یکجہتی کی دیوار
  10  فروری‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

انسان کی فطرت کچھ ایسی ہے کہ عدم تحفظ اس کا سب سے بڑی نفسیاتی گرہ ہے۔ زندگی کے مصائب کے سامنے بے یارومددگار ہو جانے سے بڑا اور مستقل کوئی ایسا المیہ نہیں جو اسے ہر وقت بے چین رکھے۔ محرومی، ظلم و زیادتی، جذباتی بحران، بیماری غرضیکہ ہر شے کے لیے اسے ایک سہارا چاہیے۔ انسانی جبلت نے اس کا سب سے جامع حل یہ نکالا کہ ان کے قریب رہا جائے جو قریب ہیں یا قریب تر۔ اس فہرست میں اول نمبر پر خونی تعلق والے ہیں، ماں باپ، بہن بھائی، پھر بیوی بچے اور اسی طرح خاندان اور برادری۔ اس کا اگلا مرحلہ ان پر مشتمل ہے جن کے ساتھ زبان اور جغرافیہ سانجھا ہے۔ پھر یہی تعارف بن جاتا ہے اور اسی کی بنیاد پر وہ اکائی وجود میں آتی ہے جسے ہم قوم کہتے ہیں۔ قوم کی اس روایتی تعریف میں یہ بات اہم ہے کہ اس کی بنیاد عدم تحفظ کے تدارک کے لیے اکٹھ کی جبلت سے عبارت ہے اور یہ انسان کی حیوانی تشکیل سے وابستہ ہے۔ دیگر حیوانات میں بھی یہ رجحان بکثرت پایا جاتا ہے۔ کسی نظریے یا آئیڈیل کی بنیاد پر جغرافیہ تراشنا ایک مشکل امر ہے اور اس بنیاد پر ایک قوم کی تشکیل اس سے بھی کئی گنا مشکل،تاہم نظریات کی بنیاد پر ایک شناخت کی تعمیر اور اس سے ایسی وابستگی جیسا کہ جبلت کے تحت فطری طور پر نمو پانے والے تعلق سے ہوتی ہے، خالصتاً انسانی شعور کا کارنامہ ہے۔ معروف امریکی ماہرِ نفسیات ابراہام میسلو نے انسانی نفسیات کی ترتیب میں سب اعلی مقام اس کیفیت کو دیا ہے جہاں انسان اپنی صلاحیتوں کو پوری طرح بروئے کار لاتا ہے۔ Self Actualization کہلائے جانے والی اس کیفیت کا خاصہ یہ ہے کہ انسان اپنے شعور کی بلندی پرہوتا ہے اور تحقیق، تخلیق، اخلاق، علم اور تہذیب کی ایسی ارفع ترین صورتوں کو جنم دیتا ہے جہاں اس کی حیوانی جبلت نہ صرف اس کی سوچ اور افعال پر اپنی گرفت کھونے لگتی ہے بلکہ انسان اس کے تقاضوں سے آگے نکل کر کام کرنے کی صلاحیت حاصل کر لیتا ہے۔ اس سب کے باوجود ایک بنیادی بات بہرحال اپنی جگہ موجود رہتی ہے۔ ارفع مقام تک پہنچنے کے لیے اہم یہ ہے کہ احساسِ تحفظ اور عزتِ نفس کسی لمحے بھی مجروح نہ ہو۔ اگر یہ شرط پوری ہوتی رہے گی تو انسان قبیلے اور علاقے کی قید سے آزاد ہو کر کسی اعلی آئیڈیل کی بنیاد پر نئی شناخت میں خود کو ڈھال کر ایک ایسی قومی ترتیب کا فرد بن جائے گا، جس کے ساتھ اس کا رشتہ خونی تعلق یا رنگ و نسل کی ہم آہنگی پر استوار ہونے کی بجائے فکر کی یکسانیت پر قائم ہو گا۔ تاہم کہیں اگر یہ دونوں داؤ پر لگتے نظر آئیں یا ایسا صرف احساس کی حد تک بھی پیدا ہو جائے تو نتائج بہت بھیانک ہو سکتے ہیں۔ شعور سے جبلت کا سفرِ واپسی اور قبائلی و نسلی عصبیتوں کا ظہور نہایت خونریز ہو سکتا ہے۔ انسانی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ قومیت کے لیے مشترک نسل سب سے زیادہ مستعمل بنیاد رہی ہے۔ اس کے بعد مشترک جغرافیہ کی باری آتی ہے، اور بس...... ایسا اس لیے نہیں کہ انسان کے پاس آئیڈیل کی بنیاد پر ایک ما فوق القبیلہ اکائی بنانے کی صلاحیت محدود رہی ہے۔ ایسا نہیں، یہ تجربہ بہت مرتبہ ہوا لیکن اس میں اصل سوال یہ رہا ہے کہ ایسے کسی بھی نظام کو ابتدائی کامیابی کے بعد دوام کیسے بخشا جائے؟ کیا ایسا ہو جو اسی درجہ کا اطمینان فراہم کر سکے جو نسلی و لسانی قرابت پیدا کرتی ہے۔ اس کا جواب بھی تاریخ ہی فراہم کرتی ہے۔ عدل اور سماجی انصاف کا ایسا اٹل نظام ہی وہ واحد کلیہ ہے، جو اس بڑی اکائی کی تشکیل کرنے والی چھوٹی اکائیوں میں تسلسل کے ساتھ احساسِ تحفظ اور احساسِ شراکت پیدا کر سکتا ہے۔ آئیڈیل کی بنیاد پر تشکیل پانے والی قوم کو آئیڈیل کی سطح کا نظام ہی اکٹھا رکھ سکتا ہے۔ اگر وہ نظام غیر منصفانہ ہو گا تو اکٹھے رہنے کا داعیہ کمزور پڑنے لگے گا۔ جہاں عقل کی گرفت کمزور پڑتی ہے وہاں جبلت پہلے سے بھی زیادہ فعال ہو جاتی ہے کیونکہ اب وہ مایوس اور زخم خوردہ بھی ہے۔ واپسی کے اس سفر میں وہ راہ میں آنے والی ہر شے کو تباہ کرنے پر تل جاتی ہے۔اس موقع پر وہ قوتیں بھی ساتھ آملتی ہیں، جو روایتی کے علاوہ کسی بنیاد پر قومیت کو درست نہیں مانتیں۔ پھر وہ اس آگ میں نفرت کا ایندھن ڈالتی ہیںتاکہ ثابت کر سکیں کہ وہ صحیح تھیں اور نظریے والے غلط.....یہاں یہ سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ سقوطِ مشرقی پاکستان سے بظاہر تو ان کی بات درست ثابت ہوئی۔ یہ بات قرینِ حقیقت نہیں۔ یاد رکھیے انسان کا معیار یہی ہے کہ اس کے لیے قرابت کی بنیاد شعوری ہو، حادثاتی نہیں۔ صرف یہ کہ شعوری قرابت کے تقاضے زیادہ ہوتے ہیں اور ان کی بلاتعطل پاسداری ہی کامیابی کی واحد کلید ہوتی ہے۔ ٦١دسمبر ١٧٩١ء کی سہ پہر سے پہلے کا پاکستان ہمیں یہی کہانی سناتا ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ پاکستان کے دونوں حصوں میں ایک ہزارمیل سے زائد کافاصلہ تھااس لیے دونوں کااکٹھا رہناقابل عمل نہ تھا۔میں ان کی خدمت میں یہ عرض کرتا ہوں کہ برطانیہ اگرہزاروں میل دور شمالی یورپ کے چھوٹے سے جزیرے سے دنیا کے ہر خطے میں واقع اپنی نوآبادیات کو کنٹرول کرسکا،بشمول ہندوستان کے، تو مشرقی اور مغربی پاکستان کے اکٹھا رہنے میں زمینی فاصلہ کیسے حائل ہو گیا؟ اور بنگال تو قیام پاکستان کا سب سے بڑا حامی تھا۔ بات وہی ہے....ہر آئیڈیل اپنے ساتھ ایک امید بھی لاتا ہے لیکن بھارت بھی جلدیابدیرکئی ٹکڑوں میں تقسیم ہوگاجس طرح سوویت یونین اپنابھاری بھرکم رقبے کابوجھ نہیں اٹھاسکا لیکن اس آئیڈیلزم کا ایک رخ اسی میں دیکھ لیجیے کہ رقبہ سے قطع نظر پاکستان اس وقت واحد ایسا ملک ہے جو محض عقیدہ کی بنیاد پر اتنی متفرق لسانی اکائیوں کو ایک پرچم تلے متحد کیے ہوئے ہے۔

مشرقی پاکستان میں پاکستان زندہ باد سے جے بنگلا کا سفر، ایسٹ پاکستان رائفلز کی بغاوت، ان لوگوں اور ان کے خاندانوں کا قتل جو ایک دوسرے کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے، کھاتے پیتے تھے، جن کے بچے انہیں انکل کہتے تھے یہی مرثیہ سناتا ہے کہ جب قیام کے تقاضوں کو پورا نہ کیا جائے تو انہدام کتنا دردناک ہوتا ہے۔ پاکستان ایک امید اور توقع کا نام ہے، اس لیے یہاں کی لیڈرشپ کو سمجھنا ہو گا کہ وہ روایتی ہتھکنڈوں سے اس ملک کو کبھی درست طور چلا نہیں پائے گی جب تک تمام اکائیوں میں مشترکہ دینی رشتہ یعنی ''قرآن''کانفاذنہیں کرتی۔ سقوطِ مشرقی پاکستان ہمیں ہر سال یہی یاد کرواتا ہے کہ پاکستان کا معاملہ کسی دیگر ملک جیسا نہیں۔ اگر کہیں اور ٠٠١فیصد قانون کی پاسداری اور عمرانی معاہدے کی پاسداری ضروری ہے تو پاکستان میں اس کی ضرورت ہزارفیصد ہے۔ جبکہ حالت ہماری یہ ہے کہ یہاں یہ چیز ٠٥ فیصد بھی نہیں۔ پاکستان کو آگے بڑھانا ہے تو اس کا راستہ''قرآن'' کی مکمل پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔ اگر ایسا نہیں ہو گا تو یکجہتی کی دیوار پر کہیں نہ کہیں سے کوئی نہ کوئی نقب لگتی رہے گی۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved