یہاں دال میں کچھ کالا ہے
  11  فروری‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

معاشرتی الجھاؤ اور اجتماعی رویوں میں کھچاؤ کے قصے دو چار برس کی بات نہیں بلکہ صدیوں پر محیط انسانی سفر کی باقیات ہیں ۔کسی بھی قوم کی بنیادی اکائی فرد ِ واحد ہے۔فردِ واحد کی تعمیر میں بنیادی عنصر ماں کی گود ہے۔جہاں سے عادات کی پختگی کا سبق ملتا ہے ۔والدین کے رویوں میں تضاد اور اجتماعی سوچ کا فقدان بچوں کی شخصیت پر انفرادیت اور خود غرضی کے آثار پیدا کرتا ہے۔جس گھر کے افراد خود غرضی اور لالچ کو شعور دیں ، اخلاق اور کردار میں جھوٹ اور مکر و فریب کا بیج بوئیں وہ نسل انسانی میں معاشرتی برائی کو جنم دیتے ہیں ۔یہ خود غرض اکائی جہاں بھی ہوگی بگاڑ کا سبب بنتی ہے۔گھریلو ماحول سے باہر بچوں کی تربیت میں دوسرے رشتے بھی انسانی سوچ اور شخصیت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔گھر میں نا انصافی کے رویے، رواداری اور برداشت کا فقدان ، لالچی ذہنیت بھی شخصیت کے اصل روپ کو متاثر کرتے ہیں۔بچپن کی عادات اس قدر مستقل اور پختہ ہو جاتی ہیں کہ پھر ساری زندگی اسی سفر میں گزر جاتی ہے۔دنیاوی رویوں سے انسان کبھی پیار اور محبت کی بلندیوں کا نظارہ کرتا ہے اور کبھی دوری کے افراد سے متاثر ہو کر انسان نفرتوں کی دلدل اور حقارتوں کے جذبے میں اس قدر غرق ہو جاتا ہے کہ رشتوں کے تناظر ٹوٹتے چلے جاتے ہیں ۔بعض اوقات رشتوں کی محرومیاں منافقتوں کی سوچ کے دائروں میں اس قدر شخصیت کو مسخ کرنے کا سبب ہوتی ہے کہ انسان اکیلا رہنا پسند کرتا ہے۔بدکردار لوگ شخصی زندگی کو اکیلا کرنے میں مزے لیتے ہیں ۔اسے اپنی سیاسی چالیں اور مکاریوں کی کامیابی سمجھتے ہیں ۔مکار اپنی جگہ سمجھتا ہے کہ اس نے زبردست چال چلی۔ مسافر اپنے سفر میں مست زندگی سے دامن بچاتا اپنی منزل کی طرف رواں رہتا ہے۔منفی پہلو جس میں سوچ کا فقدان ، شخصیت کے تعمیراتی نقائص یہی شخصیت بنانے میں اثر انداز نہیں ہوتے بلکہ شاگردوں کے اساتذہ اگر سفارشی ماحول بکھیرنے کی کوشش کریں ، لاقانونیت کا مظاہرہ کریں ، اخلاقی گراوٹ کو شعار بنائیں ، جھوٹ بولنے اوروقت کی پابندی نہ کرنے کا نمونہ دیں تو وہ نقش زندگی بھر شاگردوں کے ذہن سے خارج نہیں ہوتے۔وہ شاگرد جب اپنی عملی زندگی کا آغاز کریں تو یہ نقائص ان کے پر خلوص فرائض کی ادائیگی میں سب سے بڑی رکاوٹ بنتے ہیں ۔کام چوری ان کی فطرت کا حصہ ہوتی ہے۔جھوٹ اور رشوت خوری کو وہ اپنا حق سمجھتے ہیں ۔خود شناس انسان اپنی بے بسی کے باوجود اللہ تعالیٰ سے یہی دعا کرتا ہے کہ اے مالک کائنات مجھے سیدھا راستہ دکھا دے ۔لیکن بدقسمتی سے آج معاشرہ جس بگاڑ کی طرف چل پڑا آج نوجوان نسل نے جس راہ کا انتخاب کر لیا ہے اس میں اس کا کوئی قصور نہیں ۔انکو کرپٹ ، رشوت خور، لاقانونیت کے عادی حکمرانوں نے اس راستے پر لگایاہے۔جس طرح شاگرد اپنے استاد کی نقل کر کے اسکے نقشِ قدم پر چلنے کی کوشش کرتا ہے۔اسی طرح رعایا کے لوگ بھی اپنے کرپٹ اور ظالم حکمرانوں کی نقل کرتے ہوئے آج ہر وقت ہر طرف کرپشن کا جال پھیلا رہے ہیں۔یہ معاشرتی بگاڑ، ناہمواری ، بے ضابطگی ، لاقانونیت اور نا انسانی دو چار برس کی بات نہیں بلکہ نسلوں کا سفر ہے۔ان نسلوں کو خراب کرنے میں گزشتہ نصف صدی سے تما م حکمرانوں نے اہم کردار ادا کیا۔یہ حقیقت ہے کہ اس تمام تر خرابی کا سد باب بھی خود احتساب کا تقاضا کرتا ہے۔جس معاشرہ میں نفرتوں ، حقارتوں اور خود غرضیوں نے جنم لیا ہو۔لالچ کے بیج بوئے جائیں ۔ا س سے خاندان تباہ ہو جاتے ہیں ۔یہی اسباب ہیں جو مکر و فریب ، لوٹ کھسوٹ ، نمودو نمائش، خود نمائی، رسم و رواج اور سرمایہ داری کی خواہش میں رشوت ، بددیانتی، اقربا پروری، ناانصافی اور معاشی ناہمواری کو جنم دیتے ہیں ۔رزقِ حلال کا تصور مٹ جاتا ہے۔حصول دولت کی دوڑ میں سبقت لینے کا جذبہ بظاہر بڑا پر کشش ہوتا ہے لیکن اطمینان قلب ختم ہو جا تا ہے ۔ حرص و لالچ میں رشتوں کی پہچان ختم ہو جاتی ہے۔دولت مند خلوص اور محبت کی چاہت کو لالچ سمجھ کر رشتوں کا مذاق اڑاتا ہے۔دولت کے اکٹھ کو اپنی عقلی حکمت عملی کا ثمر سمجھتا ہے۔وہ رشوت ، کمیشن اور کرپشن کو اپنا فن سمجھتا ہے۔آج ان فنکاریوں سے قوم کا ناک میں دم آ گیا ہے۔پاکستان میں چور مچائے شور کا سلسلہ بھی زوروں پر رہا۔جو لوگ سینماکے ٹکٹ چاریا آٹھ آنے کے منافع پر کمایا کرتے تھے وہ کھرب پتی ہو گئے۔اور خفیہ طور پر کھرب پتی بھی نہ ہوئے بلکہ ڈنکے کی چوٹ پر ہوئے بڑا شور مچایا گیا لیکن کچھ بھی نہ ہوا۔کرکٹ کھیلنے والے بھی کھرب پتی اور آف شور کمپنیوں کے مالک بن گئے۔لیکن کچھ بھی نہ ہوا۔کوئی تفتیش نہیں ہوئی۔ایسے بہت سارے لوگ ہیں جن کا بظاہر کوئی کاروبار نہیں تھا لیکن وہ راتوں رات امیر بن گئے بلکہ امیر کبیر ہو گئے۔نہ کسی عدالت نے ایکشن لیا اور نہ کسی دوسرے ادارے نے تفتیش کی۔لیکن موجودہ حکومت کے سابق وزیراعظم کے پیچھے تمام ادارے ہاتھ دھو کر پڑ گئے۔کبھی پانامہ، کبھی قطری شہزادے کا خط، کبھی بیٹے کے پاس جاب کرنے کا الزام، کبھی بیٹے سے تنخواہ نہ لینے کا الزام اور بات آکر ختم ہوئی اقامہ پر۔بیرونی ممالک کا اقامہ حاصل کرنے پر وزارت عظمیٰ سے ہٹا دیا گیا۔اور اس کے بعد پیشی پر پیشی۔عدالت میں طلبی پر طلبی۔آج ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان کا سب سے بڑا مجرم میاں نواز شریف ہی ہے۔اس سے پہلے تمام حکمران فرشتے تھے اور اس کے بعد جلد از جلد حکومت میں آنے کے خواہشمند (جن کا دور دور تک حکومت میں آنے کا کوئی چانس نہیں )۔وہ سب کے سب فرشتے ہیں اور ان کی پارٹیوں کے تمام رہنما اورورکر بھی فرشتے ہیں۔ان کی مالی مدد کرنے والے بھی شاید آسمانی مخلوق ہے۔جنابِ والا ! جبکہ ایسا نہیں ہے یہاں دال میں کچھ کالا نظر آ تا ہے۔الطاف حسین جوانگلینڈ میں بیٹھ کر پاکستا ن کے خلاف زہر اگل رہا ہے جس پر سینکڑوں انسانوں کو قتل کرانے کا الزام ہے ۔ کوئی عدالت، کوئی ادارہ اس کو پاکستان لانے کا مطالبہ نہیں کر رہا۔عدالت کی ناک تلے اسلام آباد میں ہزاروں لوگوں کی زمینوں پر قبضہ کر کے کھرب پتی بننے والے دندناتے پھرتے ہیں ۔عدالت نے کبھی کسی غریب کو ایک مرلہ قبضہ گروپ سے واگزار کر کے نہیں دیا۔زمینوں کے کیس سوسو سال سے عدالتوں میں پڑے ہیں ۔دادا نے مقدمہ درج کرایا تھا تو اب پوتا مقدمہ لڑ رہا ہے کوئی فیصلہ ہی نہیں ہوتا۔چکوال کی ریلوے لائین کا مقدمہ ہی دیکھ لیں چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری نے از خود نوٹس لے کر ریلوے کو چکوال کی لائین بحال کرنے کا حکم 2009ء میں دیا تھا ۔ا س کے بعد سپریم کورٹ کو یاددہانی کی رٹ بھی دائر کی ہوئی ہے۔رٹ کی جلدی تاریخ لگوانے کی 10سے زیادہ یاددہانی کی درخواستیں بھی دے چکے ہیں کوئی شنوائی نہیں ۔لوگ دھڑا دھڑ ریلوے کی زمینوں پر قبضے کر رہے ہیں ۔لیکن عدالتیں صرف سابق وزیراعظم کا مقدمہ لے کر بیٹھی ہوئی ہیں ۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved