چین اور سعودی عرب بھی ساتھ چھوڑ گئے
  28  فروری‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

٭قوم کو کس طرح بے وقوف بنایا جارہاہے! جدید مواصلاتی دور میں جب موبائل فون کے کسی نمبر کو محض چھونے سے ساری حقیقتیںاُبل پڑتی ہیںاور کسی کوگمراہ نہیں کیا جاسکتا، وفاقی حکومت کی ترجمانی کے دعویدار پوری طرح جانتے ہوئے کہ پاکستان کو عملی طورپرFAFTنے بلیک لسٹ میں شامل کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے، قوم کو بتایا جارہاہے کہ ایسی کوئی بات نہیں، ہم محفوظ ہیں ۔ بزعم خود وزیر خارجہ بنے ہوئے وزیر داخلہ احسن اقبال اب بھی قوم کو لوریاں سنا رہے ہیں کہ کچھ نہیں ہوگا، جب کہ وہ کچھ ہوسکتا ہے جس کا تصور ہی مشکل ہے!کیا تصور کیا جاسکتا ہے کہ پاکستان میں ہر قسم کی سرمایہ کاری رک جائے،شدید افراط زر اور مہنگائی شروع ہو جائے، پاکستان کے سارے وسائل عالمی بینک ،آئی ایم ایف اور اقوام متحدہ کے کنٹرول میں چلے جائیں، ملک کے اندر سرمایہ لگانے والے سارے ادارے سرمایہ واپس لے جائیں، عوام پر کمر توڑ ٹیکس لگادیئے جائیں اور ملک کو اقوام متحدہ کا کوئی کنسورشیم سنبھال لے !؟ ان لوگوں، احسن اقبال، خواجہ آصف، مفتاح اسماعیل اور اسحاق ڈار کو ان باتوں کا علم نہیں تھا یا نہیں ہے کہ 70سال کی تاریخ میں پہلی بار چین نے سرعام پاکستان کاساتھ چھوڑ دیا!! جس سعودی حکومت کو ہم پاکستان کی آسمانوں سے اتری ہوئی انتہائی کرم فرما دوست حکومت قراردیتے رہے، اس نے پاکستان کے حق میں کھڑا ہونے سے محض اس لیے انکار کردیا کہ اسے کھربوں کا جدید اسلحہ دینے والے امریکہ نے پاکستان کا ساتھ چھوڑنے کے عوض FAFT کی مکمل اور مستقل رکنیت دلانے کا وعدہ کیا ہے! احسن اقبال صاحب!آپ کو وزارت خارجہ کی ترجمانی کا بہت لپکا ہے۔ وزیر خارجہ گھرمیں بیٹھا رہااور آپ وزارت خارجہ کا نمائندہ بن کر ایک ہفتے کی سیروتفریح پر امریکہ چلے گئے۔ ان دنوں یہ بات عام ہو چکی تھی کہ پیرس میں18 فروری سے شروع ہونے والےFAFTکے اجلاس میں امریکہ کے مطالبہ پر پابندیاں عائد ہونے والی ہیں۔ پاکستان کے سرکاری بزرجمہروں نے اس بارے میں کیا کیا؟ کچھ خبر نہیں۔ پھراجلاس ہوا اور بھارت کے اخبار انڈیا ٹائمز نے خبردی کہ اجلاس میں چین اور سعودی عرب نے پاکستان کا ساتھ نہیں دیا اور اس پر پابندیوں کا فیصلہ ہوگیا ہے۔ اس پر وزیر داخلہ احسن اقبال نے بڑی مسرت کے ساتھ قوم کو مبارک باد دی کہ پاکستان کی بھرپور کوششوں سے یہ معاملہ تین ماہ کے لیے ٹل گیا ہے۔ اس کالم میں اُس وقت بھی لکھاگیا کہ معاملہ ختم نہیں ہوا، تین ماہ کی عارضی مدت ایسے فیصلوں کے لیے ضروری ہوتی ہے۔ احسن اقبال نے بڑے فخر کے ساتھ اعلان کیا کہ چین، سعودی عرب ، ترکی اور ملائیشیا نے پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا ہے۔ اس اعلان کی سیاہی بھی خشک نہیں ہوئی تھی کہ FAFT کی اطلاع آگئی کہ چین اور سعودی عرب نے پاکستان کا ساتھ نہیں دیا۔صرف ترکی نے ساتھ دیا ہے۔ سعودی عرب کا مسئلہ تو اوپر بیان ہوچکا کہ پاکستان سے محبت اور رسمی دوستی کی باتیں اپنی جگہ ،مگرامریکہ کا مفاد اور اس کے احکام زیادہ اہم ہیں۔ پاکستانی حکومت نے سعودی عرب کو راضی کرنے کے لیے پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیے بغیر سعودی عرب فوج بھیجنے کا اعلان کردیاجو حرمین شریفین کی نہیں بلکہ سعودی شاہی محل اور شاہی دفاتر کی حفاظت کرے گی! چین کامعاملہ یہ ہے کہ وہ دنیا بھر میں ایک ابھرتی ہوئی بڑی طاقت ہے۔ پاکستان کا ہر وقت ساتھ دیا ہے مگر اس معاملہ میں وہ دنیا بھر کی مخالفت مول لے کر تنہانہیں ہوسکتا۔ اب اچانک لشکر طیبہ وغیرہ پر سخت پابندیاں لگا کر FAFT کے سامنے سرخ رُو ہونے کی کوش کی جارہی ہے۔یہ کام پہلے کردیا جاتاتو چین پاکستان کویوں اکیلانہ چھوڑتا۔ کس کس بات کا رونا رویا جائے؟ چار سال کوئی وزیر خارجہ نہیں تھا۔ اب چھ ماہ سے کوئی وزیر خزانہ نہیں۔ اسحاق ڈار نے مزید چھ ماہ کی رخصت لکھ بھیجی ہے اور کیسی حکومت؟ کہ بلوچستان کا اقتدار چھن گیا۔ سینیٹ کے انتخابات میں اپنا ایک امیدوارنہیں۔ تجارتی خسارہ بے قابو ہوگیا ہے۔ ڈالر 112 روپے سے بھی آگے جارہاہے۔ سٹاک ایکس چینج 18 فیصد گر گیا ہے۔ ہر ماہ تیل کی قیمتیں بڑھادی جاتی ہیں۔ سرحد پر بھارت کے حملے رکنے میں نہیںآرہے اور حکومتی بزرجمہر عدالتوں کو گالیاں دے رہے ہیں!! ٭سابق وزیراعظم کی صاحبزادی اپنے والد کا غم بٹانے کے لیے حد سے زیادہ آگے نکل گئی ہے۔ پانامہ کیس میں نوازشریف کے خلاف فیصلہ دینے والے پانچ ججوںکو اوئے توئے کرکے سخت نتائج کا چیلنج دے رہی ہے۔ میں اس کے الفاظ کو مجبوراًدہرا رہا ہوں کہ ''پانامہ کیس فیصلہ کے پانچ رکنی سکواڈ! خطرناک لڑائی مت لڑو، اثاثوں کا مت پوچھو، کرپشن دکھاؤ…''وغیرہ وغیرہ! دوسری باتیں اس سے بھی سخت ہیں۔ افسوس کہ ن لیگ میں کوئی ایسا سمجھ دار شخص دکھائی نہیں دے رہا جو ایسی باتوں پر لگا م ڈالے! حیرت کہ راجہ ظفر الحق اوراب نئے سرے سے چہرہ نمائی والے سے ''مدبر'' مشاہد حسین بھی ان باتوں کا نوٹس نہیں لے رہے۔ ایک کالم نگار نے اس خاتون سے صرف اتنا پوچھا ہے کہ بی بی! آپ نے اپنے امتحانا ت کیسے پاس کیے تھے؟کالم نگارنے دوسرا سوال غالباً محفوظ کرلیا ہے کہ بی بی!آ پ کے گھر میں ایک سطر بھی لکھے بغیر پی ایچ ڈی کی ڈگری آنے کا کیا معاملہ تھا؟ اور ہاں مریم بی بی! کبھی آپ کے والد صاحب یا آپ نے نریندر مودی یا کل بھوشن کا نام لیا؟

٭ویسے ہمارا بھی کیا عالم ہے! ملک قسم قسم کے مسائل سے دو چار ہے اور سارے میڈیا اورپریس پرایک ہی بھوت سوار ہے کہ بھارت کی ایک پرانی اداکارہ کا دبئی میں کن حالات میں انتقال ہواہے؟ بھارت کی فلم انڈسٹری نے پاکستان کے فن کاروں، موسیقاروں کو جس ذلت آمیز طریقے سے وہاں سے دھکے دے کر نکالا، اس پر کسی کی غیر ت حمیت نہیں جاگی اور پاکستان کا میڈیا ایک55 سالہ بھارتی اداکارہ کی موت پراس طرح شور مچا رہا ہے جیسے خدانخواستہ کوئی قیامت آگئی ہے! علامہ اقبال نے کیسی بات کہی کہ یہ امت خرافات میںکھو گئی! ٭سپریم کورٹ نے سوال کیا ہے کہ امریکہ کا صدر تو کسی کو ایک کھوکھا بھی الاٹ نہیں کرسکتا،پاکستان کے وزیراعظم نے کس طرح کروڑوں کی سرکاری آسامیاں اپنے پسندیدہ افراد میں تقسیم کردیں۔ پی ٹی وی کے ایک چیئرمین کو دو برسوں میں27 کروڑ دے دیئے گئے۔ اس معاملہ کے آڈٹ کا حکم دے دیا ہے۔ مگر یہ صرف ایک معاملہ تو ہی نہیں، ایک پسندیدہ صحافی کو پیمرا کا25لاکھ روپے ماہوار کا چیئرمین، دوسرے کو پی ٹی وی کا 15 لاکھ کا ایم ڈی…! قومی خزانے کو باپ کامال سمجھ لیا، کوئی اصول، کوئی ضابطہ، کوئی بورڈ، کچھ نہیں۔ بس زبانی احکام پر لاڈلوں کو مالی جاگیریں بخش دی گئیں۔ یہ تو صرف تین مثالیں ہیں۔ سٹیٹ بینک ، نیشنل بینک کے 50,50 لاکھ ماہوار کے چیئرمین اور کیا کیا کچھ !!ملک دیوالیہ ہو رہا تھا اور حلوائی کی دکان پردھمال ڈال کر ناناجی کی فاتحہ پڑھی جارہی تھی! ٭عمران خاں نے خاموشی سے ولیمہ بھی کرلیا ۔ یہ ذاتی معاملہ ہے مگر یہ بات سمجھ میں نہیں آرہی کہ یہ تو سنت رسولۖ کی خوبصورت پیروی ہے، ان باتوں کو راز میںرکھنے کی کیا وجہ ہے؟ میں عمران کی نئی شادی کی پربھی پُرمسرت کامیابی کی دعا مانگتا ہوں! ٭پنجاب کے باغی اعلیٰ افسر دفتروں میں حاضر ہوگئے مگر کام چھوڑ دیا۔ یہ بالکل نچلے ترین ملازمین کا رویہ ہے۔ سرکاری فرائض کی انجام دہی سے انکار پر ان لوگوں کا ملازمت میں رہنے کا کوئی جواز نہیں بنتا!مگر کون پوچھے گا، وہ جو خود ان ملک دشمن حرکتوں کے والی وارث بنے ہوئے ہیں؟


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved