قومی خزانہ،غنیم اور سیکولر دانشور!
  14  فروری‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

قومی خزانہ مالِ غنیمت ہے، یہ ہر بار ہر کسی کے ہاتھ کب آتا ہے۔؟ شاطر ہونا کسی ایک پر بس نہیں،کوئی بھی یہ طرہء امتیاز سر پر سجا سکتا ہے،ان دنوں یہ اعزاز بعض صحافیوں کو حاصل ہے کہ وہ اس امتیازی وصف سے خوب استفادہ کررہے ہیں ، کسی کے عیبوں کی پردہ پوشی کرنا اچھی بات ہے ،مگر جرائم سے چشم پوشی بری بات ہے ۔ معاصر اخبار کے ایک صاحبِ اسلوب لکھاری نے اپنے جریدے کے ایک کالم نویس کو عہد حاضر کا پابلونرودا قرار دیا ،یہ موصوف کی علمی دسترس اور ذہنی اُپج کا آئینہ دار ہے ،جس پر اعتراض عبث ہے،جو بات محلِ نظر ہے ،وہ یہ کہ انہوں نے اپنے ممدوح کی مالی بے اعتدالیوں کا جواب استغاثہ خوب گھڑا ہے کہ حیرت بھی حیرت زدہ رہ گئی ہو گی،مجھے اس مقدّمہ سے کچھ غرض نہیں ،نہ ان ستائیس کروڑ سے جو ایک نادارو مستحق دانشور و ادیب کی جیب میں گئے وہ تو ان کے محبوب حکمرانوں کے ہاتھ کی میل برابر بھی نہیں،مجھے اس سے واسطہ ہی کیا ہے یہ نیب کا مسئلہ ہے یا پھر عدالت عظمیٰ کا جسے ان صاحبِ اسرار نے صاحب اولاد ہونے کی دعا دی تھی،ان کی واردات کا خاص طریقہ کار ہے ،جس پر انہیں ہمیشہ فخر رہا ہے ،یہ بھی بین السطورقصیدہ تھا جو ''روزنِ دیوار''سے پھونکا گیا،ویسے اگر ''تیشئہ نظر'' والے ایک غنیم کے وکالت نامے پر دستخط کرنے کا تردد نہ بھی کرتے تو وہ اپنے خاص فن قصیدہ نگاری سے الٹے کو سیدھا خود ہی کر لیتے۔ اس سے میری پہلی ملاقات عرب امارات کی ریاست ابو ظہبی میں مقیم بزرگ شاعر ع،س مسلم کے گھر پر ہوئی تھی،موصوف کے بارے مجھے یہ معلوم تھا کہ وہ مولانا بہائوالحق قاسمی کا بیٹا ہے جو علمائے دیو بند میں معززمقام رکھتے تھے،میرے لئے حیران کن بات یہ تھی کہ اس محفل میں اس نے بڑی دیدہ دلیری سے شراب کی حرمت سے متعلق قرآن کے حکم کا مذاق اڑایا،محفل میں موجود اوریا مقبول جان ،روایتی مداہنت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ،مسکراتے رہ گئے ،جبکہ مسلم صاحب نے میزبان ہونے کے ناطے خاموشی میں عافیت گردانی، موصوف کے اس سیکولر مزاج بارے ان کے دینی خانوادے کے حوالے سے امیر جماعت اسلامی سید منور حسن نے بھی انہیں ایک خط لکھا، جس میں موصوف سے استفسار کرتے ہوئے (سیدمنور حسن )لکھتے ہیں ''آپ سے فون پر بات ہوئی آپ نے موسیقی کا ذکر کیا اس پر جعفر شاہ پھلواری کی کتاب (اسلام اور موسیقی)کا حوالہ دیا ،میں اس پر کچھ نہیں کہتا صرف اتنا عرض ہے کہ آپ نے یہ کتاب ہی اس کی روح کے مطابق سمجھ لی ہوتی ،میرا خیال ہے آپ کے والد گرامی بہائوالحق قاسمی کے زمانے میں یہ چھپ چکی تھی ان ہی سے رہنمائی حاصل کر لی ہوتی،آپ گھر گھر مجرے کرا کر اسلام کی خدمت کرنا چاہتے ہیں ،اس وقت موسیقی اور فنون لطیفہ کے نام پر جو غول غپاڑہ مچا ہوا ہے یہ صرف اسلام کے نام پر ہی نہیں ،خود تہذیب و ثقافت کے نام پر بھی ایک دھبہ ہے،معاشرے کوایک بدیسی ایجنڈے کے تحت زہر پلایا جا رہا ہے اور آپ مجھے اس ثقافتی یلغار پر صاد کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں '' یہ ذکر تھا ان موصوف کا جن کے دامن پر ستائیس کروڑ ڈکارنے کا دھبہ لگا ہے،اب ذراموصوف کے فرزند ارجمند کے سیکولر ہونے کا حال دیکھئے کہ اس نے کسطرح اسلام سے اکتاہٹ اوربانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے کردار کو مسخ کرنے کی کوشش کی ہے ،اپنے کالم '' مولوی محمد علی جناح'' میں مختلف کتب کے حوالوں سے یہ ثابت کرنے کی سعی کی کہ قائد اعظم کسی طور ایک اسلامی مملکت کی بنیاد رکھنے کے قائل نہ تھے،لکھتے ہیں'' جن صاحب کو ہم قائد اعظم کے نام سے جانتے ہیں ،انہوں نے لنکن اِن میں محمد علی جناح کے نا م سے داخلہ لیاتا ہم بعد ازاں درخواست لکھ کر اپنا نام تبدیل کرکے فقط''جناح''رکھ لیا،ایک زمانے میں اسی جناح نے لندن میں شیکسپیئر تھیٹر میں سٹیج فنکار کی ملازمت کی،ان کے والد نے انہیں خط لکھا ''خاندان سے غداری مت کرو،اس خط کے بعد انہوں نے ملازمت ترک کر دی ۔ ٨١٩١ء میں قائد اعظم کی شادی سر ڈنشا کی بیٹی رتی سے ہوئی ،جو لو میرج تھی اور رتی اور قائد اعظم کے والدین کی مرضی کے بغیر ہوئی،قائد اعظم نے مسلمانوں کی مخالفت کے باوجود اپنی ہمشیرہ فاطمہ جناح کو ممبئی کے مخلوط تعلیمی ادارے کانونیٹ داخل کر دیا ،مولوی محمد علی جناح کمال اتاترک کو آئیڈیلائز کرتے تھے جو مکمل طور پر سیکولر اور لبرل تھا،اتاترک کے انتقال پر قائد اعظم نے مسلم لیگ کیحامیوں کو یومِ افسوس منانے کی کال دی،مولوی جناح نے ٧ فروری ٥٣٩١ء میں سینٹرل لیجلسٹیو اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا''مذہب کو سیاست میں شامل نہیں کرنا چاہئے،مذہب کا معاملہ خدا اور انسان کے درمیان ہے'' پاکستان کی پہلی کابینہ کا ایک وزیر بھی مذہبی رہنما نہ تھا،مولوی جناح نے مذہبی وزارت تک قائم نہ کی،ان کے دونوں ملٹری سیکرٹری انگریز تھے،٧٤٩١ء میں قائد اعظم نے آل انڈیا مسلم لیگ کی ورکنگ کمیٹی کے لئے جو ٤٢ سیاستدان نامزد کئے،ان میں ایک بھی مذہبی شخصیت شامل نہ تھی،قائد اعظم کے دور حکومت میں کابینہ کے اجلاسوںکا آغاز تلاوت سے نہیں کیا جاتا تھا،جنوری ٨٤٩١ء میں گاندھی قتل ہوئے تو قائد اعظم گورنر جنرل پاکستان نے گاندھی کے سوگ میں سرکاری تعطیل کا اعلان کردیا ،مولوی جناح نے گورنر جنرل کا منصب سنبھالنے کے بعد کسی مسجد یا مزار پر حاضری دینے کی بجائے ٧١ اگست٧٤٩١ء کو کراچی کے ہولی ٹرینیٹی چرچ کا دورہ کر کے غیر مسلموں کو یقین دلایا کہ وہ پاکستان کے برابرکے شہری تصور کئے جائینگے''

قومی خزانے کو ستائیس کروڑ کا ٹیکہ لگانے والے صاحب کا باپ ہی کی طرح سیکولر مزاج بیٹا اپنے کالم کا اختتام اس طویل جملے پر کرتا ہے کہ ''یہ تمام باتیں اپنی جگہ مگر نہ جانے کیا بات ہے کہ میں سنجیدگی سے سوچ رہا ہوں کہ قائداعظم کا پورٹریٹ تبدیل کرکے اس کی جگہ ''مولوی محمد علی جناح '' کا پورٹریٹ آویزاں کرلوں ،میری حرکت سے قائد کی روح یقینا خوش ہوگی۔'' بانی پاکستان ہرزہ سرائیوں کے سارے حوالے جمع کر کے قومی خزانے کے غنیم کے بیٹے نے کس کی خدمت کی ہے ،یہ آپ سوچیں میں تو اس حیرت سے نہیںنکل سک رہا کہ مفتی غلام مصطفیٰ کا پوتا اور مولانا بہائوالحق کا بیٹا دین سے کتنا اکتایا ہوا تھا،کہ اس نفرت میں اس نے دین اسلام کے نام پر قائم ہونے والے ملک کے خزانے کو مال غنیمت سمجھا۔۔!


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved