اسلامی سزائوں اور قاتلوں کو پھانسیوں کی مخالفت
  30  جنوری‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

مظلوم بیٹی زینب کے والد نے سپریم کورٹ میں مطالبہ کیا کہ … زینب کے قاتل کو سرعام پھانسی دی جائے … لیکن ''لنڈے'' کے سیکولر شدت پسند زینب کے قاتل کو سرعام پھانسی کی سخت مخالفت کررہے ہیں یہی سیکولر شدت پسندوں کا وہ مخصوص گروہ ہے کہ جو ملک میں اسلامی سزائوں کے نفاذ کا بھی سخت مخالف ہی نہیں بلکہ اسلامی سزائوں کو نعوذ باللہ وحشیانہ سزائیں بھی قرار دیتے ہوئے نہیں تھکتا … میرے کراچی کے دوست نے گزشتہ روز مجھے عجیب بات کہی اور وہ یہ کہ جو گروہ زینب کے قاتل کو سرعام پھانسی دینے کی مخالفت کررہا ہے … اس گروہ کی غالب اکثریت ہی نصاب تعلیم میں حیا باختہ جنسی تعلیم شامل کروا کر معصوم بچوں کے قلب و ذہن کو پراگندہ کرنے کی منصوبہ بندی پر عمل پیرا ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس ' جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے میڈیا اور سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کی تشہیر روکنے کے حوالے سے اپنی آبررویشن میں جو بات کہی ہے وہ بھی چشم کشا ہے … جسٹس شوکت صدیقی کا کہنا تھا کہ کسی گھر کی ''زینب'' اور ''کلثوم'' محفوظ نہیں۔ جسٹس شوکت صدیقی نے ''دنیا میں سب سے بڑی دہشت گردی اوربرائی کی تربیت کا مرکز ''ہالی وڈ' ' کو قرار دیا' جہاں سکھایا جاتا ہے کہ اغواء اور قتل کیسے کیے جاتے ہیں … موویز کے ذریعے تمام جرائم کی مکمل تربیت دی جاتی ہے … انہوں نے کہا کہ ''جرائم کی ترویج میں ہالی وڈ مرکزی حیثیت رکھتاہے … مگر الزام ہمارے مدارس پر لگا دیا جاتاہے''۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی مندرجہ بالا آبزرویشن کے حوالے سے بے شمار اہلیان کراچی کے علاوہ … پاکستان بھر کے سنجیدہ عوام متفق نظر آتے ہیں … میری اس حوالے سے متعدد لوگوں سے بات ہوئی … ان کاکہنا تھا کہ جو مخصوص ''گروہ'' جنسی تعلیم کو بچوں کے نصاب کا حصہ بنانے کی کمپیئن چلا رہا ہے … آپ اس گروہ سے وابستہ خواتین و حضرات پر تحقیق کریں … تو ان میں سے ہر کسی کا کسی نہ کسی این جی او سے تعلق نکلے گا ۔ ڈالر خور این جی او مارکہ اس گروہ کو … پاکستانی بچوں کی حفاظت سے زیادہ اس پروجیکٹ کی فکر ہے کہ جس کے بدلے … ان کی تجوریوں کے جہنم ڈالروں سے بھریں گے … پاکستان میں فحاشی و عریانی کو پروان چڑھانے میں الیکٹرانک چینلز کا پورا پورا ہاتھ ہے۔ شہزاد شفیق سے ملاقات ہوئی تو انہیں بھی ملکی حالات پر نہایت فکر مند پایا' دینی ذہن اور خالصتاً پاکستانی مزاج رکھنے والے شہزاد شفیق کا کہنا تھا کہ یہ سوچ کر ہی جھرجھری سی آجاتی ہے کہ … نصاب تعلیم میں ہمارے معصوم بچوں کو حیا باختہ تعلیم سے روشناس کروایا جائے گا… انہوں نے کہا کہ جس امریکہ میں سکولوں کی سطح پر بچوں کو ایسی تعلیم دی جاتی ہے … معصوم بچوں اور خواتین پر مجرمانہ حملوں کے حوالے سے اس امریکہ کی صورتحال نہایت خوفناک بھی ہے اور عبرتناک بھی … اس لئے اگر پاکستانی نصاب تعلیم میںایسی تعلیم کو شامل کیا جائے گا تو یہاں بھی اس کے نتائج تبا ہ کن نکلیں گے۔

نصاب میں یہ تعلیم شامل کروانے کی کمپیئن چلانے والے گروہ کو یہ بات نہیں بھولنا چاہیے جو … ہیلری کلٹن نے اسلام آباد میں طالبات سے گفتگو کرتے ہوئے کہی تھی … ہیلری نے طالبات سے جب ان کے مسائل کے بارے میں دریافت کیا تھا تو طالبات نے کمپیوٹرز اور سائنس لیبارٹریز کی کمی کے مسائل کا رونا رویا تھا … اس پر ''ہیلری'' نے حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ''بس آپ کا یہی مسئلہ ہے؟ امریکہ کی طالبات کے لئے سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ انہیں بچپن میں ہی ''ماں'' بننے سے کیسے روکا جائے؟ غیر ملکی فنڈڈ این جی اوز اور یورپ کے راتب خوروں کو اگر روکا نہ گیا تو ان کی وجہ سے ملک کا اخلاقی ڈھانچہ مزید برباد ہو جائے گا … مبین ایوب' حافظ عبد الحفیظ اور شہزاد شفیق … عوام میں سے ہیں لیکن وہ حکمرانوں' میڈیا اور این جی اوز کی حرکتوں پر پوری نگاہ رکھتے ہیں۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved