کشمیری عوام کی جدوجہد، تاریخ کے آئینے میں
  5  فروری‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

آج فروری کو کشمیری عوام کی جدوجہدِ آزادی کے ساتھ یکجہتی کا دن منایا جا رہا ہے، پاکستانی عوام نہ صرف ملک کے اندر بلکہ بیرونِ ملک بھی جلسوں، مظاہروں اور دیگر پروگراموں کے ذریعے کشمیری عوام کی جدوجہدِ آزادی کی حمایت کا اعادہ کریں گے۔ اس موقع پر کشمیر کی تاریخ کے اہم پہلوں کے حوالہ سے ہم اپنا ایک پرانا مضمون قارئین کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں جو اس سے قبل ہفت روزہ ترجمان اسلام لاہور کے 24 مئی 1974 کے شمارے میں شائع ہوا تھا۔ (1) چودھویں صدی عیسوی کے ربع اول میں کشمیر کے ایک راجہ نے، جس کا نام رینچن یا رام چندر بتایا جاتا ہے، ایک عرب مسافر سید بلبل شاہ کی نماز اور تبلیغ سے متاثر ہو کر اسلام قبول کیا، اپنا اسلامی نام صدر الدین رکھا اور سری نگر میں جامع مسجد تعمیر کی۔ اس طرح کشمیر کے اسلامی دور کا آغاز ہوا۔ (2) پندرہویں صدی کے ربع اول میں کشمیر کو سلطان زین العابدین جیسا نیک دل، رعایا پرور اور علم دوست بادشاہ نصیب ہوا جس نے عدل، تدبر، رحم دلی اور اسلامی اخوت و مساوات کے جذبہ سے ریاست میں اسلام کی بنیادوں کو مستحکم کیا۔ جامع مسجد کے ساتھ دارالعلوم کی بنیاد رکھی اور علما کی سرپرستی کی۔ اہل کشمیر اسے بڈشاہ )بڑا بادشاہ( کہتے ہیں اور اس کے عدل و انصاف اور رعایا پروری کے دوست دشمن سبھی معترف ہیں۔ سلطان زین العابدین کا دور کشمیر کی اسلامی تاریخ کا زریں ترین دور شمار ہوتا ہے۔ (3) مغل فرمانروا جلال الدین اکبر نے کشمیر کو فتح کیا اور اس طرح کشمیر شاہمیری خاندان کے ہاتھوں سے نکل کر مغل خاندان کے تسلط میں آگیا۔ (4) سلطان محی الدین اورنگزیب عالمگیر کے وصال کے بعد جب سلطنت مغلیہ زوال پذیر ہوئی، مغل شاہزدوں کی باہمی چپقلش کے باعث طوائف الملوکی کا دور دورہ شروع ہوا اور ریاستیں خودمختار ہونے لگیں تو کشمیر پر افغانوں کا تسلط قائم ہوگیا اور اس طرح میں کشمیر پر مغل اقتدار کا سورج غروب ہوا۔ (5) رنجیت سنگھ مہاراجہ پنجاب کے ایک لشکر نے مصرو دیوان چند کی قیادت میں راجوری کے راستہ کشمیر پر حملہ کیا اور کشمیر کے حاکم جبار خان کو شکست دے کر سکھ اقتدار کا علم بلند کر دیا۔ یہیں سے کشمیری عوام کی بدنصیبی اور مظلومیت کا آغاز ہوتا ہے۔ رنجیت سنگھ نے کشمیر کے ڈوگرہ خاندان کو آلہ کار بنایا، اس خاندان کے دو افراد گلاب سنگھ اور دھیان سنگھ رنجیت سنگھ کے درباری ملازم تھے، انہیں رنجیت سنگھ نے اہل کشمیر پر مسلط کر دیا۔ ڈوگروں اور سکھوں نے مل کر اہل کشمیر پر بے پناہ مظالم ڈھائے، ان کی صنعت کو تباہ کیا۔ اس دور میں شال بافی کی صنعت ترقی پذیر تھی، سکھا شاہی نے فیصد ٹیکس عائد کر کے اسے مفلوج کر دیا۔ شیر سنگھ کے دور میں قحط بھی پڑا۔ ان مظالم اور قحط سے تنگ آکر بہت سے کشمیری خاندان پنجاب کی طرف ہجرت پر مجبور ہوگئے۔ چنانچہ آج پنجاب کے مختلف علاقوں میں یہ کشمیری خاندان آباد ہیں۔ (6) رنجیت سنگھ اور شیر سنگھ کے بعد سکھ اقتدار زوال پذیر ہوا تو فرنگی نے پنجاب پر براہ راست تسلط قائم کرنے کی خاطر سکھوں کو درمیان سے ہٹانے کا فیصلہ کر لیا۔ سکھوں نے مزاحمت کی لیکن بالآخر میں پنجاب فرنگی حکومت کے زیر نگین آگیا۔ سکھوں اور انگریزوں کی اس جنگ میں کشمیر کے گلاب سنگھ نے فرنگی کے ساتھ تعاون کیا جس کے نتیجہ میں فرنگی نے مارچ کو معاہدہ امرتسر کے ذریعہ لاکھ روپے نقد کے علاوہ ایک گھوڑے، بکریوں اور چھ جوڑے شال پر مشتمل سالانہ خراج کے عوض ریاست جموں و کشمیر مہاراجہ گلاب سنگھ کے ہاتھ بیچ دیا۔ اس طرح کشمیر ڈوگرہ شاہی کے خونیں پنجوں میں جکڑ لیا گیا۔ (7) ڈوگروں نے مسلمانوں کو ستانے اور ان پر ظلم ڈھانے میں پہلے ریکارڈ بھی توڑ دیے۔ شال بافی پر فیصد ٹیکس کو دوگنا کر کے فیصد کر دیا، مساجد مسمار ہونے لگیں، سکھا شاہی میں گاکشی پر پابندی عائد تھی، حتی کہ ایک گائے کے ذبیحہ پر پورے کا پورا خاندان شہید کر دیا جاتا تھا۔ اگر کوئی سکھ کسی مسلمان کو قتل کر دیتا تو اس کی سزا صرف روپے جرمانہ ہوتی تھی جن میں سے روپے مقتول کے خاندان کو ملتے اور روپے سرکاری خزانہ میں داخل کر دیے جاتے۔ ڈوگروں نے ان مظالم کو نہ صرف برقرار رکھا بلکہ ان میں دوگنا چوگنا اضافہ کر دیا۔ ڈوگرہ مظالم اور جبر و تشدد کا یہ دور کشمیر کی تاریخ کا تاریک ترین اور اندوہناک باب ہے۔ بیشتر مسلمان ان مظالم کی تاب نہ لاتے ہوئے ہجرت کرتے رہے، وقتا فوقتا مزاحمت کی تحریکیں اٹھتی رہیں، لیکن ڈوگرہ شاہی کو چونکہ دولت برطانیہ کی مکمل پشت پناہی حاصل تھی اس لیے ڈوگرہ مظالم میں کمی کی بجائے اضافہ ہوتا چلا گیا۔ (8) ڈوگرہ ظلم و ستم کے باعث ایک مسلمان کی شہادت کے بعد مدتوں سے سینوں میں پکنے والا لاوا پھٹ پڑا، پوری ریاست میں احتجاجی مظاہرے شروع ہوگئے، اہل کشمیر کی اس مظلومیت کو دیکھتے ہوئے انڈیا کی سیاسی جماعتوں نے بھی اس طرف توجہ دی۔ فرنگی کو اس دور میں یہ خدشہ تھا کہ کشمیر کی سرحد روس کے ساتھ ملتی ہے، کہیں ایسا نہ ہو کہ روس کشمیر کے راستہ سے اپنے اثرات انڈیا تک وسیع کر لے۔ اس خطرہ کے پیش نظر فرنگی حکومت نے سوچا کہ کشمیر میں کسی ایسی جماعت کو تقویت دی جائے جو وہاں فرنگی مفادات کا تحفظ اور بیرونی سرگرمیوں سے فرنگی حکومت کو باخبر کر سکے۔ قادیانی جماعت کا خلیفہ اول حکیم نور دین اس سے قبل جموں و کشمیر کے درباروں میں طبیب کی حیثیت سے فرنگی کے لیے مخبری کر چکا تھا۔ اس کے بعد اس مقصد کے لیے فرنگی نے دوسرے خلیفہ مرزا بشیر الدین کو مہرہ بنایا۔ اس نے پنجاب کے سرکردہ مسلمانوں کو دھوکے سے ساتھ ملایا اور آل انڈیا کشمیر کمیٹی کی بنیاد شملہ میں رکھ دی جس کا صدر خود مرزا بشیر الدین اور سیکرٹری عبد الرحیم درد قادیانی تھا۔ اور صدر دفتر قادیان میں طے کیا گیا۔ اس کمیٹی کے علاوہ دوسرے سرکردہ مسلمانوں میں علامہ محمد اقبال مرحوم بھی تھے لیکن حضرت علامہ سید محمد انور شاہ کشمیری اور دیگر زعما کی مساعی سے علامہ اقبال پر قادیانی سازش کی حقیقت آشکارا ہوگئی اور دوسرے مسلم شرکا بھی اس چال کو سمجھ گئے تو انہوں نے مرزا بشیر الدین کی قیادت میں کام کرنے سے انکار کر دیا۔ ادھر علامہ انور شاہ کشمیری کے شاگرد اور نامور کشمیری لیڈر میر واعظ مولانا محمد یوسف فاضل دیوبند نے کشمیری راہنماں کو قادیانی سازش کے نتائج سے خبردار کیا جس کے نتیجہ میں مرزا بشیر الدین کو کشمیر کمیٹی کی صدارت سے مستعفی ہونا پڑا۔ کمیٹی نے علامہ محمد اقبال کو صدر اور ملک برکت علی کو جنرل سیکرٹری چنا لیکن چند دنوں کے بعد خود علامہ اقبال نے کمیٹی کو توڑنے کا اعلان کر دیا اور اس طرح کشمیر کو قادیانی سرگرمیوں کا مرکز بنانے کی یہ سازش ناکام ہوگئی۔ (9) اس کے برعکس پنجاب کے عوام نے مجلس احرار اسلام کے پلیٹ فارم پر تحریک کشمیر کو بے پناہ قوت دی۔ ابتدا مجلس احرار اسلام کے ایک وفد نے کشمیری ارباب اقتدار سے مل کر انہیں ظلم و جور سے باز رکھنے کی سعی کی لیکن ڈوگرہ سامراج طاقت کے نشہ میں تھا جس کے باعث احرار کے جتھوں کو کشمیر پر یلغار کرنا پڑی۔ احرار کے کارکنوں اور پنجاب کے غیور مسلمانوں نے امیر شریعت سید عطا اللہ شاہ بخاری اور دیگر زعما احرار کی اپیل پر اس عظیم تحریک میں تیس ہزار کے قریب گرفتاریاں دے کر فرنگی اور ڈوگرہ اقتدار کے انجر پنجر ڈھیلے کر دیے اور کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کو آزادی اور مزاحمت کی راہ دکھائی۔ (جاری ہے) (10) احرار کی اس یلغار کے سامنے فرنگی اور ڈوگرہ اقتدار بے بس ہو کر رہ گیا۔ جمعی علما ہند کے قائدین حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ اور حضرت مولانا احمد سعید دہلوی سے مصالحت کی استدعا کی گئی، ان بزرگوں نے باعزت اور باوقات مصالحت کے لیے اپنی مساعی کا آغاز کیا۔ کچھ دنوں تک یہ سعی ہوتی رہی لیکن سرکار پرست مسلمانوں نے جمعی علما ہند کے ذریعہ تحریک کشمیر کے کسی نتیجہ پر پہنچنے کو اپنے مستقبل کے لیے نیک شگون نہ سمجھتے ہوئے صاحب بہادروں کے حضور واویلا کیا اور فرنگی حکمرانوں نے اپنے ژلہ خواروں اور وفاداروں کی لاج رکھتے ہوئے ان بزرگوں کی مصالحتی مساعی کو کسی مثبت نتیجہ تک نہ پہنچنے دیا۔ اگرچہ اس تحریک کا ظاہری طور پر کوئی مثبت نتیجہ سامنے نہ آیا لیکن اس سے کشمیری مسلمانوں کو جدوجہد آزادی کا حوصلہ اور جرات ملی اور کی اس تحریک کے بعد سے اب تک تحریک آزاد کشمیر کا تسلسل بدستور قائم ہے۔ (11) میں جب برصغیر تقسیم ہوا تو ریاستوں کو اس بات کی آزادی تھی کہ وہ انڈیا یا پاکستان میں سے جس کے ساتھ چاہیں الحاق کرلیں۔ کشمیر کو مسلم اکثریت کی بنا پر پاکستان کا حصہ ہونا چاہیے تھا لیکن فرنگی اور اس کے خودکاشتہ پودے قادیانی گروہ نے ایک بار پھر سازش کی، پنجاب کی سرحدات کے تعین کے لیے ریڈ کلف ایوارڈ کے سامنے مسلم لیگ کے قادیانی نمائندے ظفر اللہ خان نے ضلع گورداسپور کے بارے میں مسلمانوں کے موقف کو نقصان پہنچایا۔ ضلع گورداسپور میں قادیانیوں نے اپنے آپ کو مسلمانوں سے الگ قرار دیتے ہوئے اپنا موقف جداگانہ پیش کیا اور قادیان کو کھلا شہر قرار دینے کا مطالبہ کیا۔ قادیان تو کھلا شہر نہ بن سکا البتہ قادیانیوں کی اس حرکت کے باعث ضلع گورداسپور کو غیر مسلم اکثریت کا علاقہ قرار دے کر انڈیا کے حوالے کر دیا گیا جس کی وجہ سے انڈیا کو کشمیر کے لیے راستہ مل گیا۔ یہیں سے کشمیر کو بھارت کے تسلط میں دینے کی سازش کی ابتدائی ہوئی کیونکہ اگر گورداسپور انڈیا کے پاس نہ جاتا تو کشمیر پر انڈیا کے تسلط کی کوئی راہ نہ تھی۔ (12) کشمیر کی سیاسی جماعتوں میں سے شیخ عبد اللہ کی نیشنل کانفرنس نے انڈیا سے الحاق کا فیصلہ کیا۔ اس جماعت کو ریاستی اسمبلی میں چھ نشستیں حاصل تھیں۔ مسلم کانفرنس نے چوہدری غلام عباس مرحوم اور حضرت مولانا میر واعظ محمد یوسف کی قیادت میں پاکستان کے ساتھ الحاق کی قرارداد پاس کی۔ اس جماعت کو ریاستی اسمبلی میں نشستیں حاصل تھیں۔ مولانا میر واعظ اور چوہدری غلام عباس مرحوم کو گرفتار کر لیا گیا۔ ادھر پونچھ کے غیور نوجوانوں نے ڈوگرہ سامراج کے خلاف علم بغاوت بلند کر دیا۔ پیر علی اصغر شاہ صاحب کو امیر المجاہدین بنایا گیا اور سردار عبد القیوم خان نے جنگ آزادی کی قیادت کی۔ باغ، راولاکوٹ، نیلا پٹ، ہڈا باڑی، نانگا پہاڑ، آندھیری، سوہاوہ وغیرہ مقامات پر مجاہدین آزادی نے بے سروسامانی کے باوجود ڈوگرہ فوج کو شکست دی۔ قیام پاکستان کے بعد پاکستانی فوج اور قبائلی مجاہدین بھی ان مجاہدین آزادی کی امداد کو پہنچ گئے اور کم و بیش سوا سال کی جنگ آزادی کے نتیجہ میں مظفر آباد، پونچھ اور میرپور کے اضلاع ڈوگرہ سامراج سے آزاد کرا لیے گئے۔ جن پر آزاد جموں و کشمیر کی حکومت سردار محمد ابراہیم کی صدارت میں قائم کی گئی۔ قیام حکومت کے بعد پونچھ شہر کے حصول کے لیے بھی معرکے ہوئے، ایک موقع پر شہر تین دن تک مجاہدین کے گھیرے میں رہا مگر (اقوام متحدہ کی مداخلت کے نتیجے میں) حکومت پاکستان کی ہدایت پر جنگ بند ہوگئی اور مجبورا شہر سے پیچھے ہٹنا پڑا۔ (13) گلگت شروع میں کشمیر میں شامل اور اس کا ایک حصہ سمجھا جاتا تھا۔ پھر کشمیر کے ایک انگریز وزیراعظم کالون نے اپنے دورِ اقتدار میں اسے براہ راست انگریزی عملداری میں دے دیا۔ تقسیم برصغیر کے وقت انگریز نے پھر اسے مہاراجہ کشمیر ہری سنگھ کے حوالہ کر دیا جس نے وہاں اپنے عمال مقرر کیے۔ لیکن گلگت کے مسلمانوں نے اس تسلط کو قبول نہ کیا، ڈوگرہ شاہی کے نمائندوں کو بھگا دیا اور اس طرح ہری سنگھ کا تسلط گلگت پر قائم نہ ہو سکا۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved