ممبئی حملہ،بھارت کی دغا بازی
  29  جنوری‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

ممبئی میں مارچ 1993میں تباہ کن دھماکے ہوئے۔ یکے بعد دیگر ایک ہی دن میں ہوئے ایک درجن سے زیادہ دھماکوں میں 257افراد مارے گئے۔ سات سو سے زیادہ زخمی ہوئے۔ چونکہ ابھی نائن الیون نہ ہوا تھا ، اس لئے ان دھماکوں کا الزام براہ راست پاکستان پر نہ ڈالا گیا۔ مگر آج تک ان دھماکوں میں ملوث لوگوں کا پتہ نہ چلایا جا سکا۔ تا ہم اس لا الزام بھارتی مسلمانوں پر ڈال دیا گیا جو دسمبر1992سے بابری مسجد کی شہادت پر شدید برہم تھے اور کم از اس موقع پر بھارتی مسلمانوں میں اتحاد کا جذبہ نظر آنے لگا تھا۔ مگر یہ ثابت نہ ہو سکا کہ مسلمانوں کی اس بیداری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہندو انتہا پسندوں کی ہی یہ کارستانی تھی یا نہیں۔ تا ہم اس کا زیادہ امکانات ظاہر کئے گئے۔ پھر جب 26نومبر2008کو ممبئی پرایک دن میں ہی ایک درجن سے زیادہ حملے کئے گئے۔ ان کا براہ راست تعلق پاکستان سے جوڑا گیا۔ خاص طور پر لشکر طیبہ پر ساری ذمہ داری ڈالی گئی۔ یہ کہا گیا کہ جنگجو کشتیوں میں پاکستان سے آئے۔ جن کے ساتھ اسلحہ تھا۔ وہ چاروں طر ف پھیل گئے اور مختلف مقامات پر حملے شروع کر دئے جو چار دن تک جاری رہے۔ ان حملوں میں 164افراد مارے گئے اور تین سو سے زیادہ زخمی ہوئے۔ مرنے والوں میں 6امریکی، چار اسرائیلی، تین جرمن، دو آسٹریلوی، دو کنیڈین، دو فرانسیسی، ایک اطالوی، ایک برطانوی، ایک ڈچ، ایک جاپانی، ایک اردنی، ایک ملیشیائی، ایک مراشس، ایک میکسیکو، ایک سنگاپور، ایک تھائی لینڈشامل تھے۔ زخمیوں میں آسٹریا، سپین، چین، اومان، فلپائن، فن لینڈ اور ناروے کے شہری شامل تھے۔ یوں ایک دن ان حملوں میں دو درجن ممالک کو ملوث کیا گیا۔ جو براہ راست بھارتی موقف اپنانے پر مجبور کئے گئے کہ حملے پاکستان نے کئے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ ایک پاکستانی شہری اجمل قساب کو زندہ گرفتار کرنے کا دعوی کیا گیا۔ یہ نہیں پتہ کہ اجمل قصاب کو کسی بھارتی جیل سے لایا گیا یا پھر اسے سرحد سے یا ماہی گیری کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔ بھارت یہی حربے اپناتا ہے۔ جیلوں میں قید پاکستانیوں کو فرضی مقابلوں میں مارا جاتا ہے اور الزام پاکستان پر عائد کر دیا جاتا ہے۔ ممبئی حملوں کے بارے میں حقائق سے پردہ اتھانے میں ایک یہودی مصنف سامنے آئے ہیں۔ ایلیس ڈیورڈ سن نے ان حقائق پر ایک کتاب لکھی ہے جو حال ہی میں شائع ہوئی۔ The Betrayal of India: Revisiting the 26/11 Evidence نامی اس کتاب میں صاف طور پر کہا گیا ہے کہ ممبئی حملوں میں بھارتی حکومت ہی ملوث ہے۔ مصنف نے بھارتی عدلیہ کے بارے میں بھی انکشاف کیا ہے۔ ان ججوں کو دہشتگرد قرار دیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ حملہ آوروں کا تعلق بھارت سے تھا۔ کتاب میں مختلف پہلوؤں پر روشنی دالی گئی ہے۔ یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ ان حملوں سے کسے فائدہ پہنچا اور کون نقصان میں رہا۔ اس کا سارا فائدہ بھارت اور ہندو انتہا پسندوں کو پہنچا۔ جب کہ پاکستان کو نقصان ہوا۔ پاکستان پر دنیا نے انگلیاں اٹھائیں۔ اسے دہشتگردی کا الزام دیا گیا۔ کئی برس بعد بھی لشکر طیبہ اورپروفیسر حافظ سعیدپر نزلہ گر رہا ہے۔ 25چیپٹرز پر مشتمل اس کتاب بھارت کے عزائم پر بات کی گئی ہے۔ اس کا خاص زور بھارت کی لالچی، کرپٹ اور بے لگام ایلیٹ کی جانب سے عام آدمی کی زندگی اجیرن بنانے کا ذکر ہے۔ حملوں کے دوران تین سینئر پولیس افسران اور ان کی معاونین کی مشکوک ہلاکت کا ذکر ملتا ہے۔ ان شکوک و شبہات کو دور کرنے کے لئے کوئی بھی غیر جانبدارانہ انکوائری نہیں کی گئی ۔ ایلیس نے ممبئی حملوں کے بارے میں تین اہم نتائج اخذکئے ہیں۔ پہلا یہ کہ، بھارت کے ادارے ممبئی حملوں کے حقائق کو چھپا رہے ہیں۔ دوم، بھارتی عدلیہ فرائض انجام دینے ، سچ سامنے لانے، اور انصاف کرنے میں ناکام ہو چکی ہے۔ سوم، کاروباری، سیاسی اور فوجی حلقوں نے ان حملوں کو کیش کیا۔ امریکہ اور اسرائیل نے بھی بہت فائدہ اٹھایا۔ مصنف لکھتے ہیں کہ پاکستان کو ان حملوں سے کچھ نہ ملا۔ پاکستانی حکومت، فوج یا کاروباری کسی فائدے میں نہ رہے۔ سب سے زیادہ فائدہ ہندو قوم پرستوں نے اٹھایا۔ جب ایک بھارتی افسر ہیمنت کرکرے ہندو دہشتگردی کو بے نقاب کر رہے تھے، اس افسر کو قتل کر دیا گیا۔ یوں ہندو دہشتگردوں کے نیٹ ورک کو بے نقاب نہ کیا جا سکا۔ ڈیورڈسن نے بھارتی سول سوسائٹی پر زور دیا ہے کہ وہ نیشنل ٹروتھ کمیشن کی تشکیل کا مطالبہ کرے۔ جو ممبئی حملو ں کے حقائق سامنے لائے۔ جب کہ انکوائری کا بین الاقوامی کمیشن بھی بنے۔ جو بھارت میں ماضی میں ہونے والے حملوں کی اقوام متحدہ کے چیپٹرviiکے تحت تحقیقات کرے۔ بھارت کا کہنا ہے کہ ممبئی حملوں میں 19مسلم نوجوان ملوچ پائے گئے مگر کسی کو بے نقاب نہ کیا جا سکا۔ مصنف نے کئی لاجواب سوالات کے جوابات تلاش کئے ہیں۔ مصنف نے یہ سچائی بیان کی ہے کہ بھارتی شہری ان حملوں میں ملوث ہیں۔ جن کی سرپرستی بھارتی حکومت کر رہی تھی۔ وہ ریاستی سرپرستی میں دہشگرد تنظیموں کو بھی ان حملوں میں ملوث قرار دیتے ہیں۔ جو بھارت میں مالیگاؤں، سمجھوتہ ایکسپریس، مکہ مسجد اور دیگر لاتعداد حملوں میں ملوث پائی گئیں۔ جنھیں اے ٹی ایس ماہر افسر ہیمنت کرکرے نے بے نقاب کیا۔ مگر اسے قتل کیا گیا۔ ان حملوں نے بھارت نے نائم الیون، میڈرڈ اور لندن حملوں کا ہم پلہ قرار دیا۔ مہاراشٹر کی ریاستی حکومت نے پردھان کمیشن تشکیل دیا۔ مگر یہ بھی کوئی حقائق سامنے نہ لا سکا۔ ممبئی حملے بھارتی حکومت کی کارستانی اور بھارتی جھوٹ کو سامنے لانے والے مصنف ڈیورڈسن کی پیدائش فلسطین کی ہے۔ 78سالہ ڈیوڈسن خود کو فلسطینی یہودی قرار دیتے ہیں۔ ان کے والد جرمن یہودی تھی۔ ڈیورڈسن یورپین ملک آیس لینڈ منتقل ہو چکے ہیں۔ انہوں نے نائن الیون پر بھی کتاب لکھی اور کئی اہم سولات اٹھائے۔ تا ہم ممبئی حملوں میں بھارتی جھوٹ و فریب یا دغا بازی کو سامنے لانے پر تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved