ریاست کی رٹ؟
  28  فروری‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

ن لیگی حکمرانوں' وزیروں' مشیروں' پنجاب بیورو کریسی کے افسران اور میڈیاکو ''نیب'' اعلامیے کے مطابق اربوں کی کرپشن میں ملوث احد چیمہ کی گرفتاری کی بڑی فکر لاحق ہے… ا حد چیمہ کی نیب کے ہاتھوں گرفتاری پر … ن لیگی حکمران ایسا تاثر دے رہے ہیں کہ جیسے پنجاب میں خدانخواستہ گرفتاری کا یہ پہلا کوئی واقعہ ہو؟ … حالانکہ شہباز شریف کا نو سالہ اقتدار صوبہ پنجاب میں بسنے والے مذہبی کارکنوں' مولویوں اور دینی مدارس کے طالبعلموں کے لئے نہایت بھاری ثابت ہوا … مختلف مذہبی اور جہادی تنظیموں سے تعلق رکھنے کے شبہ میں ایک یا دو نہیں بلکہ سینکڑوں نوجوان گھروں' بازاروں یا پھر مدرسوں اور مسجدوں سے اٹھا کر غائب کر دیئے گئے۔ محض شک کی بنیاد پر نوجوانوں کو کئی کئی مہینوں تک لاپتہ کرکے ان پر بہیمانہ تشدد ڈھایا جاتا او رپھر ان کے ورثاء سے لاکھوں روپے رشوت لے کر اس وعدے پر رہا کر دیا جاتا کہ میڈیا یا کسی اور کو بتایا تو پھر دوبارہ لاپتہ کر دیا جائے گا … مرتا کیا نہ کرتا کے تحت نجانے ظلم و ستم کی کتنی ہی داستانیں ہیں جو اندر ہی اندر سینوں میں گھٹ کر ہی دم توڑ گئیں … بدنام زمانہ ''فورتھ شیڈول'' کا ذائقہ تو اسی ' اسی سال کے بزرگ اور جید علماء آج بھی چکھ رہے ہیں۔ شہباز شریف کی ''راجدھانی'' میں بسنے والے مختلف خانقاہوں سے وابستہ کئی بزرگ حضرات سے ذاتی طور پر واقف ہوں کہ جن کے دست حق پرست پر چند سو یا ہزار نہیں بلکہ لاکھوں انسان اصلاحی بیعت کئے ہوئے ہیں … اور وہ بڑھاپے کی وجہ سے لاٹھی کا سہارا لیے بغیر چلنے سے بھی معذور ہیں … مگر شہباز شریف کے حکومتی کل پرزوں نے ان بزرگ شخصیات کانام بھی بدنام زمانہ ''فورتھ شیڈول'' میں ڈال دیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سینٹ کے ڈپٹی چیئرمین مولانا عبد الغفور حیدری کی قیادت میں بزرگ علماء کا ایک بڑا وفد خادم اعلیٰ شہباز شریف سے لاہور میں تقریباً دو سال قبل ملتا ہے … اور انہیں پنجاب پولیس' سی ٹی ڈی …اور دیگرز کئی مذہبی کارکنوں سے کی جانے والی زیادتیوں سے آگاہ کرتا ہے… خانقاہی نظام سے منسلک متعدد بزرگ علماء کے نام فورتھ شیڈول میں ڈالنے کے حوالے سے بھی یہ وفد وزیر اعلیٰ کو رانا ثناء اللہ او ر پنجاب بیورو کریسی کے دیگر اعلیٰ افسران کی موجودگی میں آگاہ کرتا ہے' شہباز شریف ڈپٹی چیئرمین سینٹ کی قیادت میں ملاقات کے لئے آنے والے علماء کو یقین دہانی کرواتے ہیں کہ چند دن میں ہی بزرگ علماء کے نام '' فورتھ شیڈول'' سے خارج کر دیئے جائیں گے … مگر ان جید علماء اور لاکھوں مسلمانوں کے پیرو مرشد سمجھی جانے والی بزرگ شخصیات کا نام آج بھی بدنام زمانہ فورتھ شیڈول میں ہے' پنجاب میں مذہبی کارکنوں کو جعلی مقابلوں میں مروانے کی سنگین داستانیں علیحدہ سے ہیں … ان حقیقی واقعات کو اگر کوئی رقم کرنے پر آئے تو ہزاروںصفحات کی ضخیم کتاب بن جائے ' لیکن اس سب کے باوجود علماء کرام اور مذہبی سیاست دانوں نے نہ تو عدلیہ کا مذاق اڑایا اور نہ ہی ''شریف برادران'' کے خلاف عوام کو بغاوت پر اکسایا۔ ورنہ کون نہیں جانتا کہ پیر طریقت حضرت مولانا عزیز الرحمن ہزاروی' حضرت اقدس قاضی عبدالرشید مرکزی ڈپٹی سیکرٹری وفاق المدارس العربیہ پاکستان اور ان جیسے کئی دیگر اکابرین کہ جن کا نام ''فورتھ شیڈول'' میں شامل ہے … کے جن کے ایک اشارے پر ان کے لاکھوں مریدین جانیں نچھاور کرنے کے لئے ہر وقت تیار رہتے ہیں … دھرنا دینا اور سڑکیں بند کرنا یا لاکھوں افراد پر مشتمل جلسے کرنا تو پھر ان کے لئے معمولی بات ہے … پاکستان کے عوام کو وہ دن بھی یاد ہے کہ جب سوات کے گراسی گرائونڈ میں صوفی محمد نام کے ایک بوڑھے نے ''سپریم'' کورٹ کو تسلیم کرنے سے انکار کیا تھا اور پھر اس دور میں پیپلز پارٹی کی وفاقی حکومت نے اے این پی کی صوبائی حکومت کے ساتھ مل کر سوات میں ایک ایسا آپریشن کیا کہ جس میں ہزاروں لوگ مارے گئے … سینکڑوں سیکورٹی فورسز کے جوانوں نے جام شہادت نوش کیا … تین دفعہ ملک کا وزیراعظم رہنے والا نواز شریف ' ان کی بیٹی مریم نواز' داماد کیپٹن ریٹائرڈ صفدر' وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری ' دانیال عزیز' غرضیکہ ن لیگی حکومت کے کئی دیگر وزراء اعلیٰ عدلیہ کے خلاف جو آتشین لب و لہجہ اختیار کیے ہوئے ہیں … سپریم کورٹ کے معزز چیف جسٹس کو جس طرح سے عوامی اجتماعات میں للکارا جارہا ہے … عوام کو جس بھونڈے انداز میں عدلیہ کے خلاف اکسایا اور بھڑکایا جارہا ہے' سوشل میڈیا پر بی بی مریم نواز کے سوشل میڈیا ''شیر'' سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اور دیگر معزز ججوں کے خلاف ہتک آمیز انداز میں دھاڑ رہے ہیں … اس کا اگر دسواں حصہبھی کسی مذہبی یا جہادی راہنما سے سرزد ہو جاتا … تو سیکولر پٹاری کے ''فاشسٹ'' اور اینکرز مافیاء کے خرکار … ''رٹ'' آف دی گورنمنٹ کا شور مچا کر ان پر ٹینکوں اور توپوں کے ساتھ چڑھائی کروانے کی سبیل نکال چکے ہوتے۔ اگر کسی کو یقین نہ آئے تو اسلام آباد کے قلب میں واقع ' 'لال مسجد'' کے خونی آپریشن پر وہ ایک نظر ضرور ڈال لے … سوال یہ ہے کہ کیا ریاست پاکستان کی رٹ کمزور ہوچکی ہے کہ ''شریف'' خاندان اور ان کے وظیفہ خور جو سپریم کورٹ پر چڑھتے ہی چلے جارہے ہیں … اگر پچاس ہزار یا ایک لاکھ لوگوں کو ساتھ ملا کر قومی اداروں کو مطعون کرنا ہی جمہوریت ہے تو پھر آج صوفی محمد یا دہشت گرد ملا فضل اللہ کو فری ہینڈ دے دیا جائے تو لاکھوں لوگوں کو اکٹھا کرنے کی صلاحیت ان میں بھی موجود ہے۔

آج اگر لندن میں مقیم پاکستانی بھگوڑے الطاف حسین کو کھلی چھٹی دے دی جائے تو وہ لندن سے ٹیلی فون پر ہی ہزاروں کا جلسہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے … نواز شریف اور قومی خزانے پر پلنے والے لیگی وزیروں' مشیروں پر ریاست اپنی رٹ کب قائم کرے گی؟اعلیٰ عدلیہ اور پاک فوج کو غلیظ گالیاں بکنے والوں کو قوم … جیلوں میں دیکھنا چاہتی ہے … احد چیمہ سے لے کر فواد حسن فواد تک اور حکمرانوں کی من پسند بے اعتدالیوں کے قصے کہانیاں زبان زد عام ہیں' اگر ریاست نے اپنی رٹ نہ منوائی … اور اسی طرح سپریم کورٹ کے معزز ججوں کو عوامی اجتماعات میں للکارا جاتا رہا … تو پاکستان کو مزید عدم استحکام سے دوچار رہنے کے خد شات لاحق رہیں گے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved