مقبول بٹ شہید
  11  فروری‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

شہید کشمیر محمد مقبول بٹ تحریک آزادی کی آج بھی علامت سمجھے جاتے ہیں۔34سال قبل تختہ دار پر چڑھ گئے مگر سودا نہ کیا ۔اپنی جان کی قربانی دی۔ جہاد کی تلقین کے بعد اپنے مفادات اور مراعات کے غلام نہ بنے۔ورنہ آج نہ تو ان کا نام عزت و احترام سے لیا جاتا اور نہ ہی وہ آزادی پسندوں کے رول ماڈل بنتے۔مقبول بٹ کے عزیز و اقارب سے گفتگو کریں یا ان کے گائوں ترہگام میں ان کے اہلخانہ سے احوال پوچھیں یاان کا آبائی گھر دیکھیں۔توسادگی، ایثار و قربانی کی حقیقت خود بیان اور عیاں ہوجاتی ہے۔سچ یہ ہے کہ وہ کشمیریوں کے ہیرو ہیں۔شاید کوئی ان کی جگہ نہیں لے سکتا۔افضل گورو شہید اور برہان وانی شہید سمیت تمام شہدا کا اپنا بلند مقام ہے۔مسلمان کا سب سے بڑا رول ماڈل آقائے نامدار حضرت محمد ۖہیں۔لیکن کشمیری نوجوان مقبول بٹ کی قربانی کو فراموش نہیں کر سکتا۔ جنہوں نے نئی نسل کو آزادی کی نئی راہ دکھائی۔ مقبول بٹ ایک غیرت مندکشمیری تھا ۔جس نے آنکھیں غلامی میں کھولیں اوراپنے گرد وپیش میں ہر کسی کو بھارتی مظالم سہتے پایا۔ اپنے ہم وطنوں کی آہ وپکارسنی اور ان کے درد پر آہیں بھرنے اورخون کے آنسو بہانے کے بجائے کچھ کرنے کا عہدکیا،دنیا میںخود تکلیف میں مبتلا ہو کر دوسروں کو آرام دینے والوں کی تعداد زیادہ نہیں رہی ہے۔لیکن مقبول بٹ کا تخت و تاج کو ٹھکرا کر تختہ پر لٹک جانا منفرد بات ہے۔انہیں آزاد کشمیر کا صدر بنانے کی پیشکش ہوئی ۔لیکن ان کے سامنے اس کی کوئی اہمیت نہ تھی۔ کیونکہ وہ اپنے لئے نہیں ، قوم کے لئے جینے کا جذبہ رکھتے تھے۔مقبول بٹ مقبوضہ جموں وکشمیر کے ضلع کپواڑہ میں ترہگام قصبہ میں 18 فروری 1938 ء کو پیداہوئے۔ جب انہوں نے ہوش سنبھالا تو ابھی تک مقبوضہ وادی میں شہدائے 1931 ء کی یادیں لوگوں کے ذہنوں میں تازہ تھیں، ان کے والدین انہیں شہدائے کشمیر کی قربانیوں کے بارے میںسینہ بہ سینہ گردش کرنے والی داستانیں سناتے تھے۔ انہوں نے بھی شہدائے کشمیر کے مشن کو جاری رکھنے کا عہد کیا اور اپنے دوستوں سے صلاح مشورے شروع کردیئے۔ پھر سفر تنہا شروع کیا اور قافلہ بنتا گیا، کاررواں چلتا گیا، بالآخر انہوں نے مشن کو جاری رکھتے ہوئے 13 جولائی 1931 ء کو شہدائے کشمیر کی طرح شہادت پیش کردی اور آزادی کے چراغ روشن کرگئے۔11 فروری 1984 ء کو بھارت نے مقبول بٹ کو بدنام زمانہ جیل تہاڑمیں پھانسی پر لٹکا دیا۔ ان کا جسد خاکی آج بھی جیل میں قید ہے۔ مطالبات اور مظاہروں کے باوجود جسد خاکی کو تدفین کیلئے کشمیریوں کو نہیں دیا جارہا ہے۔شہیدکے تدفین کیلئے مزار شہداء سرینگر اور ترہگام میں قبریں تیار رکھی گئی ہیں۔بھارتی حکمران ان کی جسد خاکی کشمیریوں کو دینے میں ڈر و خوف میں مبتلا ہیں۔ مقبول بٹ میں شروع سے ہی بھارت سے آزادی حاصل کرنے کا جذبہ موجود تھا۔ وہ شروع میں علاقہ کے لوگوںکو خاموشی کے ساتھ مسئلہ کشمیر سے روشناس کراتے رہے۔ وہ لوگوں کو ایک قطار میں بٹھا کر بورڈ پر کشمیر کی لکیریں کھینچ کر انہیں غلامی کے بارے میںآگاہی دیتے تھے۔خود مختار نظریہ کے باوجود انہیں مملکت خداداد پاکستان سے بے پناہ محبت تھی۔1958ء کو 20 سال کی عمر میں آزاد کشمیر پہنچ گئے، ان کے دوست عبدالرشید پرے کے مطابق یہ پانچواں موقع تھا جب وہ آزاد کشمیر جانے کی کوشش میں کامیاب ہوئے ۔ ایک بار وہ2 دوستوں کے ہمراہ جنگ بندی لائن عبور کرنے کو کوشش کررہے تھے جب انہیں بھارتی فوج نے گرفتار کر لیا، ان کی شدید مارپیٹ کی گئی۔ مقبول بٹ مظفر آبادمیں پانچ سال تک رہے۔1962 ء میں انہوں نے تحریک کشمیر کمیٹی قائم کی ۔ جس کو بعد ازاں رائے شماری فرنٹ میں ضم کردیا گیا۔ 1965 ء کو انہوں نے نیشنل لبریشن فرنٹ بنائی اور مسلح جدوجہد کا آغاز کیا۔1966 ء میں مقبول بٹ نیشنل لبریشن فرنٹ کے ساتھیوں سمیت مقبوضہ کشمیر میں داخل ہوگئے ۔بھارتی فورسز کے ساتھ جھڑپ میں ایک اہلکار ہلاک ہوا اور مقبول بٹ کو حراست میں لے لیا گیا۔ ان پر قتل کا مقدمہ چلایا گیا اور سرینگرکی عدالت نے پھانسی کی سزا سنادی۔ پھانسی کی سزا کے دو ہفتے بعد وہ جیل کی سلاخیں توڑ کرآزاد کشمیر پہنچ گئے، جہاں انہیں حراست میں لیا گیا۔ مقبول بٹ کو بھارتی ایجنٹ قرار دے کر ان پر مقدمہ چلایا گیا۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کی ہدایات پر انہیں رہا کردیا گیا، وہ واپس مقبوضہ کشمیر روانہ ہوئے اور گرفتار ہوگئے۔مقبول بٹ کی رہائی کیلئے لبریشن فرنٹ کے کارکنوں نے برطانیہ کے شہر برمنگھم میں بھارتی سفارتکار رویندر ماترے کو اغوا کے بعد قتل کردیا ۔کوئی ثبوت نہیںکہ اس میں بٹ صاحب ملوث تھے۔

سچ یہ ہے کہ بھارتی سپریم کورٹ نے ردعمل میں مشتعل ہو کر بھارتی عوام کی نام نہاد تسکین کے لئے مقبول بٹ کو پھانسی دی۔ اسی عمل کو دہائیوں بعد افضل گورو کو پھانسی دے کر دہرایا گیا۔ مقبول بٹ کو بھارتی عدالت نے انتقامی کارروائی کا نشانہ بنایا۔6 فروری کو برطانیہ میں بھارتی سفارتکار کو قتل کرنے کے صرف 5 دن بعد مقبول بٹ کو پھانسی دی گئی۔1971 ء میں بھارت سے فوکر جہاز کو اغوا کرکے لاہوراتارنے اور نذر آتش کرنے کا الزام بھی مقبول بٹ پر لگایا تھاکہ وہی اس ہائی جیکنگ کے ماسٹر مائنڈ تھے۔ بظاہر مقبول بٹ کو سی آئی ڈی پولیس افسر کو قتل کرنے کے الزام میں پھانسی کی سزا سنائی گئی تھی لیکن حقیقت میں یہ پھانسی سیاسی وجوہات پر تھی۔ دہلی کی بدنام زمانہ تہاڑ جیل کے اندرمقبول بٹ کی قبر پراب عمارت تعمیر کرلی گئی اور قبر کو شہید کردیا گیاہے۔مقبول بٹ کے خلاف چلنے والے مقدمے کی غیر جانبدارانہ اور آزادانہ سماعت نہیں کی گئی۔ سی آئی ڈی افسر کو مقبول بٹ کے ساتھی نے گولی مار کر ہلاک کیا لیکن پھانسی مقبول بٹ کو دی گئی۔مقبول بٹ کے وکیل اور مقبوضہ کشمیر کے سابق نائب وزیر اعلیٰ مظفر حسین بیگ نے اعتراف کیا ہے کہ مقبول بٹ کی پھانسی انتقامی قتل تھا۔ پھانسی سے قبل قانونی ضابطے وتقاضے پورے نہیں کئے گئے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ جموں وکشمیر ہائی کورٹ نے پھانسی کی توثیق نامے پر دستخط نہیں کئے تھے لیکن بھارتی سپریم کورٹ نے انہیں پھانسی دیدی۔سابق وزیراعلیٰ مقبوضہ کشمیر فاروق عبداللہ نے مقبول بٹ کے '' ڈیتھ وارنٹ'' پر دستخط کئے۔ فاروق عبداللہ نے ایک بار خود میرپور میںلبریشن فرنٹ کے جلسے میں شرکت کی تھی اور کشمیر کی آزادی کیلئے جدوجہد کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ بھارت کے شدید مظالم، نسل کشی، قتل عام، زیادتیوں، آتشزنی، پیلٹ پاوا فائرنگ اور انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزیاں کشمیریوں کو جھکانے اور جدوجہد آزادی ترک کرنے پر آمادہ نہ کرسکیں۔ بھارت نے ایک مقبول بٹ کو پھانسی دے کر ہزاروں مقبول بٹ پیدا کرلئے۔جو قومیں نظرئیے اور اصولوں کی بنیاد پر اتحاد واتفاق کا مظاہرہ اور قربانیاں پیش کرنے والوں کو یادکرتی ہیں،ان کے نقوش تاریخ کے اوراق سے کبھی مٹ نہیں سکتے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved