حادثاتی ایٹمی جنگ کاامکان؟
  6  فروری‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

(گزشتہ سے پیوستہ) دو برس قبل سنی گروہوں نے چارممالک کے مختلف شہرو ں پر قبضہ کر لیا تھا۔پھر٦١٠٢ء میں یمنی اور اماراتی فوج نے یمن کے شہر المکلا سے القاعدہ کاخاتمہ کر دیا۔ دسمبر ٦١٠٢ء میں لیبیا کی ملیشیا اور بین الاقوامی فوج نے لیبیا کے شہر سرت میں داعش کو شکست دی۔حیرت انگیزبات یہ ہے کہ ٧١٠٢ء میں ایرانی حمائت یافتہ عراقی اور امریکی فوج نے مل کر داعش کو موصل اور عراق کے دیگر شہروں سے پسپائی پر مجبور کر دیا۔اس کے بعد شام میں بھی کرد فوج اور امریکی مشیروں کی قیادت میں اتحادی فوج نے داعش کو شامی شہر رقعہ میں شکست دی اور سال کے اختتام پر داعش کو اس کے آخری شہری علاقے،دریائے فرات کے کنارے واقعے شہر ابوکمال میں بھی پسپائی اختیار کرنی پڑی۔یہاں ایران اورامریکاکاکھلااتحادآخرکس بات کی چغلی کھاتاہے۔ امریکا اور اس کے اتحادیوں نے اس بات کا دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے داعش پر تیس ہزار فضائی حملے کیے۔امریکا کے خصوصی آپریشن کمانڈر جنرل ریمنڈ تھامس کا کہنا تھا کہ گزشتہ تین برسوں میں داعش کے ساٹھ سے ستر ہزار جنگجوں کو ہلاک کیا گیا۔اگر اس دعوے کو مبالغہ آرائی بھی کہا جائے تو بھی اس حقیقت کو کوئی نہیں جھٹلاسکتا کہ ان حملوں میں داعش کی بانی قیادت کا تقریبا ًخاتمہ ہو چکا ہے۔ ان سب حالات کو سامنے رکھا جائے تو اس بات کا امکان ہے کہ ٨١٠٢ء میں القاعدہ اور داعش کی جانب سے کچھ مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اگر چہ دونوں گروہ اپنی پرانی روش پر لوٹ گئے ہیں ،یعنی چھوٹے چھوٹے گروہوں کی صورت میں دیہی علاقوں کی طرف پلٹ گئے ہیںلیکن ہو سکتا ہے کہ ان کے بقیہ رہ جانے والے لوگوں میں وہ لوگ شامل ہوں جو بم بنانے کے ماہر ہیں اور وہ اس بات کی منصوبہ بندی کر رہے ہوں کہ مسافر طیاروں کو نشانہ بنایا جائے۔ امریکی حکام نے اسی خطرے کے پیش نظر ملک میں آنے والی پروازوں کی سیکیورٹی انتہائی سخت کر دی ہے۔ان دونوں دہشت گرد تنظیموں کو اپنے حامیان میں اپنی موجودگی اور فعالیت کا یقین دلانے کیلئے ایسے حملے انتہائی ضروری ہیں۔ایسے حملوں کا زیادہ فوکس امریکی مسافر طیارے ہی ہوں گے۔ اگرچہ امریکی حکام کی جانب سے متعدد بار جنگ کے بارے میں بیانات دیے جا رہے ہیں،لیکن میرے خیال میں سال میں شمالی کوریا کے میزائل اور ایٹمی پروگرام کے خاتمے کے لیے امریکی حملہ نہ ہونے کی دو بڑی وجوہات ہوں گی۔ پہلی یہ کہ امریکی حکام اس بات سے اچھی طرح واقف ہیں کہ شمالی کوریا کے میزائل اور ایٹمی ہتھیار نہ صرف پورے ملک میں پھیلے ہوئے ہیں بلکہ پہاڑوں کے اندر بنائے خفیہ تہہ خانوں میں چھپائے گئے ہیں۔شمالی کوریا پچھلے پچاس سالوں سے زیر زمین اور پہاڑوں میں مضبوط بنکر اور ٹنلز کا نیٹ ورک بنانے میں مصروف ہے تاکہ ایٹمی ہتھیاروں کو نہ صرف محفوظ بلکہ خفیہ بھی رکھا جاسکے۔ کسی بھی قسم کا امریکی حملہ ان تمام ہتھیاروں کو بیک وقت تباہ نہیں کرسکتا، جس کی وجہ سے جنوبی کوریا اور امریکا کوشدیداورخطرناک جوابی حملوں کا سامنا کرنا ہوگا۔ دوسری وجہ ایک کیلکولیشن ہے جو امریکی حکام کو پیشگی حملے سے روکے ہوئے ہے۔کچھ برس قبل شمالی کوریا نے امریکا اور جنوبی کوریا کے ممکنہ حملوں سے بچنے کے لیے ایٹمی ہتھیاروں کو استعمال میں لائے بغیر ایک دفاعی حصار قائم کیا تھا۔ جنوبی کوریا کے دارلحکومت سیول کو نشانے پر رکھ کر تقریبا بیس ہزار توپیں اور راکٹ لانچر نصب کیے ۔ شمالی کوریا یہ اہلیت رکھتا ہے کہ وہ سیول اورکئی اہم امریکی جنگی اڈوںکی اینٹ سے اینٹ بجادے۔کیلکولیشن یہ ہے کہ امریکا اور جنوبی کوریا کوایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کیے بغیر جتنا وقت اس توپ خانے اور راکٹ لانچروں کو تباہ کرنے میں لگے گا، شمالی کوریا اس سے پہلے ہی سیول اوراہم امریکی جنگی اڈوںکو تباہ کر چکا ہو گا۔ امریکی حکام کو اس بات کا یقین ہے کہ اگر امریکا شمالی کوریا کے ایٹمی ہتھیاروں کو تباہ کرنے کے لیے کوئی پیشگی حملہ کرتا ہے تو شمالی کوریا بغیر کسی وارننگ کے سیول اورامریکی اہم جنگی اڈوںپر بمباری شروع کر دے گا۔کیونکہ اس بمباری کے لیے شمالی کوریا کی فوج کو ہائی کمانڈ سے اجازت بھی درکار نہیں ہوگی۔اس لیے امریکا کی طرف سے کسی بھی قسم کے پیشگی حملے کی صورت میں جہاںسیول تباہی و بربادی کا شکار ہو جائے گاجوکہ ایسے اتحادی ملک کا دارالحکومت ہے، جس کے امریکا کے ساتھ بہت سے معاہدے ہیں وہاں خودامریکاکی سلامتی بھی ناقابل یقین نقصانات سے دوچارہوگی۔ امریکی سیکرٹری دفاع جیمس میٹس ان دو حقائق کو اچھی طرح سمجھتے ہیں ،یہی وجہ ہے کہ وہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو شمالی کوریا پر حملے کے فیصلے سے روکے ہوئے ہیں۔ تو پھر سوال یہ ہے کہ امریکی حکام اپنے بیانات سے ایسا کیوں باور کروانا چاہتے ہیں جیسے کہ انھوں نے شمالی کوریا پر حملے کی تمام تیاریاں مکمل کر لی ہیں؟

مسئلہ دراصل یہ ہے کہ امریکا کے پاس آپشنز بہت محدود ہیں،اس لیے وہ اپنے جارحانہ بیانات اور معاشی پابندیوں سے شمالی کوریا کو مذاکرات کی میز پر لانا چاہتا ہے تاکہ مذاکرات کے ذریعے وہ شمالی کوریا کو اپنے ایٹمی اور میزائل پروگرام پر جاری پیشرفت روکنے پر مجبور کر دے لیکن امریکا کی اس کوشش کے ساتھ دو مسئلے ہیں ۔پہلا یہ کہ امریکا کے بیانات اور تیاری کو حقیقت کے اتنا قریب لانا ہو گا کہ شمالی کوریا کو یقین ہو جائے کہ امریکا واقعی اس پر حملہ کر دے گا، دوسرا یہ کہ اگر شمالی کوریا کو یہ یقین ہو گیا کہ امریکا اس پر حملہ کرنے والا ہے تو جواب میں مذاکرات کی میز پر آنے کے بجائے وہ جنگ کی طرف جانے کو ترجیح دیں گے۔ فوج کو زیادہ عرصے تک ہائی الرٹ پر رکھنا خطر ناک ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ ایسے ماحول میں غلطیوں کی گنجائش بڑھ جاتی ہے اور فوجیوں کے اعصاب جواب دینے لگتے ہیں۔ کوریا کی فوج، امریکی فوج کی کسی بھی سرگرمی کو حملے کی تیاری سمجھ کر جوابی حملہ کر سکتی ہے۔اس طرح دونوں ممالک کی فوج جب آمنے سامنے ہوئیں تو حادثاتی جنگ کے امکا نات میں خطر ناک حد تک اضافہ ہو جاتا ہے اور مجھے خدشہ ہے کہ سال ٨١٠٢ء میں کورین جزیرے پر حادثاتی ایٹمی جنگ نہ چھڑ جائے؟


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved