آزاد کشمیر اور محبت رسولۖ کی خوشبو
  8  فروری‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

دنیا بھر میں بسنے والے کشمیری مسلمانوں کو مبارک ہو کہ بالآخر آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی اور کشمیر کونسل کے مشترکہ اجلاس میں ایکٹ74 میں پیش کی جانے والی ترمیم کو کثرت رائے سے منظور کرکے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا گیا۔ یہ خاکسار کہ جو گزشتہ ایک ہفتے سے کراچی میں آتے ہی بیمار پڑ گیا … اور تادم تحریر بیماری سے برسر پیکار ہے کو سب سے پہلے یہ خبر آزاد کشمیر کے ضلع باغ سے مولانا شوکت عارف اور پھر باغ کے مدرسہ تعلیم القرآن سے مولانا شمس الحق نے بذریعہ ٹیلی فون سنائی تو سچی بات ہے کہ دل خوشی سے جھوم اٹھا … ملک شوکت عارف کاکہنا تھا کہ کشمیر کے بریلوی علماء ہوں' دیوبندی علماء ہوں' اہلحدیث علماء ہوں یا شیعہ اکابرین' کشمیر کے تاجر ہوں یا عام مسلمان … سب آپ کے کالموں اور روزنامہ اوصاف کے چیف ایڈیٹر کے جرات مندانہ کردار سے بہت خوش ہیں … مولانا شمس الحق کاکہنا تھا کہ45 سال قبل1973 ء میں ممبر اسمبلی میجر محمد ایوب خان نے ختم نبوتۖ کی جو قرارداد پیش کی تھی …6 فروری کے دن آزاد جموں و کشمیر کے مسلمانوں کے دیرینہ مطالبے پر قانون ساز اسمبلی نے متفقہ طور پر ختم نبوتۖ ایکٹ منظور کرکے منکرین ختم نبوتۖ کو ان کی اصل شناخت یعنی غیر مسلم اقلیت ڈکلیئر کرکے مسلمانوں کی صفوں کو پاک کر ڈالا۔ منگل کی شام تحریک ختم نبوتۖ آزاد جموں و کشمیر کے سربراہ مولانا عبد الوحید قاسمی کا فون موصول ہوا تو ان کا لہجہ شدت جذبات سے کانپ رہا تھا … انہوں نے بھی اس خاکسار کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ آزاد کشمیر کے عوام کے شانہ بشانہ روزنامہ اوصاف نے ختم نبوتۖ کے محاذ پر جو صحافیانہ خدمات سرانجام دی ہیں اس پر کشمیر کے مسلمان اوصاف کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں … قاری عبد الوحید قاسمی نے کہا کہ ہمارا قادیانیوں سے کوئی پلاٹ ' پرمٹ یا جائیداد کا تنازعہ نہیں ہے … لیکن مرزا قادیانی کے کسی پیروکار کا مسلمانوں کی صف میں کھڑا ہونا بھی … اسلام اور مسلمانوں کے حقوق کو پامال کرنے کے مترادف تھا … چنانچہ آزاد کشمیر کی حکومت نے متفقہ طور پر قادیانیوں کو ان کی اصل پہچان دے کر کشمیر کے مسلمانوں کے اعتماد کو بحال کر دیا ہے' جس پر مسلمانان کشمیر' راجہ فاروق حیدر سمیت قانون ساز اسمبلی کے ہر رکن کے مشکور و ممنون ہیں۔ وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر راجہ فاروق حیدر نے اس موقع پر کہا کہ ''اس بل میں کسی مذہب کے لوگوں کو قتل کرنے کی اجازت نہیںدی گئی … بلکہ ''مسلمان'' اور ''قادیانیوں'' کی پہچان کے لئے یہ قانون سازی کی گئی ' یہ بل فتنے کے خاتمے کے لئے لایا گیا … نام ''مسلمانوں'' اور کام دوسرے' اس بل سے کسی کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں ہوگا … اس قانون سے مسئلہ کشمیر پر بھی کوئی اثر نہیں پڑے گا کیونکہ تحریک آزادی وفائے محمدۖ سے جڑی ہوئی ہے۔ یہ بات تو ہر قسم کے شک و شبہ سے بالاتر ہے کہ آزاد کشمیر کی موجودہ اسمبلی ختم نبوتۖ ایکٹ منظور کرکے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے تاریخ میں امر ہوگئی … وزیراعظم راجہ فاروق حیدر سے لے کر عام رکن اسمبلی تک تاریخ کے اوراق میں اس لئے زندہ رہیںگے کیونکہ انہوں نے مشرق و مغرب' شمال و جنوب کی طرف سے آنے والے ہر قسم کے دبائو کو مسترد کرکے … اپنے نبی مکرمۖ کی ختم نبوتۖ سے وفانبھانے کی کوشش کی … اگر کشمیر کے مسلمان اس میجر محمد ایوب خان کو آج بھی نہیں بھولے کہ جس میجر محمد ایوب نے 45 سال قبل اسمبلی میں ختم نبوتۖ کی قرارداد پیش کی تھی' تو پھر جس راجہ فاروق حیدر اور قانون ساز اسمبلی نے تحفظ ختم نبوتۖ کے قانون کو منظور کیا ہے …ان کے سربلند ناموں کو اب تاریخ کا حصہ بننے سے کوئی روک پائے گا؟ یہودو ہنود اور نصاریٰ کے ٹکڑوں پر پلنے والے جو ایجنٹ دجالی میڈیا کے ذریعے یہ پروپیگنڈا کرتے تھے کہ … ذوالفقار علی بھٹو مرحوم نے 7 ستمبر1974 ء کو مولویوں کے دبائو پر قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا تھا …6 فروری2018 ء کے دن آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی نے قادیانوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے کر … ان کے کالے چہروں پر تھپڑ رسید کرکے یہ ثابت کر دیا ہے کہ راجہ فاروق حیدر سے لے کر ہر رکن اسمبلی تک نے کسی ''مولوی'' کے خوف سے نہیں … بلکہ وفائے محمد ۖ کے تقاضے کے عین مطابق … تحفظ ختم نبوتۖ کا فریضہ اپنے ضمیر کی آواز پر سرانجام دیا ہے۔ قادیانی' ان کے سرپرست گورے اور کاٹھے انگریز ہار گئے … دجالی میڈیا اور اس کا ہمنوا ڈالر خور موم بتی مافیاء کے خرکار بھی ہار گئے … آج کے اس گئے گزرے دورمیں بھی محبت رسولۖ کی جیت نے شاعر مشرق علامہ اقبال کے اس بے مثال سفر کی صداقت کو ثابت کر دکھایا کہ۔ محمدۖ کی غلامی دین حق کی شرط اول ہے اسی میں ہوگر خامی تو سب کچھ نامکمل ہے

آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی نے گورے اور کاٹھے انگریز کے ہر قسم کے دبائو کو جوتے کی نوک سے ٹھکراتے ہوئے … محمد ۖ کی غلامی کا جو نقشہ پیش کیا ہے مجھے یقین ہے کہ اگر وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر اور دیگر اسمبلی اراکین مرتے دم تک … اسی عہد پر قائم رہے تو پھر قبروں کے پاتال میں اترنے کے بعد یہ صرف جنت کی ہوائوں سے ہی مستفید نہیں ہوں گے بلکہ حشر کے میدان میں خاتم الانبیائۖ کے ہاتھوں جام کوثر بھی ان کا مقدر بنے گا' پاکستان ہویاآزاد کشمیر … 22 کروڑ مسلمانوں کو مبارک ہو' ذرا ٹھہریئے صرف 22کروڑ ہی نہیں بلکہ دنیا کے ڈیڑھ ارب سے زائد مسلمانوں کو بھی دل کی گہرائیوں سے مبارک ہو … کہ آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی نے محبت رسولۖ کی خوشبو سے ایک دفعہ پھر دنیا کو مہکا دیا ہے' صد بار مبارک' ہزار بار مبارک


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved