تاریخ کاکوڑا دان
  1  فروری‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

بزدل بنیائ86سالہ علیل بزرگ اور قرون اولیٰ کی یادگارجناب سیدعلی گیلانی سے اس قدرخوفزدہ ہے کہ اس نے پچھلے آٹھ سال سے ان کوگھرمیںمحض اس لئے نظربندکررکھاہے کہ ان کااپنے عوام سے رابطہ منقطع کردیاجائے لیکن وقت نے گواہی دی ہے کہ وہ نہ صرف مقبوضہ کشمیرمیں بلکہ تمام دنیامیںان کے احترام میں اضافہ ہوتاجارہاہے اورکشمیرکی سب سے تواناآوازکے طورپران کی پہچان بن چکی ہے۔ان کاقصورصرف یہی ہے کہ وہ بھارت کواقوام متحدہ میں کئے گئے تحریری وعدوں کی پاسداری کیلئے نہ صرف جھنجھوڑتے ہیں بلکہ بھارت کے سب سے بڑی جمہوریت کے دعوے کیلئے بھی ایک چیلنج بن چکے ہیں۔انہوں نے اب ایک مرتبہ پھرمتعصب ہندوبنئے کومتنبہ کیاہے کہ اگراس نے حریت پسندوں کوجیلوں میں ڈالنے کایہ بہیمانہ سلسلہ جاری رکھاتواس کے نتائج اب خوداس کیلئے ہولناک ہوں گے۔ واضح رہے کہ بھارتی تحقیقاتی ادارے این آئی اے نے گزشتہ چندماہ سے حریت کانفرنس سے وابستہ کشمیری رہنماؤں کی گرفتاریاں اورانہیں نئی دہلی لیجاکرقیدکرنے کامنظم سلسلہ جاری رکھاہواہے اوردوسری جانب بھارتی فوجیوں کے نہتے کشمیریوں پرمظالم میں بھی بے پناہ اضافہ ہوگیاہے۔کشمیریوں کی شہادتوں کے واقعات بھی غیرمعمولی طورپربڑھ گئے ہیں جس پرپوری وادی کشمیرسراپااحتجاج بنی ہوئی ہے۔مقبوضہ وادی میں باربارشٹرڈاؤن ہڑتال ہورہی ہے۔کشمیری حریت پسندوں کے خلاف دس ہزارصفحات پرمشتمل فردِ جرم تیار کرلی گئی ہے اورمودی سرکارنے عدالتوں کے ذریعے کشمیری قائدین کوسخت ترین سزائیں دلوانے کی منصوبہ بندی کرلی ہے۔بھارتی ٹی وی چینلزنے اپنے متعصب حکمرانوں کی ایماء پرحریت پسندوں کے خلاف زہراگلنے بیجا اوربے بنیادپروپیگنڈے کی مہم کواپناوتیرہ بنالیا ہے۔ مقبوضہ کشمیرمیں مودی سرکارکی جانب سے ایک طرف سنگباری کے الزام میں گرفتارنوجوانوں کی رہائی کی باتیں کرکے دنیاکودھوکہ دیاجارہاہے تودوسری جانب کشمیریوں کی بڑی تعدادمیں پکڑدھکڑکاسلسلہ بھی زوروں پرہے۔بھارتی فوج جب اورجس کوچاہے ،اس کے گھرمیں گھس کرانہیں گرفتارکرتی ہے اوربعدازاں کالے قوانین کے تحت اسے کسی نہ کسی جیل میں ڈال دیاجاتاہے۔کشمیری رہنماؤں اورسرگرم کشمیری نوجوانوں کے ساتھ جیو میں جس طرح کااذیت ناک سلوک کیاجارہاہے اس نے ابوغریب اورگوانتاناموبے جیسی بدنام زمانہ جیلوں میں ڈھائے جانے والے مظالم کوبھی پیچھے چھوڑدیاہے۔بھارتی سپریم کورٹ کی واضح رولنگ موجودہے کہ کشمیری قیدیوں کوبیرون ریاست جیلوں میں نہ رکھا جائے جوکشمیری جیلوں میں قیدہیں انہیں فوری طورپرمقبوضہ کشمیرکی جیلوں میں منتقل کیاجائے اوریہ کہ ان قیدیوں کوان کے گھروں کے نزدیک ترین جیلوں میں رکھاجائے لیکن بی جے پی کی سفاک حکومت اپنی ہی اعلیٰ عدلیہ کے فیصلوں کواپنے پاؤں تلے روندتے ہوئے جس کسی کوسزادیناہوتی ہے اسے بھارت کی دوردرازجیلوں میں منتقل کردیتی ہے جہاں ان سے گھروالوں کی ملاقات کی اجازت تک نہیں دی جاتی۔ بھارتی جیلوں میں کشمیری قیدیوں کوڈکیتی اورقتل جیسی سنگین قسم کی وارداتوں میں ملوث خطرناک قیدیوں کے ساتھ رکھاجاتاہے اورپھرانہیں سرکاری سرپرستی میں نشانہ بنانامعمول کی حیثیت اختیارکرچکاہے۔بھارتی جیلوں میں ان کشمیریوں کوجوتحریک آزادی میں بھرپوراندازمیں حصہ لیتے ہیں اورحریت کانفرنس(گ)کے جلسوں وغیرہ میں شریک ہوتے ہیں ، خاص طورپرتختۂ ستم بنایاجاتاہے۔ان پرجھوٹے مقدمات قائم کرکے تاحیات عمرقیدکی سزائیں سنائی جاتی ہیںیاپھرانہیں جیلوں میں سڑنے پرمجبورکردیاجاتاہے اورکئی کئی سال تک انہیں عدالتوں میں پیش بھی نہیں کیاجاتا۔مقبوضہ جموں وکشمیراوربھارت کی تمام جیلوں میں ڈھائے جانے والے مظالم پرکشمیری آگاہ ہیں اوروہاں کے حالات کاتصورکرکے ہی خوف اورغم میں ڈوب جاتاہے مگراس ضمن میں کسی کوکوئی فرق نہیں پڑتا۔حریت قائدیاسین ملک ،کشمیری رہنماء مسرت عالم بھٹ مسلم لیگ مقبوضہ کشمیر،ڈاکٹرمحمدقاسم سمیت وہ تمام کشمیری حریت پسندرہنماء جوجیلوں میں بندہیں ،انہیں نامناسب غذادی جارہی ہے بلکہ یہ انکشاف بھی منظرعام پرآچکے ہیںکہ ناقص خوراک اور''سلو پوائزن''کی وجہ سے انتہائی خطرناک امراض میں مبتلاہوچکے ہیں۔حریت رہنماؤں کے مطابق کسی کی بینائی جاچکی ہے توکسی کے گردوں وجگرنے کام کرناچھوڑدیاہے۔کشمیریوں کے سخت احتجاج کے باوجودانہیں علاج معالجے کی سہولتوں سے محروم رکھاجارہاہے۔ کوٹ بھلوال جیل کاذکرکریں تووہاں انتہائی مجرمانہ ذہنیت رکھنے والے جیل سپرنٹنڈنٹ کے مظالم بھی میڈیامیں منظرعام آچکے ہیںکہ کس طرح مسلمان قیدیوں پرقرآن کریم کی تلاوت پربھی پابندی لگادی جاتی ہے،انہیں نمازتک اداکرنے کی اجازت نہیں دی جاتی اوراسلامی احکامات کی پیروی سے روک کرزبردستی پوجاپاٹ کرنے اوربھجن گانے پر مجبور کیا جاتا ہے۔مقبوضہ جموں وکشمیراوربھارتی جیلوں سے رہائی پانے والے قیدیوں سے ہونے والے مظالم کی داستانیں رونگٹے کھڑے کردینے کیلئے کافی ہیں۔یہ باتیں بھی ریکارڈپر موجودہیں کہ کشمیری قیدیوں سے لواحقین کی ملاقات کیلئے باقاعدہ تاوان وصول کیاجاتاہے اورتاوان نہ ملنے کی صورت میں قیدیوں پرجسمانی اورنفسیاتی تشددکیاجاتاہے اوران کے ساتھ غیرانسانی سلوک روارکھاجاتاہے۔سرکردہ حریت لیڈرشیخ عبدالعزیزکوجب پندرہ سال بعدرہاکیاگیاتو انہوں نے بھارتی جیلوں کے انہی مظالم کاتذکرہ کرتے ہوئے کہاتھا:مجھے اورتیس دوسرے کشمیری قیدیوں کوجب جودھ پورجیل میں منتقل کیاگیاتوہماری آنکھوں پرپٹیاں باندھ دی گئیں،بعدمیں ہاتھ اور ٹانگیں باندھ کربرہنہ کرکے بھارت کے حق میں اورپاکستان کیخلاف نعرے لگانے پرمجبورکیاجاتا رہا۔ کشمیریوں پرغیرانسانی مظالم کے حوالے سے نئی دہلی کی تہاڑجیل بہت بدنام ہے۔کچھ عرصہ قبل اسی جیل میں چارکشمیری قیدیوں انجینئرمحمودبہار،توصیف اللہ،احتشام الحق اور محمد رفیق شاہ جیل کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ مسئوگوسوامی کی جوانتہائی سخت گیرہندو انتہاء پسندہے اورمسلمان قیدیوں پرتشدد کروانے کے متعددواقعات میں ملوث پایاجاتاہے،کی ہدایات پر مسلم قیدیوں پرقاتلانہ حملے کئے گئے جن سے ان قیدیوں کی پسلیاں ٹوٹ گئیں،بعدازاں ان کی حالت تشویشناک ہوگئی توپلاسٹرچڑھائے گئے۔جیل حکام کی جانب سے پوری کوشش کی گئی کہ ماضی کی طرح یہ واقعات پھرسامنے نہ آسکیں لیکن مذکورہ قیدیوں نے کسی نہ کسی طرح اپنے اوپرہونے والے مظالم کی اطلاع اپنے عزیزواقارب تک پہنچادی جنہوں نے حریت کانفرنس(گ)کی قیادت سے ملاقات کرکے ساری صورتحال سے آگاہ کردیاجس سے یہ واقعہ منظرعام پرآگیا۔ تہاڑجیل میں قاتلانہ حملوں کانشانہ بننے والے قیدیوں کے اہل خانہ کاکہناہے کہ زخمی ہونے والے ان چاروں قیدیوں کی طرح وہاں جتنے بھی کشمیری مسلمان قیدی موجودہیں ان کے ساتھ ایساہی بہیمانہ سلوک روارکھاجارہاہے جس کی وجہ سے ان کی زندگیوں کوسخت خطرات لاحق ہیں اوروہ انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزارنے پرمجبورہیں۔ان کاکہناتھاکہ جیل حکام کی جانب سے بعض اوقات انہیں خودتشددکانشانہ بنایاجاتاہے توکبھی جیل میں موجودہندوانتہاء پسندوں کے ہاتھوں بربریت کاشکاربنایاجاتاہے۔کشمیری قیدیوں کے اہل خانہ کی یہ باتیں ایک مرتبہ پھردرست ثابت ہوئیں حال ہی میں متحدہ جہادکونسل اورحزب المجاہدین کے سربراہ سیدصلاح الدین کے بیٹے شاہدیوسف سمیت ٨١کشمیری نوجوانوں کوشدید انسانیت سوز تشددکانشانہ بنایاگیاجس ے شاہدیوسف کے سراورکندھوں پرشدیدچوٹیں آئیں جبکہ دوسرے کشمیری نوجوان بھی شدیدزخمی ہوئے۔ تامل ناڈواسپیشل پولیس (جوخصوصی سیکورٹی اورسرچنگ کیلئے تعینات ہے)کے اہلکاراچانک تہاڑجیل کے اس بلاک میں داخل ہوکران سب کوفوری باہرنکلنے کاحکم دیاکہ وہ اس بلاک کی تلاشی لیناچاہتے ہیں۔ (جاری ہے) اس دوران انہوں نے ایک قیدی سے اس کے تکیے کاغلاف تک چھین لیاکہ اس کی اجازت نہیں ۔جب اس نے کہاکہ اس نے جیل حکام سے اس کی باقاعدہ اجازت لے رکھی ہے تومذکورہ پولیس آفیسر غصے میں آپے سے باہرہوکرغلیظ گالیاں بکنے لگا۔بعدازاں ٹیلیفون پرتامل زبان میں کسی سے بات کرتارہاجس کے کچھ دیربعد تامل ناڈوپولیس کے مزیداہلکاروہاں آگئے اورگندی گالیوںکے ساتھ ان کشمیری قیدیوں پربری طرح ٹوٹ پڑے اوران کشمیری قیدیوں کووحشیانہ تشددکانشانہ بناناشروع کردیا۔اسی اثناء میں جیل کاالارم بجادیاگیااوریہ اس صورت میں بجایاجاتاہے جب کوئی قیدی فرارہونے کی کوشش کرے یاکسی جیل اہلکار پرکوئی قاتلانہ حملہ ہوجائے یاپھرکہ ان خطرناک قیدیوں کوکنٹرول کرنامشکل ہوجائے۔ان حالات میں کوئی قیدی جان سے ہاتھ دھوبیٹھے توکسی سے کوئی پوچھ گچھ نہیں ہوتی۔ تشددکاشکاربنائے جانے والے قیدیوں کاکہناتھاکہ جس طرح یہ سب کچھ اچانک ہوگیااس سے صاف پتہ چلتاہے کہ ان تامل پولیس کے بدمعاش اورظالم اہلکاروں کودراصل یہی ٹارگٹ دیکربھیجاگیا،ان کاکہناتھا:ہمیں مارنے والے پولیس اہلکاربلندآوازمیں کہہ رہے تھے کہ'' آؤ ہم سے لڑو،اب آزادی کے نعرے لگاؤ''کہہ کرانتہائی ظالمانہ اندازمیں اندھا دھندلاٹھیاں برساتے رہے حتیٰ کہ تمام قیدیوں کوخون سے لہولہان کرکے دم لیا۔سیدصلاح الدین کے بیٹے شاہدیوسف کے سرپرتواس طرح وارکئے گئے جیسے اس کوجان سے ماردینے کاپروگرام ہو۔ایک قیدی کے سرسے جب خون کافوارہ پھوٹ پڑاتوفوری طورپراس کے سرپرتین چاریخ ٹھنڈے پانی کی بالٹیاں انڈیل دی پھرداڑھی سے پکڑکردورتک گھسیٹتے لے گئے۔کشمیری قیدیوں کایہ بھی کہناتھاکہ تامل پولیس اہلکاروں نے کشمیریوں کوتوتشددکانشانہ بنایالیکن ان کے ساتھ آشوتوش مشرا نامہ ہندوکومحض اس لئے چھوڑدیاکہ اس کی کلائی پرمخصوص دھاگہ بندھاہواتھا۔ عین اس موقع پر جب اسلامیان کشمیربھارتی جیلوں میں پابندسلاسل اورپابہ زنجیرکشمیری قیدیوں کے ساتھ اظہاریکجہتی کے طورپرایک دن کی ہڑتال پرتھے۔دہلی کی تہاڑجیل میں نہتے کشمیریوں پرجووحشیانہ تشددکیاگیاوہ بھارت کااستبدادی چہرہ مزیدبے نقاب کرنے کاموجب بناہے۔یہ انتہائی افسوسناک واقعہ مہذب دنیاکیلئے لمحہ فکریہ کی حیثیت رکھتاہے ۔ بین الاقوامی تنظیموں بالخصوص اقوام متحدہ،انسانی حقوق کمیشن ،ایشیاواچ اورایمنسٹی انٹرنیشنل کی یہ منصبی ذمہ داربنتی ہے کہ وہ مظالم برداشت کرنے والے کشمیریوں کی زندگی محفوظ بنانے میں کرداراداکریں۔تہاڑجیل کے اس واقعے سے چندیوم قبل جموں کی کوٹ بھلوال جیل میں ایک قیدی کے جسمانی تشددکی تصویرسوشل نیٹ ورک نمودارہونے کے بعد معاشرے کے سنجیدہ فکرحلقوں اورریاستی حقوق کمیشن کی جانب سے تشویش اورفکرمندی کے اظہارکے بعدیہ امیدپیداہوئی تھی کہ بھارتی جیلوں سے بربریت پرقدغن کے ذریعے بین الاقوامی اورملکی قوانین کااحترام ممکن بنایاجاسکے گالیکن دہلی کی تہاڑجیل میں ٨١کشمیری قیدیوں پرجسمانی تشددکے بعدساری امیدیں ٹوٹ گئیں ہیں۔جیل کے ایک انتہائی نگہداشت وارڈمیں مقیدان قیدیوں کوجن کے معاملات عدالتوں میں زیرسماعت ہیں،بے تحاشا تشددکرکے لہولہان کردیاگیاہے۔ اس واقعے کاشائدکسی کوعلم ہی نہ ہوتااگردہلی ہائی کورٹ میں ایک وکیل کی جانب سے اس حوالے سے مفادعامہ کی درخواست نہ دائر کی جاتی جس پرمذکورہ عدالت نے سخت تشویش کااظہار،معاملے کوسنجیدہ قراردیتے ہوئے ایک کمیٹی تشکیل دی جس نے اپنی رپورٹ میں قیدیوں پرکئے گئے جسمانی تشددکی تصدیق کی ہے جس کے نتیجے میں دہلی ہائی کورٹ کے ڈویژنل بنچ نے معاملے کی سنجیدہ تفتیش پرزوردیتے ہوئے زخمی قیدیوں کومعائنہ کرانے کیلئے ایک میڈیکل بورڈتشکیل دینے کی ہدایت جاری کی۔ان قیدیوں کی جوتصاویرسامنے آئی ہیں وہ اس بات کی مظہرہیںکہ ان کی مار پیٹ کرتے وقت کسی قسم کالحاظ نہیں کیاگیا۔ان قیدیوں کے جسم کے تمام حصوں پرزخموں کے نشانات نمایاں دکھائی دے رہے تھے۔مذکورہ تصاویردیکھ کرہردردمنددل دہل گیااورہرشخص سوچنے لگاکہ یہ جیل انتظامیہ کی انتقامی سوچ کاکھلامظہرہے۔ اگرچہ بھارتی سپریم کورٹ نے متعددمرتبہ اس نوعیت کی شکایات پرسماعت کے دوران میں حکومتوں پرنہ صرف جیلوں کے اندرانسانی حقوق کااحترام ممکن بنانے پرزوردیابلکہ اس حوالے سے پامالیوں کے مرتکب اہلکاروں کے خلاف کاروائی کرنے پربھی زوردیاگیاجبکہ ہائی کورٹس کوبھی جیلوں کی صورتحال اورقیدیوں کے حالات پرنظررکھنے کیلئے کہاہے لیکن اس کے باوجودکشمیرکے اندراوربیرونِ کشمیربھارتی جیلوں میں کشمیری قیدیوں پرظلم وتشددکاسلسلہ جاری ہے۔آئے روزجیلوں کے اندراسیرانِ کشمیر کو ذہنی اورجسمانی تشددکانشانہ بنایا جارہاہے لیکن عالمی سطح پرکبھی بھی زورداراندازمیں ان کاسنجیدگی سے نوٹس نہیں لیاگیا۔ ریاستی حقوق کمیشن نے کوٹ بھلوال جیل میں پیش آنے والے واقعے کا ازخودنوٹس لیکرجیل خانہ جات کے کٹھ پتلی ریاست حکام کوواقعے کی تحقیقات کرکے ایک ماہ کے اندراندررپورٹ پیش کرنے کی ہدائت کی تھی لیکن اس پرابھی تک کوئی کاروائی نہیں ہوئی اور ماضی کی طرح کمیشن کی ایسی ہدایات کو نظراندازکیاجاتارہاہے۔تہاڑجیل معاملے کا چونکہ دہلی ہائی کورٹ نے سنجیدہ نوٹس لیاہے ،اس لئے ہوسکتاہے کہ خلاف قانونی کاروائی کے مرتکبین کوقانون کے کٹہرے میں کھڑا کردیا جائے۔ تہاڑجیل میں کشمیری قیدیوں پربدترین تشددکے بعدمقبوضہ کشمیرمیں یہ مطالبہ زور پکڑ رہاہے اوراس کیلئے بڑے پیمانے پراحتجاج اور ہڑتالیں بھی کی جارہی ہیں کہ کشمیری قیدیوں کو بھارتی جیلوں سے کشمیرکی جیلوں میں بھیجاجائے ۔حریت کانفرنس کے بزرگ رہنماء جناب سیدعلی گیلانی ،میرواعظ عمرفاروق اوریٰسین ملک نے اقوام متحدہ ،ایمنسٹی انٹرنیشنل،ایشیا واچ اورریڈکراس کمیٹی جیسے اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس واقعے کاسختی سے نوٹس لیں اوربھارتی حکومت پردباؤبڑھائیں کہ وہ بے گناہ کشمیری قیدیوں کورہاکرے اورانہیں کشمیرکی جیلوں میں بھیجاجائے ۔حریت قائدین نے یہ بھی واضح طورپرکہاہے کہ اگرکشمیری قیدیوں میں سے کسی جان ومال کونقصان پہنچاتواس کے نتائج بے حدسنگین ہوں گے اور پھر پورے کشمیرمیں ایک بڑی تحریک کے زورپکڑنے کوکوئی نہیں روک سکے گا۔جموں وکشمیربارایسوسی ایشن نے بھی اس حوالے سے بھرپورآوازبلندکرتے ہوئے کشمیری قوم کومتحد ہونے کی اپیل کی ہے۔ضرورت اس امرکی ہے کہ حکومت پاکستان بھی اس حوالے سے مضبوط آوازبلندکرے اوردنیاکی سب سے بڑی فراڈجمہوریت کی دعویدارمودی سرکارکے ظالمانہ چہرے کوعالمی سطح پربے نقاب کرے۔ کشمیریوں کی تحریک اقوام متحدہ کی قراردادوں کے عین مطابق ہے اوراسی حوالے سے اقوام متحدہ کی درجنوں قراردادیں موجودہیں۔

ادھرقصرسفیدکافرعون ٹرمپ بھارتی دہشتگردی سے نظریں چراتے ہوئے متعصب مہاسبھائی مودی کی پیٹھ ٹھونکنے میں مصروف ہے اورپاکستان سے کہاجارہاہے کہ وہ بھارت کو مطمئن کرے۔اس کایہ دہرامعیارواضح کرتاہے کہ پاکستان کے خلاف سازشوں میں بھارت کوقصرسفیدکے فرعون کی مکمل سرپرستی حاصل ہے اورکشمیرکی تحریک آزادی کوکچلنے کیلئے وہ بھارت کو ہرممکن مددفراہم کررہاہے لیکن مظلوم کشمیریوں نے اپنی لازوال قربانیوں سے تحریک آزادی کوجس موڑپرپہنچادیاہے اسے اب طاقت کے بل پرکچلناممکن نہیں۔کشمیری قوم کے ہرفردکے دل ودماغ میں غاصب بھارت کے خلاف نفرت کاالاؤ دہک رہاہے۔کشمیرکاہرگھرکسی نہ کسی حوالے سے بھارتی ظلم وستم سے متاثر ہے۔ انہیں کسی قسم کے لالچ، تشددیاقتل وغارت گری سے ڈرادھمکاکرتحریک آزادی سے پیچھے ہٹانے پرمجبورنہیں کیاجاسکتا ۔ کشمیری قائدین کے خلاف بھی بھارت سرکاراپنی خفیہ ایجنسیوں کااستعمال کرتے ہوئے جس طرح کی سازشیں کررہی ہے اورانہیں عدالتوں کے ذریعے سزائیں دلوانے کے جومذموم ارادے رکھتی ہے ،اس میں انہیں ہرگزکامیابی حاصل نہیں ہوسکتی ۔کشمیری قوم پاکستان کواپناسب سے بڑاوکیل سمجھتی ہے ۔چونکہ کشمیری حریت پسندتکمیل پاکستان کی جنگ میں قیدوبندکی صعوبتیں بھی برداشت کررہے ہیں اس لئے پاکستان کوکشمیری بھائیوں کی وکالت کافرض سرانجام دینے میں ذرّہ بھر توقف، تاخیراورتکلف ایک ناقابل تلافی جرم ہوگا جس کیلئے خودپاکستانی عوام ان لیڈروں کاایسامحاسبہ کرے گی کہ تاریخ کاکوڑہ دان بھی ان کواپنے ہاں پناہ دینے میں شرمندگی اورخجالت محسوس کرے گا۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved