فطرت کی تعزیریں!!
  13  فروری‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

٭اہم واقعات۔ سپریم کورٹ بار اور انسانی حقوق کمیشن کی سابقہ چیئرپرسن اور عالمی شہرت یافتہ معروف قانون دان عاصمہ جہانگیر انتقال کر گئیں…فاروق ستار نے پوری رابطہ کمیٹی ختم کر دی، رابطہ کمیٹی نے فاروق ستار کو کنوینر کے عہدہ سے ہٹا دیا…مقبوضہ کشمیر کی اسمبلی میں پاکستان زندہ باد کا نعرہ گونج اٹھا…بھارتی وزیراعظم نے ابوظہبی میں پہلے ہندو مندر کا سنگ بنیاد رکھ دیا، سارا سرمایہ ابوظہبی فراہم کرے گا…آزاد کشمیر میں کنٹرول لائن پر بھارتی فوج کی گولہ باری، ایک گولہ بڑے تعلیمی ادارے پر گرا ایک حصہ تباہ ہو گیا،سینکڑوںبچے بچ گئے…چیف جسٹس کے حکم پر گورنر ہائوس، وزیراعلیٰ ہائوس، آئی جی آفس اور دوسرے مقامات پر حفاظتی رکاوٹیں ختم دی گئیں۔ ٭عاصمہ جہانگیر کا دل کا دورہ پڑنے سے اچانک انتقال تہلکہ خیز ثابت ہوا۔ صدر مملکت، وزیراعظم، چاروں گورنروں، وزرائے اعلیٰ، نوازشریف، شہباز شریف، عمران خاں چودھری شجاعت حسین اور دوسرے سیاسی رہنمائوں کا گہرے صدمہ اور دکھ کا اظہار۔نوازشریف، مریم نواز، سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس، دونوں عدالتوں کے متعدد جج، بار ایسوسی ایشنوں کے صدور بہت سے ممتاز قانون دان اور سماجی رہنما گلبرگ میں عاصمہ کے گھر پہنچ گئے۔ عاصمہ صرف تین دن پہلے سپریم کورٹ میں ایک معاملہ پر قانونی رائے دے رہی تھیں۔ 10 دن پہلے لندن میں قانونی موضوعات پر ایک کانفرنس میں شرکت کی۔ انہوں نے بنیادی انسانی حقوق خاص طور پر غریب ور لاوارث مظلوم عورتوں اور لڑکیوں کی قانونی اور اخلاقی مدد کے لئے طویل جدوجہد کی۔ بے سہارا مظلوم خواتین اور بچیوں کی پناہ کے لئے 'عافیت' نام کا ادارہ قائم کیا۔ ایک بار رشتہ کے تنازع پر ایک لڑکی پناہ لینے کے لئے گلبرگ لاہور میں ان کے قانونی دفتر میں آئی۔ اس کی تلاش میں آنے والے اس کے کچھ لواحقین نے عاصمہ کے دفتر میں اسے گولی مار کرہلاک کر دیا اپنی بچیوں کے اغوا کرنے کی دھمکیوں پر عاصمہ نے انہیں بیرون ملک بھیج دیا۔ عاصمہ کو انسانی حقوق کی پاس داری کی جدوجہد پر بے شمار ملکی اور غیر ملکی ایوارڈ ملے۔ پاکستان کی حکومت نے انہیں ملک کے اعلیٰ ترین ایوارڈ ہلال پاکستان اور ستارہ امتیاز دیئے۔ برطانیہ، فرانس، ناروے اور امریکہ کے اہم اداروں نے بھی اہم ایوارڈ دیئے۔ عاصمہ جہانگیر ملک کی واحد خاتون تھیں جسے امریکہ اور برطانیہ کی چار بڑی یونیورسٹیوں نے ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگریاں دیں۔ عاصمہ خواتین کے حقوق کی جدوجہد میں جلوس نکالنے پر قید بھی ہوئیں۔ سابق چیف جسٹس افتخار چودھری کی بحالی کے لئے نکالے جانے والے جلوس میں پولیس کی لاٹھی سے زخمی ہو کر جیل پہنچ گئیں۔ آج دو بجے دوپہر لاہور کے قذافی سٹیڈیم کے باہر وسیع میدان میں ان کی نماز جنازہ ہو گی۔ یہاں ایک اہم بات کا ذکر ضروری ہے۔ بعض حلقے عاصمہ کے مذہبی عقائد پر اعتراض کرتے رہے ہیں اور انہیں ایک خاص اقلیتی مسلک سے وابستہ قرار دیتے رہے ہیں۔ میں نے خود ایک بار عاصمہ سے اس بارے میں بات کی، اس نے اسے تسلیم کرنے سے انکار کیا۔ میں خاموش ہو گیا۔ آغا شورش کاشمیری عاصمہ کے والد ملک غلام جیلانی کے گہرے دوست تھے۔ یحییٰ خاں کے دور میں مارشل لا کے تحت ملک غلام جیلانی کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔ عاصمہ نے 20 سال کی عمر میں خود یہ مقدمہ لڑا اور جیت لیا اس پر شورش کاشمیری نے عاصمہ کی تعریف میں نظم لکھی جو بہت مشہور ہوئی۔کالم کی تحریر کے وقت پاکستان کی تمام بار کونسلیں اور تمام بار ایسوسی ایشنیں عاصمہ کے انتقال پر سوگ منا رہی ہیں۔ سندھ کی حکومت نے ایک روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ عاصمہ کے چلے جانے سے ملک کی قانونی فضا میں ایک اہم کردار ختم ہوگیا ہے۔ ٭فاروق ستار نے ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی توڑ دی۔ کمیٹی نے فاروق ستار کو کنوینر کے عہدہ سے فارغ کر دیا۔ میرے لئے اس خبر میں حیرت کی کوئی بات نہیں۔ یہ بھان متی کا کنبہ ہے، کہیں کی اینٹ کہیں کا روڑا (صرف قیادت کی بات کر رہا ہوں) اس کنبے کا کوئی قومی نظریہ، کوئی قومی سمت، کوئی نظریاتی تشخیص، کچھ نہیں۔ عمر بھر بھارت کے چہیتے لاڈلے آلہ کار الطاف حسین کے حاشئے پر بیٹھے رہے۔ اس کی ساری بدعنوانیوں، ملک دشمن سرگرمیوں اور عوام پر ظلم و ستم میں شریک کار رہے۔ الطاف بھائی ان کے لئے ہندوئوں کے کسی بڑے دیوتا کی طرح تھا۔ ہر وقت اس کے سامنے سجدہ ریز رہے۔ اس کی ہر خدمت بجا لاتے۔ 30 برس سے زیادہ تک اس کی خدمت گزاری کے بعد اب اچانک عوام دوست بن گئے۔ الطاف حسین نے نشہ کی حالت میں پاکستان کے خلاف بھارت کی مدد مانگ لی اور غدار قرار پایا، تو اس الزام سے جان بچانے کے لئے پاکستان کے خیر خواہ بن گئے۔ اپنے اپنے گروپ بنا لئے۔ اب جانوروں کی طرح آپس میں لڑ رہے ہیں۔ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ میں صرف قیادت کی بات کر رہا ہوں۔ جہاں تک ایم کیوایم کے عام ارکان کا تعلق ہے وہ بہت سب نہایت شائستہ، مہذب محب وطن ہیں۔ قیام پاکستان کے بعد اردو بولنے والے بہت سے اعلیٰ افسروں نے ملک کی نہائت قابل قدر خدمت کی ہے۔ یہ لوگ ایک عرصہ تک الطاف حسین کے ظالمانہ جبر میں دبے رہے۔ اب ان پر دوسرے تیسرے درجے کے 'قائدین' سوار ہونے کی کوشش میں ایک دوسرے کے گلے پڑ رہے ہیں! ٭بھارتی فوج نے آزاد کشمیر میں کنٹرول لائن کے عین سامنے سرحدی علاقہ دھرم باغ میں واقع ماڈرن سٹڈیز کے مشہور تعلیمی انسٹی ٹیوٹ پر گولہ باری کر دی۔ ایک گولہ لگنے سے انسٹی ٹیوٹ کی عمارت کا ایک حصہ مسمار ہو گیا۔ اس کی چھت گرنے سے سارا فرنیچر تباہ ہو گیا۔ انسٹی ٹیوٹ کے پرنسپل محترم محمد الطاف نے فون پر بتایا ہے کہ خیریت گزری کہ جس وقت گولہ گرا اس وقت تقریباً ساڑھے پانچ سو بچے گھروں کو جا چکے تھے وہ کسی خوفناک حادثہ سے بچ گئے! بھارتی فوج اب تعلیمی اداروں کو بھی نشانہ بنانے لگی ہے۔ ہماری طرف سے بار بار منہ توڑ جواب کا ذکر ہوتا ہے، اب واقعی منہ توڑ جواب دینا پڑے گا! ٭سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے حکم پر گورنر ہائوس، وزیراعلیٰ ہائوس، آئی جی پولیس کے صدر دفتر اور دوسرے متعدد سرکاری وغیر سرکاری اداروں کے باہر دور تک سڑکوں پر قائم رکاوٹیں ختم کر دی گئیں۔ بعض مقامات پر تو پوری سڑکیں ہی عوام کی آمدورفت کے لئے بند ہو چکی تھیں۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ مال روڈ پر تو گورنر ہائوس کے باہر تو سڑک کا مختصر حصہ روکا گیا تھا مگر آئی جی پولیس کی حفاظت کے لئے دور تک دو طرف بڑی سڑکوں کا نصف سے زیادہ حصہ اور پوری سروس روڈ روک کر اس پر درجنوں بیریر اور خار دار تار لگا دیئے گئے تھے۔ آئی جی پولیس بہت بڑا، شاید گورنر سے بھی بڑا افسر ہوتا ہے۔ اس کی حفاظت بہت ضروری ہوتی ہے۔ اس سے قبل ہائی کورٹ کے حکم پر وزیراعلیٰ کے صاحبزادے حمزہ شہباز کے مکان کے اردگرد سڑک پربہت سی رکاوٹیں ختم کی گئی ہیں۔ قارئین کرام!کبھی سوچا تھا کہ اِک دور ایسا بھی آنے والا ہے کہ وزیراعظم، وزرائے اعلیٰ، بڑے بڑے پاٹے خاں، پھنے خاں عدالتوں میں پیشیاں بھگت رہے ہوں گے؟ علامہ اقبال فرما چکے ہیں کہ حَذَر اے چہرہ دستاں، سخت ہیں فطرت کی تعزیریں!

٭پنجاب کی حکومت نے تعلیمی سیشن یکم اپریل کی بجائے یکم مارچ سے شروع کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔ یہ اقدام پہلے بھی دو بار ناکام ہو چکا ہے۔ پہلی بار 1989ء میں سخت سردی میں یکم جنوری سے سیشن شروع کیا گیا۔ وزیراعلیٰ غلام حیدر وائیں نے 1991ء میں منسوخ کر دیا۔ اور یکم اپریل سے سیشن شروع کرا دیا۔ پھر 2006ء میں شدید گرمی میں یکم جون سے سیشن کا اعلان ہوا۔ یہ فیصلہ 2009ء میں واپس لینا پڑا۔ اب یکم مارچ کا حکم آ گیا ہے۔ مارچ میں سارے استاد پرائمری، ایلمنٹری اور دوسرے امتحانات میں مصروف ہوتے ہیں اور مدرسے خالی ہو جاتے ہیں۔ فروری میں ویسے بھی سردی میں بچوں کو امتحان دینا پڑے گا۔ حکام کو ایسے فیصلے سینئر اساتدہ کے مشورے سے کرنا چاہئیں۔ فضل دین ایس ایس ٹی ریٹائرڈ۔ ناڑہ، تحصیل جنڈ ضلع اٹک (03145867342)


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved