اجتماعی شعور کی موت۔۔۔!
  27  جنوری‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

شکیب جلالی نے کہا جو بھی حساس ہے زمانے میں اس سے کہہ دو کہ گھٹ کے مرجائے راوی کہتا ہے '' پھر ایک دن شکیب جلالی چلتی ہوئی ریل گاڑی کے سامنے سینہ تان کرکھڑا ہوگیا،اور ریل گاڑی کے ڈرائیور کو بریک لگانے کی فرصت بھی نہ دی۔ شکیب اسی بے حس معاشرے کا حساس فرد تھا ،جس نے اپنی زندگی اپنے بے حس معاشرے کے قدموں میں ڈھیر کردی۔کسی حکمران پر کوئی اثر نہیں ہوا،شاعر نے اپنے قول پر اپنی جان نچھاور کردی ۔ میں کئی دنوں سے ایک اذیت میں مبتلا ہوں ،کچھ لکھنا چاہتا تھا ،بہت کچھ لکھا بھی ،مگر آتش دان کی نذر کر دیا۔ اسلام آباد سے رومان پرور شاعر خلیق الرحمن نے فون پر استفسار کیا '' زینب پر کالم کیوں نہیں لکھا ؟'' میں اسے بتا نہیں سکا کہ یہ ایک زینب درندگی کی بھینٹ نہیں چڑھی،یہاں ہر روز ایک زینب درندگی کا شکار ہوتی ہے ،اس کے والدین چپ کی بکل مار لیتے ہیں کہ ان کے پاس تفتیشی کو دینے کے لئے دس ہزار نہیں ہوتے،اس والی زینب کا والد دس ہزار ادا کر سکتا تھا ،وہ ادا کر دیئے ،اسے کیا خبر تھی کہ پھر حاکم وقت اس کی موجودگی میں اپنی کامیابی پر تالیاں بجوائے گا،مجھے زینب پر، اس کے بے بس باپ پر ،اس کی دکھیاری ماں پر کچھ نہیں لکھنا،کہ میرے لفظوں میں اتنی طاقت نہیں کہ درندوں اور ان کے پشت پناہوں کی سرکوبی پر کسی کو فیصلہ کرنے پر آمادہ کر سکیں۔ رات کے تیسرے پہر زینب کے باپ کے زخموں پر مرہم کا پھاہا رکھنے والے بے حمیت حاکم کی حمیت کو کچوکے لگا سکیں ،کہ تم ایک تصویر بنوانے کی خاطر ،کہ جو تیری اچھی شہرت کی گواہی بن سکے ، دھرتی کی کتنی اور بیٹیوں کی عصمتیں تار،تار دیکھنا چاہتے ہو؟ میں اس معاشرے کی بے کسی کا مرثیہ لکھنا چاہتا ہوں،جس کے افراد اب بھی ان ہی کو رہبرو رہنما منتخب کرنے کی پیش بندی و صف آرائی میں مصروف ہیں جن کے دور میں مفلس و نادار کی عزت محفوظ رہنے کا رواج ہی نہیں رہا، میں اس بے حس معاشرے کے افراد کا نوحہ خون جگر سے تحریر کرنا چاہتا ہوں جس کی حکمرانی کے خواب پھر زرداری، نواز، شہباز ،فضل الرحمن ،فاروق ستار ،شیخ رشید،محمود اچکزئی اور رانا ثناء اللہ دیکھ رہا ہے، مجھے اپنے اجتماعی شعور پر شرمندگی محسوس ہو رہی ہے،کہ میں اس معاشرے کا فرد ہوں جس کے دانشور ،ادیب اور صحافی آج بھی ان لوگوں کے حق میں رطب اللسان ہونے میں کوئی قباحت محسوس نہیں کرتے جو اس ملک کے وسائل اور قومی خزانے تو کیا قومی سلامتی تک کو بیچ کھانے کے مجرم ٹھہرے،اور اس پر نادم بھی نہیں ،جو قومی اداروں کی تباہی و بربادی کے ذمہ دار ہونے کے باوجود ان کی باگ ڈور اپنے ہاتھ لینے کے درپے ہیں،جنہوں نے اپنی عدلیہ کو بدنام و رسوا کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی،مگر افسوس یہ ہے کہ عدلیہ بھی دروغ مصلحت آمیز کا شکار ہے ،چپ ہے ،انہیں پناہ دینے کے بہانے تلاش کرنے پر مجبور نظر آنے لگی ہے،یہ اپنے وقار کی مزید قیمت چکانے سے گریزاں ہے،یہ بدعنوانی کے پہاڑوں سے سر ٹکرانے کی سکت سے محروم دکھائی دینے لگی ہے،اس کے ہاتھ پائوں پھولتے محسوس ہونے لگے ہیں، تو پھر بے حس معاشرے کے ہم بے حس لوگ کسی ایسی ریل گاڑی کے منتظر ہیں جس سے ٹکرا کر ہم اپنا کام تمام کر لیں،یا یونہی گھٹ گھٹ کے مرتے رہیں ،ہماری بیٹیاں عمرانوں کے ہاتھوں بے حرمت ہوتی رہیں اور ہمارے بیٹے رائو انواروں کی گولیوں کا شکار ہوتے رہیں اور ہمارے حکمران جھوٹ موٹ کے یا اصلی مجرموں کے پکڑے جانے پر ہماری بے بسی پر اپنی کامیابی و کامرانی کی تالیاں پیٹتے رہیں، اے قائد اعظم یہ ہے تیرا پاکستان ، شاعر مشرق یہ ہے تیرے خواب کی تعبیر ،ہمارا اجتماعی شعور کہاں ہے؟کہاں ہیں وہ لوگ جو اس دھرتی کے رکھوالے ہیں ،اس کی خاطر جانوں کی قربانیاں دینے کے جذبوں سے سرشار ہیں ؟

ہماری آنکھیں لہو رنگ منظر کب تک دیکھتی رہیں گی؟ہم کب تک صبح نور کو ترسیں گے؟ کلیجے ٹھنڈے ہونے کو نہیں آرہے ،تجوریاں بھربھر کے ناک تک آچکی ہیں ،مگر ہوس زر پھر بھی تھمنے کو نہیں آرہی، گدھوں کا راج ہے ،ملک ہے کہ ماتم کدہ ہے ،چہار سو ڈار سے بچھڑی کونجوں کا شور ہے،مگر بوالہوس اقتدار اقتدار کی مالا جپ رہے ہیں ،ایک عجیب خوف کی فضا مسلط ہے ، خوف کی اسی فضا میں انتخاب ہونے جا رہے ہیں؟ نہیںیہ ہر گز ممکن نہیں پہلے گدھوں کے راج کو ختم کرنا ہوگا ،اقتدار کے ایوانوں میں پلنے والے درندوں کوقید کرنا ہوگا ، چوروں ،لٹیروں اور آ شیانے اجاڑنے والوں کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کرنا ہوگا ،جب تک یہ سب نہیں ہوتا ،انتخابات فریب ہیں، احتساب دھوکا ہے۔یہ اس وقت تک نہیں ہوگا جب تک اجتماعی شعور زندہ نہیں ہوتا ۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved