کشمیری تنہا نہیں
  8  فروری‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

پاکستان نے کشمیریوں کے ساتھ بے مثال یک جہتی کا مظاہرہ کیا۔ اسی وجہ سے لاہور میں پی پی پی کا جلسہ کامیاب ہوا۔ مظفر آباد میں مسلم لیگ ن کا جلسہ بھی کامیاب ہوا۔ پی ٹی آئی کے سربراہ نے یک جہتی کا خصوصی پیغام جاری کیا۔ یہ سب یوم یک جہتی کشمیر کے موقع پر کیا گیا۔ اخبارات نے خصوصی ایڈیشن شائع کئے۔ ٹی وی چینلز کے خصوصی پروگرام ٹیلی کاسٹ ہوئے۔ مسئلہ کشمیر کے بارے میں عام آدمی کی معلومات میں اضافہ ہوا۔ وزیراعظم پاکستان نے مظفر آباد کا دورہ کیا۔ اسمبلی اور کشمیر کونسل کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کیا۔ مقبوضہ کشمیر کی تحریک آزادی اور آزاد کشمیر کی تعمیر و ترقی میں کردار ادا کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں محمد نواز شریف نے مظفر آباد یونیورسٹی گرائونڈ میں خطاب کرتے ہوئے آر پار کے کشمیریوں کو تعاون کا پیغام دیا۔ یہ پیغام اہم ہے۔ محترمہ مریم نواز نے بھی عوام کا جوش و جذبہ دیکھتے ہوئے خطاب کیا۔ جب کہ ان کا خطاب پروٹوکول کو نظر انداز کرتے ہوئے ہوا۔ میاں صاحب نے انہیں اس کی ہدایت دی۔ دل ایک ساتھ دھڑکنے کی بات پرانی ہے۔ یہ تکیہ کلام بن چکا ہے۔ البتہ خونی رشتے کی بات سب جانتے ہیں۔ اس کا شاید پہلے کبھی سر عام اعتراف نہیں کیا گیا۔ خون کا رشتہ اور کسی کی رگوں میں خون دوڑنا خالص محاورہ نہیں اور نہ ہی اسے بوقت ضرورت استعمال کیا گیا۔ اس نوعیت کا رشتہ بہت قربانی مانگتا ہے۔ کیوں کہ میاں صاحب پر نریندر مودی سے تعلقات اور کسی سودا بازی کے الزامات لگائے جاتے رہے ہیں۔ اگر چہ ان الزامات کو ثابت نہیں کیا جا سکتا۔ انہیں سیاسی الزامات کہا جا سکتا ہے۔ تا ہم جس طرح نریندر مودی اچانک لاہور ان کے گھر آئے۔ یا جس طرح میاں صاحب نے دہی میں مودی کی حلف برداری تقریب میں شرکت کی۔ یا جس طرح مودی کے خاس آدمی جنڈال پاکستان آئے اور بیک دور بات چیت ہوئی۔ اسے اپوزیشن نے مشکوک بنا کر عوام کے سامنے پیش کیا۔ شاید یہ بھی ایک وجہ تھی کہ محمد نواز شریف کو غدار کا لیبل لگایا گیا۔ ہو سکتا ہے کہ مسلم لیگ ن کے قائدین کی حساس اداروں کے خلاف بیان بازی یا اہم اجلاس میں اداروں کو نشانہ بنانے کی باتیں منظر عام پر آنا بھی شاید سیاسی حکمت عملی ہو، مگر اس سب کو مسلم لیگ ن کے خلاف انتہائی چالاکی سے استعمال کیا گیا۔ جس کا پارٹی کو نقسان پہنچا ۔ اس کی معتبری پر سوال اٹھے۔ یہ ساری صورتحال ہمارے سامنے ہے۔ عام انتخابات جس رفتار سے نزدیک آ رہے ہیں۔ سیساتدان بھی اسی تیزی سے ایک دوسرے پر وار کر رہے ہیں۔ یہ سب سیاسی حملے ہیں۔ یہ لوگ کل اتحدای تھی آج باہم دستو گریبان ہیں۔ یہ سب سیاسی سکورننگ ہے۔ ووٹ کے لئے دوستیاں بھی دشمنیاں بن رہی ہیں۔ خاموش اتحادی بھی اعلانیہ مخالفین بن رہے ہیں۔ لاہور مین جو باتیں کشمیریوں کے ساتھ یک جہتہ کرتے ہوئے آصف علی زرداری صاحب نے میاں برادران کے خلاف استعمال کیں۔ وہ عمران خان صاحب کی باتوں کا ہم پلہ قرار دی جا سکتی ہیں۔ خان صاحب نے پاکستان کی سیاست کو نئی آداب و القاب سکھائے ہی۔ نئی تہذین متعارف کی ہے۔ سخت جملہ بازی، رقص و سرور ، موسیقی وہی اس سیاست میں لائے ہیں۔ جس پر اب دیگر بھی عمل کر رہے ہیں۔ اگر جلسہ ہے ، وہاں موسیقی نہیں تو اسے بے جان سمجھا جاتا ہے۔ نوجوان اس طرف جانے سے کتراتے ہیں۔ یہ سب سیاسی آداب ہیں۔ اب بچے بھی سوال کرتے ہیں۔ مختلف باتوں کی تشریح طلب کرتے ہیں۔ نئی معنیٰ و مطالب جاننا چاہتے ہیں۔ لاہور میں زرداری صاحب اور مظفر آباد میں میاں صاحب کی گفتگو کا تقابلی جائزہ لیں تو بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے۔ ظاہر ہے جو جس پارٹی سے ہمدردی رکھتا ہے، وہ اس کے خلطیوں کو بھی اچھائی کے طور پر پیش کرتا ہے اور دوسروں کی اچھائوں کو اچھائیاں کہنے کی اخلاقی جرائت سے عارء نظر آتا ہے۔ یہ غیر جانبداری نہیں۔ یا سچ ہے یا جھوٹ۔ درمیان میں کچھ نہیں۔ یا مہذب ہا یا غیر مہذب۔

کشمیریوں سے یک جہتی خوب ہوئی۔ اس مین خلوص اور ہمدردی بھی تھی۔ جذبات سے کھیلنے کی کوشش بھی نظر آتی ہے۔ قربانیوں اور خون پر سیاست کوئی نہیں کر سکتا۔ اگر سیاست نہیں تو کم از کم کشمیر کے مسلہ پر یہ سیاست نہ ہو۔ اگر کشمیریوں سے تعاون کا عملی مظاہرہ نہ ہو تو خونی رشتہ بھی کسی کام کا نہیں رہتا۔ سیاستدابن کا تصور جو بھی ہو، مگر عوام کا تعاون اور حمایت بلا مبالغہ اور غیر مشروط ہے۔ کشمیریوں کو پاکستان کا تعاون درکار ہے۔ مسلم لیگن ، پی پی پی، ق لیگ ، پی ٹی آئی ، ایم کیو ایم یا کسی ایک یا کسی ایک اتحاد کا تعاون کام نہیں آ سکتا۔ سب کی مدد اور سرپرستی چاہیئے۔ کشمیر پر سیاست نہیں بلکہ مشاور ہو۔ دنیا بھر میں پاکستانی موجود ہیں۔ ان کی مکتلف پارٹیوں سے تعلق اور وابستگی ہے۔ ان تمام وابستگیوں سے بالاتر ہو کر کشمیریوں کی حمایت کی ضرورت ہے۔ کشمیر کے نام پر تقسیم نہیں بلکہ اتحاد کی ضرورت ہے۔ یہی وقت کا تقاضا ہے۔ کشمیریوں سے یک جہتی کو کشمیر کمیٹی کی اہلیت یا نا اہلیت سے نہیں جوڑا جا سکتا۔ کشمیری ریاستہ دہشتگردی اور مظالم کے شکار ہیں۔ ہر روز وہ مقتل سجا رہے ہیں۔ ان کے شہداء قبرستان آباد ہو رہے ہیں ۔ ہر گلی محلے اور گائوں میں شہید مزار بن چکے ہیں۔ ان شہداء کے نام اور ان قربانیوں کے نام پر کیسی سیاست ۔ شاید اس کا کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا۔ چاہے انتخابات قریب ہوں یا دور، کشمیر ایشو پر قومی سیاست کی ضرورت ہے۔ کشمیری ہر روز قربان ہو رہے ہیں۔ ان کے ساتھ یک جہتی کا ایک دن یوں پارٹی بازی میں منا کر شاید یہ قائدین بری الذمہ ہو رہے ہیں۔ ایسا نہیں ہے۔ یہ بھی نہیں کہ پاکستان کے سیاستدان ہی کشمیر پر متحد ہوں۔ بلکہ یہاں کے شعرائ، ادیب، قلم کار، پروفیشنلز، طلبائ، غرض سماج کے ہر کسی عنصر کو اپنا کردار اور حصہ ڈالنا ہے۔ یہ خونی رشتے کا قرض ہی نہیں بلکہ یہ انسانی رشتے کا بھی قرض ہے۔ امید کی جا سکتی ہے کہ ہمارے ذی شعور اس تھوڑے کو ہی زیادہ سمجھیں گے اور قرض چکانے میں کنجوسی کا مظاہرہ نہیں کریں گے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved