بارے بیاں کچھ گھوڑوں کے ۔۔۔!
  12  فروری‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

سینٹ ایوانِ بالا ہے شائد! اس لیے اس کے انتخاب کا طریق ایسا بنادیا گیا ہے کہ جس میں صرف بالائی طبقات سے تعلق رکھنے والے ’’سوداگر‘‘ ہی پہنچ سکتے ہیں۔ انتخابی عمل میں خرید وفروخت کو ہارس ٹریڈنگ کہا جاتا ہے۔ ہارس انگریزی زبان میں گھوڑے کو کہتے ہیں ۔ اورٹریڈنگ تجارت کے معنوں سے موسوم کی جاتی ہے، ہارس ٹریڈنگ کی اصطلاح نہ جانے کب معرضِ وجود میں آئی لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ دنیامیں جہاں کہیں بھی سیاستدانوں کی بولی گتی ہے وہاں انہیں ’’گھوڑوں‘‘ کے نام سے مخاطب کیاجاتا ہے۔ تاریخ کے اوراق پر نظر دوڑائیں تو معلوم ہوتاہے کہ گھوڑے کے ارتقاء کا عمل ساڑھے چار کروڑ سے ساڑھے پانچ کروڑ سال کے دوران ہوا۔ لگ بھگ 4ہزار قبل مسیح میں انسانوں نے گھوڑے کوپالتو بنایا۔ تین ہزار قبل مسیح سے گھوڑوں کو عام طورپر پالاجارہاہے۔ اس وقت تقریباً تمام تر گھوڑے ہی پالتوہیں لیکن جنگلی گھوڑوں کی ایک نسل اور پالتو گھوڑوں کودوبارہ آزاد کرنے سے پیدا ہونے والی نسلیں پالتونہیں۔ انگریزی زبان میں گھوڑوں کے خاندانوں کے لیے الگ سے اصطلاحات بنا ئی گئی ہیں جو ان کے دورانِ حیات، جسامت، رنگت ،نسل، کام اور رویے کو ظاہر کرتی ہیں۔ گھوڑوں کی جسمانی ساخت اُسے حملہ آ وروں سے بچ کر بھاگنے کے قابل بناتی ہے۔ گھوڑوں میں تو ازن کی حس بہت ترقی یافتہ ہوتی ہے۔ گھوڑے کھڑے ہو کر یا بیٹھ کر دونوں ہی انداز میں سو سکتے ہیں۔گھوڑے کا بچہ پیدا ہونے کے کچھ ہی دیر بعد کھڑا ہونے اور بھاگنے کے قابل ہوجاتا ہے۔ زیادہ تر پالتو گھوڑوں کو 2 سے 4سال کی عمر میں زین اور لگام کی عادت ڈالی جاتی ہے۔ پانچ برس کا گھوڑا پوری طرح جوان ہوتاہے اور اوسطاً گھوڑوں کی عمر پچیس سے تیس سال تک ہوتی ہے۔ گھوڑے کے جسم میں عموماً 205 ہڈیاں ہوتی ہیں۔ انسان اور گھوڑے کے ڈھانچے میں ہنسلی کی ہڈی کا فرق ہوتاہے۔ گھوڑوں میں یہ ہڈی نہیں ہوتی اور اگلی ٹانگیں براہِ راست ریڑھ کی ہڈی سے جڑی ہوتی ہیں۔ گھوڑوں کے سُم اور ٹانگوں کی اہمیت انتہائی زیادہ ہوتی ہے۔ اگرگھوڑے کی ٹانگ یا کُھر میں نقص واقع ہو جائے تو گھوڑے کی اہمیت ختم ہو جاتی ہے۔ کُھر جس چیز سے بنتے ہیں وہی چیز انسانی جسم میں ناخن کہلاتی ہے۔گھوڑے سبزی خور ہوتے ہیں اور اُن کے معدے کی بناوٹ انہیں ڈھیر ساری اقسام کی گھاس اور دیگر نباتات کھانے کے قابل بناتی ہے۔ گھوڑے دن بھر چرتے رہتے ہیں۔ انسان کے برعکس گھوڑے کامعدہ بہت چھوٹا لیکن آنتیں بہت لمبی ہوتی ہیں۔ پانچ سو کلو گرا م وزنی گھوڑا عموماً سات سے گیارہ کلو گرام تک خوراک اور 38سے 45لیٹر تک پانی پی لیتا ہے۔گھوڑے جگالی نہیں کرتے اور نہ ہی اُلٹی کرسکتے ہیں۔ اسی وجہ سے گھوڑوں میں درد قولنج موت کی ایک عام وجہ ہے۔گھوڑے کی حس انسان سے بہت تیز ہوتی ہے۔ گھوڑے کی آنکھیں کسی بھی زمینی جانور کی نسبت زیادہ بڑی ہوتی ہیں اور سر کے کے اطراف پر لگی ہوتی ہیں۔گھوڑے 350 زاویئے سے زیادہ دیکھ سکتے ہیں۔ تقریباً65 زوایئے دونوں آنکھوں سے جبکہ 285 زاویئے جتنا ایک یا دوسری آنکھ سے دیکھتے ہیں۔ دن اوررات دونوں ہی وقت گھوڑے کی نظر بہت تیز ہوتی ہے تاہم گھوڑے تمام رنگ نہیں دیکھ سکتے۔ گھوڑے کی قوت سماعت بہت تیز ہوتی ہے اور اُن کے کان 180زاویئے تک مڑ جاتے ہیں۔ اس طرح سر کو حرکت دیئے بغیر گھوڑے ہرطرف کی آواز سن سکتے ہیں۔ان کی قوت شامہ بہت تیز ہوتی ہے۔ تاہم گھوڑے سونگھنے کے بجائے قوت بصارت پر زیادہ بھروسہ کرتے ہیں۔ گھوڑوں میں توازن کی حس بھی بہت تیز ہوتی ہے اور غیر ارادی طورپر انہیں ہر وقت معلوم ہوتاہے کہ کونسا عضو کہاں ہے۔ چھونے کی حس بھی گھوڑوں میں بہت تیز ہوتی ہے اور اگر اُن کی کھال پر مکھی یا مچھر بھی بیٹھے تو انہیں احساس ہوتا ہے ۔ تمام گھوڑے چار بنیادی چالیں چلتے ہیں۔ پہلی چال میں ہر پاؤں الگ الگ زمین پر پڑتا ہے اور عمومی رفتا 4.6 کلو میٹر فی گھنٹہ ہوتی ہے۔ دوسری چال دُلکی کہلاتی ہے اور13سے19کلومیٹر فی گھنٹہ تیز ہوتی ہے۔ تیسری چال میں تین آوازیں پیدا ہوتی ہیں اور رفتار 19تا24 کلو میٹر فی گھنٹہ ہوسکتی ہے۔ چوتھی چال سر پٹ ہوتی ہے جو40 سے 48 کلو میٹر فی گھنٹہ ہوتی ہے ۔ تاہم تیزترین گھوڑے کی سر پٹ مختصر فاصلے کے لیے 88 کلو میٹر فی گھنٹہ بھی ماپی گئی ہے۔ پرانے خیالات کے مطابق گھوڑے احمق، سوچ سے عاری اور گروہی جانور سمجھے جاتے تھے۔ تاہم جدید تحقیقات نے ثابت کیا ہے کہ گھوڑے بہت سارے روز مرہ کے کام جیسے خوراک کا حصول اور سماجی رویے سرانجام دینے میں ذہانت کا استعمال کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ مسائل کا حل تلاش کرنا، سیکھنے کی صلاحیت اور علم حاصل کرنابھی ان کی اہم خصوصیات ہیں۔ تحقیقات سے یہ ثابت ہواہے کہ گھوڑے نہ صرف سادہ بلکہ پیچیدہ مسائل کے حل تلاش کرنے کی بھی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ گھوڑے تین تک گنتی گن سکتے ہیں۔ دنیا بھر میں گھوڑے انسانی ثقافت اور کام کاج میں اپنا کردارادا کرتے ہیں۔ گھوڑوں کو شغل میلوں، کھیلوں اور کام کاج کے لیے استعمال کیاجاتا ہے۔ گھوڑوں کی تمام نسلوں کا تذکرہ تو نہیں کرسکتا مگر آج کل پاکستان میں جو نسل سب سے زیادہ مشہور ہے وہ ان گھوڑوں کی سیاسی نسل ہے۔ یہ عجیب گھوڑے ہیں جو اپنی قیمت خود لگواتے ہیں، یہ اپنا حال بھی بیچ ڈالتے ہیں اور اپنی چال بھی۔ ان کا جسم بڑامقدس ہوتاہے مگر ان کا ضمیر سستے داموں فروخت ہوجاتا ہے، یہ اپنی قیمت لگوانے کے لیے خود بازار کی جنس بن جاتے ہیں۔ اور اُس وقت تک ہنہناتے رہتے ہیں جب تک خریدار اِن کے ضمیر کا سودا نہیں کرلیتا۔ چار ہزار قبل مسیح سے خرید وفرخت کی منڈی میں بکنے والے گھوڑوں میں اکیسویں صدی کے سیاسی گھوڑے سب سے بدترین نسل کے گھوڑے ثابت ہوئے ہیں۔آج کل ان گھوڑوں کی شکلیں دیکھنی ہوں تو سینٹ کے انتخابات کے چند امیدواروں کی تصاویر دیکھی جاسکتی ہے۔ یہ ضمیر کے سودے کرنے میں سر پٹ چال چل رہے ہیں۔ سینیٹ الیکشن میں ووٹوں کی خرید و فروخت کے لیے کوششیں تیز ہوگئی ہیں، پارلیمانی ایوان بالا سینیٹ کی باون نشستوں کے چناؤ کے بارے میں کچھ لوگوں کا دعویٰ ہے کہ بلوچستان اورفاٹا میں دو کروڑ ،خیبر پختونخوا میں ایک کروڑ تک کی پیشکش کی جارہی ہیں، کوئٹہ میں بولی دو کروڑ روپے سے شروع ہو گئی ہے جبکہ یہی نرخ قبائلی علاقوں کے لیے بھی کھولاگیاہے۔ خیبرپختونخوا کے لیے پشاور میں بھاؤ فی الوقت ایک کروڑ روپے بتایاجاتا ہے۔ اس ہارس ٹریڈنگ کے لیے گھوڑوں کے خریدار جو پہلے کوئٹہ میں خیمہ زن تھے اب وہ پشاور پہنچ گئے ہیں۔ نوٹوں سے لدی بوریاں لیکر حرکارے کراچی سے پشاور تک پہنچے ہیں جس کے بعد صوبے کی حکمران پارٹی کے ارکان جن میں بعض بیرون ملک جانے والے تھے اب پشاور میں ہی رک گئے ہیں۔ان ارکان نے اپنی دیگر مصروفیات کوبھی محدود کردیا ہے۔ لائق اعتماد سیاسی مبصرین نے بتایا ہے کہ متناسب نمائندگی کی بنیاد پر ہونے والے سینیٹ کے انتخابات میں بلوچستان اسمبلی کے ارکان کا ووٹ سب سے زیادہ طاقتور ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ گھوڑوں کے تاجر وں نے سب سے پہلے کوئٹہ کارخ کیا ہے۔ رائے دہندگان کو پاکستانی کرنسی ہی نہیں ڈالروں، یور و اور پاؤنڈ زمیں بھی ادائیگی کی پیش کش موجود ہے، ادائیگی بیرون ملک بھی ہوسکتی ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ کوئٹہ میں کھلنے والا نرخ بیس سے پچیس کروڑ روپے تک جائے گا۔ اسی تناسب سے یہ نرخ قبائلی علاقوں کے لیے ہوگا جبکہ پشاور میں یہ رقم اس سے نصف یااس سے تھوڑا سا زیادہ تک جاسکتی ہے۔ معلوم ہواہے کہ ایک کروڑ کی رقم کو ایک ڈائمنڈ کا خفیہ نام دیا گیاہے۔ اس سلسلے میں متعلقہ ادارے ارکان کے درمیان ہونے والی سودے بازی پر مبنی گفت وشنید کو مانیٹرکررہے تھے جس کے بارے میں علم ہونے کے بعد اب’’فریقین ‘‘ محفوظ ٹیلی فون اور محفوظ کو ڈ استعمال کررہے ہیں۔ اندازہ لگایاگیا ہے کہ بلوچستان اور قبائلی علاقوں سے سینیٹ کی نشست کی قیمت ایک سے ڈیڑھ ارب روپے تک چلی جائے گی۔ اس طرح ملک کی تاریخ میں یہ گراں ترین ہارس ٹریڈنگ ہوگی۔ سینیٹ انتخابات میں اپنا ضمیر بیچنے والے سیاسی گھوڑوں پروہ گھوڑے احتجاج کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں جنہوں نے میدان کا رزار میں کبھی اپنے ضمیر کا سودا نہیں کیا۔ وہ ان سیاسی گھوڑوں پر قہقہے لگا رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ خدارا! گھوڑوں کی توہین مت کرو۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved