فلسطین لاوارث نہیں!
  4  فروری‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

ٹرمپ یہ سمجھ بیٹھا ہے کہ سعودی عرب اور دیگر عرب ریاستوں نے ایران کی طرف سے کسی حملے کے امکان کو اپنے حواس پر اس قدر سوار کرلیا ہے کہ اب انہوں نے عرب اسرائیل تنازع کو بھی وقتی طور پر ایک طرف رکھ دیا ہے۔ سعودی ولی عہد کو اپنی طاقت میں اضافے کی اس قدر فکر لاحق ہے کہ وہ فی الحال عرب اسرائیل تنازع میں ثالث یا مصالحت کار کا کردار ادا کرنے میں کچھ زیادہ دلچسپی لیتے دکھائی نہیں دے رہے۔ اسرائیل اور عربوں کے درمیان مخاصمت کی تعبیر و تشریح کرتی ہوئی ٦روزہ جنگ کو ٠٥سال گزر چکے ہیں۔ جنگ ختم ہوئی تو اسرائیل غرب اردن، غزہ کی پٹی، بیت المقدس، گولان کی پہاڑیوں اور جزیرہ نما سینائی پر قابض ہوچکا تھا۔ تب دنیا نے اس عسکری نتیجے کو عارضی سمجھا تھا۔ فلسطینی ریاست سے محروم تھے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے جنگ کے ختم ہونے کے پانچ ماہ بعد قرارداد نمبر ٢٤٢منظور کی، جس کے تحت اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان معاملات کو مفاہمت کے ذریعے طے کرانا تھا۔ آج پانچ عشرے گزر جانے پر بھی معاملات وہیں کے وہیں ہیں۔ یہ ہے وہ تناظر جس کے تحت ٹرمپ نے حال ہی میں مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان کرکے امریکی سفارت خانہ بھی وہاں منتقل کرنے کا اعلان کیا۔ ٹرمپ کا یہ بھی کہنا ہے کہ امریکا اس قضیے میں کوئی حتمی پوزیشن اختیار نہیں کر رہا، اگر فریقین متفق ہوں تو دو ریاستوں کا نظریہ اب بھی قابل عمل اور قابل قبول ہے۔ جو کچھ ٹرمپ نے کہا اس پر یقین کرنے والوں کی تعداد خاصی کم ہے۔ وہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ مقبوضہ عرب علاقوں کے حوالے سے امریکی موقف میں کوئی جوہری تبدیلی رونما نہیں ہوئی ہے مگر یہ سب محض نمائشی نوعیت کی باتیں ہیں۔ اسرائیل نے امریکی فیصلے پر خاصی مسرت کا اظہار کیا ہے جبکہ عرب دنیا میں واضح اکثریت اس فیصلے پر شدید برہم ہے۔ ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے حقیقت پسندی کا مظاہرہ کیا ہے اور یہ کہ ان کے پیش رو اب تک حقیقت کا ادراک کرنے میں ناکام رہے تھے اس لیے ان کی پالیسیاں بھی ناکامی سے دوچار تھیں۔ پانچ عشروں کے دوران امریکی پالیسیاں ناکام رہی ہیں مگر اس کیلئے صرف امریکی پالیسی سازوں کو موردِ الزام ٹھہرانا کسی بھی طور مناسب نہیں۔ بات یہ ہے کہ اسرائیلی اور عرب بیشتر معاملات میں اتفاقِ رائے پیدا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ان کے درمیان پائے جانے والے شدید اختلافات معاملات کو درستی کی راہ پر گامزن ہونے سے روکتے رہے ہیں۔ بعض امریکیوں کا خیال ہے کہ ٹرمپ کا اعلان دراصل امریکی سیاست کی ضرورت ہے۔ امریکا اب تک اسرائیل کو مقبوضہ عرب علاقوں میں یہودیوں کی آباد کاری سے روکنے میں ناکام رہا ہے۔ دوسری طرف وہ فلسطینیوں کو اب تک کوئی بھی ڈھنگ کی پیش کش کرنے میں بھی کامیاب نہیں ہوا۔ مقبوضہ بیت المقدس کے حوالے سے امریکا کے پاس فلسطینیوں کو دینے کے لیے کچھ بھی نہیں۔ ٹرمپ کے اعلان کے بعد تشدد کے چند واقعات بھی رونما ہوئے ہیں تاہم یہ بات اب کھل کر دکھائی دے رہی ہے کہ ٹرمپ کا اعلان کسی بھی بحران کی پیدائش سے کہیں بڑھ کر ضائع ہو جانے والا موقع ہے۔ ٹرمپ کے اعلان کو نہ صرف ناقابل قبول بلکہ انتہائی نقصان دہ بنانے والی حقیقت یہ ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے اپنا پہلا سال اسرائیل عرب تنازع پر غیر معمولی حد تک توجہ دیتے ہوئے گزارا ہے۔ بہت سوں کو توقع تھی کہ صدر ٹرمپ اس قضیے کو ختم کرنے کے حوالے سے ڈرامائی اقدامات کریں گے۔ مگر ایسا کچھ نہ ہوا۔ ٹرمپ انتظامیہ نے عرب اسرائیل تنازع کو حل کرنے کے لیے جو منصوبہ تیار کیا ہے، اس کی کامیابی کا امکان مزید محدود ہوگیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ٹرمپ نے سعودی عرب اور دیگر مضبوط عرب ریاستوں کو امن کے قیام کے حوالے سے وسیع تر کردار دینے کی تیاری کی ہے۔ اس وقت عرب دنیا کو فلسطین کے تنازع سے زیادہ ایران کی فکر لاحق ہے۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور دیگر عرب ریاستیں اسرائیل سے اپنے معاملات درست کرنے پر ایران کے بارے میں زیادہ متوجہ رہنے کو ترجیح دے رہی ہیں۔ ایران کے حوالے سے عرب ریاستوں اور اسرائیل کے تصورات میں ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ اسی نکتے کا صدر ٹرمپ فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے تنازع کا کوئی قابل قبول حل تلاش کرنے میں عرب ریاستیں اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور دیگر عرب ریاستیں اپنے مالیاتی وسائل کی بنیاد پر امریکا کو مجبور کرسکتی ہیں کہ وہ اسرائیل کو امن معاہدہ اقوام متحدہ کی شرائط کے مطابق کرنے کیلئے اپنا بھرپور کردار ادا کرے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ اسرائیل جس منصوبے کو قبول یا منظور کرنے کے لیے تیار ہوگا وہ فلسطینیوں کو ان کے مطالبے سے کہیں کم دے گا۔ ایسے میں فلسطینی قائدین کسی امن معاہدے پر دستخط کرنے کیلئے کیسے تیارہوسکتے ہیں؟یہی وجہ ہے کہ فلسطین میں حماس اوردیگرگروپ اپنی جائزجدوجہدکوترک کرنے کی بجائے اپنی جانیں قربان کررہے ہیں اورخطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کبھی بھی کسی بڑے حادثے کاسبب بن سکتی ہے۔ اب توسعودی حکومت بھی فلسطینیوں کیلئے کوئی ایسا حل تلاش کرنے میں زیادہ دلچسپی نہیں لے رہی جس میں فلسطینیوں کے جائزحقوق کاتحفظ ہو۔ اس وقت سعودی قیادت اندرونی مسائل سے نمٹنے میں مصروف ہے اور اسرائیل فلسطین قضیے پر ان کی توجہ کم ہے۔ اور پھر ایران کا مسئلہ بھی سعودیوں کی بھرپور توجہ اپنی طرف کھینچ رہا ہے۔ فلسطین کے مسئلے کو نظر انداز کرنا اس مسئلے کا حل نہیں۔ سعودی قیادت اندرون ملک کرپشن ختم کرنے کے نام پر جو کچھ کر رہی ہے اس کی اصلیت کو سمجھنے والوں کی کمی نہیں۔ سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ سعودی ولی عہد کو اپنی طاقت میں زیادہ سے زیادہ اضافے کی فکر لاحق ہے اور پھر ایران مخالف اقدامات ،یمن میں انتہائی ناپسندیدہ و ناکام جنگ اور لبنان میں پریشان کن سفارت کاری سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔ ملک میں اصلاحات کے نام پر جو اقدامات کیے جارہے ہیں وہ سوچنے کی حد تک تو بہت اچھے ہیں مگر عمل کی دنیا میں ان سے خاطر خواہ نتائج برآمد ہوتے دکھائی نہیں دیتے۔ اس کے نتیجے میں انتقام کاجذبہ اور خرابیاں بڑھیں گی۔

ٹرمپ اور ان کے داماد جیرڈ کوشنر نے، جو مشرق وسطیٰ پالیسی کے انچارج ہیں، اسرائیل اور فلسطین کے تنازع کے حوالے سے کچھ سوچا ہے تو انہیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ سعودی عرب ان کی توقع سے کہیں نچلی سطح کا سفارتی پارٹنر ثابت ہوگا۔ اندرونی طور پر خود کو زیادہ سے زیادہ مضبوط کرنے کے خواہش مند ولی عہد کا ایک ایسے امریکی صدر کے ساتھ کھڑاہوناممکن نہیںجو اسرائیل کی طرف غیر معمولی حد تک جھکا ہوا ہے اور فلسطینیوں کو بالکل معمولی سطح کی رعایتیں دینے کے لیے بھی تیار نہیں۔ ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا فیصلہ بہت پہلے ہوجانا چاہیے تھا۔ اس فیصلے سے امن عمل کو آگے بڑھانے اور کوئی حتمی تصفیہ تلاش کرنے میں خاطر خواہ مدد ملے گی۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کا فیصلہ اس کے منفی اثرات پیدا کرتا دکھائی دے رہا ہے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved