پاک چین اشتراک....ناقابل تسخیرسفر
  14  فروری‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

(گزشتہ سے پیوستہ) Institute of International Affairs at Nanjing University کے ڈین زین فینگ کے مطابق بیلٹ اینڈ روڈ کیلئے سب سے گھمبیر مسئلہ امن و امان کا ہی ہے۔معاشی صورتحال کو دیکھاجائے تویہ سوال بہت سے پہلو سامنے لاتا ہے۔ اتنے بڑے منصوبے کی ابتدا کیسے کی جاسکتی ہے؟ قورغاس سے مغربی ممالک تک مصنوعات بذریعہ مال بردارٹرین پہنچانے پر اخراجات سمندری راستے سے تین گنا زیادہ ہیں۔ جس میں دگنی کاربن ڈائی آکسائیڈ فضا میں تحلیل ہو گی، جب کہ اس میں وقت کی بچت ضرور ہو رہی ہے۔ چینی فیکٹریوں سے مغربی ممالک تک جوسفر سمندری راستے سے ٥٣دن کا تھا وہ اب ٨١دن کاہوگا۔ کچھ مصنوعات مہنگے کرائے کے باوجود کم وقت میں پہنچنے پر فائدے میں رہیں گی۔ کھانے پینے کی اشیا اور ادویات تو ہوائی جہاز کے ذریعے جاتی ہیں، کیوں کہ ان کے خراب ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ جبکہ الیکٹرانکس اور گھریلو استعمال کی چیزوں کو بھیجنے کیلئے سستے ترین وسائل دیکھے جاتے ہیں تاکہ منافع کی شرح زیادہ رہے۔ مجموعی معاملات میں چین کپڑے، الیکٹرانکس اور تعمیرات کا سامان قورغاس سے مغربی ممالک کو بھیج رہا ہے، مگر Guo کہتا ہے کہ یہ سامان لے کرجانے والا واپسی پر بالکل خالی ہاتھ آرہا ہے۔ مغرب کی طرف یہ سفر اخراجات کے حوالے سے کسی طور بھی مناسب نہیں، ادھر وسط ایشیائی ریاستوں کی معیشت اتنی مضبوط نہیں۔ قورغاس کے فر ی ٹریڈززون میں قازقستان سے محض دس فیصد کے قریب کاروباری لوگ آرہے ہیں۔ جبکہ چینی (mink furs)کپڑے کی ایک قسم) جارجیا کی سرخ شراب اور سائبیریا کا شہد زیادہ خریدتے ہیں۔ قازقستانی rust-bucket(ایک قسم کی مشینی گیم)چھوٹی بسوں کی clutch-ing plastic chairs، سستے بستر، اور )counterfeit sneakersدھوکا اور فراڈ (کرنے میں استعمال ہونے والے آلات) کی خریداری کیلئے قطاردرقطار آرہے ہوتے ہیں۔ )فری ٹریڈزون(کی ایک دکان کے ایک منیجر کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس نوے فیصد گاہک چینی ہیں۔ چینی صدر کی بیلٹ اینڈروڈ کو ذاتی سرپرستی میں لیے جانے پربہت سے ایسے منصوبے بھی تکمیل کی طرف گامزن ہیں جن پر بہت سے سوالات موجود تھے۔ مثال کے طور پر ایک ٹرین کی پٹڑی جو لاس )ایک ملک جو چاروں طرف سے زمین سے گھرا ہوا ہے)کے ذریعے بچھائی جارہی ہے، ٧/ارب امریکی ڈالر سے تیارہوگی،جو کہ چین کی آدھی آبادی کے GDP کے برابر ہے۔ اس منصوبے کو70فیصد سرمایہ کاری چین دے رہا ہے۔ جب کہ باقی٠٣ فیصد لاؤس کی حکومت اداکررہی ہے۔ وہ بھی ایک طرح سے چین ہی اداکررہا ہے کئی ایسے ممالک جو اس بیلٹ اینڈ روڈ کے کنارے پر واقع ہیں، وہاں تھوڑا سا لگایا گیا سرمایہ بھی ان لوگوں کی زندگی میں بہت بڑی تبدیلی لاسکتا ہے۔ اب تک جو کچھ لکھا گیا ہے اس سے بجز، نئی شاہراہ ریشم جغرافیائی سیاست کی ایک ابتدائی چال ہے۔ Hambantota بندرگاہ جو سری لنکا کے جنوب میں ٠١٠٢ء میں تعمیرکی گئی اور جس کا سارا سرمایہ چین نے فراہم کیا، پہلے دن سے کام شروع کرچکی ہے۔اس سال جولائی میں سری لنکن حکومت نے اس کے٠٧فیصد حصص چین کی ایک کمپنی، جو سری لنکا کی جانب سے اس کو چلارہی تھی، کو١.١/ ارب ڈالر میں فروخت کردیے تھے۔ مگر بھارت اس معاملے پر تشویش میں مبتلا ہے۔ اس کے خیال میں یہ بندرگاہ کسی جنگی مقصد کیلئے استعمال ہوسکتی ہے۔ دوسری جانب سی پیک بھی پاکستان اور چین کو ایک دوسرے کے قریب کررہا ہے۔ جس سے چینی صوبے Xinjiangتک انتہا پسندوں کی رسائی مزید مشکل ہوگی۔ اس کا ایک اور مقصد بھی تھا کہ دنیا کو دکھادیا جائے کہ چین واقعی کسی Multilateral Development Bankکو بین الاقوامی معیار کے مطابق چلا بھی سکتا ہے۔ آنے والے وقت میں جب دنیا کو دیے جانے والے احکامات کے مرکز بدل رہے ہیں، اور امریکا کی اس مہم جس میں وہ اقوام کو اس منصوبے کا حصہ بننے سے روک رہا ہے،کچھ کے شامل نہ ہونے کے باوجود اس کے اپنے قریب ترین حواری یعنی آسٹریلیا اور برطانیہ بھی اس میں شامل ہو چکے ہیں۔ چین نے جس وقت یہ خیال دنیا کے سامنے پیش کیا، اس وقت کچھ غیرتسلی بخش پہلو موجود تھے۔ مگر AIIB کے صدر Jin Liqunنے TIMEکو اپنے بیجنگ کے دفتر میں بتایا کہ غیرتسلی بخش پہلو تسلی بخش کیے جاسکتے ہیں۔ اور یہ وقت ہے کہ لوگوں کو اس تصور کی تعریف کرنی چاہیے۔ امریکا ابھی تک اس حقیقت کو جھٹلا رہا ہے کہ یہ بیلٹ اینڈروڈ کس قدر اہمیت کا حامل ہے۔ جون میں اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے یہ تبصرہ کیا کہ چین کے باقی علاقوں کی نسبت اس آزاد تجارتی علاقے(فری ٹریڈزون)میں تھوڑی سی آزادی زیادہ ہوگی۔ اس سے زیادہ اس کا کچھ فائدہ نہیں اور امریکا نے ایک کمتر درجے کا وفد بھی مئی میں ہونے والے ایک فورم میں بھیجا، جو بیجنگ میں منعقد ہوا۔ اس سے اگلے ماہ جون میں چینی میڈیا نے یہ خبردی کہ امریکی صدر ٹرمپ نے بیجنگ کے ایک اعلی افسر سے کہا کہ وہ اس پراجیکٹ میں تعاون کرنے کو تیار ہے مگر وہائٹ ہاس نے ایسی کسی بھی خبر کی تردید کی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ نئی شاہراہِ ریشم چین کے خطے میں بڑھتے ہوئے سیاسی اثررسوخ کی ایک تازہ مثال ہے جبکہ دوسری جانب بے مقصدلڑائیوں، اور شخصیات سے مڈ بھیڑ نے امریکی خارجہ پالیسی کو مربوط کرنے میں کافی نقصان پہنچایا ہے۔ باوجود اس کے کہ چین دنیا میں سب سے زیادہ آلودگی پھیلا رہا ہے، وہ فری ٹریڈ کا اس وقت کا فاتح بنا ہوا ہے اور باوجود اس کے کہ چین نے اپنی معیشت کو ایک خوبصورت بیوروکریسی کی شکل میں بڑا دیدہ زیب شکل میں رکھا ہوا ہے، ایک طاقتور اسٹیٹ کی شکل میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں بھی شامل ہے،ان سب کے باوجود چین نے ان منصوبوں کو ایک مبہم مگر جاذب، باہمی تعاون اور انسان دوست شکل میں پیش کر کے اپنے آپ کو ایک فلاحی راہنما ثابت کرنے میں بہت حد تک کامیابی حاصل کی ہے۔قورغاس اس وقت کسی صحرا کا نہیں بلکہ تعمیرات اور صنعت کے ایک مرکز کی تصویر کشی کررہا ہے۔ Guoکہتا ہے، ہمارا اگلا قدم اپنی صلاحیتوں کو ذرائع آمدورفت میں مزید بہتری، معلومات کا بہترین نظام وضع کرنے، معاشی اصلاحات کے ساتھ ساتھ سیاحت اور ہوائی اڈے کی تعمیر بھی ہے۔ اس سے چھوٹے شہروں اور قصبوں، جو قورغاس کے مشرق و مغرب میں واقع ہیں، کے خوابوں کی تکمیل ہوگی اور سیاحت فروغ پائے گی۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved