نقل سے انکار
  14  فروری‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

بھتہ مافیا کی طرح ''نقل'' مافیاء بھی کراچی اور سندھ والوں کے لئے ایک بڑا مسئلہ ہے...بھتہ مافیاء کی وجہ سے تو شریف شہریوں کا مال عیر محفوظ ہوتا ہے۔ لیکن نقل مافیا کی وجہ سے ہزاروں بچوں کا مستقبل تاریک ہو جاتا ہے... جب ڈگری ہی مشکوک ہو جائے گی تو پھر تعلیمی اداروں پر اعتماد کون کرے گا؟ کراچی کے دوسرے حصوں کی طرح بن قاسم ٹائون میں بھی یہ ٹرینڈ تھا کہ پرائیویٹ سکولز اور گورنمنٹ اسکولز کے سربراہان... اس بات پر فخر محسوس کرتے تھے کہ ان کے میٹرک بورڈ میں تعلقات ہیں۔ وہ اپنی مرضی سے امتحانی سنٹر تبدیل کرواسکتے ہیں... پیپرز کے نمبر بڑھوا سکتے ہیں اور امتحانی سینٹرز میں نقل کرنے کے لئے اسپیشل رولز بھی بنوا سکتے ہیں۔ الحدید پرائیویٹ اسکولز مینجمنٹ ایسوسی ایشن کے نائب صدر عمیر شاہد بتا رہے تھے کہ نقل مافیا کے ہاتھوں معصوم بچوں کا مستقبل تباہ ہوتے دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا تھا... صورتحال اس حد تک بگڑی ہوئی تھی کہ نقل مافیاء کے ڈان ... فیل کو پاس اور بی گریڈ کو Aگریڈ میں بھی تبدیل کروانے کی طاقت حاصل کر چکے تھے... ماشاء اللہ شاید ہی کوئی سکول مالک ہو کہ جو اپنے اسٹوڈنٹس کو نقل کی علتوں سے بچانے کے لئے ہاتھ پائوں مارتا ہو... ورنہ آوے کا آوا بگڑا ہوا تھا اور جو ایک' آدھ سکول مالکان... اپنے سکول کو نقل مافیا کے ہتھکنڈوں سے بچانے کی جستجو کرتا اسے اس طرح سے شرمندہ کیا جاتا کہ جیسے اس نے نقل مافیاء کا حصہ نہ بن کر کوئی بہت بڑا جرم کیا ہو۔ ششماہی امتحانات ہوں یا سالانہ امتحانات نقل مافیاء کے کارندے پورے پورے امتحانی سینٹرز کو یرغمال بنا کر نقل کرواتے تھے... اور کسی کو ان کے سامنے دم مارنے کی مجال نہ تھی... پھر اللہ کی تورفیق سے ہم نے ہزاروں بچوں کا مستقبل محفوظ بنانے کے لئے Say No To Cheating کی مہم کاآغاز کر دیا... سر عمیر شاہد کہتے ہیں کہ الحدید پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشن کے صدر نثار احمد شرکی کی سربراہی میں نقل مافیاء کے خلاف شروع کی جانے والی اس مہم کو اللہ پاک نے پورے بن قاسم ٹائون میں زبردست کامیابی نصیب فرمائی... پیٹرن ان چیف رائو صفدر' متیشم حسنین کے علاوہ اسٹیل کیڈٹ کالج کے پرنسپل ڈاکٹر عبدالرحمن جسکانی نے بھی Say No To Cheating کو کامیاب بنانے کے لئے خوب سرپرستی فرمائی یہاں تک کہ چیئرمین میٹرک روڈ ڈاکٹر سعید الدین نے سرکاری سطح پر بورڈ میں Say No To Cheating کو نافذ کر دیا...الحدید پرائیویٹ اسکولز مینجمنٹ ایسوسی ایشن کی پرخلوص محنت ۔۔ چیئرمین میٹرک بورڈ ڈاکٹر سعید الدین کے تعاون کا نتیجہ ہے کہ آج نقل مافیاء کے کارندے حیران و پریشان منہ چھپانے پرمجبور ہوچکے ہیں۔ بچوں کے والدین بھی نقل مافیاء کے پھیلائے ہوئے خوف و دہشت کو جھٹک کر اپنے بچوں کے مستقبل کو روشن اور محفوظ بنانے کے مشن پر گامزن ہوچکے ہیں۔ الشمس سکولز سسٹم کے ڈائریکٹر عمیر شاہد نے مزید بتایا کہ گزشتہ سال انہوں نے ای کمپلیکس کالج آف سائنس میں... ایک بڑی سطح کی تعلیمی تقریب کا انعقاد کیا' جس میں طالب علموں' اساتذہ کرام اور بچوں کے والدین کے علاوہ رینجرز کے حکام کو بھی مدعو کیا گیا... رینجرز حکام کی موجودگی میں ہم نے مطالبہ کیا کہ کسی کی جان لینا' کسی پر گولی چلانا جس طرح سے دہشت گردی ہے... اسی طرح سے نقل مافیا کے ہتھکنڈوں کو بھی تعلیمی دہشت گردی قرار دیا جائے۔

''نقل مافیا'' کراچی اور سندھ میں باقاعدہ ایک صنعت کا درجہ اختیار کر چکی ہے ... ان تعلیمی دہشت گردوں کی وجہ سے کراچی اور سندھ کے لاکھوں بچوں کا مستقبل غیر محفوظ ہوچکا ہے... سر عمیر شاہد نے مجھ سے سوال کیا کہ آج اگر سندھ اور کراچی کی تعلیمی ڈگری کو شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے تو اس کی بنیادی وجہ ہی ہے کہ سیاسی مافیاء زیر سرپرستی نقل ''مافیا'' نے تعلیمی دہشت گردی کے ذریعے طالب علموں کے مستقبل کو تاریک کرنے کی کوشش کی... سر عمیر شاہد اور ان کی الحدید پرائیویٹ سکولز مینجمنٹ نے نقل مافیا کے خلاف آواز حق بلند کی... اللہ کرے کہ وہ اس آواز کو بن قاسم ٹائون سے باہر پورے کراچی اور سندھ بھر تک پھیلانے میں کامیاب ہو جائیں' (آمین


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved