شام… انسانیت کا قبرستان
  2  مارچ‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کے حال پر رحم فرمائے آمین… ''پیرومرشد'' ہو تو ایساکہ جس کا دل امت مسلمہ کے دلوں کے سا تھ دھڑکتا ہو … مولانا محمد مسعودازہر کا پیغام موصول ہوا کہ تمام باطل قومیں اور قوتیں ملک شام پر ٹوٹ پڑی ہیں … یہود بھی' مجوس بھی… کمیونسٹ بھی' نصرانی بھی ' مشرک بھی اور منافق بھی … لیکن اللہ تعالیٰ نے ملک ''شام'' کو بہت سے فضائل اور خصوصیات عطا فرمائی ہیں … اسلام کے دشمن جانتے ہیں کہ حضوراقدسۖ کے فرامین مبارکہ بلاشبہ سچے ہیں اور ان فرامین کے مطابق اسلام کے عظیم عروج کی بنیاد ملک شا م سے پڑے گی۔ یہیں وہ لشکر منظم ہوگا جس کا مقابلہ نہ کوئی طاغوت کرسکے گا اور نہ دجال … چنانچہ دجالی طاقتیں صدیوں سے اسی کوشش میں ہیں کہ شام کو تقسیم کریں… شام کو مفلوج کریں … ''شام'' میں مسلمانوں کی قوت نہ بننے دیں … اور ''شام'' کو ہمیشہ زخمی رکھیں۔ حلب سے لے کر ''غوطہ تک شام کے شہروں کو خوفناک بمباری کا نشانہ بنایا جارہا ہے … نفرت و حقارت کے استعارے اور نفاق کے آخری ستون بشار الاسد کو مضبوط کرنے کیلئے طاغوت پورا زور لگا رہا ہے … روس سرزمین الاسد کو مضبوط کرنے کیلئے طاغوت پورا زور لگا رہا ہے … روس نے سرزمین شام کو تختہ مشق بنانے کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے اپنے تیار کردہ 200 نئے اقسام کے تباہ کن ہتھیاروں کو شام کی خانہ جنگی میں آزمائش کے طور پر استعمال کیا ہے۔ اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے مطابق … شام میں گزشتہ سال دسمبر تک ہلاک شدگان کی تعداد چار لاکھ سے کسی طرح کم نہیں …2011ء کا وہ سال جب شام میں خونی بشار الاسد کے حامیوں اور مخالفین میں خوفناک جنگ کی ابتداء ہوئی … شام میں جاری خونی جنگ ساتویں سال میں داخل ہوچکی ہے۔ اقوام متحدہ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اپریل2014 ء تک کم و بیش نو ہزار بچے اس خونی جنگ کا ایندھن بن چکے ہیں … جبکہ انسانی حقوق کے ایک گروپ نے دعویٰ کیا ہے کہ جولائی2017 ء تک انیس ہزار سے زائدبچے اور 12 ہزار سے زائد خواتین ظالم اور غاصب دہشت گردوں کے ہاتھوں ماری گئیں۔ 2011 ء میں جنگ شروع ہوتے ہی فروری2012 تک چھ سو سے زائد سیاسی قیدیوں کو دیگر سینکڑوں شہری قیدیوں کے ساتھ جیلوں کے اندر ہی شدید اذیت کا نشانہ بناکر ہلاک کر دیا گیا … جبکہ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے اعدادو شمار کے مطابق بشار الاسد کی جیلوں میں فروری2017 ء تک تیرہ ہزاربے گناہ افراد کو پھانسیوں پر چڑھا دیا گیا … ایران اور روس کا حمایت یافتہ صدر بشار الاسد اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہے … لیکن اس کے فوجی غیر ملکی طاقتوں کے ساتھ مل کر بے گناہ مسلمانوں کا جس خوفناک انداز میں قتل عام کررہے ہیں … اس کے تناظر میں اس کا ''مسلمان'' کہلانا بذات خود سوالیہ نشان ہے۔ اندازہ کیجئے روس کی بدمعاشی کا کہ جو اپنے جدید ہتھیاروں کو جانچنے اور پرکھنے کے لئے مسلمان آبادی کو نشانہ بنارہا ہے … اور پھر فخریہ انداز میں اعترافی بیان بھی جاری کررہا ہے۔ سنا ہے کہ شام کے تاریخی شہر ''غوطہ'' کے معصوم اور پھولوں سے بھی زیادہ خوبصورت بچوں کی لاشیں سوشل میڈیا کے ذریعے امت مسلمہ کے غیور مسلمانوں کو جھنجھوڑنے کی کوشش کررہی ہیں … پاکستانی میڈیا کو شراب کے نشے میں مخمور باتھ روم کے ٹب میں گرکر مرنے والی ''سری دیوی'' کا سوگ منانے سے ہی فرصت نہیں ہے … نجی چینلز کے پنڈتوں کے نزدیک ''سری دیوی'' کی موت کی خبر … غوطہ کے سینکڑوں شہید بچوں کی خبروں سے زیادہ اہم ہے … کیوں؟ شائد اس لئے کہ ''سری دیوی'' چاہے باتھ روم میں ہی کیوں نہ مرے … مگر ریٹنگ تو اسی پر ہی بڑھے گی۔ رہ گئی پاکستان سمیت عالم اسلام کے دیگر قائدین کی بات تو اس حوالے سے میرا ذہن کلیئر ہے … صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ پورا عالم اسلام ہی … مخلص ''مسلمان قیادت'' سے محروم چلا آرہا ہے۔ ''قائد'' کے حوالے سے مسلمان یتیم اور بے کس ہیں' یہ جو مسلمانوں کی قیادت کے دعویدار ہیں … یہ حقیقی ''قائد'' نہیں بلکہ مصنوعی لیڈران اور اصل میں غیر ملکی دجالی طاقتوں کی کٹھ پتلیاں ہیں … یہ صرف اتنا ہی بول سکتے ہیں … جتنی اجازت انہیں ان کے امریکی ''آقا'' دیتے ہیں۔ میں ''غوطہ'' کے ''معصوم جنت کے پھولوں'' کا نوحہ نہیں لکھنا چاہتا … کیوں؟ ''نوحہ'' لکھنے سے ان کے معصوم اور کٹے پھٹے خون آلودہ جسموں میں جان نہیں پڑسکتی' لیکن مجھے یقین ہے کہ حلب کے بچوں سے لیکر ''غوطہ'' کے معصوم بچوں اور خواتین کا خون ناحق بہانے والے نہ رب کے آسمان کے نیچے سے نکل سکتے ہیں … اور نہ ہی رب کی بنائی ہوتی زمین سے باہر جاسکتے ہیں … وہ ''خونی درندے'' جہاں بھی جائیں گے … زمین بھی رب کی ہوگی اور اس پر رب العزت کے آسمان کا سایہ بھی موجود ہوگا … اور وہ خونی درندے رب کے عذاب سے کبھی بچ نہ پائیں گے۔

''غوطہ'' کے بے یارو مددگار مسلمانوں کے حق میں کوئی بھی آواز اٹھانے کے لئے تیار نہیں ہے … اور نہ ہی ان مسلمانوں کا میڈیا میں کوئی غم خوار ہے کہ جو ''غوطہ''کے مسلمانوں اور معصوم بچوں کے حق میں عالمی رائے عامہ کو ہموار کرنے کی کوشش کرے … ''غوطہ'' کے باسیوں کا کوئی جرم نہیں ہے … سوائے اس کے کہ وہ کٹر اور راسخ العقیدہ مسلمان ہیں … اور اسدی فوج صرف مسلک کی بنیاد پر کافروں کے ساتھ مل کر ان کاقتل عام کررہی ہے ۔ جہاد و قتال کی عبادت کو پس پشت ڈال کر قائد نما ''کٹھ پتلیوں'' پر بھروسہ کرکے غفلت کی چادر تان کر محوب خواب ہو جانے والی مسلمان دنیا … یاد رکھے کہ آج اگر شام کے شہر غوطہ کی باری ہے تو خدانخواستہ کل میرے اور آپ کے بچوںکی باری بھی نہ آجائے؟ ان کٹھ پتلی نما قائدین اور دجالی میڈیا کے چنگل سے باہر آجائیے … لوٹ آئیے مذہب اسلام اور اس کی عظیم جہاد و قتال والی عبادت کی طرف اس لئے کہ ہمیں اپنے بچوں کا دفاع بھی عزیز ہے۔ یہ ''میڈیا'' سری دیوی ' آشا بھوسلے اور مادھوریوں کا ہے … اگر آج شام کے ہزاروں معصوم جنت کے پھولوں کا اس میڈیا پر کوئی حق نہیں ہے تو کل ہمارے لاکھوں معصوم بچوں کا یہ میڈیا کیسے ''حق'' پہچان پائے گا؟


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved