لودھراں کانتیجہ اور بندر کی کہانی
  14  فروری‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

٭ایک ہی دن میں دو پٹخنیاں ،لودھراں میں تحریک انصاف ، اسلام آباد میں لالی حویلی کی پٹخنی! ٭مجھے لودھراںمیں تحریک انصاف کی بری طرح شکست پر کوئی حیرت نہیں ہوئی۔ البتہ پیپلز پارٹی کی 'شاندار ترقی' پر ضرور حیر ت ہوئی ہے۔ لاہور کے ضمنی انتخابات میں اسے ایک لاکھ 26ہزار ووٹوں میں سے 1414 ووٹ ملے تھے۔ لودھراںمیں دو لاکھ 15 ہزار 26ووٹوں میں سے 3762 ووٹ حاصل کیے۔ یہ تعداد کل ووٹوں کا ایک عشاریہ چھ فیصد (1.6) بنتی ہے جب کہ لاہور کا نتیجہ ایک اعشاریہ ایک فیصد تھا۔ اس سے ثابت ہوتاہے کہ جنوبی پنجاب واقعی پیپلزپارٹی کی جیب میں ہے!!تحریک انصاف کے ساتھ اس الیکشن میں جو کچھ ہوا ہے، اس پر مجھے اس لیے حیرت نہیں ہوئی کہ دو جمع دو ہمیشہ چار ہوتے ہیں، کبھی پانچ نہیں ہو پاتے۔ تحریک انصاف پوری کی پوری عمران خان کی ذات میں مجسم ہے۔ وہ کسی سے مشاورت کے قائل نہیں۔ جوجی میں آئے کہہ دیتے ہیں۔ ان کی ساری سیاست ابھی تک دو سروں کو سرعام گالیاں دینے کے دائرہ سے باہر نہیں نکلی۔ انہوں نے یہ اندازہ نہ لگایا کہ لودھراںکے حلقے میں ان کے سابق سیکرٹری جنرل جہانگیرترین نے عوام کی فلاح وبہبود کے لیے کیا کام کیا؟ عوام کے کتنے مسئلے حل کیے؟ یہ درست ہے کہ لودھراں کے عوام نے مسلم لیگ ن کا بھرپور ساتھ دیا مگر یہ بھی نہیں کہ وہ مسلم لیگ کے بہت دیوانے ہوگئے تھے! اورخان صاحب! آپ کو الیکشن کمیشن نے واضح ہدایات دی تھیں کہ آپ قومی اسمبلی کے رکن کی حیثیت سے انتخابی حلقے میں مہم نہیں چلا سکتے۔ آپ نے ان ہدایات کو ہوا میں اڑا دیا اور دھڑلّے سے وہاں جاکر انتخابی مہم چلائی! آپ کو اسلام آباد کی عدالتیں بلاتی رہیں، مفرور،اشتہاری قراردے دیا، ناقابل ضمانٹ وارنٹ گرفتاری جاری ہوئے مگر آپ ان احکام کا تمسخر اڑاتے رہے! لوگ ایک عرصے سے یہ سب کچھ اور اس کا منطقی انجام بھی دیکھ رہے ہیں۔ اسی لیے مجھے لودھراںکے انتخابی نتائج پر کوئی حیرت نہیں ہوئی۔ ٭اسلا م آباد سپریم کورٹ نے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو نااہل قرار دینے کے بارے میں تحریک انصاف کی سٹپنی، لال حویلی کی درخواست اس بنا پرمسترد کردی کہ اس کے دائر کرنے کا کوئی جواز ہی نہیں بنتا تھا۔ پچھلے کچھ عرصے سے لال حویلی کی یہ دوسری عدالتی پٹخنی تھی۔ سپریم کورٹ نے حدیبیہ کیس میں جو پٹخنی دی تھی اس کی چوٹیں ابھی تازہ تھیں کہ نئی چوٹ پڑ گئی! ٭ادھر کراچی میں تماشا جاری ہے ۔ایم کیو ایم نزع کے عالم میں ہے اور فاروق ستار اور عامر خاں کے گروپ ایک دوسرے کے حسب نسب کی چھان بین کرتے جارہے ہیں۔ ایک ٹیلی ویژن نے دلچسپ سرخی دی ہے کہ رنگ میں بھنگ اور پھر قانونی جنگ! دوسرے ٹیلی ویژن نے مزا لیا ہے کہ '' ایک تھا تیتر ، ایک بیٹر، لڑنے میں تھے دونوں شیر! لڑتے لڑتے ہو گئی گم، ایک کی چونچ او ر ایک کی دُم! ''پاک سرزمین پارٹی کے مصطفےٰ کمال کو موقع مل گیا۔ ان دونوں کو پیش کش کی کہ میری چھتری پر آجاؤ۔ مجھے پرانی کہانی یاد آگئی ہے دو بلیوں کوکہیں سے کیک کا ایک ٹکڑا ہاتھ آگیا۔ تقسیم کر نے پر جھگڑا ہوگیا۔ اوپر موجود بندر نے ثالثی پیش کردی۔ نیچے آیا، کیک کے دوحصے کیے۔دونوں ترازو کے پلڑوں میں ڈالے۔ ایک پلڑا زیادہ جھک گیا۔ اس کا کیک اٹھایا۔ اس میں سے تھوڑا کاٹ کے کھایا۔ اب دوسرا پلڑا جھک گیا۔ اس کے کیک کا بھی تھوڑا حصہ کھا یا۔ پھر پہلے پلڑا جھک گیا۔ پھر تھوڑا کیک کھایا اور یوں کھاتے کھاتے سارا کیک کھا کر پھر درخت پر جا چڑھا ! میں نے ابتدا میں کہا ہے کہ ایم کیو ایم پر نزع کا عالم طاری ہے۔ ایک شعر یاد آگیا ہے کہ اب نزع کا عالم طاری ہے تم اپنی محبت واپس لو، جب کشتی ڈوبنے لگتی ہے تو بوجھ اتار ا کرتے ہیں۔!! ٭ادھر نیب نے کیا انکشاف کیا ہے کہ ایم کیو ایم نے کراچی، سکھر اور حیدر آباد میں عوام سے مار دھاڑ، بھتے، چائنہ کٹنگ، لوٹ مار وغیرہ سے خدمت خلق ادارے کے نام پر دو ارب روپے وصول کیے۔ یہ رقم خدمت خلق ادارہ سے منی لانڈنگ کے ذریعے اپنے بھارتی آقا الطاف حسین کو بھیج دی گئی۔ مزید یہ کہ اب بھی خدمت خلق کے فنڈ میں ایک ارب روپے جمع ہیں۔ نیب نے ایم کیو ایم کے دس سرکردہ رہنماؤں کو تحقیقات کے لیے طلب کرلیا ہے۔ ٭احتساب عدالت میں سابق جے آئی ٹی کے چیئرمین واجد ضیا نے بیان دیا ہے کہ وزیر خزانہ اسحاق ڈاراپنے اثاثوں میں بے تحاشا اضافہ کا اطمینان بخش جواب نہیں دے سکے۔ واجد ضیاء کے مطابق 16 برسوں میں اسحاق ڈارکے اثاثے حیرت انگیز طورپر 91 گنا بڑھ گئے ۔1992ء میں یہ اثاثے 91لاکھ روپے کے تھے۔2008ء میں 83 کروڑ 16 لاکھ کے ہوگئے ( یہ 10سال پہلے کی بات ہے)۔مزید یہ کہ اسحاق ڈارنے ایک برطانوی کمپنی میں 55لاکھ پونڈ، (71 کرڑو روپے) کی سرمایہ کاری کی۔ اس کے بارے میں وہ اطمینان بخش جواب نہیں دے پائے۔ ادھر الیکشن کمیشن نے سینیٹ کی رکنیت کے لیے اسحاق ڈارکی درخواست مسترد کردی ہے! ٭مقبوضہ کشمیر میں تین مسلح افراد نے ایک فوجی کیمپ پر حملہ کرکے پانچ فوجی ہلاک کردیئے۔ بھارت کی وزارت دفاع نے پاکستان سے بدلہ لینے کا اعلان کیا ہے۔ ظاہر ہے اس اعلان سے پاک افواج اور سکیورٹی کے دوسرے ادارے آگاہ ہوں گے۔ ویسے پہلے بھارت کب آرام سے بیٹھا رہاہے! پاکستان میں دہشت گردی کی ساری وارداتوں کا کُھرا دہلی کی طرف جاتا ہے۔ افغانستان تو محض کرائے کا فوجی بنا ہواہے۔ ٭پاک فوج کے چیف آف سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کابل چلے گئے۔ وہ اس سے پہلے بھی کابل کے دورے کر چکے ہیں۔ اس وقت عالم یہ کہ وزیر داخلہ امریکہ میں ،آرمی چیف آف سٹاف کابل میں، پتہ نہیں وزیر خارجہ خواجہ آصف کو ان باتوں کا علم ہے یانہیں؟ اور یہ بھی کہ وہ کیا کر رہے ہیں؟ ٭نیب آج کل چوتھے پانچویں گیئر میں آئی ہوئی ہے۔ کسی کے عہدے، مرتبے، رتبے کا لحاظ ہی نہیں کر رہی۔ حکومت نے انسداد رشوت ستانی کا محکمہ دوسروں کی رشوت ختم کرنے کے لیے بنایا تھا مگر یہ خود رشوت کی سود ا بازی کا ادارہ بن گیا۔ مشہور شاعر دلاور فگار نے یہ ساری کیفیت ایک مصرعے میں بیان کردی کہ '' رشوت لے کر پھنس گیا ہے رشوت دے کر چھوٹ گیا'' ۔ نیب نے ادارہ انسداد رشوت ستانی (انٹی کرپشن ) کے ڈائریکٹر جنرل کو طلب کرلیا ہے کہ رشوت کے متعدد کیس کس بناپر طویل مدت سے لٹکائے جارہے ہیں؟ ظاہرہے کو ئی کیس کسی ''خاص وجہ'' کے بغیر تو نہیں لٹکایا جاتا۔ کیسا وقت آیا ہے کہ سپریم کورٹ کا سخت مُوڈ دیکھ کر ہر اک نے ڈنڈے پکڑلیے ہیں۔ نیب، ایف آئی اے، ایف بی آر، فو ڈ اتھارٹی حتی کہ لائیو سٹاک والے ڈنڈے اٹھائے نکل پڑے ہیں۔ اور ستم یہ کہ دودھ، دواؤں اور گھی میں ملاوٹ کے بعد خطرناک انکشاف ہوا کہ بنولہ سے بننے والی مویشیوں کی کھَل ایک کیمیکل اور گلی سڑی روئی وغیرہ سے بنائی جارہی ہے۔ اس سے بے شمار مویشی بیمار ہوگئے ہیں۔ ایک کارروائی کے دوران لائیو سٹاک والوں نے ایسی ایک بڑی فیکٹری میں سینکڑوںمن ایسی کَھل پکڑلی اور فیکٹری سیل کردی۔ کیا بد نصیبی ہے! باہر سے دشمنوں کی کیاضرورت ہے، اندر والے اپنے ہی کافی ہیں۔

٭ضلع لکی مروت خیبر پختو نخوا کا پسماندہ ترین ضلع ہے۔ ہر بار انتخابات پر ووٹ لینے کے لیے بہت سے وعدے کیے جاتے ہیں مگر منتخب ہوکر سب کچھ بھلا دیا جاتا ہے۔ اپوزیشن والے ویسے کبھی بھی ادھر نہیں آتے۔ ضلع کی پسماندگی پہلے سے زیادہ بڑھ گئی ہے۔ اب عام انتخابات آرہے ہیں تو یہ لوگ پھر سے آنے شروع ہو گئے۔ ان لوگوں سے خدا کے نام پر اپیل کرتاہوںکہ لکی مروت کی جان چھوڑ دیں۔ اس بار ادھر نہ آئیں۔ مولانا فضل الرحمان نے یہاں سے انتخاب لڑا، پھر کامیاب ہوکریہاں سے استعفا دے کر غائب ہوگئے، اب ادھرنہ آئیں۔ نوازشریف نے بھی کبھی آنے کی زحمت نہیںکی۔ خورشید عالم (0334-09160680)


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved