وفاقی اور صوبائی افسروں کی جنگ
  12  فروری‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

وفاقی اور صوبائی سروس سے تعلق رکھنے والے انتظامی افسروں کے درمیان حقوق اور اختیارات کی جدوجہد بلکہ جنگ بہت پرانی ہے کبھی اس میں تیزی آ جاتی ہے تو کبھی خاموشی چھا جاتی ہے مگر معاملات ہیں کہ بہتری کی طرف جانے کی بجائے ابتری کاشکار ہیں اور الجھتے جا رہے ہیں ۔ جن افسروں نے لوگوں کے مسائل حل کرنے ہیں ان کے اپنے مسائل کا رونا شروع ہو جائے تو عوام کہاں جائیں۔ سی ایس پی پہلے ڈی ایم جی ہوئے اور اب پی اے ایس دوسری طرف پی سی ایس اور پی ایس ایس کی بجائے پی ایم ایس بن چکی ہے۔ ناموں کی تبدیلی سے بھی دونوں طرف ذہن تبدیل نہیں ہو سکے۔ صوبائی سروسز کے ساتھ ناانصافیوں کی کہانی بہت پرانی ہے پنجاب میں خصوصا بیوروکریسی کے ان دومراکز میں ہمیشہ کھینچا تانی ہوتی رہی ہے جہاں ایک طرف ڈی ایم جی یا جسے اب پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کہا جاتا ہے کا خیال ہے کہ صوبائی افسر کام کرتے ہیں نہ انہیں آتا ہے جبکہ صوبائی سروس کے افسران کا کہنا ہے کہ چونکہ تمام کلیدی عہدوں پر وفاقی افسران براجمان ہیں اس لئے ہم کام خاک کریں،وفاقی سروس والوں کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو برہمن اور پراونشل مینیجمنٹ سروس کے افسران کو شودر سمجھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ بہت سے اعلی کردار کے حامل صوبائی افسران اپنے کیرئیر کے اختتام پربہت دلبرداشتہ ہوکر اپنے عہدوں سے دستبردار ہو جاتے ہیں، یا اپنی ریٹائرمنٹ کا انتظار کرتے ہیں۔ لسے دا کیہ زورمحمد نس جانا یا رونا اس حوالے سے ماضی میں بھی بہت بحث ہوتی رہی ہے اور آج پھر پی ایم ایس کے افسران سراپا احتجاج ہیں۔پرانے پی سی ایس افسران بڑے طریقے اور تحمل مزاجی سے اپنا کیس لڑتے تھے اور اپنے معاملات حل کر لیتے تھے مگر آہستہ آہستہ صوبائی افسروں کا تازہ خون وفاقی افسران کی زیادتیوں کو برداشت کرنے کی بجائے احتجاج پر آمادہ ہوتا نظر آ رہا ہے یادش بخیر چند سال قبل جب رائے منظور ناصر اور ان کے گروپ نے صوبائی افسروں کی ایسوسی ایشن کی قیادت سنبھالی تو دونوں سروسز کے باہمی معاملات میں کچھ زیادتیاں حد سے بڑھ گئیں اور معاملات خاصے خراب ہوئے۔کہا گیا کہ اسے ایسوسی ایشن سے ٹریڈ یونین بنا دیا گیا ہے۔کسی نے یہ بھی خوب کہا تھا کہ وفاقی سروس والے مارتے بھی ہیں اور رونے بھی نہیں دیتے۔ اسی کی دہائی میں پنجاب اسمبلی میں ایک متفقہ قرار داد کے ذریعے وفاقی حکومت سے پنجاب میں ڈی ایم جی افسران کی تعداد کو محدود کرنے کے حوالے سے ڈیمانڈ کی گئی تھی لیکن اس وقت بھی بہت ہی طاقتور ڈی ایم جی نے اس قرار داد میں روڑے اٹکائے ۔سابقہ نگران وزیراعظم معین الدین قریشی کے دور حکومت میں ان ڈی ایم جی افسران کی ملی بھگت سے ایک سیٹ شیئرنگ کا فارمولا طے کیا گیاجبکہ نگران حکومت کے اختیار میں یہ عمل نہیں آتا تھا۔اس فارمولے کے ذریعے ڈی ایم جی افسران کو بہت زیادہ صوبائی سیٹوں کا کوٹہ الاٹ کردیا گیا جس کی وجہ سے اس تقسیم میں بہت زیادہ اضافہ ہوگیا اور بیوروکریسی کے درمیان خلیج بڑھ گئی۔حتی کہ یہ فارمولا صدر مملکت کی طرف سے منظور نہیں کیا گیا جو کہ سول سروس آف پاکستان )کمپوزیشن اینڈ کیڈر( رولز1954کے تحت ضروری ہے۔اس فارمولے کے تحت گریڈ بائیس کی کسی بھی پوسٹ کے لیے کوئی پی سی ایس افسر کوالیفائی نہیں کرسکے گا اور یہ پوسٹیں جو کہ بیوروکریسی میں اورصوبے میں خصوصا بیوروکریسی کی معراج سمجھی جاتی ہیں صرف ڈی ایم جی افسران تک محدود کردی گئیں۔جبکہ گریڈ اکیس کی نشستوں میں بھی 65فیصد کوٹہ ڈی ایم جی افسران کو دے دیا گیا جبکہ پی سی ایس افسران اور صوبائی سیکرٹریٹ سروس کے افسران کوگریڈ اکیس کی سیٹوں میں صرف 35فیصد کوٹہ دیا گیا ۔ اسی طرح اس فارمولے کے تحت گریڈ بیس کی سیٹوں کے لیے ڈی ایم جی افسران کو 60فیصد کوٹہ دیا گیا جبکہ دیگر صوبائی اداروں اور پی سی ایس افسران کو صرف چالیس فیصد کوٹہ دیا گیا ۔گریڈ انیس کی سیٹوں کی پوسٹنگ کے لیے پچاس پچاس فیصد کا کوٹہ مقرر کیا گیا جس میں بھی پی سی ایس افسران کو بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا رہا۔ بات یہیں نہیں رکی اس حوالے سے ایسے قوانین مرتب کیے گئے کہ اس غیر آئینی فارمولے پر بھی عمل درآمد نہ ہوسکے اور تمام بیوروکریسی پر ڈی ایم جی یا پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے افسران کا قبضہ قائم رہے۔اس حوالے سے پی سی ایس افسران کی ترقیوں اور دیگر مراعات کے لیے ٹریننگز اور دیگر پابندیوں کا اطلاق کردیا گیا حتی کہ ایک پی سی ایس افسر کو ترقی پانے کے لیے دہائیاں لگ جاتی ہیں۔صرف یہی نہیں کہ ایک پی سی ایس افسر کو اگلے گریڈ میں ترقی کے لیے کئی کئی سال انتظار کرنا پڑتا ہے بلکہ ان کے لیے دیگر مراعات جو کہ ڈی ایم جی افسران کے لیے گھر کی کھیتی ہوتی ہیں ان سے محروم رکھا جاتا ہے جیسا کہ کسی بھی پی سی ایس افسر کو جی او آر ون میں رہنے کی اجازت نہیں ہوتی تھی بلکہ ان کے لیے پنجاب سول آفیسرز میس بھی شجر ممنوعہ ہوتا تھا۔اب اس سلسلے میں بہت بہتری آئی ہے اور صوبائی سروس کے افسران بھی جی او آر ون اور میس میں نظر آتے ہیں۔مجھے یاد ہے پرویز مسعود صاحب چیف سیکرٹری پنجاب تھے تو ایک دن میں نے ان سے پوچھا سر آپ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ آپ ڈی ایم جی افسران کو بہت پیار (باقی صفحہ5بقیہ نمبر8) کرتے ہیں اچھی پوسٹیں بھی انہی کو دیتے ہیں اس کے مقابلے میں صوبائی افسروں کو غیر اہم پوسٹیں ہی ملتی ہیں کیا یہ زیادتی نہیں آپ چیف سیکرٹری پنجاب ہیں آپ کے لئے تو تمام افسران ایک جیسے ہونے چاہئے۔ انہوں نے کافی کی چسکی لی اور کہنے لگے محسن ،یہ ڈی ایم جی والے میرے بیٹے ہیں میری سروس کے لوگ ہیں یہ اس ملک کے ذہین لوگوں کی کریم ہیں ۔میں ان سے کیوں پیار نہ کروں مگر میں صوبائی سروس کے اچھے افسروں کی بھی قدر کرتا ہوں ساتھ ہی ان کی نظر اپنے آفس سے باہر پڑی تو انہیں صوبائی افسر سردار شیر افگن نظر آئے تو انہوں نے بیل بجا کر نائب قاصد سے کہا شیر افگن باہر نظر آیا ہے اس کو بلاؤ ،سردار شیر افگن اآے تو مجھے کہا ایہ پی سی ایس افسر اے اینوں ڈی سی جھنگ لایا اے ہور اینوں کند نال لا دیواں۔ ،( جاری ہے )


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved