راؤ انوار‘ شہر کراچی‘ سینیٹ‘ ایم کیو ایم اور سیکولر انصاف؟
  12  فروری‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

سب سے پہلے آئی جی سندھ پولیس نے جعلی مقابلوں میں سینکڑوں انسانوں کو مارنے والے ۔۔۔ایس ایس پی ملیر راؤ انوار سے اپیل کی تھی کہ وہ گرفتاری دے دے۔۔۔ پھر چیف جسٹس نے بھی اپنے ریمارکس میں راؤ انوار سے کہا تھا کہ ۔۔۔ وہ عدالت کی حفاظت میں آجائے‘ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی بھی ۔۔۔ جعلی پولیس مقابلوں کے ماہر سے گرفتاری دینے کی اپیل فرماچکے ہیں ۔۔۔ آئی جی سندھ نے تمام انٹیلی جنس اداروں سے بھی راؤانوار کی گرفتاری میں تعاون کی درخواست کی ہے ۔۔۔ مگر اس سب کے باوجود راؤ انوار پوری ریاستی مشینری سے بڑھ کر طاقتور ثابت ہو رہا ہے ۔۔۔ راؤ انوار کی وجہ سے پوری دنیا میں پاکستان کی بدنامی اور جگ ہنسائی ہو رہی ہے ۔۔۔ اس لئے آئیے آج ہم سب مل کر ۔۔۔ ان کاؤنٹر اسپیشلسٹ راؤ انوار کی خدمت میں گزارش کرتے ہیں کہ ’’جناب عزت مآب۔۔۔ راؤ انوار صاحب۔۔۔ آپ نے اپنی سکہ بند طاقت کا لوہا اپنوں‘ غیروں‘ سب سے منوا ہی لیا ‘ آپ نے عملاً ثابت کر دکھایا کہ ریاستی مشینری آپ کی طاقت کے سامنے ہیچ ہے ۔۔۔ پاکستان کے عوام کو اپنے اداروں کی طاقت پر بھی مکمل بھروسہ اور ناز ہے ۔۔۔ اس لئے ’’راؤ جی‘‘ اب بس بھی کریں ۔۔۔ جلد از جلد منظرعام پر آجائیں ۔۔۔ تاکہ دنیا کو کچھ تو پیغام جائے کہ پاکستان میں بھی قانون کی عملداری ہے۔ یہ خاکسار گزشتہ دس دنوں سے شہر کراچی میں پھیلی ہوئی موذی بیماریوں کا ذائقہ چکھ رہا ہے ۔۔۔ شہر کراچی میں نہ بجلی ہے‘ نہ پانی ۔۔۔ ٹریفک کا خوفناک اژدھام ۔۔۔ ٹوٹی پھوٹی تباہ حال سڑکیں ۔۔۔ چند سال قبل260 سے زائد جیتے جاگتے انسانوں کو جس فیکٹری میں زندہ جلا ڈالا گیا تھا ۔۔۔ وہ فیکٹری بھی کراچی ہی میں واقع ہے ۔۔۔ اگر میں یہ لکھ دوں کہ شہر کراچی کو پاکستان پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم نے مل کر بھنبھوڑنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تو زیادہ صحیح ہوگا۔۔۔ اور اب تو ہزاروں بے گناہ انسانوں کا خون پانی سے بھی سستا سمجھ کر بہانے والی جماعت ایم کیو ایم کی دال جوتیوں میں بٹ رہی ہے۔ ایک باخبر دوست سے جب ایم کیو ایم موجودہ صورتحال کے حوالے سے بات ہوئی تو اس نے بڑے دلچسپ انداز میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ۔۔۔ ایم کیو ایم کے پلیٹ فارم پر شہر کراچی کو بھنبھوڑنے والے اب ’’ایم کیو ایم‘‘ کو ہی بھنبھوڑ رہے ہیں ‘ فاشسٹ اور خون بہانے والی جماعتوں کا انجام کچھ ایسا ہی ہوا کرتا ہے ۔۔۔ سینٹ کے انتخابات کی وجہ سے بولیاں لگ رہی ہیں ۔۔۔ ’’انسانی‘‘ ضمیر خریدے جارہے ہیں۔ تو ایسے میں بھلا ایم کیوایم پیچھے کیوں رہے؟ کس قدر افسوس کی بات ہے کہ جس ’’سینٹ‘‘ کو ایوان بالا کا مقام حاصل ہے ۔۔۔ جس ’’سینٹ‘ ‘ کو اک مقدس ایوان قراردیا جاتاہے ۔۔۔ جس سینٹ کو22 کروڑ انسانوں کی قسمتوں کے فیصلوں کا اختیار حاصل ہوتاہے ۔۔۔ اس ’’سینٹ‘‘ کے انتخابات جوں جوں قریب آتے جارہے ہیں ۔۔۔ توں‘ توں ’’ہارس‘‘ ٹریڈنگ کی اصلاح بھی ۔۔۔ پروان چڑھ رہی ہے ۔۔۔ کروڑوں روپے میں ووٹ خریدے جارہے ہیں ۔۔۔ سوال یہ ہے کہ ضمیروں کے سوداگر ۔۔۔ ’’نوٹوں‘‘ کے بل بوتے پر جب ایوان بالا کے ممبر بن جائیں گے ۔۔۔ تو کیا اس سے ایوان بالا کا تقدس مجروح نہیں ہوگا؟ کروڑوں روپے میں انسانی ضمیر خرید کر سینیٹر بننے والے کو پھر کیا یہ حق دیا جاسکتا ہے کہ وہ ناموس رسالتؐ قانون کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے کی کوشش کرے ؟ جب پاکستان میں مقدس ایوانوں کا رکن بننے والے ہارس ٹریڈنگ کے ماہر گردانے جائیں گے تو پھر یہ ملک کیا خاک ترقی کر پائے گا؟ اسلام آباد سے آنے والی اس خبر نے کراچی میں بھی تشویش کی لہر دوڑا دی ہے ۔۔۔ خبر کے مطابق ’’سینٹ کی انسانی حقوق کی کمیٹی نے ایک خاتون سینیٹر کی جانب سے توہین رسالت کے قانون میں ترامیم کے حوالے سے پیش کردہ ترمیمی بل کا سنجیدگی سے جائزہ لینا شروع کر دیا ہے ۔۔۔ بل میں توہین رسالت کے قانون میں ضابطہ کار ترامیمی بل میں 2 ترامیم تجویز کی گئی ہیں ۔۔۔ جن کے مطابق توہین رسالتؐ کے جرم میں سزائے موت پانے والے گستاخ رسول کی سزا عمر قید میں بدلنے۔۔۔ کی اور توہین رسالت کا ارتکاب کرنے والے کو اپنے فعل پر ندامت کا اظہار کرنے پر معاف کر دینے کی شقیں شامل کرنے کی تجاویز دی گئی ہیں۔ ایک ذمہ دار ذریعے کے مطابق اس خاتون سینیٹر کا تعلق ایم کیو ایم سے ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ سینٹ کی انسانی حقوق کی اس کمیٹی کے ایک رکن جمعیت علماء اسلام کے سینیٹر مفتی عبد الستار نے کمیٹی کے اراکین پر واضح کر دیا ہے کہ وہ قانون توہین رسالت میں ایک نقطے کی تبدیلی بھی برداشت نہیں کریں گے‘ میرے نزدیک جمعیت علماء اسلام کے سینیٹر حافظ حمد اللہ کے بعد سینیٹر مفتی عبدالستار کا ختم نبوت اور قانون ناموس رسالت کے دفاع کے لئے آواز بلند کرنا غنیمت ہے۔ جس ’’سینٹ‘‘ کے حوالے سے انسانی ضمیروں کی بولیاں لگاکر تشکیل پانے کی خبریں عام ہوں گی ۔۔۔اس سینٹ میں بیٹھے ہوئے کسی فرد کو یہ حق نہیں دیا جاسکتا کہ وہ مسلمانوں کے مذہبی عقائد پر یورپین کلہاڑا چلانے کی کوشش کرے۔۔۔اور اگر ختم نبوت یا قانون توہین رسالت کے خلاف کوئی سازش کرنے کی کوشش کرے گا ۔۔۔ تو پاکستا ن کے مسلمان ایسے سازشیوں کا ناطقہ بند کرنا جانتے ہیں ۔۔۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ ۔۔۔ مردان کے مشعال قتل کیس کا عدالتی فیصلہ آجانے کے بعد بھی ۔۔۔ بعض نجی چینلز کے سیکولر شدت پسند اینکرز اور اینکرنیوں نے ۔۔۔ لادین شدت پسندی کو ہوا دینے کی کوشش کی ہے ۔۔۔ عدالت نے ثبوتوں اور شواہد کی موجودگی میں مشعال پر گولی چلانے والے ملزم کو سزائے موت ۔۔۔ بعض کو عمر قید اور بعض کو چار‘ چار سال کی سزا بھی سنائی ۔۔۔ لیکن جو بے گناہ گرفتار تھے ۔۔۔ انہیں رہا بھی کر دیا ‘ مگر مٹھی بھر سیکولر شدت پسند ا ینکرز اور ا ینکرنیوں کا مخصوص گروہ ۔۔۔ یہ چاہتا ہے کہ مشعال قتل کیس میں مردان کے ہر مسلمان نوجوان کو پھانسی پر چڑھا دیا جائے ‘ سیکولر شدت پسندوں کے اس انوکھے انصاف کی ڈیمانڈ کی وجہ سے بھی پاکستان میں نفرتیں بڑھ رہی ہیں۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved