غیر متحدہ قومی موومنٹ
  14  فروری‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

70 کی دہائی کے اوّلین سالوں میں کراچی یونیورسٹی کے شعبہ فارمیسی میں ایک نوجوان کا شہرہ ہوا۔ وہ ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتا تھا، لیاقت آباد سے سائیکل پر یونیورسٹی آتا جاتا تھا، طلبہ کی یونین میں آہستہ آہستہ اس کی شعلہ بیانی کے چرچے ہوئے، رفتہ رفتہ وہ ایک اہم اور مقبول طالب علم لیڈر کے طور پر سامنے آتا گیا۔ سائیکل،50 CC کی موٹرسائیکل میں تبدیل ہوگئی، سفید کرتا پاجامہ اور کالے رنگ کی ویسٹ کوٹ اس کا اور اس کے ساتھیوں کا طُرّہ امتیاز ٹہرا۔ اس طالب علم کا نام الطاف حسین تھا۔ 70 کی دہائی پاکستان کیلئے انتہائی اہم تھی، دسمبر71 میں سقوط ڈھاکہ کے سانحے نے عوام پر مایوسی اور سراسیمگی کے پہاڑ توڑ دئیے تھے،ذو الفقار علی بھٹّو کا'' ادھر تم اُدھر ہم'' کا نعرہ حقیقت کا روپ دھار چکا تھا اور وہ وزارت عظمی کے ساتھ سویلین ایڈمنسٹریٹر بن گئے تھے۔ ان کے''Talented '' کزن ممتاز بھٹّو سندھ کے وزیر اعلیٰ بنے، انھوں نے سندھی زبان کو حکومتی زبان قرار دیکر اسے دفتروں میں رائج کرنے کا اعلان کیا۔ وزیر اعظم بھٹو نے دیہاتی اور شہری طلباء کیلئے کوٹہ سسٹم رائج کردیا جس سے شہری علاقوں میں بے چینی پھیلی اس عرصے میں الطاف حسین کی قائم کردہ مہاجر قومی موومنٹ کوحکومت کی نا عاقبت اندیشی کی بدولت مسلسل مقبولیت مل رہی تھی۔ اسی دوران کراچی میں ممتاز بھٹّو کی حکومت میں ہی نسلی فسادات پھوٹ پڑے۔'' شہر'' کی لاشوں پر قدم رکھتے ہوئے الطاف حسین کا سیاسی قد اونچا ہوتا گیا اور ان کا مزاج ڈکٹیٹر شپ میں تبدیل ہوگیا۔ فنِ تقریر کو انھوں نے ایک نیا اسلوب دیا اور ان کی ایک جنبشِ ابرو سے لوگوں کی تقدیر بدلنے لگی، غیر مرئی طاقتوں نے ان کی سیاسی طاقت میں بے تحاشہ اضافہ کیا اور ان کو سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی کے مقابلے میں لاکھڑا کیا۔ انتخابات میں انھوں نے کراچی کو مکمل طور سے پی پی پی اور مذہبی جماعتوں کے ہاتھوں سے چھین لیا۔ ساتھ ہی حیدرآباد،میرپور خاص اور سکھر تک اردو دان طبقہ ان کی بدولت اسمبلی میں پہنچ گیا۔ پھر وہی ہوا جو سیاست میں مطلق العنان لیڈروں کے ساتھ ہوتاآیا ہے، ان کی شخصیت کا منفی پہلو کئی سال پہلے اس وقت ہی سامنے آگیا تھا جب انھوں نے قائد اعظم کے مقبرے کے سامنے قومی پرچم نذر آتش کیا۔ ان کی سوچ اس مقام پر پہنچ گئی جہاں ڈکٹیٹر قیادت میں نیچے سے اوپر آنے والے کو برداشت نہیں کرتی۔ اپنے ہی ساتھیوں کو منظر سے ہٹانے کا سلسلہ چلتارہا۔ قتل کے الزام لگے اور پھر ایم کیو ایم بھتّہ خوری، ٹارگٹ کلنگ اور جسمانی اذیت پسندی کی علامت بن گئی۔ سندھ کے شہروں میں بالعموم اور کراچی میں بالخصوص امن وامان غارت ہوگیا۔ آخر کار فوجی اور نیم فوجی آپریشن ناگزیر ہوگیااور الطاف حسین جو اب قائد تحریک کہلاتے تھے ملک سے فرار ہوگئے اور برطانیہ میں پہلے سیاسی پناہ اور پھر برطانوی شہریت حاصل کرلی۔ سب سے زیادہ افسوس ناک بات یہ ہوئی کہ وہ رفتہ رفتہ مملکت پاکستان کے دشمن بن گئے مگر ملک میں ان کے چھوڑے ہوئے ان کے ساتھی ان کے سحر میں یا ان کے خوف میں اس قدر مبتلا تھے کہ لندن میں بھی انھوں نے اپنے قائد کی آرام دہ زندگی کو قائم ودائم رکھا، مگر ان کی پاکستان کیخلاف ریشہ دوانیاں اس قدر بڑھ گئیں کہ آخر کار ملک میں ان کی تقریروں پر پابندی لگ گئی، یہاں تک کے وہYoutube سے بھی خارج کردئیے گئے، آخر کار ان کے معتقدین نے ان سے لاتعلقی کا اعلان کردیا اور فاروق ستار نے ایم کیو ایم پاکستان کے نام سے متحدہ قومی موومنٹ کو پاکستان میں زندہ رکھنے کی کوشش شروع کی جو اس وقت ایک حادثے کا شکار ہوگئی جب مصطفی کمال اور انیس قائم خانی نے ایم کیو ایم کے کارکنوں کے ساتھ اپنی الگ سیاسی پارٹی بنالی اور رضا ہارون کے علاوہ کئی لیڈر ان سے آن ملے۔ ڈکٹیٹر شپ خواہ وہ کسی ملک میں ہو یا سیاسی پارٹی میں نہ صرف یہ کہ ہمیشہ قائم نہیں رہتی بلکہ ڈکٹیٹر کے منظر سے ہٹنے کے بعد ایساخلاء چھوڑ جاتی ہے جہاں کوئی ایسا شخص نہیں ہوتا جس میں لیڈر شپ کی صفات بدرجہ اتم موجود ہوں کیوں کہ ڈکٹیٹر کسی کو بھی نچلی سطح سے اوپر اٹھنے ہی نہیں دیتا بالکل ایسے ہی جیسے تناور درخت کے گھنے سائے میں اگنے والے پودے کبھی بھی درخت نہیں بن پاتے۔ یہی کچھ ایم کیو ایم کے ساتھ ہوا، الطاف حسین کے منظر سے ہٹنے کے بعد بہت سارے لیڈروں نے قائد بننے کی کوشش ہی نہیں کی بلکہ کسی دوسرے کو بھی قائد نہ بننے دینے کا تہیّہ کرلیا۔ فاروق ستار سب سے سینیئر ہونے کے باعث کنوینز بنے تو انھوں نے پارٹی کا ایسا دستور بنایا جہاں پوری پارٹی ان کی شخصیت کے گرد گھومے۔ رابطہ کمیٹی میں بے چینی پھیلتی رہی اور دھماکہ اس وقت ہوا جب ایک نئے آمدہ کامران ٹیسوری کونہ صرف ڈپٹی کنوینز بنادیا گیا بلکہ سینیٹ کی سیٹوں کے انتخاب کیلئے فاروق ستار نے کسی کو بھی اعتماد میں لئے بغیر ان کو سینیٹ کا ٹکٹ بھی دے دیا جو کہ اُن کے جونیئر ہونے کے سبب کسی طرح بھی ان کو نہیں ملنا چاہئے تھا۔ جب فاروق ستار یہ کہتے ہیں کہ بطور کنوینز وہ ٹکٹ تقسیم کرنے کیلئے واحد مجاز ہیں تو وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ ان کا سیاسی قد الطاف حسین، ذو الفقاربھٹو، بینظیر بھٹو، نواز شریف اور عمران خان کے برابر نہیں جبکہ یہ لوگ بھی انتخابی ٹکٹوں کی تقسیم کے موقع پر کم از کم اپنے قریبی رفقاء کو ضرور اعتماد میں لیتے رہے ہیں۔

اب صورتحال یہ ہے کہ عامر خان، کنور نوید، ڈاکٹرخالد مقبول صدیقی، وسیم اختر وغیرہ بہادرآباد میں قائم پارٹی آفس میں ہیں اور کم از کم ایک بار فاروق ستار کو پارٹی سے نکالنے کی کوشش کرچکے ہیں، دوسری طرف فاروق ستار پیر الہیٰ بخش کالونی میں اپنے گھر میں قلعہ بند ہیں اور کامران ٹیسوری اور شاہد پاشا اُن کے ساتھ ہیں پی آئی بی والے عامر خان اور کچھ اور ساتھیوں کو نکالنے کے چکر میں ہیں اور بہادر آباد والے فاروق ستار کے ساتھیوں سے چھٹکارا حاصل کرنے کی تدبیریں کررہے ہیں۔ دونوں مقامات سے سینیٹ کی سیٹ کے امیدواروں کے نام جمع کرادیے گئے ہیں۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ اس تمام دھما چوکڑی کا سب سے زیادہ فائدہ پیپلز پارٹی کو ہوگا نہ صرف سینیٹ کے انتخابات میں بلکہ اگر یہ صورتحال جاری رہی تو عام انتخابات میں بھی۔ سندھ اسمبلی میں تحریک انصاف کی بھی تین نشستیں ہیں اور ان کے بھی وارے نیارے ہوں گے۔ ایم کیو ایم اگر اس وقت سنبھل بھی گئی تو اس میں اتنی دراڑیں پڑ چکی ہیں کہ وہ پارٹی میں مزید دھڑے بندی کا سبب بنتی رہیں گی۔ اُردو بولنے والوں کی لوئر مڈل کلاس اور مڈل کلاس اب کراچی اور حیدرآباد پر حکومت نہیں کرسکے گی۔ پریشانی کی بات یہ ہے کہ اس خلاء کو جزوی طور سے مذہبی سیاسی جماعتیں پُر کرنے کی کوشش کریں گی اور ان شہروں میں فرقہ پرستی کا ناگ سر اُٹھاسکتا ہے، فی الحال اس آنسو بھرے ڈرامے سے دل بہلائیے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved