دو جنازے اور بعض نجی چینلز کا دوغلاکردار
  26  فروری‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

میں عاصمہ جہانگیر کے معاملے پر ایک کالم لکھ چکا تھا...ممکن ہے کہ میں دوسری بار اس موضوع پر قلم نہ اٹھاتا کہ اگر سیکولر پٹاری کے بعض شدت پسند... عاصمہ کے جنازے کی نسبت بیت اللہ اور مسجد نبویؐ میں ہونے والی عبادت کی طرف نہ کرتے۔ شہید غازی ممتاز قادریؒ کے جنازے کے بعد عاصمہ جہانگیر کے معاملے تک... میڈیا بالخصوص الیکٹرانک چینلز نے جس انداز میں عاصمہ جہانگیر کے مخلوط اور متنازع جنازے پر اکابر علماء کرام کے موقف کو دبانے کی کوشش کی... اس سے عوام پر یہ بات ایک دفعہ پھر کھل کر واضح ہوگئی... یہ الیکٹرانک چینلز اور اس کے اینکرز مافیا... کے ہرکار ے آزاد نہیں... بلکہ غیروں کے ساتھ ساتھ این جی او مارکہ ڈالروں اور پاؤنڈز کے بھی غلام ہیں... یقیناًسوشل میڈیا کے بہت سے نقصانات بھی ہیں... میں ذاتی طور پر سوشل میڈیا سے بہت دور ہوں... لیکن بعض معاملات بالخصوص شہید غازی ممتاز قادریَ اور عاصمہ جہانگیر کے جنازوں کے حوالے سے سوشل میڈیا نے اصل حقائق دنیا کے سامنے لانے میں جو شاندار کردار ادا کیا... اس پر اسے خراج تحسین پیش نہ کرنا بھی سیکولر بخیلی کے زمرے میں آئے گا۔ عالمی صہیونی طاقتوں نے مقامی سہولت کار بعض نجی چینلز کے ذریعے سیاہ کو سفید اور سفید کو سیاہ کرنے کا جو بیڑہ اٹھا رکھا تھا... سوشل میدیا نے اس ’’بیڑے‘‘ میں چھید ڈال کر الیکٹرانک چینلز کے بعض بہروپیا نما اینکرز کو بیچ چوراہے کے بے نقاب کر ڈالا۔ سیکولر پٹاری کے جو انتہا پسند آج بی بی عاصمہ کے جنازے کی بڑائی پر کالم پہ کالم برآمد کر رہے ہیں ان کا چلتا ہواقلم اس وقت کیوں رک گیا تھا ...کہ جب عاشق رسول غازی ممتاز قادریؒ کا جنازہ نواز شریف حکومت کے پرویز رشیدوں کے مارشلائی ستم کا شکار بنا تھا... تین‘ چار دنوں تک سارے میڈیا کے زور لگانے پر یقیناًچند ہزار خواتین و حضرات بی بی عاصمہ کے جنازے میں اکٹھے ہوگئے ہوں گے ‘ لیکن جاننے والے یہ بات خوب اچھی طرح جانتے ہیں کہ عاصمہ صرف اقوام متحدہ اور امریکہ کی ہی نہیں بلکہ بھارت کی بھی ’’لاڈلی‘‘ تھیں‘ لیکن غازی ممتاز قادریؒ نہ امریکہ کا لاڈلہ تھا نہ برطانیہ کا لاڈلہ تھا‘ اور نہ ہی بھارت یا اقوام متحدہ کا پیارا تھا... شاید اسی لئے پاکستانی میڈیا نے بھی اس کے جنازے کی کوریج سے مکمل اجتناب برتا... ممتاز قادریؒ ؒ شہید کے جنازے میں عوام کو لانے کے لئے نہ کسی اینکر کو زور لگانا پڑا‘ نہ اینکری کو شور مچانا پڑا... نہ اس کے جنازے کے ٹیکرز چینلز کی زینت بنے اور نہ ہی اخبارات میں اشتہار شائع ہوئے... مگر اس کے باوجود ملک بھر سے لاکھوں لوگ دیوانہ وار روتی آنکھوں کے ساتھ... شہید ممتاز قادریؒ کے جنازے میں شریک ہوئے... آج عاصمہ کے جنازے کو ’’بڑا‘‘ لکھنے والے سیکولر پٹاری کے دانش چور قوم کو اس بات کا جواب دیں کہ ممتاز قادری شہید کے ’’مثالی‘‘ جنازے کے موقع پر تمہاری ’’غیر جانبداری‘‘ اور کریڈیبلٹی کہاں گھاس چرنے چلی گئی تھی؟ جب وقت قیام تھا تو تم شریف حکومت کی چوکھٹ پر سجدہ ریز ہوگئے اور اب بات‘ بات پر بڑھکیں مارتے ہوئے تمہیں شرم بھی نہیں آتی... الیکٹرانک میڈیا کا یہی وہ نفرت انگیز او ربزدلانہ کردار تھا کہ جس کے نتیجے میں تحریک لبیک کی میڈیا کے خلاف شدت میں اضافہ ہوا... سیکولر شدت پسندوں کو مولانا خادم حسین رضوی کے لہجے کی غضب ناکی تو چھبتی ہے... مگر وہ اپنے گریبانوں میں جھانکنے کے لئے تیار نہیں کہ انہوں نے... شہید ممتاز قادریؒ کے جنازے کے لاکھوں سوگواروں کے ساتھ کیا سلوک روا رکھا تھا؟ میں اس بات کا حامی ہوں کہ انتہا پسندی کسی بھی معاملے میں نہیں ہونی چاہیے... نہ سیکولر اور نہ ہی مذہبی... مگر اس سیکولر شدت پسند کا کیا کیا جائے کہ جو ٹی وی چینلز پر تجزیہ کار بھی بنا پھرتا ہے... اور اپنے کالم میں لکھتا ہے کہ ’’خانہ کعبہ میں مخلوط عبادات ہوسکتی ہیں... تو جنازے میں عورتوں کی شرکت میں کیا قباحت؟عاصمہ یہ روایت بھی توڑ دی‘ کیونکہ وہ تو تھی ہی ’’بت شکن‘‘ (نعوذباللہ) عاصمہ جہانگیر کے ایک اور سچے پیروکار اپنے کالم میں یوں رقمطراز ہیں کہ ’’اگر مسجد الحرام اور مسجد نبویؐ میں عورتیں جنازوں میں شریک ہوسکتی ہیں تو یہاں بھی کوئی حرج نہیں‘‘جب سیکولر انتہا پسندی اس حد تک بڑھ جائے کہ سیکولر انتہا پسند دینی معاملات میں مداخلت شروع کر دیں... تو یہیں سے فساد فی الارض کی بنیاد پڑتی ہے‘ اس خاکسار کی کیا مجال کہ وہ دینی معاملات پر کسی قسم کی لب کشائی کر سکے‘ اس لئے یہاں پر ملک کے نامور جید علماء کرام کے موقف کو پیش کرنا انتہائی ضروری ہے‘ عاصمہ جہانگیر کی مخلوط اور متنازعہ جنازے کے حوالے سے ممتاز اور جید علماء کرام نے اپنے مشترکہ موقف میں کہا ہے کہ ’’اطلاعات کے مطابق ایک معروف خاتون کی نماز جنازہ اس طرح پڑھی گئی ہے کہ صفیں مردوں اور عورتوں سے مخلوط ہیں... اور ایک ہی صف میں عورتیں اور مرد ساتھ ساتھ کھڑے تھے‘ شرعی اعتبار سے یہ ایک افسوسناک امر ہے کہ نماز جنازہ جیسی عبادت کی ادائیگی میں شرعی احکام کا لحاظ نہیں رکھا گیا... شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی ‘ نائب صدر دارالعلوم کراچی‘ مفتی منیب الرحمن‘ صدر تنظیم المدارس‘ مفتی اعظم مفتی محمد رفیع عثمانی صدر داررالعلوم کراچی‘ شیخ الحدیث ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر صدر وفاق المدارس‘ مفتی محمد جان نعیمی مفتی سلیم اختر مدنی اور مولانا فضل الرحیم اشرفی کا اپنے مشترکہ موقف میں کہنا تھا کہ ... اول تو کھلے میدان میں خواتین کا نماز جنازہ کے لئے بذات خود جانا درست نہیں... اور صحیح بخاری کی صحیح حدیث میں خواتین کو جنازے کے ساتھ جانے سے منع فرمایا گیا ہے... لیکن اگر خواتین کسی وجہ سے شریک ہوں تو مردوں کی صف میں ان کا کھڑا ہونا بالکل ناجائز ہے۔ صرف ملک پاکستان ہی نہیں بلکہ پورے عالم اسلام میں انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھے جانے نامور اور جید علماء کرام کا ’’عاصمہ‘‘ کے جنازے کے حوالے سے سامنے آنے والے اس مشترکہ اور مستند موقف کے بعد... اگر کسی اینکر‘ اینکرنی یا کالم نگار اور تجزیہ نگار کے دل پر مہر نہیں لگ چکی... تو خدا را اسے عاصمہ کے جنازے کے حوالے سے اپنے سابق موقف پر توبہ‘ تائب ہو کر اللہ اور قوم سے معافی مانگ لینی چاہیے... کہاں بیت اللہ اور مسجد نبویؐ میں ادا کی جانے والی عظیم ’’عبادات‘‘ اور کہاں عاصمہ کی متنازعہ مخلوط جنازہ نما رسم‘ خدا را‘ اللہ اور اس کے رسولﷺ کے احکامات کے حوالے سے اتنے ’’شیر‘‘ مت بنیئے کہ تمہیں بیت اللہ اور مسجد نبویؐ میں پڑھے جانے والے جنازوں اور لاہور میں پڑھے جانے والے جنازے کی تمیز ہی ختم ہو جائے۔ لیکن اگر سیکولر پٹاری کے یہ انتہا پسند دینی شعائر پر حملہ آور ہو کر فساد فی الارض پھیلانے سے توبہ تائب نہیں ہوتے... تو پھر ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ انہیں فساد فی الارض پھیلا کر ملک میں انتشار اور اختراق بڑھانے سے قانونی طور پر روکیں۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved