سرعام پھانسی' قبلہ ایاز' حکومتی نمائندوں اور جید علماء کرام کا موقف
  27  فروری‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

قصور کی بیٹی ''زینب'' کا مجرم عمران پھانسی کا منتظر ہے … معصوم زینب کے والدین اور پاکستان کے عوام کا یہ مطالبہ تھا کہ … مجرم عمران کو سرعام پھانسی دی جائے … معصوم زینب کے بوڑھے والد نے چیف جسٹس کی عدالت میں بھی اپنے اس مطالبے کو دہرایا تھا … مگر حیرت انگیز طور پر وفاقی حکومت' چاروں صوبائی حکومتیں اور ''اسلامی نظریاتی کونسل'' معصوم زینب کے والدین اور پاکستانی عوام کے اس جائز مطالبے کے راستے میں رکاوٹ بن گئی۔ 21 فروری کو سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کا اجلاس ہوا… جس میں اس موضوع پر بحث کے لئے صوبائی حکومتوں کے ساتھ ساتھ اسلامی نظریاتی کونسل کے نئے چیئرمین ڈاکٹر قبلہ ایاز بھی شریک ہوئے … خبروں کے مطابق چاروںصوبوں کے نمائندوں نے مجرم عمران کو سرعام پھانسی دینے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ کسی ایک شخص کے لئے قانون سازی کی گئی تو اس کے مثبت اثرات نہیں آئیں گے … سرعام پھانسی دینے سے امن و امان کی صورتحال خراب ہوگی … اس کے مناظر میڈیا پر بھی نہ دکھائے جائیں۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین کہ جنہیں مذہب اسلام کی نمائندگی کرنی چاہیے تھی مگر حیرت انگیز طور پر انہوں نے بھی مذہب اسلام کے علاوہ اور نجانے کس کس کی نمائندگی کرتے ہوئے جو رائے دی اس کے حوالے سے ایک معاصر اخبار میں چھپنے والی خبر کے مطابق … ''اجلاس میں اسلامی نظریاتی کونسل نے سرعام پھانسی کی مخالفت کرتے ہوئے کہاکہ کسی چوک یا چوراہے کی بجائے جیل کے اندر پھانسی دی جائے … تاہم پھانسی کے مناظر میڈیا پر دکھا دیئے جائیں۔'' آئیے پہلے معصوم زینب کے مجرم عمران کو سرعام پھانسی دینے یا دیگر مجرموں کو سرعام سزائیں دینے کے حوالے سے ملک کے جید علماء کرام کی رائے جانتے ہیں… رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین نامور عالم دین مفتی منیب الرحمن اس حوالے سے کہتے ہیں کہ ''سورہ نور میں اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ مجرموںکو ایسے سزا دو کہ مومنوں کی ایک جماعت انہیں دیکھے ' تاکہ دیگر لوگ عبرت پکڑیں… جب لوگ عبرت پکڑیں گے … تب ہی جرائم میں کمی آئے گی … لیکن موجودہ حالات میں اگر امن و امان کا مسئلہ ہو تو لاکھوں کروڑوں نہیں ہزاروں یا سینکڑوں افراد کی موجودگی میں قصور واقعے کے مجرم کو پھانسی دینے میں کوئی حرج نہیں ہے … شریعت کے احکامات یہی ہیں … جیل کے پھانسی گھاٹ پر جہاں عملہ وغیرہ سمیت درجن بھر افراد موجود ہوں … ان کے سامنے پھانسی دینے سے مومنوں کی جماعت والے حکم کی پیروی نہیں ہوسکتی۔'' پشاورکے ممتاز عالم دین مفتی شہاب الدین پوپلزئی اس حولے سے کہتے ہیں کہ ''جس ملزم پر جرم ثابت ہو جائے ' اس کو سرعام سزا دینا ہی اسلامی تصور ہے … چور کا ہاتھ سرعام کاٹا جائے گا' زانی کو سرعام سنگسار کرنے کا حکم ہے … اسی طرح قاتل کا ''سر'' سرعام قلم کرنے کا حکم ہے۔ اسلامی سزائوں میں نرمی نہیں کی جاسکتی … سرعا م سزائیں دینے سے معاشرے میں جرائم کے راستے بند ہوتے ہیں ' اس لئے ہم سانحہ قصور کے مجرم کو سرعام سزا دینے کے حق میں ہیں ' ڈائریکٹر انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک اسٹڈیز پنجاب یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر سعد صدیقی کہتے ہیں کہ ''اسلامی شریعت' سرعام پھانسی کی سزا پر قطعاً کوئی قدغن نہیں لگاتی… سزائوں کا سرعام نفاذ' اسلام کے نظام تعزیرات کی خاصیت ہے …تاکہ دوسرے لوگ اس سے عبرت پکڑیں۔'' جامعہ اشرفیہ لاہور کے استاد حدیث مولانا اکرم کشمیری کا کہنا تھا کہ ''اسلامی شریعت کی رو سے ''زینب'' کے قاتل عمران کو سرعام پھانسی دینے میں کوئی حرج نہیں۔'' جامعہ علمیہ لاہور کے پرنسپل ڈاکٹر مفتی کریم خان کا کہنا تھا کہ ''قتل کے مجرم کو سرعام پھانسی دینا عین اسلام کے مطابق ہے … عہد رسالت میں ہمیں اس کی مثال ملتی ہے … قرآن مجید میں تو حدود کی سزائوں کو سرعام نافذ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔'' وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے ناظم مولانا زبیر احمد صدیقی اس حوالے سے کہتے ہیں کہ ''اسلام میں سزا دینے کے دو مقاصد ہیں … یعنی مجرم کو سزا دینا اور دیگر افراد کو گناہوں اور جرائم سے بچانا … یہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ جب سزائیں لوگوں کے سامنے دی جائیں … نبی کریم ۖ نے ایک مرد اور عورت کو مسجد نبویۖ کے سامنے کھلے میدان میں سرعام سنگسار کروایا تھا … اس کی تفصیل صحیح بخاری میں موجود ہے … لہٰذا عمران نامی مجرم کو اسلامی احکاما ت کے عین مطابق سزا دینی چاہیے۔''

سوال یہ ہے کہ مجرم کو سرعام پھانسی دینے کے حوالے سے جب اسلام میں واضح احکامات موجود ہیں تو پھر اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین نے اجلاس میں اسلام کی نمائندگی کرنا ضروری کیوں نہ سمجھا؟ ڈاکٹر قبلہ ایاز کے اسلامی نظریاتی کونسل کا چیئرمین بننے کے بعد اس خاکسار نے ایک کالم لکھا تھا جس میں اس بات کی نشاندہی کی تھی کہ … اس مرتبہ ن لیگی حکومت نے غیر ملکی فنڈڈ این جی او کے تنخواہ داروں کو بھی اسلامی نظریاتی کونسل کا رکن بنایا ہے … کیا ڈاکٹر قبلہ ایاز نے ''مغرب'' اور این جی اوز کی ناراضگی مول لینے سے بچنے کے لئے … اسلامی احکامات سے ہٹ کر اپنی رائے دینا مناسب سمجھا؟ قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف میں مجرم کو سرعام پھانسی دینے کے شرعی احکامات کے خلاف چاروں صوبائی حکومتوں کے نمائندوں اور چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل نے جو فیصلہ کیا … کیا یہ مغرب' دجالی میڈیا اور ڈالر خور این جی اوز کو خوش کرنے کے مترادف نہیں؟ … کیا اسلام سے متصادم ایسے فیصلوں سے یہ ملک کبھی ترقی کر پائے گا؟ اللہ اور اس کے رسول ۖ کے احکامات کو پس پشت ڈا ل کر کیا ملک سے جرائم ختم ہو جائیں گے؟ اسلامی نظریاتی کونسل میںخوش قسمتی سے ابھی چند علماء بھی موجود ہیں … ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ کونسل کے اجلاس میں اپنے چیئرمین سے اس حوالے سے ضرور باز پرس کریں … اسلامی نظریاتی کونسل کے حالیہ کردار نے پاکستان کے عوام میں کافی شکوک و شبہات کو جنم دے ڈالا ہے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved