کمزوریاں اور ترجیحات
  29  جنوری‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

ہم نے کبھی اپنا احتساب کرنے کا سوچا ہی نہیں ۔ ہمیشہ دوسروں پر تنقید کرنا اور نظر رکھنا اپنا فرض سمجھتے ہیں ۔زینب کا قاتل پکڑا گیا ۔ اس نے مذہبی لبادہ اوڑھ رکھا تھا۔نقش لکھتا تھا۔اس سے پہلے ایک مولوی نے کئی دن اسلام آباد بلکہ پورے پاکستان کو یرغمال بنائے رکھا اور میڈیا پر آکر وہ زبان استعمال کی کہ وہ کسی مذہبی یا پیشوا تو درکنار بلکہ کسی عام مسلمان کو بھی زیب نہیں دیتی۔وہ گالیاں بھی ہم سنتے رہے اور سبحان اللہ سبحان اللہ کہتے رہے۔نہ عمران علی کا بھیانک وارداتیں کرنے کے باوجود کوئی کچھ بگاڑ سکا اور نہ اس غلیظ گالیاں دینے والے کا منہ بند کرایا جا سکا۔ہم بے بس ، بے حس اور کسی حد تک بے غیرتی کی سطح تک چلے گئے ہیں ۔تمام گھناؤنے جرائم کے متعلق اپنے غصے کا اظہار صرف اور صرف اپنی تصویر کے ساتھ خبر لگوانے تک ہوتا ہے۔ اگر کسی اخبار میں مذمت کی خبر لگ جائے تو ہم سمجھتے ہیں کہ بس ہمارا فرض ادا ہو گیا ہے۔جنابِ والا۔اخباری بیانات اور مذمت کرنے سے جرائم پر قابو نہیں پایا جاسکے گا۔اس کے لئے باقاعدہ قانون سازی کرنا ہوگی اور ایسی قانون سازی جس میں کسی قسم کی لچک نہ ہو۔قصور کے عمران علی نے وہ جرائم کئے جس کو جتنی بھی سزا دی جائے کم ہیں ۔آج اگر اس کو چوراہے میں پھانسی دینے یاسنگسار کرنے کی سزا دی جائے تو ہمارے ملک کی بیرونِ مما لک پیسے سے چلنے والی انسانی حقوق کی تنظیمیں جن کی زیادہ تر سربراہ خواتین ہی ہیں میڈیا میں بیان بازی شروع کر دیں گی کہ یہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے جبکہ وہ تمام انسانی حقوق کی تنظیمیں اس بھیانک واقعہ پر خاموش رہی ہیں ۔اسمبلی میں ایسا قانون پاس کیا جائے کہ جو تنظیمیں عمران علی جیسے بے شرم اور بے غیرت انسان کی ہمدردی میں بیان بازی کریں انہیں ان مجرموں کا سہولت کار تصور کرتے ہوئے اس مجرم کے برابر سزا دی جائے۔اب تصویر کا دوسرا رخ شروع ہوتا ہے کہ آج تک ہمارے ملک میں جتنے بھی قوانین پاس کئے گئے وہ مجرموں کو فائدہ پہنچانے کے لئے بنائے ہیں ۔شک کا فائدہ اٹھا کر بھی بڑے بڑے مجرموں کو پھانسی کے پھٹے سے اتار کر باعزت بری کر دیا جاتا ہے۔میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ زینب کا قاتل مذہب کا لبادہ اوڑھے کوئی ایسا ظالم درندہ ہوگا ۔ سب کچھ ہو گیا۔ سارے ثبوت بھی مل گئے۔ لیکن بعض لوگوں کو اپنے قانون کی کمزوری عدالتی نظام پر ابھی بھی شک ہے کہ شاید عمران علی باعزت بری ہو جائے ۔ سیالکوٹ میں میڈیا اور عوام کے سامنے دو بھائیوں کو جس بے دردی سے قتل کی گیا تھا کیا وہ سب پھانسی چڑھ گئے ہیں ۔کچھ بھی ہوا اور شاید کچھ بھی نہ ہوا ہو اب بھی عوام زینب کے قاتل عمران علی کے لئے حکومتِ پنجاب اور حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ قاتل کو سرِ عام پھانسی دو۔ قاتلوں کو پھانسی دینا عدالتوں کا کام ہے جو ایک آدھ کسی بھی حکومت کا کیس کھول کر بیٹھ جاتے ہیں اور بس پھر اللہ اللہ خیرصلا۔پیپلز پارٹی کے دور میں بھی یہی کچھ ہوتا رہا اور موجودہ حکومت کے سارے دور میں بھی عدالتی اور حکومتی بیان بازیاں بھی پڑھتے رہے۔ اگر ایسے ظالم درندوں کے کیس ترجیحی بنیادوں پر سنے جاتے اور انہیں سخت سزائیں دی جاتیں تو آج کوئی زینب قتل نہ ہوتی۔نہ کوئی جنسی درندہ ایسی حرکت کرنے کا سوچ بھی سکتا ہے۔بڑے بڑے نامور قاتل اور مجرم کئی کئی سالوں سے جیل میں بند ہیں ۔ ان کے کیس عدالتوں میں لگتے ہی نہیں اور جب کیس عدالتوں میں لگتے ہیں اس وقت تک گواہ، مدعی یا وکیل میں سے کوئی ایک آدھ وفات پا چکا ہوتا ہے اور بعض اوقات تینوں اس دنیا میں نہیں رہتے اور خطرناک قیدی بڑے آرام سے جیل کے اندر سے کرائے کے قاتل مہیا کر کے کروڑوں روپے کما رہے ہوتے ہیں ۔زینب قتل کیس کے بعد بھی ابھی عوامی ماحول کا لوہا گرم ہے۔جلد از جلد سخت سے سخت قانون سازی کی جائے۔ مجرموں کو عبرتناک سزائیں دی جائیں ۔قانونی پیچیدگیاں اور لچک ختم ہو جائے ۔ حکومتی عدالتی اور قانونی کمزوریاں ختم کر کے مجرموں کا کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے اور اپوزیشن صرف اس حد تک کردار ادا کرتی ہے کہ کسی بھی کیس میں حکومت کو کتنا بدنام کیا جا سکتا ہے۔اپوزیشن کی یہ ترجیح نہیں ہونی چاہیئے بلکہ سخت قوانین کے لئے حکومت کی مدد کرنی چاہیئے۔ ہم بھارت کی زیادتیوں اور قتلِ عام پر بالکل چپ سادھے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے وہ ظلم کی انتہا کو پہنچتا جا رہا ہے۔گزشتہ روز بھی سیالکوٹ میں بجوات کے علاوہ بھی کئی جگہ اندھا دھند بارود کے گولے پھینک کر درجنوں بے گناہ لوگوں کو شہید اور زخمی کر دیا گیا۔یہ حقیقت ہے کہ ہماری افواج بھارت کے ہر حملے پر اسے اینٹ کا جواب پتھر سے دیتے ہیں ۔لیکن یہ اس مسئلے کا حق نہیں ۔ اس مسئلے کے حل کے لئے اندھی اور بہری بھینس (اقوامِ متحدہ) کے ضمیر کو جنجھوڑنا ہوگا اور یہ کام صرف وزیر خارجہ یا وزارتِ خارجہ تک محدود نہیں ہونا چاہیئے بلکہ ہر فورم پر اس پر آواز اٹھانی چاہیئے۔5فروری یومِ کشمیر کے دن سے پہلے اتنے سیمینارز ، مذاکرات اور قراردادیں پیش کی جائیں کہ اقوامِ متحدہ اپنی قراردادوں پر عمل کرانے کے لئے پاکستان، ہندوستان اور کشمیر کے حریت پسند نمائندوں کو ایک میز پر بٹھا کر یہ فیصلہ کریں کہ کشمیر کا فیصلہ کشمیر ی عوام کے حق رائے دہی پر چھوڑ دیا جائے۔کشمیری عوام کی رائے ہمیشہ پاکستان کے ساتھ رہی ہے۔کشمیریوں نے کبھی بھی ہندوستان کی بالا دستی کو قبول نہیں کیا۔کشمیر کی ہندوستان سے آزادی ہماری سب سے بڑی ترجیح ہونی چاہیئے اور آنے والے 5فروری ’’یومِ کشمیر‘‘ تک اس قسم کا ماحول پیدا کر دیا جائے کہ اقوامِ متحدہ ہندوستان کو کشمیر پر ناجائز قبضہ چھوڑنے کے لئے دباؤ ڈالے اور خدا کرے کہ کشمیر ہندوستان سے آزاد ہو جائے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved