عدلیہ کو عزت اور وقار دیں
  14  فروری‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

آج کل مسلم لیگ (ن) کے صدر اور سابق وزیراعظم محمد نواز شریف کے جلسوں کا تذکرہ اور چرچا عام ہے۔ ہزاروں کے ان اجتماع کو20 کروڑ آبادی کا نمائندہ اجتماع قرار دے کر نواز شریف کی مقبولیت کے ڈونگرے پیٹے جارہے ہیں اور یہ کہا جارہا ہے کہ میاں صاحب اب پہلے سے زیادہ مضبوط ہوچکے ہیں او ر میاں صاحب بھی اس امید سے ہیں کہ عوام اب انہیں دو تہائی اکثریت دے کر اسمبلی میں بھیجے گی اور پھر وہ اپنی مرضی کی ترامیم کریں گے۔ سینٹ کے 3مارچ کے انتخابات میں بھی انہیں سینٹ کے ایوان میں سادہ اکثریت ملنے کی توقع ہے۔ اسی امید کے ہمارے وہ جی بھر کر اپنی بھڑاس نکال رہے ہیں اور عدلیہ کے ایک ایک جج کو ایسے الفاظ سے یاد کررہے ہیں جو کسی لحاظ سے بھی گالیوں سے کم نہیں۔ جہاں تک عوامی اجتماع کا تعلق ہے تو یہ بات سب جانتے ہیں کہ جلسے جلوسوں میں عوام کو کیسے گھسیٹا جاتا ہے اور ان کو ان جلسہ گاہ تک لانے کے لئے کیسے کیسے جتن کیے جاتے ہیں۔ اگر ہم یہ کہیں کہ پیپلز پارٹی یا نواز لیگ کے جلسوں میں ایک نظریے کے تحت اور اپنے قا ئدین کی محبت میں جمع ہوتے ہیں تو شاید یہ بات درست نہ ہو۔ پنجاب میں پیپلز پارٹی کے ہونے والے جلسوں میں عوامی شرکت کے حوالے سے تو نہیں کہہ سکتے البتہ اس صوبے میں گزشتہ تقریباً ایک دہائی سے حکومت کرنے والی جماعت کے جلسوں کے حوالے سے یہ بات ضرور کہی جاسکتی ہے کہ جلسہ گا ہ تک لوگوں کو لانے کے لئے سرکاری مشینری استعمال کی جاتی ہے۔ پٹواری' تحصیل دار' اسسٹنٹ کمشنرز اور دیگر سرکاری عہدیداروں کے ذریعے غریب عوام کو جلسہ گاہ تک منتقل کیا جاتاہے۔ مفت بسوں کی سہولت اور روزانہ کے اخراجات کی ادائیگی علاوہ ہوتی ہے۔ اگر آزاد کشمیر میں ہزاروں لوگوں کا اجتماع اکٹھا کیا گیا ہے تو وہاں کی حکومت بھی یہی ہے جبکہ پشاور میں ہونے والے شاندار جلسے کے پیچھے کے پی کے گورنر بہت بڑے محرک تھے۔ کیا ان جلسوں سے یہ مراد لی جاسکتی ہے کہ میاں صاحب آئندہ الیکشن میں پشاور میں کلین سویپ کریںگے؟ یا کم از کم شہر سے ایک نشست حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیںگے؟ حالانکہ یہ بات بعید از قیاس ہے ہاں البتہ ان جلسوں اور جلوسوںکی مدد سے نفسیاتی جنگ جیتی جاسکتی ہے۔یہی معاملہ پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ ہے۔ لاہور موچی گیٹ میں حقیقتاً بہت بڑا پاور شو تھا مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ پی پی پی لاہور سے ایک بھی نشست جیتنے میں کامیاب ہو جائے گی۔ البتہ پیپلز پارٹی کو دوبارہ ابھرنے او ر کارکنان میں جوش و جذبہ پیدا کرنے کا حوصلہ پیدا ہوچکا ہے۔ مردہ سمجھی جانے والی جماعت ایک بار پھر زندہ ہوگئی ہے اور اب پنجاب بالخصوص جنوبی پنجاب میں اپنی موجودگی کا احساس دلانے میں کامیاب ہو جائے گی۔ وہ جماعت جس کانام سننا لوگ پسند نہیں کرتے تھے اب لوگوں کے لئے قابل قبول ہوتی جارہی ہے۔ لوگ آہستہ آہستہ اس کے گزشتہ پانچ سالہ اقتدار کی کارکردگی کو فراموش کرتے ہوئے بلال کی قیادت میں نئی پیپلز پارٹی کی تصویر دیکھنے لگے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم صفدر کی دھواں دھار تقریریں اور عدالت عظمیٰ کے پانچ محترم جج صاحبان کی طرف ہتک آمیز رویہ کسی طور بھی ملک کے لئے ٹھیک نہیں۔ عدلیہ کے حوالے سے پی ایم ایل این کا ماضی بھی داغدار ہے کہ جب انہوں نے عدالت عظمیٰ پرحملہ کیا تھا اس طرح جسٹس عبد القیوم کی ٹیپ بھی کئی بار ٹی وی ٹاک شوز میں سنائی جاچکی ہے۔ عوام بھی جان چکے ہیں کہ میاں صاحبان کو ایسے جج صاحبان پسند ہیں کہ جو ان کی مرضی کے فیصلے کریں وگرنہ ان کا حشر ماضی میں بھی کرچکے ہیں اور اب بھی انہوں نے وہی رویہ اپنا رکھا ہے مگر اب کی بار عدلیہ بالخصوص عدالت عظمیٰ کا اس ساری صورتحال میں کردار ماضی سے بالکل مختلف ہے۔ اگر کوئی سیاسی جماعت ا س ادارے کو داغدار کرنے یا بے توقیر کرنے کی کوشش کررہی ہے تو عدلیہ اپنا بھرپور انداز میں دفاع بھی کررہی ہے۔ میاں صاحب اور ان کی صاحبزادی کے علاوہ نواز لیگ کے کارکنان نے بھی عدلیہ پر ایسے ایسے تیر برسانے شرو ع کر دیئے تھے کہ عام آدمی یہ سمجھنے پر مجبور ہوگیاتھا کہ عدلیہ کا رویہ ہمیشہ میاں فیملی کے ساتھ نرم رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ خیال بھی پختہ ہو رہا تھا کہ فیصلے کے بعد اگر ججز کو تنقید کا نشانہ بنایا جائے تو بااثر لوگوں کے لئے تو جائز ہے مگر عام شہری رگڑے جائیں گے۔

نہال ہاشمی ' طلال چوہدری' دانیال عزیز کو عدلیہ کی طرف سے توہین عدالت کے نوٹس جاری ہوچکے ہیں۔ نہال ہاشمی توہین عدالت میں سزا پاچکے ہیں جبکہ دیگر ''یعنی طلال چوہدری اور دانیال عزیز کو بالترتیب ایک ہفتہ اور دس روز جواب داخل کرانے کی مہلت دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ لوہے کے چنے کا دعویٰ کرنے والے ریلویز کے وزیر بھی اسی انتظار میں ہیں کہ کب انہیں توہین عدالت کا نوٹس ملتا ہے جبکہ ان کے علاوہ بھی اور بہت سوں کے نام ہیں۔ اگر عدالت نوٹس نہ لیتی تو ایسی ریت چل پڑتی کہ جس میں عدلیہ کا بے وقار ہونا ثابت تھا۔ ہر شخص اپنی اپنی بولی بولتا' میڈیا پر تابڑ توڑ حملوں کاسلسلہ دراز ہو جاتا۔ اب بھی اگر عدلیہ کی طرف سے معافی تلافی کا سلسلہ چل گیا تو پھر بھی یہ اچھی مثال نہ ہوگی۔ بہرحال یہ بات ثابت ہے کہ پانچ دس ہزار کے مجمع سے مجھے کیوں نکالا کا جواب نہیں لیا جاسکتا ہے اور نہ ہی عوام عدلیہ کا متبادل ہوسکتی ہے۔ عدلیہ اگر تباہ اور برباد ہو جائے تو جیسا کہ کوشش کی جارہی ہے تو پورا معاشرہ برباد ہو جائے گا۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved