ووٹوں کی عزت کون کریگا؟
  13  فروری‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

سابق نا اہل وزیراعظم میاں نواز شریف نے آزاد کشمیر میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ووٹو ں کو عزت دوگے تو پاکستان ترقی کریگا، ورنہ بیٹھ جائے گا، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ووٹوں کی عزت ،وقار اور پاس تو ان سیاست دانوں کو کرنی چاہئے جوان سے ترقی اور خوشحالی کا وعدہ کرکے اقتدار میں آتے ہیں، لیکن جیسے ہی انہیں اقتدار کی دل لبھانے والی ہوا لگتی ہے تو وہ غریب ونادار عوام یعنی اپنے ووٹروں سے کئے گئے وعدے نہ صرف بھول جاتے ہیں بلکہ ایسا فراموش کرتے ہیں جیسا کہ ان سے کبھی وعدہ ہی نہیں کیا تھا، پاکستان کا یہ المیہ ہے کہ سیاست داں جنکی ذمہ داری اس ملک کو چلانا ہے اسکو مضبوط ومستحکم کرنا ہے، وہ اقتدار پر براجمان ہونے کے بعد اچھی طرز حکمرانی کی نفی کرتے ہوئے صرف اپنا ، اپنے دوستوں اور خاندان کا خیال رکھتے ہیں، انہیں زیادہ خوشحال بنانے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھتے ہیں، بعد میں یہی خوشامدی حکمرانوں کی ہر بات پر ہاں میںہاں ملاتے ہیں، چاہے ملک کو کتنا ہی نقصان پہنچ جائے، سابق نا اہل وزیراعظم کا طریقہ حکمرانی یہی رہا ہے ، انہوںنے اعلیٰ عہدوں پر اپنے خوشامدیوں اور کرپشن کرنے والوں کو فائز کیا تاکہ وہ ان کی پالیسیوں کی حمایت کرتے ہوئے ان کے عوام میں امیج کو خوشنما اور خوبصورت بنانے کی کوشش کریں، ایک شاعر اور کالم نویس عطاالحق اسکی ایک مثال ہے، نواز شریف نے اسکو ناروے میں سفیر بنا کر بھیج دیا جہاں اسکے کرتوتوں کے قصے زدخاص وعام تھے، بعد میں نواز شریف نے اپنے تیسرے دورے اقتدار میں اسکو پی ٹی وی کا چیئر مین بنا دیا اور تنخواہ اتنی زیادہ مقرر کی کہ خود نواز شریف کو اتنی تنخواہ نہیں ملتی تھی، دراصل ایسے لوگوں کے علاوہ اور بھی درباری اسوقت شاہد خاقان عباسی کی حکومت سے چمٹے ہوئے ہیں، اور وہی کام کررہے ہیںیہ وہی لوگ ہیں جنکو نواز شریف اپنے ساتھ لائے تھے۔ دوسری طرف نواز شریف کا نظریہ جمہوریت یہ ہے کہ ان کو دوران اقتدار ان سے کسی قسم کی باز پرس نہ کی جائے، وہ جو کچھ بھی کریں، یہ ان کا حق ہے، جو ووٹروں نے انہیں دیا ہے، حالانکہ پاکستان میں ووٹروں کی اکثریت جاہل، ناخواندہ اور حالات کا احساس وادراک رکھنے سے قاصر ہے، وہ برادریوں میںبٹے ہوئے ہیں، جبکہ ان پر جاگیرداروں ، وڈیروں اور پیروں کا اتنا خوف اور دبدبہ ہے کہ وہ ان کی مرضی کے خلاف کسی کو ووٹ دینے کا سوچ بھی نہیں سکتے ہیں، پاکستان میں اسوقت دس کروڑ عوام غربت وافلاس کی چکی میں پس رہے ہیں، چند روپوں میں ان سے ووٹ لے لیا جاتاہے، اور بعد میں ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا، اور نہ ہی ان کے دلوں میں ان کے لئے کوئی ہمدردی ہوتی ہے ، اسطرح غریب عوام کے ووٹ نواز شریف جیسے لوگوں کو اقتدار تک پہنچا سکتے ہیں لیکن وہ اپنا حق طلب نہیں کرسکتے ہیں چنانچہ ووٹ کی عزت اور وقار کو خود نواز شریف جیسے سیاست داں پامال کرتے ہیں اور جب اعلیٰ عدالتیں ان کی بری طرز حکمرانی پر اعتراض کرتی ہیں ،ان کی ناجائز دولت کے بارے میں پوچھ گچھ کرتی ہیں تو یہ نام نہاد جمہوریت پسند سیاست داں غصے میں آجاتے ہیں، ناراض ہو جاتے ہیں، اور عدلیہ کو اور پاکستان کے دیگر اداروں کو بدنام کرنے کیلئے جاہل عوام کے پاس جاتے ہیں اور ان سے بڑی بے شرمی سے پوچھتے ہیں کہ میر ا قصور کیا تھا، مجھے کیوں فارغ کیا گیا؟ دراصل پاکستان میں موجودہ سماجی وسیاسی نظام میں حقیقی جمہوریت کا تصور محال ہے، جب تک جاگیر داری اور وڈیرہ شاہی جیسا فرسودہ اور استحصالی نظام موجود رہے گا اسوقت تک اقتدار میں دولت مند لوگ جیسے میاں صاحب اور زرداری وقفے وقفے سے اقتدار میں آتے رہیں گے اور عوام کی معاشی وسماجی حالات جوں کے توں رہی گی، غربت اور مفلسی میں مزید اضافہ ہوگا، جیسا کہ ہوا ہے،

اسوقت نواز شریف اعلیٰ عدالت اور اسٹیبلشمنٹ کے خلاف عوام میں جاکر بے سروپا باتیں کررہے ہیں انہیں بد نام کررہے ہیں جبکہ اپنی ناجائز دولت کو چھپانے کے لئے ملک وملت کی عزت ووقار کو دائوں پر لگارہے ہیں، وہ ماضی کے فوجی آمروں کو بھی تنقید کا نشانہ بنارہے ہیں حالانکہ وہ خود ان ہی سابق جرنیلوں کی پیداوار ہیں، ان ہی کی جوتیاں سیدھی کرکے اقتدار کے اعلیٰ منصب پر فائز ہوئے تھے، عوام کی خدمت کرنے کے بجائے ملک کی دولت کو لوٹنا شروع کردیا ، آج ان کے پاس جو کارخانے اور بیرون ملک میں اثاثے ہیں وہ انہوںنے محنت سے نہیں بلکہ سیاسی اثرورسوخ اور کک بیک کے ذریعہ حاصل کئے ہیں، کیا اس شخص کو ووٹوں کی عزت کرنے سے متعلق خیالات زیب دیتے ہیں؟ دراصل نواز شریف عالمی اسٹیبلشمنٹ کا ایک مہرہ بن چکاہے، ان ہی کے ایما پر وہ پاکستان کے مقتدر اداروں کو بد نام کرکے اور ان کو خوش کرکے دوبارہ اقتدار پر براجمان ہونا چاہتا ہے، اگر وہ خود اقتدار حاصل نہ کرسکے توپھر اسکا بھائی شہباز شریف یا پھر مریم نواز ، غریب عوام غریب ہی رہیں گے، یہ عیار سیاست داں ان کا جذباتی استحصال کرکے ووٹ توحاصل کرلیں گے، لیکن نظام کو بدلنے کے لئے ذہن اور دل سے تیار نہیں ہیں کیونکہ یہ انہیں سوٹ کرتاہے؟ ذرا سوچئے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved