سفاکانہ ردعمل کوئی حل نہیں
  11  فروری‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

ٹوئن بی نے کہا تھا ''اگر کسی جمہوری حکومت کو اطمینان بخش طریقہ پر کام کرنا ہے تو اسے ایک ایسا قائد چاہئے جو نہ دھوکہ باز ہو،نہ لفّاظ ہو ،ایسے اخلاق ودانشمندی کا حامل ہو کہ اس کے ہم وطن کسی جبر واکراہ اورجذباتیت کے بغیر اس کی قیادت کو تسلیم کریں '' آخر کار عدلیہ پارٹی بن ہی گئی،کوئی کتنا برداشت کر سکتا ہے ،باپ بیٹی نے آسمان سر پر اٹھا رکھا ہے ،بد تہذیبی کی کوئی انتہا ہوتی ہے،جیسے ترقی یافتہ دور میں رہتے ہی نہ ہوں ، اُن دنوں خواندگی اس درجہ نہیں تھی ،مگر مروت ،حوصلہ مندی اور رواداری تھی ،رستم ہند گاما پہلوان کا ایک کمزور سے ناتواں آدمی نے غصے میں سر پھوڑ دیا ،لہو لہان حالت میں گھر کی اور جارہے تھے کہ کسی نے آوازلگائی''اتنے سے آدمی سے رستم ہند چِت ہو گیا ''پیچھے مڑکر دیکھا اور بڑی انکساری سے کہا'' میری طاقت اس لئے نہیں کہ عام آدمی پر آزمائوں اس کے لئے میرا صبر ہی کافی ہے'' اُسی رستمِ زماں کی نواسی کی بیٹی کو اس کے سیاستدان باپ نے کس راہ پر لگایا ہوا ہے ! باپ بیٹی کا باولا پن اس عروج پر ہے کہ لگتاہے کسی تعلیمی ادارے کا منہ تک نہیں دیکھا ،بازاری ،گھٹیا زبان ،وہ بھی ملک کے اعلیٰ ترین ادارے کے چیف کے خلاف!اس کے فیصلوں کے خلاف !اس عدالت کے خلاف،جس کا یہ استحقاق ہے کہ اس کے فیصلے پر کوئی انگلی اٹھائے تو ''کونٹیمپٹ آف کورٹ'' کے زمرے میں آتا ہے ،فیصلہ صحیح ہو یا غلط ،اس پر اعتراض یا تحفظ کی گنجائش کسی اور عدالت میں تو ہو سکتی ہے ،گلیوں اور بازاروں میں نہیں، اللہ کی پناہ !یہاں تو تو ہین عدالت تو کیا ،توقیرِمملکت کا دھیان تک نہیں رکھا جارہا،کسی بڑی سیاسی جماعت کے قائد کا یہ وطیرہ جو تین بار ملک کا وزیر اعظم بھی رہ چکا ہے ،نااہل وزیر اعظم چیخ و پکار مچائے ہوئے ہیں ،عدالت کے کسی سوال کا جواب دینے سے گریزاں ہیں ،اپنے جرائم کے خلاف ثبوت تک دینا گوارہ نہیں کرتے ،اپنے آپ کو ماورائے عدالت تصور کرتے ہیں ؟ اگر وہ سیاستدان ہے تو اسے یہ معلوم ہونا چاہئے کہ سیاست ''سائیس ''کا مصدر ہے جس سے مراد سکھانے یا سدھانے والا ہوتا ہے اور موصوف۔۔! قوم کو ،نئی نسل کو کیا سکھا رہے ہیں۔۔؟ اداروں کے خلاف بغاوت،قانون سے سرتابی اور عدل وانصاف کی بے حرمتی۔۔؟ ہاں مگر چیف جسٹس کا ظرف اسقدر کمزور نہیں ہوناچاہئے ،حق پر مشتمل رد عمل کا اظہار کرنا ہی ٹھہرا تو ملزمان کو عدالت کے کٹہرے میں کھڑ اکرکے فرد جرم عائد کی جائے ،ان سے پوچھا جائے کہ انہوں نے ملک کی سب سے بڑی عدالت کے خلاف سر عام محاذ کھولنے کی جرات کیسے کی ! اس قبیح فعل پر تو بڑے مجرم نااہل وزیر اعظم اور اس کی پشت پر کھڑے سوزیوں نے جو ایک دو نہیں حکومت وقت کی پوری کا بینہ ا ور خود موجودہ وزیر اعظم ہے ، جس نے ببانگ دہل کہا ہم نیب اورسپریم کورٹ کے فیصلوں کو ردی کی ٹوکری میں پھینکتے ہیں ،ایسا کہنے والوں کا ٹھکانہ جیل کی کوٹھڑی ہونی چاہئے نہ کہ ایوان اقتدار،ان سب کو عبرت ناک سزا دینی چاہئے ،جو صریحاََیہ فضا ہموار کرنے کی سعئی بد میں مبتلا ہیں کہ ملک کے مقدس ادارے کے وقار اور تقدیس کی دھجیاں بکھیردی جائیں ،پارلیمنٹ اور اعلیٰ عدلیہ کے بیچ ایک خوفناک تصادم ہو۔ ان کو یہ معلوم نہیں کہ ہر ردعمل کی ایک قیمت ادا کرناپڑتی ہے ،نااہل وزیر اعظم فقط اپنی انا کا بت کھڑا رکھنے اور اپنی ذات کوبرقرار رکھنے کیلئے سفاکانہ ردعمل پر تلے ہوئے ہیں ،انہیں یہ احساس قطعاََ نہیں کہ منفرد ذات کے اس سفاکانہ ردعمل کی قیمت پوری قوم کو ادا کرنا پڑے گی ایک اندرون ملک خانہ جنگی کی صورت میں ،جس کے اثرات دور رس ہونگے،جن کے مٹانے میں ایک سے زیادہ نسلوں کے مستقبل کی قربانی لازم ٹھہرے گی اور یہ سب موجودہ حالات کا شاخسانہ ہوگا ،شخصی انا کی خاطر جس اندھے یدھ کا کھلواڑ مچایا ہوا ہے اور جسے تیزی کے ساتھ گھر گھر پھیلانے کی مہم شروع ہے وہ مسلم لیگ ن کی سیاسی ساکھ کے لئے بھی زہر ہلاہل ہوگا ۔ بے لگام خواہشات بقا کی جبلی آرزو کا نام ہے ،جاپانی فلسفی اور ماہر تاریخ ''اکیدا دائیسکانے برطانوی تاریخ دان''ٹوائن بی'' کے ساتھ مکالمہ میں کہا ''جدید تہذیب میں قوت اور تصرف کی شدید جبلی خواہش جو پہلے سے بہت زیادہ ہے،مزید اضافہ پذیر ہوتی جارہی ہے ،جب تک یہ بے لگام رہتی ہے انسانوں کے ما بین نزاع کا باعث ہوتی ہے اور آخر کو فطرت اور انسانی زندگی کی بے رحمانہ تباہی کا موجب بنتی ہے''۔ نااہل وزیر اعظم کی ہوس اقتدار کی خواہش نے ہمیں ایسے ہی موڑ پر لاکھڑا کیا ہے ،عدلیہ کو پارٹی بننے سے گریز کی راہ اپنانا ہوگی ،چیف جسٹس کا یہ کہنا کہ ''ہمیں کوئی نکال باہر نہیں کر سکتا''بھی کہیں منفرد ذات کے جارحانہ ردعمل کا شاخصانہ نہ بن جائے کہ دو منفرد ذاتیں جب آپس میں اپنی اپنی انا کی خاطر ٹکراتی ہیں تو کائنات تک کے نظام میں اتھل پتھل مچ جاتی ہے ،یہ تو فقط انسانوں کی ایک دھرتی ہے ' جس پر راج کی سفاکانہ خواہشات رکھنے والے ایک ایسے شخص اور اس کے لوٹ مار کے ساتھیوں کی یلغار ہے،جنہیں اپنے عوام کے ساتھ کوئی ہمدردی نہیں اپنے ملک کے ساتھ کوئی محبت نہیں ،لمبی زبانوں والوں کے لشکر کی گردنیں بھی لمبی ہونے لگی ہیں اور گردنیں جب حد سے بڑھ جائیں تو سریا کھچنے لگتا ہے ۔ کیا اس لئے تقدیر نے چنوائے تھے تنکے بن جائے نشیمن تو کوئی آگ لگا دے ؟


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved