کشمیری عوام کی جدوجہد، تاریخ کے آئینے میں
  6  فروری‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

(گزشتہ سے پیوستہ) ادھر علامہ انور شاہ کشمیری کے شاگرد اور نامور کشمیری لیڈر میر واعظ مولانا محمد یوسف فاضل دیوبند نے کشمیری راہنماں کو قادیانی سازش کے نتائج سے خبردار کیا جس کے نتیجہ میں مرزا بشیر الدین کو کشمیر کمیٹی کی صدارت سے مستعفی ہونا پڑا۔ کمیٹی نے علامہ محمد اقبال کو صدر اور ملک برکت علی کو جنرل سیکرٹری چنا لیکن چند دنوں کے بعد خود علامہ اقبال نے کمیٹی کو توڑنے کا اعلان کر دیا اور اس طرح کشمیر کو قادیانی سرگرمیوں کا مرکز بنانے کی یہ سازش ناکام ہوگئی۔ (9) اس کے برعکس پنجاب کے عوام نے مجلس احرار اسلام کے پلیٹ فارم پر تحریک کشمیر کو بے پناہ قوت دی۔ ابتدا مجلس احرار اسلام کے ایک وفد نے کشمیری ارباب اقتدار سے مل کر انہیں ظلم و جور سے باز رکھنے کی سعی کی لیکن ڈوگرہ سامراج طاقت کے نشہ میں تھا جس کے باعث احرار کے جتھوں کو کشمیر پر یلغار کرنا پڑی۔ احرار کے کارکنوں اور پنجاب کے غیور مسلمانوں نے امیر شریعت سید عطا اللہ شاہ بخاری اور دیگر زعما احرار کی اپیل پر اس عظیم تحریک میں تیس ہزار کے قریب گرفتاریاں دے کر فرنگی اور ڈوگرہ اقتدار کے انجر پنجر ڈھیلے کر دیے اور کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کو آزادی اور مزاحمت کی راہ دکھائی۔ (10) احرار کی اس یلغار کے سامنے فرنگی اور ڈوگرہ اقتدار بے بس ہو کر رہ گیا۔ جمعی علما ہند کے قائدین حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ اور حضرت مولانا احمد سعید دہلوی سے مصالحت کی استدعا کی گئی، ان بزرگوں نے باعزت اور باوقات مصالحت کے لیے اپنی مساعی کا آغاز کیا۔ کچھ دنوں تک یہ سعی ہوتی رہی لیکن سرکار پرست مسلمانوں نے جمعی علما ہند کے ذریعہ تحریک کشمیر کے کسی نتیجہ پر پہنچنے کو اپنے مستقبل کے لیے نیک شگون نہ سمجھتے ہوئے صاحب بہادروں کے حضور واویلا کیا اور فرنگی حکمرانوں نے اپنے ژلہ خواروں اور وفاداروں کی لاج رکھتے ہوئے ان بزرگوں کی مصالحتی مساعی کو کسی مثبت نتیجہ تک نہ پہنچنے دیا۔ اگرچہ اس تحریک کا ظاہری طور پر کوئی مثبت نتیجہ سامنے نہ آیا لیکن اس سے کشمیری مسلمانوں کو جدوجہد آزادی کا حوصلہ اور جرات ملی اور کی اس تحریک کے بعد سے اب تک تحریک آزاد کشمیر کا تسلسل بدستور قائم ہے۔ (11) جب برصغیر تقسیم ہوا تو ریاستوں کو اس بات کی آزادی تھی کہ وہ انڈیا یا پاکستان میں سے جس کے ساتھ چاہیں الحاق کرلیں۔ کشمیر کو مسلم اکثریت کی بنا پر پاکستان کا حصہ ہونا چاہیے تھا لیکن فرنگی اور اس کے خودکاشتہ پودے قادیانی گروہ نے ایک بار پھر سازش کی، پنجاب کی سرحدات کے تعین کے لیے ریڈ کلف ایوارڈ کے سامنے مسلم لیگ کے قادیانی نمائندے ظفر اللہ خان نے ضلع گورداسپور کے بارے میں مسلمانوں کے موقف کو نقصان پہنچایا۔ ضلع گورداسپور میں قادیانیوں نے اپنے آپ کو مسلمانوں سے الگ قرار دیتے ہوئے اپنا موقف جداگانہ پیش کیا اور قادیان کو کھلا شہر قرار دینے کا مطالبہ کیا۔ قادیان تو کھلا شہر نہ بن سکا البتہ قادیانیوں کی اس حرکت کے باعث ضلع گورداسپور کو غیر مسلم اکثریت کا علاقہ قرار دے کر انڈیا کے حوالے کر دیا گیا جس کی وجہ سے انڈیا کو کشمیر کے لیے راستہ مل گیا۔ یہیں سے کشمیر کو بھارت کے تسلط میں دینے کی سازش کی ابتدائی ہوئی کیونکہ اگر گورداسپور انڈیا کے پاس نہ جاتا تو کشمیر پر انڈیا کے تسلط کی کوئی راہ نہ تھی۔ (12) کشمیر کی سیاسی جماعتوں میں سے شیخ عبد اللہ کی نیشنل کانفرنس نے انڈیا سے الحاق کا فیصلہ کیا۔ اس جماعت کو ریاستی اسمبلی میں چھ نشستیں حاصل تھیں۔ مسلم کانفرنس نے چوہدری غلام عباس مرحوم اور حضرت مولانا میر واعظ محمد یوسف کی قیادت میں پاکستان کے ساتھ الحاق کی قرارداد پاس کی۔ اس جماعت کو ریاستی اسمبلی میں نشستیں حاصل تھیں۔ مولانا میر واعظ اور چوہدری غلام عباس مرحوم کو گرفتار کر لیا گیا۔

ادھر پونچھ کے غیور نوجوانوں نے ڈوگرہ سامراج کے خلاف علم بغاوت بلند کر دیا۔ پیر علی اصغر شاہ صاحب کو امیر المجاہدین بنایا گیا اور سردار عبد القیوم خان نے جنگ آزادی کی قیادت کی۔ باغ، راولاکوٹ، نیلا پٹ، ہڈا باڑی، نانگا پہاڑ، آندھیری، سوہاوہ وغیرہ مقامات پر مجاہدین آزادی نے بے سروسامانی کے باوجود ڈوگرہ فوج کو شکست دی۔ قیام پاکستان کے بعد پاکستانی فوج اور قبائلی مجاہدین بھی ان مجاہدین آزادی کی امداد کو پہنچ گئے اور کم و بیش سوا سال کی جنگ آزادی کے نتیجہ میں مظفر آباد، پونچھ اور میرپور کے اضلاع ڈوگرہ سامراج سے آزاد کرا لیے گئے۔ جن پر آزاد جموں و کشمیر کی حکومت سردار محمد ابراہیم کی صدارت میں قائم کی گئی۔ قیام حکومت کے بعد پونچھ شہر کے حصول کے لیے بھی معرکے ہوئے، ایک موقع پر شہر تین دن تک مجاہدین کے گھیرے میں رہا مگر (اقوام متحدہ کی مداخلت کے نتیجے میں) حکومت پاکستان کی ہدایت پر جنگ بند ہوگئی اور مجبورا شہر سے پیچھے ہٹنا پڑا۔ (13) گلگت شروع میں کشمیر میں شامل اور اس کا ایک حصہ سمجھا جاتا تھا۔ پھر کشمیر کے ایک انگریز وزیراعظم کالون نے اپنے دورِ اقتدار میں اسے براہ راست انگریزی عملداری میں دے دیا۔ تقسیم برصغیر کے وقت انگریز نے پھر اسے مہاراجہ کشمیر ہری سنگھ کے حوالہ کر دیا جس نے وہاں اپنے عمال مقرر کیے۔ لیکن گلگت کے مسلمانوں نے اس تسلط کو قبول نہ کیا، ڈوگرہ شاہی کے نمائندوں کو بھگا دیا اور اس طرح ہری سنگھ کا تسلط گلگت پر قائم نہ ہو سکا۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved