پاک چین اشتراک....ناقابل تسخیرسفر
  12  فروری‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

سی پیک منصوبے کی تکمیل کی طرف تیزی سے کام جاری ہے اوریقیناًاس منصوبے کی تکمیل اورمکمل طورپرآپریشنل ہونے کے بعدکئی اورمنسلک منصوبے بھی جنم لیں گے جودونوں ملکوں کی معاشی اوردفاعی ترقی میں خودکفالت کے ایسے سفرکی طرف گامزن ہوں گے جونہ صرف انساانی بیروزگاری کے خاتمے کی نویدہوں گے بلکہ عالمی امن کیلئے بھی معاون ثابت ہوں گے۔اس نئی شاہراہِ ریشم کے چاروں طرف تعمیرات چین کی قیادت کے اہم منصوبوں میں شامل ہیں۔ چین کے وہ دور دراز کے مغربی علاقے جو قازقستان کے ساتھ ملتے ہیں، یہاں کے گنبد نما گھر اور اونٹوں سے ملتی جلتی رہائشیں موجود ہیں مگر یہاں سے جو صورتحال سامنے آرہی ہے وہ یہ ظاہر کرتی ہے کہ یہاں پر ایک نیا شہر تعمیر ہونے جارہا ہے۔ چار سال پہلے دریافت ہونے والا یہ شہر قورغاس (Khorgos)اپنے اندر دنیا کیلئے بے پناہ کشش لیے ہے۔اس کشش کی بڑی وجہ یہ ہے کہ یہاں دنیا کامصروف ترین inland port کا منصوبہ زیر غور ہے، جو چین کو دوبارہ شاہراہِ ریشم تعمیر کرنے پر اکسا رہا ہے۔ یہاں مزیدایسے تجارتی علاقے (free trade zones) بنائے جارہے ہیں، جو ہر روز تیس ہزار کاروباری افراد کیلئے آمدورفت کو ممکن بنائیں گے۔ یہاں مصنوعات کی تیاری کیلئیبہت بڑے اور جدید کارخانے تعمیر کیے جارہے ہیں، جن میں مصنوعات تیار کرنے والوں کو چینی حکومت کی طرف سے خصوصی طور پر دو سال تک کرایہ نہ دینے کی سہولت فراہم کی جارہی ہے۔ اس وقت رقم جمع کروانے والوں نے مرکزی گزرگاہ پر ٹرکوں کی قطاریں کھڑی کردی ہیں، جو زرعی آلات اور blue industrial piping(ایسے پائپ جو وسیع پیمانے پر ذرائع آمد و رفت میں استعمال ہوتے ہیں)کے حامل ہیں۔ ان ٹرکوں کے ڈرائیور نیند کی کمی کا شکار ہیں اور اپنی سرخ آنکھوں کے ساتھ اپنی گاڑیوں میں بیٹھے پوری دنیا کے سفر کی جانب اشارہ ملنے کے منتظر ہیں۔ آج کل قورغاس کی فضا گدلی اور مٹی سے اٹی ہوئی ہے۔ یہ خیالات گوجیان بِن (Guo Jianbin)کے ہیں جو Khorgos Economic development zone administration committee کے ڈپٹی ڈائریکٹر ہیں۔ ان کا مزید یہ کہنا بھی ہے کہ ایک روز ایسا بھی آئے گا کہ یہ جگہ مالی وسائل سے لبریز ہوگی۔ ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کی وجہ سے چین کے وزیر اعظم نے قورغاس شہر کوانتہائی اہم قراردیا ہے۔ یہ ماضی کی قدیم شاہراہ ریشم کو ہائی ویز، بندرگاہوں، ریلویز کے ساتھ دوبارہ ملانے کا وہ منصوبہ ہے، جو ایشیا کو مشرقِ وسطیٰ کی جانب سے مغرب اور شمال سے افریقا سے ملادے گا۔ قورغاس کا یہ راستہ بڑے پیمانے پر کارگو کی نقل و حمل کو یورپ اور ایشیا تک ممکن بناسکتا ہے۔یہاں ایک ایسا راستہ بنایا جا رہا ہے، جو سمندرکے ساتھ ساتھ چین کے کئی شہروں سے زمینی رابطے پیداکردے گا۔ افریقا اور ہر اس ملک کی بندرگاہ کے ساتھ رابطے کو ممکن بناسکے گا، جو سمندروں کے ساتھ ساتھ واقع ہیں۔ چین کے ڈویلپمنٹ بنک کے مطابق۰۰۹/ ارب امریکی ڈالرکی خطیر رقم سے تقریباً ۰۹منصوبے مکمل کیے جائیں گے۔ کینیا میں ۰۸۴ملین امریکی ڈالروں سے سمندرکے درمیان ایک بندرگاہ بنائی جائے گی، جو بعد میں سڑکوں، ریلویز اور پائپ لائنز کے ذریعے جنوبی سوڈان کوایتھوپیا سے ملائے گی اور وہاں سے کیمرون کی بندرگاہ ڈوالا تک پہنچ جائے گی۔۳.۷ ارب ڈالر کی لاگت سے ترکمانستان سے چین تک ایک نئی پائپ لائن بچھائی جارہی ہے۔ یہ ہر سال چین کو۵۱/ارب کیوبک میٹر گیس فراہم کرے گی۔ چنگیزخان کے بعد سے اب تک بین الاقوامی سطح پراپنی عالمی خواہشات کو اتنے بڑے پیمانے پر چین نے کبھی آگے نہیں بڑھایا۔ مگر اس بارپرانی سڑی ہڈیوں اورراکھ پر زندگی گزانے کے بجائے اس چین کی نگاہ بندرگاہوں، شاہراہوں اور تیزترین ریلویز پر ہے۔ ایک دوسرے سے تبادلے اجنبیت کو ختم کرتے ہیں، ساتھ مل کر سیکھنے سے نفرتیں ختم ہو جاتی ہیں اور بقائے باہمی کا تصور برتری جیسے منفی خیال کو ختم کرنے کا باعث بن جاتا ہے۔ یہ الفاظ چینی صدرنے مئی میں ہونے والے ون بیلٹ ون روڈ فورم کے موقعے پر جاری اعلامیے میں کہی۔ یہ وہ اولین مقصد ہے جو چینی قیادت کو ایسے وقت میں عالم گیریت کوسہارا دینے میں مددکررہاہے، جبکہ امریکا اپنے بین الاقوامی معاہدوں پر ڈانواں ڈول ہورہا ہے۔ بیلٹ اینڈ روڈمنصوبے سے دنیا کے ۵۶ممالک میں قیام پذیر دنیا کی۰۷ فی صد آبادی تک اپنی مصنوعات پہنچانے میں کامیابی حاصل ہوگی۔ آبادی کے اس حجم کی ایک چوتھائی آبادی کو توانائی کی فراہمی کے عوض اورایک چوتھائی کو مصنوعات پہنچانے پر خدمات کے عوض جو منافع حاصل ہوگا، وہ دنیا کے کل منافع کا ۸۲فی صد یعنی لگ بھگ کھرب امریکی ڈالر ہے۔ بیجنگ اس معاملے میں پر یقین ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اس کی حدود میں بڑے پیمانے پر ایسی اقوام موجود ہیں جو بے پناہ وسائل رکھتی ہیں۔ لیکن بنیادی انفراسٹرکچرسے محروم ہیں اور چین اپنے وسائل کے ذریعے ان مسائل کو حل کرسکتا ہے۔ دیگر ممالک سے زمینی رابطہ ممکن ہونے کی صورت میں چین اپنی مصنوعات کیلئے نئی منڈیاں پیدا کرے گااور ان روابط سے خوب فائدہ اٹھاے گا۔ چین کے وزیر تجارت زہونگ شان مارچ میں ہی یہ اعلان کر چکے تھے کہ چین کی کمپنیوں نے پہلے ہی ایک لاکھ۰۸ہزار نوکریاں پیدا کرلی ہیں۔ (جار ی ہے) ون بیلٹ اینڈ روڈ کی مد میں ارب امریکی ڈالر ٹیکس ریونیو کی شکل میں ادا بھی کیا جاچکا ہے۔ ہزاروں چینی انجینئر، کرین آپریٹر اور سٹیل کو پگھلانے والے اس عظیم منصوبے سے فائدہ اٹھانے کیلئیتیار ہیں۔ پروفیسر نک بسلے،جو ایک آسٹریلوی جامعہ میں ایشیائی تجارت کے ماہر ہیں، کا کہنا ہے کہ دنیا کے اس سب سے اہم حصے میں معاشی حکمتِ عملی طے کر نے کیلئے چین کی ہر صورت ضرورت ہوگی۔ چین آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑا ملک ہے اور معاشی طور پر امریکا کے بعد دوسرے درجے پر ہے۔ چین کے صدر کے مطابق یہ قدم بالکل درست ہے۔ چین کی کچھ عرصے پہلے کی تاریخ افراتفری، جنگ و جدل، خود کو مصیبت میں ڈالنے، معاشی تباہی اور غربت سے پر ہے۔ مگر آج صورتحال یہ ہے کہ چینی کمپنیاں یورپ کی کئی فٹبال ٹیموں کو خرید چکی ہیں، ہالی ووڈ میں فلم اسٹوڈیو کی مالک ہیں اور نیویارک سٹی کے والڈروف آسٹریاہوٹل ان کی ملکیت میں ہیں۔ دنیا میں سب سے زیادہ سولر پینل، ہواسے چلنے والی ٹربائن، اور تیزترین ریلویز چین کے پاس ہیں۔ جنوری میں زی نے چین کے پہلے صدر کی حیثیت سے ورلڈاکنامک فورم سے خطاب کیاتو انھوں نے ایک مدبر، سمجھ دار اور بین الاقوامی شخصیت کے طور پرخود کو اس طرح پیش کیا کہ آنے والے وقت میں وہ دنیا کیلئیقوانین اور معیار ترتیب دینے والے ہیں اور دنیا ان پر عمل پیرا ہوگی۔ ۸۱/ اکتوبر ۷۱۰۲ء کوچینی کمیونسٹ پارٹی کی انیسویں مجلس میں ان کے الفاظ پڑھنے کے قابل ہیں۔ انھوں نے کہا:’’اب یہ وقت ہے، جب ہم اس دنیا کے سٹیج کی سب سے اہم جگہ پر خود کھڑے ہوں‘‘۔ یہ دور رس نگاہ امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ کیلئے بالکل بھی خوشگوار نہیں رہی، جو اپنے ملک کی شاہراہوں، پلوں اور توانائی کے منصوبوں کیلئے ابھی تک ایک کھرب کے بل پاس نہیں کر سکے۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ آدھے سے زیادہ امریکی جانتے ہیں کہ ان کی بنیادی ضرورت کیا ہے۔(جاری ہے)


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved