درویش کی فکر انگیز باتیں
  30  جنوری‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

ہندوستان کی بربریت اور ظلم و ستم کا پاکستان کی حدود کے اندر اور کشمیر میں دن بدن اضافہ ہوتاجا رہا ہے۔اس کی بڑی وجہ شاید ہماری اپنی کمزوریاں بھی ہیں ۔ان کمزورویوں کا اندازہ ایک درویش کی ان باتوں سے لگایا جا سکتا ہے۔کچھ عرصہ پہلے لاہور میں ایک مسافر مجذوبی حالت میں بھرے بازار سے گزر رہا تھا۔باآواز بلند نامعلوم منزل کی طرف بڑھتا،دُہائی دیتا،لوگوں کو متوجہ کرتا اور کہتا جا رہا تھا۔اے میرے ملک کے چوکیدارو میں لُٹ گیا۔اے ملت کے غمخوارو میں اُجڑ گیا۔اے دین کے ٹھیکیدارو میری متاع لٹ گئی،یہاں پہنچ کر اس کی آواز دب جاتی۔پھر ان سوالوں کے جواب مانگتا۔کہیں سے جواب نہ مِلتا۔کوئی سمجھتا یہ پاگل ہے۔اور جو توجہ دیتا اس کے پاس جواب نہ تھا۔وہ نہ سکوں کی تلاش میں تھا،نہ اس کو نوٹوں کی طلب تھی،اور نہ اس کے جسم کے چیتھڑے اسے ستا رہے تھے۔آوازوں کے شور اور غرضوں کی سوچوں میں وہ اپنی شمع جلانے کی کوشش کر رہا تھا۔لیکن اس کے رموز سے آشنائی ہر شخص کی سوچ کی بس میں نہ تھی۔لوگوں کا دھیان کسی کا خریداری کی طرف تو کسی کا اپنے سفر کی طرف ۔اس کی رمز جاننے کے لیے ، اس کا درد پہچاننے کے لیے اس کی پوری بات پر توجہ دینی پڑتی ۔اس کی آوازوں کے اُتار چڑھاؤ کو جانچنا پڑتا۔نہ اس کے سفر کی ابتداء کا علم نہ اس کی منزل کا کوئی پتہ۔اس کے سوال یہ تھے جن کا وہ جواب مانگ رہا تھا۔ہم جھوٹ بول کر سچ کا تقاضا کیوں کرتے ہیں؟ہم قانون کا مذاق اُڑا کر قانون کی مدد کیوں مانگتے ہیں؟ہم قاتلوں،ظالموں اور دہشت گردوں کے ترجمان بن کر ْمظلوموں کی ہمدردی کا دم کیوں بھرتے ہیں؟ہم اُمت کو بانٹ کر اتفاق اور اتحا دکے نعرے کیوں بلند کرتے ہیں؟ہم منافقت کے چیمپیئن ہو کر خلوص کے بھکاری کیوں بنتے ہیں؟ہم اپنی انا اور سَستی شہرت کی کوشش میں شفاف معاشرہ کے خواب کیوں دیکھتے ہیں؟ہم خود غرضی اور لالچ کی رو میں بہہ کر غریبوں کے دُکھ درد کے ضامن کیوں بنتے ہیں؟ہم لڑائی جھگڑے کرنے اور کروانے کے دلدادہ ہو کر صلح اور آشتی کے ماحول کی خواہش کیوں کرتے ہیں؟ہم غربت سے دولت مند ہو کر شہرت کی بلندیوں پر پہنچ کر بھی لُوٹ مار کیوں کرتے ہیں؟ہم دین کی اصل روح مسخ کر کے بھی دین کے چیمپیئن کیوں بنتے ہیں؟ہم پاکستان کے انتہائی معتبراداروںکو دشمن کی خواہش پر بدنام اور رُسوا کر کے محبِ وطن کہلوانے کی کوشش کیوں کرتے ہیں؟ہم خود سب سے بڑے بے عمل ہو کر دوسروں کو عمل کی تلقین کیوں کرتے ہیں ؟ہم اپنے ازلی دشمنوں کی چالوں کو سمجھتے ہوئے چند سِکوں کی خاطر ان کے آلہ کار کیوں بن جاتے ہیں ؟ہم اپنے ملک کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کے محافظ اداروں کی رُسوائی کر کے کیوں اپنے مُلک کی ساکھ کو ناقابل ِتلافی نقصان پُہنچا رہے ہیں؟ہم مستقبل کے خطرات سے کیوں غافل ہیں ؟ہم نے اس ملک میں کِس کِس کو بدنام اور رُسوا نہیں کیا؟ہم نے کِس ادارے پر لُوٹ مار اور کرپشن کے الزامات نہیں لگائے؟اس فقیر نے آخر میںایک بہت سخت جملہ کہا ،جس نے مُجھے جِھنجھوڑ کر رکھ دیا۔فقیرکے الفاظ تھے کہ کیا اس ملک میں سب چور ہیں ؟کیا اس ملک کے تمام ادارے کرپٹ ہیں ؟عدالتیں کرپٹ ،فوج کرپٹ،صحافی کرپٹ اور صحافت کے ادارے کرپٹ،کیا پورے ملک میں دوچار صحافی ہی ایمان دار رہ گئے ہیں جو چور مچائے شور کے مقولے پر عمل کرتے ہوئے کبھی ایک ادارے پر کیچڑ اُچھالتے ہیں تو کبھی دوسرے پر۔یہی کُچھ کہتا ہوا وہ جا رہا تھا۔کبھی اس کے صدائے نارسا ٹریفک کے شور میں گُم ہو جاتی اور کبھی اس کی سانسیں رُکتی ہوئی محسوس ہوتیں۔اس مسافر نے مینارِ پاکستان کے سامنے مینار کی طرف رُخ کر کے اپنی صدا کے وہی الفاظ دُہرائے۔چند منٹ بعد اس نے بادشاہی مسجد کا رُخ کیا لیکن بالکل خاموش فریادی۔آواز بند ہوگئی۔ایسے محسوس ہوا جیسے اس کی زُبان گنگ ہے۔پھر سیدھا مزارِاقبال کے سامنے لان میں گیٹ کی طرف منہ کر کے کھڑا ہو گیا۔زاروقطار آنسو بہنے لگے لیکن خاموش۔تھوڑی دیر بعد بچوں کی طرح روتے ہوئے باآواز بلند یہ الفاظ نکالے(کوئی نہیں سُنتا۔میری کوئی نہیں سُنتا۔میں کہتا ہوں میری کوئی نہیں سُنتا)پھر خاموشی طاری ہوگئی اور وہیں لیٹ گیا۔اس کی خاموشی اور بے زاری نے مجھے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا۔وہ سچ کہتا ہے میرے ملک کے ایسے لوگ جنہوں نے بظاہر صحافت کا لبادہ اوڑھا ہوا ہے کبھی وہ دہشت گردوں کی ترجمانی کرتے ہوئے پاک فوج اور آئی ایس آئی پر کیچڑ اُچھالنا شروع کر دیتے ہیں ۔تو کبھی تمام لاپتہ لوگوں کا الزام آئی ایس آئی کے سر تھوپنے کی کوشش کرتے ہیں ۔اس میں بعض اوقات بیرونی ممالک کے پیسے پر چلنے والی این جی اوزکی خواتین کو بھی اپنے ساتھ ملا لیتے ہیں ۔وہ ان خواتین سے نہیں پوچھتے کہ یہ این جی اوزچلانے کے لیے آپ کو فنڈز کہاں سے ملتے ہیں؟لیکن ان کے الزامات کے سارے تیر،سارے نشانے پاک فوج اور آئی ایس آئی کی طرف ہوتے ہیں ۔اور وہ اکثر و بیشتر آئی ایس آئی کے خفیہ فنڈ کا ڈھنڈورا بھی پیٹتے ہیں۔مجھے اس مجذوب فقیر کی باتیں یاد کر کے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شاید اس کا سارااشارہ ان سَستی شہرت کے پُجاریوں کی طرف ہی ہے۔جو انتہائی منافقانہ کھیل کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔کیا اس پورے ملک میں صرف دو چار صحافی ہی ایمان دار رہ گئے ہیں ۔انہی کو تمام اداروں کے خفیہ فنڈز کا ارمان کھائے جا رہا ہے۔دُکھ اس بات کا نہیں کہ وہ چند لوگ ایسا کیوں کر رہے ہیں ۔دُکھ اس بات کا ہے کہ وہ جو کُچھ کہتے ہیں ہماری اعلیٰ عدالتیں بھی اُدھر ہی چل پڑتی ہیں ۔جیسا کہ میں نے پہلے ذکر کیا کہ فوج ہماری جغرافیائی سرحدوں کی محافظ ہے اور صحافت ہماری نظریاتی سرحدوں کی محافظ ہے۔ان دونوں اداروں کو کمزور ،بدنام اور رُسوا کر نا،پاکستان کو رُسوا کرنے کے مترادف ہے اور دشمن یہ سب کچھ سوچی سمجھی سازش کے تحت ہمارے ملک میں کرا رہا ہے اور یہ لوگ دشمن کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے ان اداروں کو رُسوا کر رہے ہیں ۔فوجی سپاہی اپنے خون سے ملک کی تاریخ لکھتا ہے اور صحافی اپنے قلم کی سیاہی سے اپنے وطن کے جوانوں کا جوش اور جذبہ زندہ رکھتا ہے۔دشمن کی خواہش ہے کہ نہ پاکستانی شہید کا خون جذبہ پیدا کر سکے اور نہ صحافت کے الفاظ میں وہ ولولہ رہے۔قوم کو کمزور اور بے حِس کرنے کے لیے ان دونوں اداروں کو بدنام کیا جائے۔

میں ان خفیہ فنڈ کے کھوج میں رہنے والے صحافیوں کے گوش گزار کر دوں کہ ایک بادشاہ نے کوئی منت مانی کہ اگر میرا یہ کام ہو گیا تو میں پورے شہر کے درویشوں کی مالی مدد کروںگا۔بادشاہ کی منت پوری ہوئی۔ اس نے اپنے قابلِ اعتماد وزیر کو مال دے کر بھیجا کہ جاؤ شہر کے سارے درویشوں کو بانٹ کر آؤ۔شام کو وزیر واپس آیا تو سارا مال اس کے پاس موجود تھا۔بادشاہ نے پوچھا کہ تقسیم کیوں نہیں کیا ؟وزیر نے نے جواب دیا:جو در ویش تھا وہ مال لیتا نہیں تھااور جو مال وصول کرتا تھا وہ درویش نہیں تھا۔اس لیے جو صحافی ہوتا ہے وہ اپنے ملک کے د شمن کی چالوں سے خوب آگاہ ہوتا ہے اور جو ملک کو کمزور اور اس کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کے محافظ اداروں کو بدنام اور رُسوا کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتا وہ پھر صحافی نہیں ہو سکتا۔میں ایک چھوٹا سا صحافی ہونے کے ساتھ ساتھ عوام میں سے ہوں ،پاکستان کی عوام ایسے صحافیوں کو جان اور پہچان چُکی ہے۔ان کا ٹیلیویژن پر پروگرام شروع ہوتے ہی چینل تبدیل کر دیتے ہیں ۔ اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان کے ہر خاص و عام کو دشمن کی چالوں پر نظر رکھتے ہوئے دشمن کے ایجنڈے پر کام کرنے والوں پر بھی نظر رکھنی ہوگی۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved