آہ ۔۔سول سروس آف پاکستان
  26  فروری‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

مسلم لیگ ن آخر کار بیوروکریسی کو تقسیم کرنے میں بھی کامیاب ہوگئی ہے ۔وہ ہوگیا جو نہیں ہونا چاہئے تھا۔پنجاب حکومت نے سسکیاں لیتی بیوروکریسی کے موجودہ سسٹم کو نہ صرف تابوت میں ڈال دیا ہے بلکہ اس میں آخری کیل بھی ٹھونک دیا ۔ نوکر شاہی پہلے افسر شاہی اور اب شریف شاہی بنا دی گئی ۔ میں سول سروس کا ایک سپورٹر ہوں میرے خیال میں یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اس ملک کے نظام کو چلانا ہے یہ اس نظام کے محافظ ہیں مگر یہ تو نظام سقے بن گئے ۔ایک سینئر ریٹائرڈ بیوروکریٹ جو پنجاب اور مرکز میں اہم ترین عہدوں پر فائز رہے اتوار کے روز میرے ساتھ ناشتے پر موجود تھے ۔وہ اپنی سروس کے حالات پر افسردہ تھے ۔دکھی دل سے بولے یہ سول سروس کا رول نہیں اور ان میں ہڑتالوں کا دم خم بھی نہیں ہے، میں اس کا حصہ رہا ہوں ،انہیں شہ دے کر کھڑا کیا گیا ہے،دوائی کا اثر ختم ہو گا تو خود ہی بیٹھ جائیں گے ۔ مگر انہیں شاہ سے زیادہ شاہ کا وفادار نہیں ملک اور نظام کا وفادار ہونا چاہئے ۔انہوں نے اس بات سے اتفاق نہیں کیا کہ اس ہڑتال پر ان کے خلاف بغاوت کا مقدمہ بن سکتا ہے ۔ احد چیمہ کی کرپشن الزامات پر نیب کے ہاتھوں گرفتاری نے ملک کے سب سے بڑے صوبے کی بیوروکریسی میں ہلچل مچادی ہے۔اس گرفتاری کی وجہ سے نہ صرف پنجاب بلکہ ملک کے دیگر صوبوں میں بھی سراسیمگی کی کیفیت پیدا ہوچکی ہے اور ہر بابو اپنے آقاؤں کے احکامات ماننے کے لیے اب قوانین پر عمل کرنے پر زور دے رہا ہے۔ اس اچانک اقدام کی وجہ سے جہاں بیوروکریسی ششدر ہے وہیں بیوروکریسی عملی طور پر دو گروہوں میں تقسیم ہوچکی ہے۔ ویسے اس تقسیم کا عمل شریف دور کے آغاز سے ہی شروع ہو چکا تھا ۔ احد چیمہ کی گرفتاری کے فورا بعد سے بیوروکریسی کی بہت سی غیر رسمی اور غیر معمولی میٹنگز منعقد کی جا رہی ہیں جن سے عام تاثر یہ دیا جارہا ہے کہ شاید اس اقدام سے بیوروکریسی لمبے عرصے کیلئے اسٹرائیک پر چلی جائے گی اورپتہ نہیں کیا ہوجائے گا جبکہ کئی سینیئر افسروں کے دفاتر میں کام بند بھی کیا گیا ۔ اس حوالے سے دلچسپ صورتحال یہ ہے کہ خود بیوروکریسی کی تقسیم میں ایک گروپ یہ سمجھتا ہے کہ یہ ایک افسرکیخلاف ایک قومی آزاد ادارے کی تحقیقات ہیں اور وہ افسر کوئی سیاستدان تو ہے نہیں کہ اس کیلیے ہڑتالیں کی جائیں اور پہیہ جام کردیا جائے کیونکہ یہ سب کچھ سول سروس رولز کیخلاف جاتا ہے۔ساتھ ہی ساتھ اس گروپ میں ایسے سینیئر افسران بھی موجود ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ اس طرح کچھ جذباتی نو آموز افسرا ن کی طرف سے ہڑتال کرنے سے شاید احد چیمہ کوکوئی فائدہ ہونے کی بجائے الٹا نقصان ہی نہ ہوجائے ۔ جو سرکاری افسران اسٹرائیک کے لیے دیگر افسروں پر دباو ڈال رہے ہیں انہیں یہ بھی جاننا چاہیے کہ حکومت کا سیکرٹری حکومت ہی ہوتا ہے اور یہ کیسے ممکن ہے کہ خود حکومت اپنے خلاف ہی اسٹرائیک کرلے ۔ بیوروکریسی کے دوسرے گروپ یعنی جو لوگ احد چیمہ کی حمایت میں ہر حد پارکرنے کو تیار ہیں ۔ مگر حکومتی آشیر باد کے باوجود ان کی تعداد کم ہوتی جا رہی ہے اور دوسرے وہ سول سروسز رولز کے تحت ایسے کسی بھی اقدام کے متحمل نہیں ہوسکتے جو کہ حکومتی مشینری کے لیے نقصان دہ ہو۔ ا ن کے لیے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ اگر احد چیمہ پر لگایا گیا کوئی بھی الزام درست ثابت ہوگیا تو وہ کیا کریں گے اوران کے اپنے کیرئیرز کا کیا بنے گا۔ میں نے اس مسئلے پر سابق چیف سیکرٹری پنجاب کامران رسول،سابق وفاقی سیکرٹری اور سدا بہار بیوروکریٹ جی ایم سکندر،ممبر پنجاب پبلک سروس کمیشن مبشر رضا اور اس قبیل کے بے شمار افسروں سے رابطے کیے۔بیوروکریسی کے اعلی افسران کا کہنا ہے کہ قانون سب کے لیے سانجھا ہوتا ہے اور یہ اس طرح کا کوئی پہلا قدم نہیں اس سے پہلے بھی بہت سے افسران کے خلاف نیب نے کارروائی کی ہے اور ماضی میں جاوید برکی جیسے ایماندار افسروں کو بھی گرفتاریوں کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ان افسروں کے مطابق یہ ایک افسر کے خلاف انفرادی کارروائی ہے اور اسے انفرادی ہی رہنا چاہیے اسے سسٹم کی لڑائی نہیں بنانا چاہیے جبکہ دوسرے دوستوں کا یہ خیال ہے کہ ایک بیوروکریٹ ایک ایسا افسر ہوتا ہے جو اگر اپنا کام ایمانداری سے کرے تو اس کے دوست کم اور دشمن زیادہ بنتے ہیں اور اس موقع پر مشکل ہی ہے کہ عوام الناس کسی بیوروکریٹ کے ساتھ کھڑے ہوں اس لیے ایسے کسی بھی اقدام سے گریز کرنا چاہیے جس سے پاکستان کی اس انتظامی سروس کی بدنامی ہو، ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ کرپٹ عناصر ہر جگہ ہوتے ہیں لیکن بیوروکریسی ایسے افسروں سے بھری پڑی ہے جنہوں نے اپنے فرض کی ادائیگی اور اپنی ایمانداری کو ہمیشہ اپنا طرہ امتیاز بنا کررکھا ہے اور کسی کی جرات نہیں کہ ان کی ذات پر انگلی بھی اٹھا سکیں۔ اس لیے یہ وقت ایسے جذباتی فیصلوں کا نہیں اس وقت بیوروکریسی کو چاہیے کہ وہ احدچیمہ کی بھلائی کے لیے قانون کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں۔مختلف افسروں نے اس سارے معاملے میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہوم میجر ا عظم سلیمان کے کردار کو سراہا کیونکہ انہوں نے اس نازک وقت میں جوش کو ہوش پر غالب نہ آنے دیا۔سیکرٹری مواصلات و تعمیرات میاں مشتاق احمد بھی اپنے تئیں اس معاملے میں بہتری کیلئے کوشاں تھے وہ پی اے ایس ایسوسی پنجاب کے اگلے سربراہ بھی ہو سکتے ہیں۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved