اسلامی اقتصادیات کا ایک اہم اصول
  1  فروری‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

اسلام یہ چاہتا ہے کہ مال کی تقسیم کا انتظام گراس روٹ لیول تک ہو۔ یہ نہ ہو کہ کچھ لوگ سرمایہ ، زمینوں اور جائیدادوں پر قابض ہوجائیں اور باقی محروم رہیں۔ بلکہ تقسیم منصفانہ ہونی چاہئے، تا کہ وسائل ہر طبقے تک جو بھی ضرور ت مند ہے پہنچیں۔ یہی اسلامی معاشیات کا سب سے بڑا اصول ہے۔ اسلام میں سرمایہ داری نہیں، سرمایہ کاری ہے۔ آج کی دنیا میں سرمایہ دارانہ نظام اور اس کے استحصالی اصولوں کی بنیاد پر پیسہ سرمایہ دار طبقہ ہی میں زیر گردش رہتا ہے۔ اُن کا سرمایہ تو پھیلتا رہتا ہے اور محروم لوگ دو وقت کی روٹی کے بھی محتاج رہتے ہیں۔ اسلام نے ایسی صورتیں حرام قرار دی ہیں جن سے عام آدمی کا استحصال ہوتا ہو،جن میں سب سے نمایاں سود ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ اللہ نے کسی کو زیادہ دیا اور کسی کو کم لیکن اسلام یہ چاہتا ہے کہ ریاست میں رہنے والے تمام افراد بالکل محروم نہ رہیں، بلکہ بنیادی ضروریات سب کی پوری ہوں، بنیادی حقوق سب کو ملیں ۔ یہ نہ ہو کہ مال و دولت کا ارتکاز ایک طرف ہوتا رہے، جس کی سب سے نمایاں مثال اس وقت پاکستان ہے۔ ہمارے ہاںایک طبقہ وہ ہے جو پھلتا پھولتا جا رہا ہے کہ دوسرا طبقہ خط غربت سے بھی بہت نیچے زندگی گزار رہا ہے۔ طبقہ متوسط کی بھی بڑی تعداد تیزی سے خط غربت سے نیچے جا رہی ہے۔ معاشرے میں جب بھی Haves اور Have nots کی تقسیم ہوتی ہے تودو طبقات وجود میں آجاتے ہیں۔ ایک وہ کہ جن کے پاس اتنا سرمایہ ہوتا ہے کہ انہیں دولت کا ہیضہ ہو جاتا ہے اور دوسرے وہ جو بالکل محروم رہتے ہیں۔انہیں بنیادی ضروریات بھی حاصل نہیں ہوتیں ۔بلکہ انہیں اس کا مستحق ہی نہیں سمجھا جاتا ۔ نہ انہیں کوئی تعلیم کا حق ہوتا ہے، نہ علاج کا کوئی سہولت میسر آتی ہے ۔ نہ انہیں انصاف ملتاہے اور نہ دو وقت کی روٹی میسر آتی ہے۔ چنانچہ ایسا استحصالی نظام جس میںدولت کا ارتکاز ہو اسلام اُسے قبول نہیں کرسکتا۔ اس وقت ارتکاز دولت کا سب سے بڑا آلہ سودی نظام ہے ۔ اس نظام میں غریب آدمی اگر سود پر قرض لے اور ادا نہ کر سکے تو اس کی زمین بھی قرقی ہو جاتی ہے۔ جبکہ بڑے بڑے مگرمچھ جو اربوں کے قرضے لئے ہوتے ہیں انہیں معاف کر دیا جاتا ہے۔چنانچہ وہ ارب پتی سے کھرب پتی بن جاتے ہیں۔ اس وقت ہم اہل پاکستان پر یہی ابلیسی نظام مسلط ہے جب آپ بنک میں سودی قرض لینے جاتے ہیں تو بنک والے آپ کی بڑی آئو بھگت کرتے ہیں، آپ کو سبزباغ دکھاتے ہیں۔ لیکن اگر آپ ڈیفالٹر ہو جائیں تو پھر آپ کے ساتھ نہایت ظالمانہ سلوک ہوتا ہے۔ سود ظلم کا سب سے بڑا ذریعہ اور بنیاد ہے۔ سودی نظام معیشت سے معاشرہ میں محرومین و مترفین کے دو طبقات وجود میں آجاتے ہیں۔ اسلام نے سود کو اسی لئے حرام قرار دیاہے، تاکہ ظلم و استحصال کا دربند ہو۔ قرآن حکیم میں فرمایا گیا کہ اگر تم سود کو نہیں چھوڑتے تو پھر اللہ اور رسول سے جنگ کے لیے تیار ہو جائو۔ حدیث کے مطابق سود کے گناہ کے ستر(یا سوحصے) ہیں۔ سب سے چھوٹا اس کے برابر ہے کہ آدمی اپنی ماں کے ساتھ نکاح کر ے۔ اسی طرح ذخیرہ اندوزی غلط ہے۔ کسی چیز کی قلت کا ناجائز فائدہ اٹھانا غلط ہے۔سرمایہ دارانہ نظام میں تحفظ سرمایہ دار کے لیے ہے، محنت کش کی محنت کو کوئی تحفظ حاصل نہیں۔ سرمایہ داریت شیطانی نظام ہے۔ افسوس کہ آج خود مسلمان اس میں ملوث ہیں۔ علامہ اقبال نے اپنی نظم ''ابلیس کی مجلس شوریٰ'' میں کہا ہے کہ ابلیس کے چیلے اُس کے سامنے اپنی اس پریشانی کا اظہار کر رہے تھے کہ دیکھو یہ جو اشتراکیت کا نظام آ گیا ہے ، اس کے نتیجے میں جب دولت کی منصفانہ تقسیم ہو جائے گی تو پھر ہمارے لیے کام کرنے کا کوئی میدان نہیں رہے گا، پھر ہم بے کار ہو جائیں گے ۔ اس پر ابلیس نے انہیں تسلی دی کہ نہیں اس سے مت گھبرائو ، ہمیں اس نظام سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔ ہمیں خطرہ تو مسلمانوں کی بیداری ہے۔ کب ڈرا سکتے ہیں مجھ کو اشترا کی کوچہ گرد

یہ پریشاں روز گار، آشفتۂ مغز، آشفتہ ہو ہے اگر مجھ کو خطر کوئی تو اس امت سے ہے جس کی خاکستر میں ہے اب تک شرارِ آرزو خال خال اس قوم میں ابتک نظر آتے ہیں وہ کرتے ہیں اشکِ سحر گاہی سے جو ظالم وضو جانتا ہے، جس پہ روشن باطنِ ایّام ہے مزدکیت فتنۂ فردا نہیں، اسلام ہے لیکن ساتھ وہ اپنے چیلوں کو تسلی دیتا ہے کہ جانتا ہوں میں یہ امت حامل قرآں نہیں ہے وہی سرمایہ داری بندۂ مومن کا دیں جانتا ہوں میں کہ مشرق کی اندھیری رات میں بے یدِبیضا ہے پیرانِ حرم کی آستیں عصر حاضر کے تقاضائوں سے ہے لیکن یہ خوف ہو نہ جائے آشکارا شرعِ پیغمبر کہیں ابلیس کہتا ہے کہ فکر کی کوئی بات نہیں۔ اس لئے کہ آج خود بندۂ مومن کا دین اسلام نہیں ہے، سرمایہ داری نظام ہے۔ اس بنیاد پرمجھے بڑا اطمینان ہے۔ درحقیقت یہ سرمایہ دار انہ سودی نظام اس وقت شیطان کا سب سے بڑا ہتھکنڈہ ہے۔ اسی نظام کو تحفظ دینے کے لیے جمہوری نظام بنایا گیا ہے۔ جس میں ایک آدمی سرمائے کے بل پر آتا ہے لیکن عام لوگ یہ سمجھ رہے ہوتے ہیںاُسے ہم نے اپنے ووٹوں کے ذریعے منتخب کیا ہے۔ ظاہر ہے، لوگوںکی ذہن سازی میڈیا کرتا ہے، اور میڈیا کو پیچھے سرمایہ دار طبقہ ہوتا ہے۔ وہی میڈیا کواپنے خطوط پر چلا رہا ہوتا ہے۔ اقبال نے اسی لیے کہا تھا کہ: تو نے کیا دیکھا نہیں مغرب کا جمہوری نظام چہرہ روشن اندروں چنگیز سے تاریک تر


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved