پاکستان اسٹیل کی بربادی
  3  فروری‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

چالیس ہزار سے زائد ملازمین رکھنے والی پاکستان اسٹیل ملز نچلی سطح پر روزگار کی فراہمی کا ذریعہ تھی۔ ملکی معیشت کے استحکام میں اس کا کردار انتہائی اہم رہا۔ ماضی و حال کی حکومتیں پاکستان اسٹیل ملز کی صلاحیتوں کو بروئے کار تو کیا لاتیں اس کے برعکس ان کی نااہلیوں سے یہ ادارہ جو کبھی ملک کے بیش قیمت اثاثوں میں شمار ہوتا تھا، آج معیشت پر بھاری بوجھ بن چکا ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل صبیح قمرالزمان جنوری 1992میں جب پاکستان اسٹیل ملز کے چیئرمین بنے تو سیاسی جماعتوں کی حمایت یافتہ لیبر یونینز کی سرگرمیاں اور غیر ضروری بھرتیاں انتظامیہ کے لیے چلینج کی صورت اختیار کرچکی تھیں۔ یونین کی سرگرمیاں محدود کرنے کے ساتھ لیفٹننٹ جنرل صبیح نے اوور ٹائم، سہولیات، میڈیکل اور ٹرانسپورٹ وغیرہ کے نظام میں اصلاحات کیں جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ صرف 18ماہ میں ادارے کے ماہانہ اخراجات 22کروڑ 30لاکھ روپے سے کم ہوکر ساڑھے 16 کرورڑ ہوگئے۔ 1994 میں اسٹیل ملز کی 95 فی صد پیداواری صلاحیت کو بروئے کار لایا گیا اور دس لاکھ ٹن کی سال میں ریکارڈ پیداوار حاصل کی گئی۔ لیفٹیننٹ جنرل صبیح کی کامیابیوں کے باجود روسی کمپنی کے ساتھ ہونے والے معاہدے میں نقائص اور دیگر رکاوٹوں کی وجہ سے اپ گریڈیشن کا عمل آگے نہیں بڑھ سکا۔ 1999کے بعد یہ اہم ترین ادارہ تیزی سے زوال پذیر ہوا۔ مئی 2006میں ملازمین، یونینز اور سول سوسائٹی کے حلقوں کی جانب سے احتجاج کے بعد سپریم کورٹ نے پاکستان اسٹیل ملز کی الطوارقی گروپ کے زیر سربراہی بننے والے سعودی کنسورشیم کے ہاتھوں نجکاری روک دی۔ احتجاج کرنے والوں کا مؤقف تھا کہ اسٹیل ملز کی فروخت جلد بازی میں کی جارہی ہے اور منافع کو یکسر نظر انداز کردیا گیا ہے۔ پاکستان اسٹیل ملز کی حقیقی تباہی کا آغاز پیپلز پارٹی کے برسر اقتدار آنے کے بعد ہوا جب سابق صدر آصف زرداری کے قریبی ساتھی(سیکریٹری جنرل) سلمان فاروقی کو اس کا چیئر مین مقرر کیا گیا، جو اس ادارے کے کرپٹ ترین سربراہ ثابت ہوئے۔ ادارے کے وسائل پہلے ہی تباہی کے دہانے پر آچکے تھے، مفاد پرست سیاسی عناصر نے ادارے میں اپنے کارندے افسران، سپلائرز اور ٹھیکے داروں کی مدد سے ہولسیل اور کباڑ کے سودوں میں لوٹ مار کا بازار گرم کرکے رہی سہی کسر بھی پوری کردی۔ سودوں میں قواعد و ضوابط کی کھلی خلاف ورزیاں کی گئیں اور سپلائرز کے ساتھ انتہائی مہنگے داموں معاہدے کیے گئے جس سے کمیشن اور رشوت ستانی کے راستے کھلے۔ واشنگٹن پوسٹ میں 19اگست 1996کو "Beleaguered Benazir Bhutto" کے عنوان سے شایع ہونے والی کینتھ جے کوپر اور کامران خان کی مشترکہ رپورٹ کے مطابق:''گذشتہ نومبر (بے نظیر) بھٹو نے عثمان فاروقی کے خلاف تعلیمی اسناد میں جعل سازی اور امریکا کے غیر منظور شدہ کالج سے بزنس اور ڈاکٹریٹ کی ڈگریاں خریدنے کے شواہد کے باوجود انہیں پاکستان اسٹیل کا چیئرمین مقرر کیا۔ 1993میں پاکستان اسٹیل کی جانب سے ادارے کی داخلی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ فاروقی نے ڈگری حاصل نہیں کی بلکہ لندن اور پاکستان کے ٹیکنیکل اسکولز سے تعلیم پائی۔ پاکستان اسٹیل کے اعلی افسران کی دو رپورٹس کے مطابق فاروقی کے چیئرمین بننے کے ابتدائی آٹھ ماہ میں کم قیمتوں پر ایسے سودے کیے گئے جن سے ادارے کو 14کروڑ ڈالر کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔ مثلاً جنوری میں اہم ترین مصنوعات کے سودے بازار میں جاری قیمتوں سے ایک تہائی کم نرخوں پر کیے گئے جس سے ادارے کو 60لاکھ ڈالر کا نقصان ہوا۔ مئی میں پاکستان اسٹیل نے کراچی کے پانچ سپلائرز سے سات لاکھ ڈالر میں پانچ انتہائی مہنگے آلات خریدے جب کہ ان کی اصل قیمت محض چار ہزار ڈالر تھی۔'' قومی احتساب بیور نے عثمان فاروقی کے دور سے متعلق 23 معاملوں میں تحقیقات کا آغاز کیا جن میں سے اختیارات کے غلط استعمال کے خلاف 18ریفرنس تیار کیے گئے۔ آخر کار انہیں سات سال قید بامشقت کی سزا دی گئی اور دو ریفرنسز میں 21برس کے لیے ناہل قرار دیا گیا۔ دو ریفرنسز میں فاروقی پلی بارگین کرکے غیر قانونی ذرایع سے حاصل کردہ 33کروڑ کے اثاثوں سے دست بردار ہوئے۔ بعد میں فاروقی نے عدالت سے ضمانت پر رہائی حاصل کی اور منظر سے غائب ہوگئے اور قید سے فرار میں کام یاب رہے۔ فوجواری مقدمات میں نام زد ہونے کے باوجود ملک سے عثمان فاروقی کا فرار کسی بااثر شخص کی مدد کے بغیر ممکن نہیں تھا۔ اگر وہ پاکستان ہی میں موجود رہے تو متعلقہ حکام انہیں کیوں تلاش نہیں کرسکے؟ کئی برس وہ نظروں سے اوجھل رہنے میں کیسے کام یاب رہے یہ آج تک معمہ ہے۔ آخر ایسی کیا سودے بازی ہوئی تھی؟

ایک جامع اور ہمہ جہت حکمت عملی ترتیب دے کر پاکستان اسٹیل کی نج کاری کے لیے ممکنہ سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کی جاسکتی ہے۔ یہ حکمت عملی حکومت کی حصص سے دست برداری، انتظامی امور کی تفویض، اثاثوں کی فروخت جیسے نکات پر مشتمل ہونی چاہیے۔ نج کاری کے بعد ادارے کی فعالی یقینی بنانے کے لیے مجموعی ڈھانچے کی تشکیل نو ناگزیر ہوچکی ہے۔ اپنے محل وقوع کے سبب پاکستان اسٹیل کی اراضی کی قیمت اور تربیت یافتہ افرادی قوت وہ مثبت پہلو ہیں جو نج کاری کے منافع بخش معاہدے میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔ یہ انتخابات کا سال ہے، معاملہ سیاست کی نذر نہ ہو اس لیے ملازمین کے لیے پُرکشش پیکیج کا اعلان بھی ضروری ہے۔ عثمان فاروقی کی لوٹ مار کے بعد اس ادارے کی بحالی کی کوئی کوشش کام یاب نہیں ہوسکی۔ لیفٹیننٹ کرنل محمد افضل خان نے 1999میں پاکستان اسٹیل کی سربراہی سنبھالی، ابھی انہوں نے اصلاحات کی ابتدا ہی کی تھی کہ زندگی نے انہیں مہلت نہ دی۔ لیفٹیننٹ جنرل عبدالقیوم کو جب پاکستان اسٹیل میںذمے داریاں سونپی گئیں تو ادارہ بدعنوانی کے الزامات کی زد میں تھا۔ بد انتظامی اور مطلوبہ سرمایہ کاری نہ ہونے کے باعث پاکستان اسٹیل ملز تباہ حالی کی تصویر بن چکی تھی۔جنرل قیوم نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا، ادارے کے قرضے ختم کیے اور بدعنوانی کے خاتمے کے لیے ٹرانسپرینسی انٹرنیشنل کے ساتھ معاہدہ طے کیا۔ لیکن یونٹس چوں کہ بہت پرانے ہو چکے تھے اور ان کی مرمت کی صورت حال بھی انتہائی ابتر تھی اس لیے تباہی کا عمل روکا نہیں جاسکا۔ این آر او نے پاکستان اسٹیل کو لوٹ کر مال بنانے والوں کو قانون کے شکنجے سے فرار کا راستہ دیا۔ سپریم کورٹ نے این آر او کو خلاف آئین قرار دیا لیکن اس سے مستفید ہونے والے نیب کی دوستانہ پراسیکیوشن کے باعث مقدمات سے بچ نکلنے میں کام یاب ہوئے۔ نیب نے گذشتہ برس دسمبر میں اعلان کیا تھا کہ '' ذمے داران کے تعین کے لیے پاکستان اسٹیل ملز کی تباہ حالی کی تحقیقات کی جائیں گی تاکہ یہ بھی معلوم کیا جاسکے کہ کہیں یہ تباہی کسی سوچی سمجھی سازش کا حصہ تو نہیں تھی۔'' جون 2015سے پاکستان اسٹیل ملز ٹھپ پڑی ہے، ہر ماہ اسے تقریباً 1.4ارب کا خسارہ ہورہا ہے۔ 2013میں جب ن لیگ برسر اقتدار آئی تو پاکستان اسٹیل کا خسارہ دوسو ارب تک ہو چکا تھا۔ پاکستان کے سب سے بڑے اور منافع بخش انڈسٹریل یونٹ کے زوال کی بنیادی ذمے داری کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات کی جائیں تو عثمان فاروقی اپنے انتہائی بااثر پناہ دینے والے کی مدد کے بغیر نیب سے بچ نہیں سکتے۔ عثمان فاروقی کو احتساب کے کٹہرے میں لاکر دوسروں کے لیے مثال بنایا جاسکتا ہے۔(فاضل مصنف سیکیورٹی اور دفاعی امور کے تجزیہ کار ہیں)


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved