کراچی آزادی کشمیر کانفرنس اور حیدر آباد میں ریلی
  7  فروری‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

4فروری کی شام سخی حسن چورنگی پر واقع بطحیٰ مسجد کے سامنے وسیع و عریض گرائونڈ میں منعقدہ آزادی کشمیر کانفرنس اور 5 فروری کی دوپہر صدیق اکبر مسجد ہالاناکہ روڈ سے پریس کلب حیدر آباد تک یکجہتی کشمیر ریلی کے ہزراروں پرجوش اور پرامن شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے بندہ ناچیز نے عرض کیا کہ ... مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں سے اظہار یکجہتی کرنا کوئی سیاست نہیں بلکہ عبادت ہے' جو نوجوان بھارتی فوج کے درندوں کے سامنے مظلوم کشمیریوں کی حمایت میں ڈٹے ہوئے ہیں... وہ پوری ملت اسلامیہ کا فخر ہیں... پاکستان کے 21کروڑ عوام کا کشمیریوں سے رشتہ لاالا الہ اللہ کی بنیاد پر قائم ہے... حضور اکرمۖ نے فرمایا کہ ''میری امت کی دو جماعتوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے جہنم سے نجات لکھ دی ہے ... ایک وہ جماعت جو ہندوستان پر جہاد کرے گی اور دوسری وہ جماعت جو عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے نازل ہونے کے بعد ان کے ساتھ ہوگی۔'' اس لئے کشمیر کے جہاد میں شرکت کرنے والے جہاد والی عبادت پر عمل کرکے اپنے اللہ کو راضی کرتے ہیں... کراچی میں منعقدہ آزادی کشمیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بندہ نے عرض کیا کہ جہاد کشمیر کو دہشت گردی سے تعبیر کرنے والے بدنام زمانہ ظالم و قاتل نریندر مودی کے ایجنٹ ہیں... 70 سالوں سے پاکستان کے اقتدار پر قابض رہنے والوں نے شہہ رگ پاکستان کشمیر کو ہندو کی غلامی سے چھڑانے کے لئے کوئی مضبوط لائحہ عمل اختیار نہیں کیا... پرویزمشرف کا دور تحریک کشمیر کے لئے انتہائی سیاہ دور تھا... آصف علی زرداری کا دور ہو یا نواز شریف کا حالیہ ساڑھے 4 سالہ دور میں انہوں نے بھی مقبوضہ کشمیر میں جاری تحریک کشمیر کو ضائع کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیا۔ نواز شریف اور ان کا بھائی شہباز شریف بھارت کو خوش کرنے کے لئے کشمیر کے جہاد سے محبت کرنے والے نوجوانوں کو گرفتار کرکے ٹارچر سیلوں کا رزق بناتے رہے... نوجوانوں اور بوڑھوں کے خلاف دہشت گردی کے مقدمات اس لئے درج کئے جاتے رہے کہ یہ جہاد کشمیر کے لئے فلاں مسجد کے باہر فنڈز اکٹھا کر رہے تھے۔ انڈیا کے علاقے پٹھانکوٹ کی چھائونی پر ہونے والے حملے کی ایف آئی آر گوجرانوالہ میں درج کرکے پنجاب کے مختلف شہروں سے جہاد کشمیر سے پیار کرنے والے درجنوں بے گناہ افراد کو گھروں سے اٹھا کر جیلوں میں ڈال دیا گیا... جب خود شریف برادران نریندر مودی جیسے موذی شیطان کے ساتھ محبت کی چھپیاں ڈالتے رہے... دہلی میں ساڑھیاں اور پاکستانی آموں کی پیٹیاں بھجواتے رہے... اس خاکسار نے اپنے خطاب میں جہاد کشمیر کی مختلف انڈین لابی کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں موجود بھارتی ٹکڑوں پر پلنے والی انڈین لابی ان کی سرپرستی کرنے والا دجالی میڈیا اور حکمران ہی دراصل آزادی کشمیر میں اصل رکاوٹ بنے ہوئے ہیں... لیکن پاکستانی قوم کا ایک ایک بچہ کشمیر کی آزادی کے لئے جانیں نچھاور کرنا... اپنے ایمان کا حصہ سمجھتا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق بھارت کی مسلسل ریاستی دہشت گردی کے باعث مقبوضہ کشمیر میں 1989ء سے لیکر اب تک معصوم بچوں اور عورتوں سمیت نوے ہزار سے زائد کشمیری شہادتوں کا جام نوش کر چکے ہیں... اس عرصے میں نو ہزار سے زائد کشمیریوں کو حراست کے دوران لاپتہ کر دیا گیا... اور ان لاپتہ افراد کی مائیں' بہنیں' بیٹیاں برس ہا برس سے اپنے لاپتہ پیاروں کی راہیں تک رہی ہیں... مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین پامالیاں ہو رہی ہیں' مگر عالمی ''ضمیر'' بھارت کے سامنے بھیگے ہوئے چوہے کی طرح کانپ رہا ہے... کشمیری مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم میں ... امریکہ اور اسرائیل' بھارت کے سہولت کار بنے ہوئے ہیں۔ اقوام متحدہ اس قدر کمزور لاغر' نااہل تماش بین اور امریکی لونڈی ثابت ہوا ہے کہ جو اپنی ہی منظور کردہ قراردادوں پر بھارت سے عمل درآمد نہ کرواسکا... بھارتی درندے پیلٹ گنوں سے کشمیری عورتوں ' مردوں کو نابینا بنا رہے ہیں' کشمیر کے معصوم بچوں کو پاکستانی پرچم لہرانے اور آزادی کے ترانے گانے کے جرم میں گولیوں سے چھلنی کیا جا رہا ہے... یہ ساری خطرناک صورتحال پاکستانی حکمرانوں سے سوال کر رہی ہے کہ تم صرف سال کا ایک دن 5 فروری کو یکجہتی کشمیر منا کر پورا سال غفلت کی چادر تان کر سوئے رہتے ہو... تو کیوں؟ پاکستان کے حکمرانوں کو بھارتی ظالم اور درندہ صفت مودی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنا ہوگی۔ اگر صدر ممنون حسین کہتے ہیں کہ ریاست کی اجازت کے بغیر جہاد جائز نہیں ہے... تو پھر پاکستانی قوم یہ سوال کر رہی ہے کہ ... جناب صدر! آخر ریاست پاکستان کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کو بھارتی درندگی سے بچانے کے لئے جہاد کا اعلان کب کرے گی؟ کیا 5فروری کے صرف ایک دن کو یکجہتی کے طور پر منا لینے سے مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں پر بھارتی مظالم رک جائیں گے؟

آزادی کشمیر کانفرنس سے تحریک کشمیر کے ممتاز جہادی رہنما مولانا مفتی عبدالرئوف اصغر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ''کشمیر نہ پہلے کبھی بھارت کا تھا نہ اب ہے اور نہ آئندہ ہوگا... کشمیر میں آزادی کا سورج طلوع ہوتے ہوئے دنیا بہت جلد دیکھے گی... انہوں نے کہا کہ مولانا طلحہ رسید اور بھائی عثمان شہید سمیت ہمارے سینکڑوں جگر گوشے کشمیر کی دھرتی میں مدفون ہیں... اس لئے ہم سمجھتے ہیں کہ کشمیر صرف نعروں یا تقریروں سے نہیں بلکہ بھارت کی درندہ صفت فوج کی ''مرمت'' سے ہی آزاد ہوگا' انہوں نے کہا کہ کشمیری نوجوان تو ہاتھوں میں سبز ہلالی پرچم تھامے... سینوں پر گولیاں کھاتے ہیں... پھر ان شہیدوں کو پاکستانی پرچم میں لپیٹ کر قبرستان شہداء میں سپرد خاک کر دیا جاتا ہے... جبکہ پاکستان اور آزادکشمیر کے حکمرانوں کو سیاسی انتشار پھیلانے سے ہی فرصت نہیں... انہوں نے کہا کہ ہم شہداء کشمیر کے وارث ہیں... جو شہداء کشمیر کا لہو سیاسی انتشار اور دجالی میڈیا کے ذریعے بھلانا دینا چاہتے ہیں... وہ احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں ہم شہداء کشمیر کا خون نہ بھولیں گے اور اس مقدس خون سے کسی کو غداری کی اجازت بھی نہیں دیں گے'' کانفرنس اور ریلی سے مولانا حسان ابوجندل نے بھی خطاب کیا۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved