تہذیبی زوال۔۔۔۔!
  7  فروری‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

تہذیب کا دوسرا نام شائستگی ہے ،جینے یا زندگی کرنے کا وہ ڈھنگ جس میں روایات کی پاسداری ہو،روایات ان طور طریقوں کو کہتے ہیں جو کسی قوم کے اجداد کا ودیعت کیا ہوا اثاثہ ہو تی ہیں،یہی اثاثہ ہی اقدار کہلاتا ہے،اقدار کا تعلق معاشرتی سدھار کے اعمال سے ہوتا ہے ۔ ہر معاشرہ اپنی اقدارو روایات کا آئینہ ہوتا ہے اور معاشرے کے باسی اس کی مثال۔ عام طور پر تہذیب وتمدن اور اقدارو روایات کو زندہ رکھنے کی ذمہ داری ان طبقات پر عائد ہوتی ہے جن کا تعلق علم و ادب،فکرو فن ،تعلیم و تحقیق اور سیاست و سیادت سے ہوتا ہے،معاشرتی نمو کا دارومدار انہی طبقات سے وابستہ ہوتا ہے ،یہی اقتصادی تعمیر و ترقی کے زینے طے کرنے کا شعور عام لوگوں میں پیدا کرتے ہیں،قانون پر عملدرآمد کے قرینے بناتے اور سکھاتے ہیں،عدل وانصاف کے پیمانے طے کرتے اور ان پر چلنے کے ضابطے متعین کرتے ہیں ،انہی میں ایک خاص طبقہ ہوتا ہے جس کے ہاتھ میں زمام اقتدار ہوتی ہے ،جمہوری معاشروںمیں اقتدار کے حصول کا ذریعہ عوام ہوتے ہیں،عوام کی دی ہوئی طاقت سے یہ عوام پر حکمرانی کرتے ہیں،اور عوام ہی ان کو اقتدار میں لانے یا ہٹانے کی طاقت رکھتے ہیں ،یہ عوام کے دیئے ہوئے اختیارات کو ان کی فلاح کے لئے استعمال کرنے کے پابند ہوتے ہیں،یہ قوم و ملک کی ایک ایک شے کے امین ہوتے ہیں،آئین پاکستان کی رو سے ضروریات زندگی ،تعلیم اور صحت کی سہولیات بلا تفریق مہیا کرنے کی ذمہ داری حکومت وقت کی ہوتی ہے، ادارے بنانا ،ان میں دیانتدار لوگوں کو تعینات کرنا ،ان کو مضبوط و مستحکم کرنا ،اہل اقتدار کا فرض عین ہوتا ہے ، جرائم کی روک تھام اور امور مملکت کو چلانے میں راستبازی،عدل اور مساوات کو قائم رکھنا،قومی خزانے کے استعمال میں انتہائی احتیاط سے کام لینا ،کہیں پر بے اعتدالی یا بد اعمالی کا شائبہ تک پیدا نہ ہونے دینا،ایک صادق و امین اور صاحب فراست حکمران کی حیات کا لازمہ ہوتا ہے۔ وہ طبقہ جو حکمرانی کی دوڑ میں شامل ہوتا ہے اس کی ذمہ داریاں بھی دو چند ہوجاتی ہیں ،جمہوری حقوق کی پاسداری اس کی اولین ترجیح ہونی چاہیئے،اسے عوامی خود مختاری تباہ کرنے اور قومی اداروں کو نا مستحکم کرنے کا مرتکب نہیں ہونا چاہیے، مگر افسوس ناک امر یہ ہے کہ یہاں الٹی گنگا بہنے کی روش چل نکلی ہے ،عوام کے حقوق پر شب خون پر شب خون مارا جا رہا ہے،،جب سے عنان اقتدار سرمایہ داروں اور صنعت کاروں کے ہاتھ آئی ہے ،غریب تو کیا متوسط طبقے کا سانس لینا دو بھر ہو چکا ہے ،دولت چند ہاتھوں میں سمٹ کر رہ گئی ہے ،وسائل پر مخصوص افراد کا قبضہ ہے ،قومی خزانہ مال غنیمت بن کر رہ گیا ہے ۔ تعلیمی نظام تو طبقاتی ہے ہی ،صحت کی سہولیات بھی فقط اشرافیہ تک محدود ہیں ،یہی اشرافیہ ہے جو قومی سلامتی کے ضامن فوج کے ادارے پر بھی تحفظات کا اظہار کرنے سے نہیں چوکتی،اس میں کوئی شک نہیں کہ ماضی میں فوجی قیادتیں حکومتی معاملات میں بے جا مداخلتیں کرتی رہی ہیں ،یہاں تک کہ اب بھی ان الزامات سے مبرا نہیں ہیں ،معروضی حقیقت یہ ہے کہ اس کی ذمہ دار بھی سیاسی قیادتیں رہی ہیں ، جو امور مملکت چلانے میں غیر مثالی کردار کی حامل رہی ہیں جس کی وجہ سے آمروں کو جواز ملتا رہا،اور اب کچھ عرصہ ہوا ہے ،ملک کے ایک اور معتبر ادارے کو متنازع بنا دیا گیا ہے،گو اس حالت تک پہنچانے میں اس ادارے کے ایک چیف کا نمایاں کردار ہے،جس کے فیصلے صادر کئے جانے سے پہلے طشت ازبام ہو کر زبان زد عام ہو جاتے رہے۔ اس چیف نے جہاں اپنی حیثیت پر بہت سارے بد نما داغ لگائے وہاں ایک مقدس ادارے کے وقار کو بھی بری طرح مجروح کیا،یہاں تک کہ ہر ایک کی نظر میں گرا کے رکھ دیا ، اس بعد آنے والوں نے پھر ایک بار اعتبار جمانے کی کسی حد تک کامیابی حاصل کی،اپنے کھوئے ہوئے اعتماد کو بحال کرنے کی خاطر بعض سخت فیصلے کئے ،جو حکمرانوں پر گراں گزرے،اور حاکمیت اپنی جماعت کے پاس ہونے کے باوجود اپوزیشن کا کردار بھی خود سنبھال لیا ،جس کے نتیجے میں حکومتی وزیر،مشیر اور پارلیمنٹ کے اراکین تہذیب و شائستگی کے اس قدر بخیے ادھیڑنے پر تل گئے کہ عدلیہ تو کیا پوری قوم کو اخلاقی بدتری کے ایسے موڑ پر لاکھڑا کیا کی تیسری دنیا کا کوئی بدترین پسماندہ ملک بھی اس مقام پر کھڑا ہونا گوارہ نہ کرے،کل کے سربراہ مملکت نے اپنے ملک کو ناخواندہ اور اقدارو روایات باختہ ثابت کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔

ملک کہ جس کا تمام تر نظام حکومت اس شخص کی جماعت کے پاس ہے ،بعض تلخ الزامات کے جواب نہ دے سکنے کی وجہ سے اسے وزارت عظمیٰ کے منصب جلیلہ سے نا اہل قرار دے کر فقط اس ایک شخص کو حکومت سے الگ کیا گیا اور اس نے آسمان سر پر اٹھایا ہوا ہے،تاریخ عالم میں اس سے پہلے کوئی ایسی شہادت نہیں ملتی کہ کسی حاکم کو ثابت شدہ جرم میں اقتدار سے الگ کر دیا گیا ہو اور وہ اپنے ملک کے نظام عدل کوایک باولے پن کے ساتھ تنقید کا نشانہ بنا کر اس کے فیصلوں کو ناصرف مسترد کیا ہوبلکہ ملک کے تمام باوقار اداروں کے خلاف ایک طوفان بد تمیزی کھڑا کردیا ہو،اس ساری صورت حال میں حیران کن بات یہ ہے وہ جن اداروں پر الزام کی بوچھاڑ کئے ہے وہ گہری چپ کی چادر تانے ہوئے ہیں ،خصوصاََ سپریم کورٹ جس کے فیصلوں میں دوغلے پن کی چھاپ نمایاں ہے ۔جنوبی پنجاب کے ایک جوان سال شاعر عاصم کے دو شعر تخلیق سے انداز زمانے کے عجب ہیں جو قوم کے قاتل ہیں وہی قوم کے رب ہیں کم ظرف لئے پھرتے ہیں اعزاز کے پرچم گم نام ہیں وہ جن کے کھرے نام ونسب ہیں


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved