آئی ایس پی آر کی دعوت پر شمالی وزیر ستان کا تفصیلی دورہ
  13  فروری‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

جمعہ کو وفاقی دارلحکومت کے سینئر دفاعی صحافیوں نے آئی ایس پی آر کی دعوت پر شمالی وزیر ستان کا تفصیلی دورہ کیا ہے اس موقع پر انہیں پاک افغان بارڈر پر قائم قلعے اور باڑ کی تنصیب کا معائنہ بھی کرایا گیا ۔ٹوچی سکائوٹس کے کماندنٹ اور بعد ازاں اعلیٰ فوجی افسر نے الگ الگ بریفنگ بھی دی ۔ پاک افغان بارڈر کو دہشت گردوں کیلئے ناقابل رسائی اور ناقابل عبور بنانے کیلئے باڑ کی تعمیر سنسنرز ، کیمروں کی تنصیب سمیت انسانی اور الیکٹرانک نگرانی کے نظام کی تکمیل کیلے رات دن کام ہو رہا ہے اور اب تک نصب کی گئی باڑ اور نگرانی کے نظاموں کی بدولت، ملکی تاریخ میں پہلی بار سرحد کے ان حصوں پر غیر قانونی آمدورفت کو مستقل بنیادوں پر رول بیک کردیا گیا ہے اور پاکستان و افغانستان کے درمیان سرحد ،ایک نادیدہ لکیر کے بجائے عملی طور پر وجود میں آ چکی ہے۔ شمالی وزیرستان ایجنسی کا صدر مقم میران شاہ مواصلاتی انفراسٹرکچر، نئی تعمیرات، سکولوں ، باغوں اور یونس خان سٹیدیم کی بدولت ایک جدید شہر کا روپ دھار چکا ے جہاں کثیر المنزلہ پلازے زیر تعمیر ہیں۔اپنے جغرافیائی محل وقوع کی وجہ سے میران شاہ،پکاستان، ایران، افگانستان، وسط ایشیاء اور رس کو باہم منسلک کر کے خشکی کا گوادر ثابت ہو سکتا ہے ۔ مجموعی طور پر شمالی وزیر ستان سمیت پاک افغان بارڈر پر 160کلومیٹر تک باڑ لگا دی گئی ہے۔750بارڈر قلعے اور پوسٹیں تعمیر کی جانی ہیں جن میں سے140مکمل جبکہ15زیر تعمیر ہیں ،جدید مانیٹرنگ سسٹم سے سرحد کے اطراف نقل حمل کا جائزہ لیا جاتا ہے جبکہ باڑ کی تنصیب سے غیر قانونی نقل و حرکت مکمل طور پر ختم کر دی گئی ،شمالی وزیر ستان میں تعلیم ،صحت اور سڑکوں کے درجنوں منصوبے مکمل ہو گئے ۔ ، شمالی وزیر ستان کا علاقہ میران شاہ دہشت گردوں کا گڑھ قرار دیا جاتا تھا ، فوج نے جانوں کی قربانی پیش کرکے اس علاقے کو امن کا گہوارہ بنا دیا ہے ۔ ساڑھے پندرہ ہزار فٹ بلندی تک چیک پوسٹیں تعمیر کی گئیں ،آپریشن ضرب عضب اور ردالفساد کے تحت کاروائیاں کرتے ہوئے دہشت گردوں سے شمالی وزیر ستان کو محفوظ بنا دیا گیا ،یہی وجہ ہے کہ 90فیصد آئی ڈی پیز اپنے گھروں کو واپس ہو چکے ہیں ،ایجنسی میں کوئی نو گو ایریاز نہیں رہا ،مقامی آبادی کی مکمل بحالی کا عمل جاری ہے 284سکولوں میں سے 169شمالی وزیر ستان میں بنائے گئے جبکہ 6آرمی پبلک سکول382واٹر سپلائی سکیمیں ،سٹیٹ آف آرٹ سویٹ ہوم سمیت خواتین کے ووکشینل ٹرنینگ سینٹر تعمیر ہوئے ہیں،پولیو ویکسنیشن سو فیصد تک کی گئی ہے ، میران شاہ کی اسی ہزار میں سے ستر ہزار کی آبادی واپس آ چکی ہے۔ غلام خان کراسنگ پوائنٹ سے جلد ہی تجارت شروع ہو گئی توقع ہے کہ پانچ سو ٹرک روانہ دوطرفہ تجارت میں حصہ لینگے ، میران شاہ معاشی جنکشن ثابت ہو گا ،گوادر سے سینٹرل ایشاء اور پھر ماسکو تک یہ مختصر روٹ ہے بہترین روڈ نیٹ ورک بنایا جا رہا ہے۔ پاک فوج کی کاوشوں سے شمالی وزیرستان کی رونقیں واپس لوٹ آئی ہیں ،سیاحت کو فروغ ملا ،کھیل کے میدان آباد ہو گئے ہیں ،مقامی آبادی کے ساتھ مسلسل رابطہ ہے ۔ آبادی کے ساتھ بدسلوکی کا تاثر غلط ہے جسے دشمن ملکوں کی طرف سے پھیلایا جا رہا ہے۔ مقامی آبادی فوج کی واپسی نہیں چاہتی ۔ تبدیلی کا یہ عالم ہے کہ ووکیشنل تربیت کے سات میں سے پانچ مراکز لڑکیوں کیلئے ہیں اور صرف میران شاہ میں عمدہ معیار کے ساتھ سکول و کالج کام کر رہے ہیں۔ سرحد پر باڑ سے متصل سڑک کی تعمیربھی جاری ہے جس کی بدولت انتہائی دور افتادہ علاقے بھی معاشی اور سماجی ترقی کا لطف اٹھا رہے ہیں۔ جہاں سڑک نہیں وہاں فوجی جوان تعمیراتی سامان کندھوں پر اٹھا کر پہنچا رہے ہیں لیکن تعمیراتی کام میں کوئی خلل نہیں آنے دیا گیا۔ 2611کلومیٹر طویل پاک افغان بارڈر پر باڑ لگانے کا کام تیزی سے جاری ہے ، اس منصوبے پر کل 56 ارب روپے لاگت آئے گی ، اب تک باجوڑ ، مہمند ، خیبر ، شمالیہ وزیر ستان اور جنوبی وزیر ستان کے 160کلومیٹر کے علاقے میں باڑ لگانے کا کام مکمل ہو چکا ہے، باڑ اور قلعوں کی ٹیکنیکل سرویلنس کے اقدامات بھی کیے گئے ہیں ،۔ پورے بارڈر پر نگرانی کے لیے 750بارڈر قلعے اور پوسٹیں تعمیر کی جانی ہیں جن میں سے140مکمل ہیں جبکہ15 اس وقت زیر تعمیر ہیں ، باڑ کی تنصیب سے غیر قانونی نقل و حرکت مکمل طور پر ختم کر دی گئی ہے ، جبکہ یہ کام دسمبر 2019 ء میں مکمل کر نے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے ۔پاکستان بارڈر کی نگرانی کے حوالے سے نہایت سنجیدہ ہے یہی وجہ ہے ہر ڈیڑھ سے تین کلومیٹر کے فاصلے پر ایک قلعہ تعمیر کیا جا رہا ہے جکبہ ان کے درمیان چھوٹی چوکیوں کا قیام اس کے علاوہ ہے ، اس کے مقابلے میں افغانستان میں ان پوسٹوں کی تعداد پاکستان کے مقابلے میں کم ہے ، یہی وجہ ہے کہ اس جانب سے دہشت گرد بارڈر کراس کرنے کے واقعات سامنے آتے ہیں ،آپریشن ضرب عضب اور ردالفساد کے تحت کاروائیاں کرتے ہوئے دہشت گردوں سے شمالی وزیر ستان کو محفوظ بنا دیا گیا بریفنگ میں بتایا گیا کہ پاک افغان بارڈر پر 16 نوٹیفائیڈ روٹس کے علاوہ سینکڑوں ان نوٹیفائیڈ روٹس موجود ہیں ، اب تک 2 نوٹیفائیڈ بارڈر کراسنگ روٹس جو چمن اور تورخم پر واقع ہیں کو بائیومیٹرک شناخت سسٹم سے لیس کر دیا گیا ہے جبکہ دیگر دو روٹس غلام خان اور کارلاچی کو اس سسٹم سے لیس کرنے کا عمل جاری ہے ۔جبکہ باقی روٹس کو بھی وقت کے ساتھ ساتھ تیار کیا جا ئے گا ، اس کے لیے 73 ایف سی ونگز تشکیل دے جا نے ہیں ، جن میں سے 29 ونگز تشکیل دے جا چکے ہیں جبکہ مزید 14 ونگز جلد قائم کر دیے جائیں گئے ہیں ۔

وزیر خارجہ خواجہ آصف نے درست کہا ہے کہ پاک افغان سرحد پر باڑ لگانا پاکستان اور امریکا دونوں کے مفاد میں ہے،افغان مہاجر کیمپوں میں عسکریت پسندی پروان چڑھ رہی ہے، عالمی برادری کو افغانستان واپس لوٹنے والے افراد کیلئے مزید اقدامات اٹھانے چاہئیں، دہشت گردی کے خاتمے کے لیے امریکا کو باڑ کا خرچ ادا کرنا چاہیے،پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کا کام 2019 ء کے آخر تک مکمل ہو جائے گا۔ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ 70 ہزار سے زیادہ افراد روزانہ سرحد پار کرتے ہیں لیکن باڑ لگانے سے سرحد کے آر پار عسکریت پسندوں کی آمدورفت ختم ہو جائے گی۔ پاک افغان سرحد پر باڑ پاکستان اور امریکا دونوں کے مفاد میں ہے اس لیے دہشتگردی کو کم کرنے کے لیے امریکا کو باڑ کا خرچ ادا کرنا چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ برس 6 لاکھ افغان مہاجرین اپنے وطن کو لوٹے جن میں سے ایک بڑی تعداد واپس پاکستان آ چکی ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ افغان مہاجر کیمپوں میں عسکریت پسندی پروان چڑھ رہی ہے، لہذا انٹرنیشنل کمیونٹی کو افغانستان واپس لوٹنے والے افراد کے لیے مزید اقدامات اٹھانے چاہئیں۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 انٹر نیٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضا مینں
loading...

 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved