پیغام پاکستان ‘فتویٰ اور قوی بیانیہ
  29  جنوری‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

پیغامِ پاکستان دراصل قیام پاکستان کے بنیادی نعرے کی یاد دہانی کا ایک تاریخی موقع تھا... کہ جب چاروں مسالک کے جید اکابرین، شیوخ الحدیث، اور حکومتی شخصیات ایوان صدر میں مل بیٹھیں... اور انہوں نے چاروں مسالک کے علما کے فتووں اور دستخطوں سے مزین پیغام پاکستان بیانیے کو متفقہ طور پر جاری کیا۔ ستر سال قبل قیام پاکستان کا بنیادی نعرہ تھا کہ پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الہ الا اللہ، قیام پاکستان کے70 سال بعد 16جنوری کے دن...صدر پاکستان جناب ممنون حسین کی زیر صدارت اور میزبانی میں تمام مسالک کے اکابر علما کرام ایوان صدر میں ایک چھت تلے جمع ہوئے... اٹھارہ سو سے زائد علما کرام کے فتووں کی روشنی میں جو بیانیہ جاری کیا گیا۔۔ اس کے اہم نکات کچھ یوں ہیں: اسلامی جمہوریہ پاکستان... آئینی و دستوری لحاظ سے ایک اسلامی ریاست ہے...جس کے دستور کا آغاز اس قومی و ملی میثاق قرار داد مقاصد سے ہوتا ہے...اللہ تبارک و تعالیٰ ہی کل کائنات کا بلا شرکت غیرے حاکم ہے... اور پاکستان کے جمہور کو جو اختیار و اقتدار اس کی مقرر کردہ حدود کے اندر استعمال کرنے کا حق ہے، وہ ایک مقدس امانت ہے... نیز دستور میں اس بات کا اقرار بھی موجود ہے کہ اس ملک میں قرآن وسنت کے خلا ف کوئی قانون نہیں بنایا جائے گا۔اور موجودہ قواتین کو قرآن و سنت کے مطا بق ڈھالا جائے گا۔ پیغام پاکستان بیانیے کا یہ پہلا نکتہ ہی یہ بات واضح کرنے کیلئے کافی ہے کہ14اگست1947ء کو قیام پاکستان کا مقصد اسلامی پاکستان تھا نہ کہ سیکولر یا لبرل پاکستان... اوران70سالوں میں جس نے بھی پاکستان کولبرل یا سیکولر بنانے کی کوششیں کیں یا نظریہ پاکستان کی مخالفت کی... اس نے دراصل پاکستان میں فساد کی بنیاد رکھی۔ 16جنوری2018 ء کے دن تمام مسالک کے علما کرام نے ریاست کی پکار پرریاست کے ساتھ کھڑا ہو کر یہ بات بھی ثابت کر دی... کہ علما کرام، دینی مدارس، اور سچے جہادیوں کیلئے...پاکستان ہی سب کچھ ہے... علما کرام اور مذہب پسند70سالوں سے ریاست پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں... اور آئندہ بھی کھڑے رہیں گے... مذہب پسندوں اور علما کرام نے یہ بات بھی ثابت کر دی کہ ان کے نزدیک اسلام اور پاکستان سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں۔ یہ علما کرام ان سیاست دانوں کی طرح نہیں... کہ جن کی اولادیں اور جائیدادیں... دبئی... لندن اور امریکہ میں ہیں... ان علما اور مذہب پسندوں کو نہ لندن سے کوئی رغبت ہے اور نہ فرانس سے کوئی دلچسپی... ان کے نزدیک مکہ و مدینہ کے بعد سب کچھ پاکستان ہی ہے۔ اسی لئے علما کرام نے پیغام پاکستان کے فتوے میں یہ بھی کہا کہ ہم متفقہ طور پراسلام اور برداشت کے نام پر انتہا پسندانہ سوچ اور شدت پسندی کو مسترد کرتے ہیں... یہ فکری سوچ جس جگہ بھی ہو غلط ہے، اور اس کے خلاف فکری و انتظامی جدوجہد دینی تقاضا ہے۔ پاکستان میں نفاذ شریعت کے نام پر طاقت کا استعمال، ریاست کے خلاف محاذ آرائی، تخریب و فساد اور دہشتگردی کی تمام صورتیں جن کا ہمارے ملک کو سامنا ہے... اسلامی شریعت کی رو سے ممنوع اور قطعی حرام ہیں... اور بغاوت کے زمرے میں آتی ہیں... اور ان کا تمام ترفائدہ اسلام اور ملک دشمن عناصر کو پہنچ رہا ہے۔ ہم پاکستان کے تمام مسلکوں اور مکاتب فکر کے نمائندے علما شرعی دلائل کی روشنی میں اتفاق رائے سے خود کش حملوں کو حرام قرار دیتے ہیں‘ اور ہماری رائے میں خود کش حملے کرنے والے، کروانے والے، اور ان حملوں کی ترغیب دینے والے اور ان کے معاون پاکستانی، اسلام کی رو سے باغی ہیں... اور ریاست پاکستان شرعی طور پر اس قانونی کارروائی کی مجاز ہے... جو باغیوں کے خلاف کی جاتی ہے۔ جہاں تک پاکستان میں خود کش حملے کروانے... پاکستانی فورسز پر حملے کرنے کا تعلق ہے تو یہ بات واضح ہے کہ مولانا فضل الرحمن‘ مفتی منیب الرحمن‘ مولانا محمد مسعود ازہرسمیت تمام اکابر علما کرام روز اول سے ہی اس کے سخت خلاف تھے... جس وقت رسواکن ڈکٹیٹر امریکہ سے آنے والی فون کال کے خوف سے افغان طالبان سے غداری کر رہا تھا... پاکستان کے فضائی اڈوں کو امریکہ کے حوالے کیا جا چکا تھا... تب پاکستان میں اس کے ردعمل کے خلاف اٹھنے والی لہر میں بہت سے سادہ لوح نوجوان بہہ گئے... مگر اکابر علماء کرام نے تب بھی اپنی تقریروں اور تحریروں کے ذریعے اس پیغام کو عام کرنے کی کوششیں کیں... کہ پاکستان میں ایک دوسرے پر فرقہ وارانہ حملے ہوں...لسانیت یا صوبائیت کے ٹھیکیداروں کے بہکاوے میں آکر پھیلایا جانے والا فتنہ و فساد ہو۔ یا پاکستانی سیکورٹی اداروں پر ہونے والے حملے ہوں... یہ سب کے سب ناجائزاور فساد فی الارض کے زمرے میں آتے ہیں... تو میرے نزدیک پیغام پاکستان کا بیانیہ کوئی نیا بیانیہ نہیں...بلکہ درد مند علما کرام کا روز اول سے ہی یہ بیانیہ رہا ہے‘ہاں البتہ... پیغام پاکستان میں جہاد اور قتال کو ریاست کی اجازت کے ساتھ مشروط کرنا بہرحال ایک نئی بات ہے، اوراس حوالے سے سنجیدہ علما کرام میں اِک بحث بھی چھڑ چکی ہے... یاد رہے کہ پیغام پاکستان سے تقریبا سب ہی متفق ہیں... مگر ساتھ ہی علما کرام اور مذہبی حلقوں میں یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ ’’پیغام‘‘ میں نفاذ شریعت کے لئے مسلح طاقت کے استعمال کو بجا طور پر شرعی طورپر حرام قرار دیا گیا ہے۔ لیکن اندرون ملک شرعی نظام کے نفاذ میں رکاوٹیں دور کرنا کس کی ذمہ داری ہے؟ کیا ہی اچھا ہوتا کہ پیغام پاکستان کے فتوے میں... پاکستان میں پر امن طور پر نفاذ اسلام کی راہ میں رکاوٹ بننے والوں کی حیثیت کا تعین بھی کر دیا جاتا ۔۔کہ جو گروہ، ادارہ یا حکومتی شخص... اسلامی نظام کے نفاذ کے راستے میں جان بوجھ کر روڑے اٹکاتا ہے... یا جو حکومت نفاذ شریعت کے حوالے سے اپنی ذمہ داری پوری کرنے کیلئے تیار ہی نہیں ہے... بلکہ جس حکومت کے وزیراعظم یا دیگر حکومتی وزراء... کھلے عام جلسوں اور جلوسوں میں...پاکستان کو لبرل اور سیکولر بنانے کے اعلان کرتے ہیں... جو دانشور، اینکرز اور اینکرنیاں ٹی وی ٹاک شوز میں بیٹھ کر اسلامی احکامات کو جھٹلاتے ہیں... اسلامی شعائر اور اسلامی سزاوں کامذاق اڑاتے ہیں... جو کالم نگار اپنے کالموں میں مملکت پاکستان کی اسلامی حیثیت کو ہی سرے سے تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں...ایسے افراد کا کیا علاج ہے؟ شریعت مطہرہ میں ان کی کیا حیثیت ہے؟ کیاان پر بھی کسی فتوے کا اطلاق ہو گایا نہیں؟ بہر حال ان سارے سوالات کے باوجود ... ریاست کی آشیر باد سے پیغام پاکستان کا بیانیہ مجموعی طور پر مثبت بھی ہے اور مفید بھی...اوراس بات کا اظہار بھی کہ ریاست پاکستان اور مذہب اسلام لازم وملزوم ہیں‘علما کرام، دینی مدارس، دینی تحریکات... خانقاہیں سب کے سب پاکستان کی خود مختاری اور سلامتی کے لئے فکر مند بھی ہیں اور دعا گو بھی... اور اس بات پر پر عزم بھی کہ پاکستان سے ہر قسم کی دہشتگردی کا خاتمہ یقینی بنا کر... پاکستان کو پر سکون بنانے کی حتی الاامکان کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved