انسانی حقوق کی کمیٹی اور تحریک بولہبی
  13  فروری‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

متحدہ تحریک ختم نبوتۖ رابطہ کمیٹی سمیت ہر ہوش مند پڑھا لکھا مسلمان سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ہیومن رائٹس میں ناموس رسالت سے متعلق مجوزہ ترمیمی بل کو قانون ناموس رسالت کے خلاف سازش قرار دے کر مسترد کر دیا ہے... صرف علماء کرام یا مذہبی جماعتیں ہی نہیں بلکہ اعلیٰ عدلیہ سے وابستہ رہ کر ریٹائرڈ ہونے والے ''ججز،، بھی سینٹ میں تحفظ ناموس رسالتۖۖ ایکٹ میں تبدیلی کے لئے ترامیم پیش کرنا... ان تجاویز کی حمایت کرنا' آئین پاکستان سے متصادم اور خلاف شریعت قرار دے رہے ہیں۔ متحدہ تحریک ختم نبوت رابطہ کمیٹی پاکستان نے سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ہیومن رائٹس میں توہین رسالت سے متعلق مجاوزہ ترمیمی بل کے مسودے پر کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے اسے مسترد کیا ہے اور کہا ہے کہ اس بل کا اصل مقصد قانون توہین رسالت کی اصلاح نہیں ،بلکہ اصلاح کے نام پر توہین رسالت کے ملزمان اور مجرموں کو بچانا ہے جو کسی طور پر بھی قوم قبول نہیں کرے گی ،متحدہ تحریک ختم نبوت رابطہ کمیٹی کے کنونیر عبداللطیف خالد چیمہ نے اس پر کہا ہے کہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 302 سمیت کم وبیش تمام قوانین صحیح اور غلط طور پر استعمال ہوتے ہیں ،مگر آج تک کسی نے یہ نہیں کہا کہ قتل کی دفعہ 302 کو ختم کردیا جائے ،انہوںنے کہا قرآنی وشرعی سزائوں کے علاوہ آئین پاکستان میں جو سزائیں درج ہیں ،ہمیں ان سب کے حوالے سے عمل درآمد کی طر ف آگے بڑھنا چاہیے تاکہ توہین رسالت کے مرتکبین عبرت کا نشان بنیں اور معاشرے سے جرائم کا خاتمہ ہو ۔ جسٹس (ر) میاں نذیر اختر نے اس حوالے سے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''تمام مسالک کے علماء اس بارے میں متفق ہیں کہ توہین رسالت کے مرتکب شخص کی سزا صرف اور صرف سزائے موت ہے... اس سزا میں کمی کی بات شریعت مطہرہ کے منافی ہے... ان کا کہنا تھا کہ حضور اکرمۖ کی بعثت کے بعد ابولہب لعین کی قیادت میں توہین شان رسالتۖ کے لئے ''بولہبی تحریک'' شروع کی گئی تھی... آج جو سیاست دان یا دوسرے نام نہاد لبرلز اور سیکولرز گستاخوں کو تحفظ دینے کے حامی ہیں... وہ دراصل اسی ''بولہبی'' تحریک کے پیروکار ہیں' اس سے بھی بڑی بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ ان اراکین پارلیمنٹ کی سیاسی جماعتیں اور سیاسی قیادتیں اپنے اراکین کو ایسی گمراہ کن حرکتوں سے روکنے کے لئے بھی تیار نہیں ہیں۔ جسٹس (ر) نذیر اختر کا کہنا تھا کہ اس قسم کی ترامیم منظوری کے لئے پیش کرنا توہین شان رسالت کی بالواسطہ جسارت نبیۖ ہے اور توہین عدالت بھی ... کیونکہ وفاقی شرعی عدالت نے اس حوالے سے 1991ء میں فیصلہ دیا تھا کہ توہین شان رسالت کے جرم کی سزا موت ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر پارلیمنٹ اور ایوان بالا میں بیٹھے ہوئے بعض سیکولر شدت پسند عناصر بار' بار ختم نبوتۖ اور قانون ناموس رسالت پر ہی حملہ آور کیوں ہو رہے ہیں؟ یہ سینٹ کی انسانی حقوق کی کمیٹی کہ جس کی سربراہی ایم کیو ایم کی سینیٹر نسرین جلیل کے پاس ہے... ذرا دل پر ہاتھ کر سوچئے کہ کراچی میں ہزاروں بے گناہ انسانوں کے قتل میں ملوث خونحوار جماعت ایم کیو ایم کا بھلا انسانی حقوق سے کیا تعلق اور واسطہ ہوسکتا ہے؟ پھر سینیٹر ستارہ ایاز نے توہین رسالت کے مجرم کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کرنے کی تجویز پیش کی ہے... اس خاتون سینیٹر کی اپنی اسلامی تعلیم کتنی ہے؟ کیا یہ قومی اسمبلی اور سینٹ کے ایوان اس لئے ہیں کہ یہاں دولت کے بل بوتے پر پہنچنے والے... مسلمانوں کے مفادات کا تحفظ کرنے کی بجائے... یہود و نصاریٰ اور گستاخان رسول کے مفادات کی نگہبانی کریں؟ نسرین جلیل ہو یا سینیٹر ستارہ ایاز آخر یہ ''گستاخوں'' کو سزائے موت سے بچانے کی فکر میں کیوں مبتلا ہیں؟ جن عناصر کو خادم رضوی کا فیض آباد دھرنا برا لگتا تھا' وہ ''عناصر'' اب کہاں مر کھپ گئے ہیں؟ کیا وہ دیکھ نہیں رہے کہ اب سینیٹ کی انسانی حقوق کمیٹی نے قانون توہین رسالت کے قانون کے خلاف بھی سازشیں شروع کر رکھی ہیں... یہی وہ وجوہات ہیں کہ جن کی بناء پر پاکستانی قوم قومی اسمبلی اور سینٹ پر اعتماد کرنے کے لئے تیار نہیں ہے... گستاخ ''شیطانوں'' کے حامیوں نے ہی ایوان بالا سینٹ اور قومی اسمبلی کو اپنے مالی مفادات کی خاطر بے توقیر کر رکھا ہے۔

یہ کہنا کہ قانون توہین رسالتۖ کا غلط استعمال ہوتا ہے... نری جہالت اور خبث باطن کے سوا کچھ نہیں... یہ الزام دھرنے والے سیاہ باطن بتائیں کہ دفعہ 302سمیت باقی کون سا قانون ہے کہ جو پاکستان میں غلط استعمال نہیں ہو رہا ؟ تو پھر سینٹ میں بیٹھی ہوئی کسی نسرین جلیل' کسی ستارہ ایاز' کسی طاہرہ اورنگزیب نے ان قوانین کے غلط استعمال کو روکنے کے لئے کبھی آواز کیوں نہیں اٹھائی؟ سینٹ کے چیئرمین مسٹر رضا ربانی قوم کو جواب دیں کہ اقلیتوں کے حقوق کا ختم نبوتۖ یا ناموس رسالت کے قوانین سے کیا تعلق نکلتا ہے؟ قانون توہین سالت کو چھیڑنے کی گھنائونی کوشش مسلمانوں کے مذہبی عقائد پر حملے کے مترادف ہے... اور اگر سیکولر شدت پسند' ڈالر خور این جی اوز کے ساتھ مل کر مغرب کے اس بھونڈے ایجنڈے کی تکمیل ''سینٹ'' کے راستے سے کرنے کی کوشش کریں گے تو پاکستانی قوم پوری طاقت سے ان سیکولر انتہا پسندوں کا راستہ روکے گی۔ ماتم کرنا چاہیے سینٹ کی نام نہاد انسانی حقوق کی کمیٹی کا... جیسے محسن انسانیتۖ کی ختم نبوتۖ اور ناموسۖ کے ''حقوق'' کی ذرا برابر بھی ادراک نہیں ہے؟ جو گستاخان رسول کو تو سخت سزا سے بچانا چاہتی ہے... مگر آقا و مولیٰۖ کی عزت و ناموس کا حق ادا کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
50%
ٹھیک ہے
50%
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 انٹر نیٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضا مینں
loading...

 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved