شہدائے کشمیراورمہاجرین1989
  3  فروری‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

وفاق اورآزاد کشمیر حکومتیں جب بجٹ پیش کرنے کی تیاریوں کو حتمی شکل دے رہی ہوتی ہیں۔ تو بجٹ میں مہاجرین کے لئے فنڈز مختص کرنے کے مطالبات ہوتے ہیں۔ ابھی بجٹ کو چھ ماہ باقی ہیں۔ اب یک بار پھر یوم یک جہتی کشمیر منانے کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ مگر مہاجرین کے ساتھ کئے گئے وعدے وفا نہ ہو سکے۔ وفاق میںن لیگ کی حکومت ہے۔ آزاد کشمیر میںبھی مسلم لیگ ن بر سر اقتدار ہے۔ اس سے پہلے یہ تاثر رہا ہے کہ کہ جب اسلام آباد میں مخالف پارٹی کی حکومت بنتی ہے تو مظفر آباد حکومت کو فوری بوریا بستر سمیٹنا پڑتا ہے۔ لیکن گزشتہ بارمیاں نواز شریف نے ساری روایات بدل ڈالیں۔ ن لیگ کی پاکستان میں حکومت تھی۔ آزاد کشمیر میں پی پی پی اتحاد کی حکومت تھی۔ مگر میاں صاحب نے اس اتحاد کو چلنے دیا۔ اپنے سیاسی مخالفین کو نہ صرف برداشت کیا بلکہ انہیں ہر ممکن تعاون بھی فراہم کیا۔ آزاد کشمیر کا مسئلہ فنڈز رہا ہے ۔ ہمیشہ فنڈز میں اضافے کا مطالبہ کیا گیا۔ اس بار ترقیاتی فنڈز میں دوگنا اضافہ کیا گیا۔ شاید یہ دنیا کی منفرد ریاست ہو جہاں کا غیر ترقیاتی بجٹ اس کے ترقیاتی بجٹ سے پانچ گنا زیادہ ہوتا ہے ۔ یعنی آپ نے یہاں20ارب خرچ کرنے کے لئے50ارب روپے لگانے ہوتے ہیں۔ ایک ایسا خطہ جو پاکستان ایک ضلع سے بھی چھوٹا ہے، اسے چلانے کے لئے ایک ملک کا سیٹ اپ بنا ہے۔ یہ سب اس وجہ سے ہے کہ آزاد کشمیر آزادی کی جدوجہد کابیس کیمپ ہے۔ یہاں کی ساری مشنری کو پوری ریاست کی آزادی کے لئے کام کرنا ہے۔ یہاں ہم آزادی کی جدو جہد میں اپنا سب کچھ قربان کر کے بیس کیمپ کی طرف بھاگ کر آنے والوں کا ذکر کررہے ہیں۔ گزشتہ 28سال میں ان پر کیا گزری۔ یہ داستان ہے۔ مورخ اس دور کو جس طرح بھی رقم کرے،مگر یہ ضرور سوال ہو گا کہ جس خطے کا مقصد ہی پوری ریاست کی آزادی تھا، اس خطے کے حکمرانوںنے اسی آزادی کے لئے اپنی جان ،مال، گھر بار، عزتوں کی قربانیاں پیش کرنے والوں کے ساتھ کیسا سلوک روا رکھا۔ کشمیری مہاجرین کا جب بھی ذکر ہوتا ہے تو ایک غلط فہمی پیدا کی جاتی ہے۔ مہاجرین مقیم پاکستان کی جانب فوری توجہ جاتی ہے۔ مہاجرین مقیم پاکستان 1947, 1971, 1965کے کشمیری ہیں۔ ان کے لئے آزاد کشمیر اسمبلی میں کل 12نشستیں مختص ہیں۔ یہ لوگ لاکھوں میں ہیں۔ جو راولپنڈی سے کراچی، پشاور، لاہور، گوجرانوالہ سمیت پورے ملک میں پھیلے ہوئے ہیں۔ انہیں بھی تقسیم کیا گیا ہے۔ ویلی اور جموں میں۔ اس طرح ویلی کی چھ اور جموں کی بھی چھ اسمبلی سیٹیں ہیں۔ یہ سب مہاجرین بکھرے پڑے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ کسی کے زہن میں قیام پاکستان کے وقت بھارت سے ہجرت کرنے والے مسلمانوں کی آباد کاری ہو۔ یہ لوگ تو ایک ملک بسانے اور قوم کا خواب پورا کرنے پاکستان آئے تھے۔ بعد ازاں اگر کہیں لسانی مسائل پیدا ہوئے تو یہ بشری غلطیوں کے باعث ہی الجھے ہوں گے۔ ورنہ یہ لوگ ہندوستان سے دو قومی نظریہ کے تحت ایک سیسہ پلائی دیوار اور ایک جسم بننے یہاں آئے تھے۔ ان کی نظر میں کوئی پنجابی، سندھی، بلوچی، مہاجر، اردو یا پشتو، کشمیری بولنے والا نہ تھا۔ سب ایک اور سب پاکستانی تھے۔ پھر یہ سب تفریق کیسے پیدا ہوئی ۔ یہ بھی الگ بحث ہو گی۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ جب آپ ایک گھر میں دو ایک جیسے افراد کے ساتھ مختلف سلوک کریں گے۔ پھر اس میں تسلسل ہو گا۔ اسے شعوری امتیاز ہی کہا جا سکتا ہے۔ اسے انتشاری لوگ اجاگر کر کے تفرقہ بازی پیدا کرتے ہیں۔ بھارت سے یہاں آنے والے مہاجرین اور کشمیری مہاجرین میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ کشمیری یہاں آئے لیکن ان کا مقصد اپنے مادر وطن کی آزادی تھا۔ انہیں اس طرز پر آباد کیا جاتا کہ ان کی کشمیری شناخت بھی قائم رہتی اور یہ سب اور ان کی آئندہ نسلیں کشمیر کی آزادی کے لئے کھل کر کردار بھی ادا کرتیں۔ یہ کردار سیاسی، سفارتی اور دیگر محازوں پر بھی سامنے آتا تو جدوجہد میں شامل کسی کو کوئی پاکستانی در انداز یا دہشت گرد نہ کہہ سکتا ۔ ان کی آباد کاری اس طرح نہ ہوسکی۔

یہ اچھا ہوا کہ ان کو دوہری شہریت ملی۔ لیکن اس سب میں ان کی کشمیریت کھو گئی۔ ان کا کشمیر کی آزادی کے لئے کردار چھپ گیا ۔ دوسرے لفظوں میں ان کی زندگی ہی بے مقصد ہو گئی۔ بے مقصد زندگی کوئی زندگی نہیں۔ یہ بات یاد رہے کہ مقصد کا نیک اور پاکیزہ ہونا ضروری ہوتا ہے۔ اگر آپ کا مقصد زندگی کسی کو تکلیف اور نقصان پہنچانا ہے تو سمجھ لیں آپ دنیا کے ناکام ترین شخص ہیں۔ 1989کو بھی کشمیری مہاجر بنے۔ یہ کشمیر میں مسلح جدوجہد کے آغاز کی بات ہے۔ ان کی تعداد 40ہزار بھی نہیں۔ لیکن انھو ں نے بہت قربانیاں دی ہیں۔ انہیں آزاد کشمیر حکومت گزارہ الائونس دیتی ہے۔ جو روزانہ پچاس روپے فی کس ہے۔یعنی ایک فرد کو ایک دن میں چائے کی دو پیالی نوش کرنے کو دی جاتی ہیں۔ اس میں گزشتہ10سال سے اضافہ نہیں کیا گیا۔ اس لئے بجٹ میں رقم مختص ہونی چاہیئے تا کہ ایک فرد چائے کی دو پیالی کے ساتھ دو وقت کی دال روٹی پر گزارہ کرسکے۔پھر تعلیم، صحت، سر چھپانے کو چھت کہاں سے آئے گی۔ مہاجرین کے اس ا لائونس میں اضافہ اسی لئے ضروری ہے۔ مہاجرین کی آباد کاری پہلی ضرورت ہے۔ وادی جہلم میں ٹھوٹھہ میں ایک منصوبہ چل رہا ہے۔ کویت حکومت کے ہم شکر گزار ہیں جس نے 26کروڑ روپے سے زیادہ رقم فراہم کی۔ 730پلاٹ بن رہے تھے۔ ایک کنبہ چار مرلہ کے پلاٹ پر تعمیر کردہ کوارٹر میں رہائش اختیار کرے گا۔پی پی پی دور میں وزیر اعظم آزاد کشمیر چودھری عبد المجید نے الاٹ منٹ لیٹرز تقسیم کئے ۔ یہ منصوبہ کب مکمل ہو گا ۔ کوئی نہیں جانتا۔ ایسا لگتا ہے کہ کام سست رفتاریا صرف دکھانے کے لئے جاری رکھا گیا۔ 1989کے تمام مہاجرین کی آبادکاری کے لئے توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ نیزشہداء کے بچوں، بیوائوں اور لواحقین کے ساتھ بھی پاک فوج کے شہداء کے لواحقین جیسا سلوک کیا جائے۔ یہ لوگ بلا تنخواہ ، بلا معاوضہ پاکستان کے سپاہی ہیں۔ یہ انھوں نے اپنے خون اور قربانیوں سے ثابت کیا ہے۔ ان کے یتیم بچے، بیوائیں، وہ خاندان جن کے وہ واحد کمانے والے تھے، ان کا کیا قصور ہے۔ قواعد و ضوابط میں ترمیم کر کے کشمیری شہداء کے لواحقین کو بھی باعزت جینے کاحق دیا جانا چاہیئے۔ ارباب اختیار اللہ تعالیٰ کو کیا جواب دیں گے۔توقع کی جانی چاہیئے کہ وفاق اور آزاد کشمیر کی حکومتیں صرف وعدوں پر تکیہ نہ کریں گی بلکہ مہاجرین کے اس انسانی مسئلے کی جانب ہمدردانہ توجہ دیں گے ۔ حکمران اور متعلقین صرف ایک منٹ کے لئے آنکھیں بند کریں اور مہاجرین کے بچوں کی جگہ اپنے بچوں کو رکھ کر سوچیں تو مسئلے کے حل ہونے میں زیادہ دیر نہیں لگے گی۔ آج مہاجرین ایک بار پھر حکمرانوں کے جھوٹے وعدوں سے تنگ آ کر سڑکوں پر ہیں۔ بھوک ہڑتال کر رہے ہیں۔وہ چاند نہیں مانگتے۔ وہ مساوات اور خصوصی مراعات کے حق دار ہیں۔ ان کے گزارہ لائونس میں اضافہ، کوٹہ پر عمل در آمد، مفت تعلیم اورطبی سہولیات، کیمپوں میں بنیادی ضروریات کی فراہمی، باعزت روزگار اور آبادکاری جیسے مسائل فوری حل کے متقاضی ہیں۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved