افغانستان کی طرف سے دوستی کا نیا ہاتھ
  2  مارچ‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

٭افغانستان کے صدر اشرف غنی نے اچانک پینترا بدلا ہے اور پاکستان کودعوت دی ہے کہ آئیے ماضی کے سارے واقعات کو بھلا کرنئے سرے سے دوستی کے لیے مذاکرات کریں۔ ان مذاکرات کے لیے کابل زیادہ مناسب جگہ ہے۔ (اسلام آباد کیوں نہیں؟) ان دنوں افغانستان کے اعلیٰ سطح کے وفود بھی یکے بعد دیگرے پاکستان آرہے ہیں۔ اشرف غنی انتہائی چالاک شخص ہے۔ اس کی ڈوریاں بیک وقت دہلی اور واشنگٹن سے ہلتی ہیں۔ وہ کبھی وار کرنے سے نہیں چُوکتا۔ اس وقت اس پر طالبان کا دباؤ بڑھ گیا ہے۔ امریکہ16 برس کی طاقت آزمائی کے بعد طالبان پر قابو نہیں پاسکا۔ امریکہ کو بھی یقین ہوگیاہے کہ پاکستان کے تعاون کے بغیر افغانستان کامسئلہ حل نہیں ہوسکتا۔ اس کا سنٹرل کمان کاجنرل جوزف بھی بول پڑاہے کہ پاکستان سے مثبت اشارے مل رہے ہیں۔ اور ہم! اتنے ڈرے ہوئے کہ امریکہ کی ایک دھمکی آمیز قرارداد پر ملک کے اندر مختلف رفاہی و تعلیمی ادارے بند کردیئے! یہ وقت تھاکہ خو دداری کا ثبوت دے کر باہمی مذاکرات کیے جاتے مگر کون کرتا؟ مجھے بھٹو، آغا شاہی اور منظور قادر جیسے وزرائے خارجہ یاد آرہے ہیں۔ ٭مسلم لیگ کے نئے سیٹ اپ میں نوازشریف کو وہی حیثیت حاصل ہوگئی جو ایران کے نظام میں صدر پارلیمنٹ اور ہر ادارے سے اوپر 'رہبر' خامنہ ای کو حاصل ہے۔ نوازشریف کو مسلم لیگ ن کا تاحیات قائد بنادیاگیا ہے۔ایک فرق یہ ہے کہ ایران میں خامنہ ای کو صدر، پارلیمنٹ، حکومت اور مختلف اداروں کے سربراہوں کو برطرف کرنے کا مکمل اختیار حاصل ہے۔ میاںنوازشریف کو سرکاری طورپراس طرح کے اختیارات حاصل نہیں مگر غیرسرکاری طور پر ان کی انگلی کااشارہ وہی کام کرے گا جوخامنہ ای کرسکتا ہے۔نئے سیٹ اپ میں شہبازشریف فی الحال قائم مقام ، بعد میں مسلم لیگ کے مستقل صدر بننے جارہے ہیں۔یو ں حکومتی پارٹی گھر کے اندر ہی رہے گی۔ مسلم لیگ کاانتخابی نشان شیر ہے اورشیر کی داستان مشہور ہے کہ ایک بار جنگل کے تمام شکاری درندے شیر کے پاس آئے اور تجویز پیش کی کہ آئندہ تمام درندے جو بھی شکار کریں گے اسے آپس میں تقسیم کیاجائے گا۔ شیرنے تجویز منظورکرلی۔ اگلے روز اس نے ایک بڑا جانور شکار کیا۔ تمام درندے جمع ہوگئے۔شیرنے شکار کے تین حصے کیے۔ کہنے لگا کہ ایک حصہ میرا ہے کہ میں نے شکار کیاہے، دوسراحصہ اس لیے میرا ہے کہ میں جنگل کا بادشاہ ہوں اورتیسرا حصہ کوئی میرے سامنے سے اٹھاکردکھادے! ثابت ہوا کہ شیر شیر ہی ہوتا ہے ، شکاراپنے پاس سے نہیں جانے دیتا۔ ٭چین نے پیرس میں مالیاتی ٹاسک فورس کے اجلاس میں پاکستان کا ساتھ دینے سے گریز کیا۔ اس کی وجہ یہ بتائی کہ کسی مخالفانہ قراردادکوروکنے کے لیے 39میں سے کم ازکم چار ارکان کی تعداد ضروری ہوتی ہے۔ پاکستان کوسعودی عرب ،ترکی اور چین کی حمائت حاصل ہوسکتی تھی مگر سعودی عرب نے حمائت کرنے سے انکارکردیا ۔ باقی تین ارکان کی حمائت ناکافی تھی جو ناکام ہو جانی تھی۔ اس ناکامی میں شامل ہونے کا مطلب خود کو دوسروں کے سامنے تنہا کر لینا تھا۔ چین نے اس کے باعث پاکستان کی حمائت واپس لے لی۔ چین نے پہلی بار عالمی سطح پر پاکستان کا ساتھ چھوڑا۔ مگر چین پاکستان میں سی پیک منصوبے کو نہیں چھوڑ سکتا۔ اس لیے پاکستان کے خلاف اپنی کڑوی گولی پر مٹھاس چڑھانے کی کوشش کی ہے کہ ''پاکستان تو گہرا دوست ہے۔اس نے دہشت گردی کے خلاف بے مثال جدوجہد کی ہے۔ ہم اس کی بہت قدر کرتے ہیں''۔ اور ہمارا عالم کیا ہے؟ مالیاتی ٹاسک فورس کے 39 ارکان میں سے ہمیں صرف ایک ملک ترکی کی حمائت مل سکی، باقی 38ممالک خلاف گئے!! سعودی عرب کی ''لازوال'' دوستی کے بارے میں کیا کیا دعوے نہ کیے گئے، کیا کیا مضامین اور کالم نہ تراشے گئے۔ مگر اس نے امریکہ کے حکم پر عین بیچ منجھدار پاکستان کا ساتھ چھوڑ دیا۔ اس کے پیش نظر چین نے بھی ہاتھ کھینچ لیا! سوال تو یہ ہے کہ پاکستان نے ٹاسک فورس کے 39 ممالک کے ساتھ کب اور کیا رابطے قائم کیے؟ چار سال تک تو کوئی وزیر خارجہ ہی نہیں تھا( اب وزیر خزانہ نہیں)۔ سابق وزیراعظم وزارت خارجہ کو جیب میں ڈالے بیرون ملک سیروتفریح کے دورے (70سے زیادہ) کرتے رہے۔ وزارت خارجہ سوئی رہی۔ اوراب ! وزیر خارجہ گھرمیں اوروزیر داخلہ باہر وزارت خارجہ کولئے پھرتا رہا! ایسے میں یہی کچھ ہونا تھا! بلیک لسٹ میں آنے کی اتنی شدید ضرب کے باوجود وزیر داخلہ بیان دیئے جارہا ہے کہ کچھ نہیںہوگا، ہم بچ جائیں گے! سعودی عرب اور چین نے پاکستان کے ساتھ جوکچھ کیا وہ اپنی جگہ اب دوسرے دوست ایران کی سن لیں۔ اس نے گیس کا معاہدہ ختم کرنے پر پاکستان کے خلاف عالمی عدالت میں 2015ء کے بعد روزانہ دس لاکھ ڈالر ہرجانے کا مطالبہ کیا ہے اور عدم ادائیگی پرعالمی ثالثی عدالت میں ایک کھرب 32 ارب روپے کی ادائیگی کا کیس دائر کرنے کی دھمکی دی ہے۔ ٭محکمہ زراعت کی ایک رپورٹ کے مطابق پارلیمنٹ ہاؤس کیفے ٹیریا،پارلیمانی لاجز،ایوان صدر، وزیراعظم ہاؤس چوہوں سے بھر گئے ہیں (اصلی چوہے!) ان کی تعداد 50 ہزار تک پہنچ گئی ہے۔ یہ چوہے کھلے عام بھاگتے پھرتے ہیں! یہ سلسلہ برسوں سے جاری ہے۔ اس عرصے میں یہ چوہے بھاری نقصان پہنچا چکے ہیں۔ چند سال قبل معلوم ہوا کہ چوہوں نے پارلیمنٹ کی اصلی چھتوں اور سیلنگ چھتوں کے درمیان بجلی کے تمام تار کاٹ دیئے اس سے پارلیمنٹ کا سارا کام رک گیا ۔ چوہے مارنے کے لیے سرکاری طورپر کچھ بلیاں منگوائی گئیں۔ چوہے اتنے بڑے اور اتنی بڑی تعداد میں تھے کہ بلیاں خوفزدہ ہو کر رونے لگیں اوربھاگ گئیں۔ چوہے کی عام عمر ایک سال کی ہوتی ہے مگر چوہیا صرف 15دنوں میں پانچ چھ بچے پیدا کر دیتی ہے یوں یہ تعداد تیزی سے بڑھتی چلی جاتی ہے۔ دنیا بھر میں چوہوں کی 64اقسام پائی گئی ہیں۔ ان میں سیا ہ اور بھورے چوہے زیادہ پائے جاتے ہیں۔ سفید چوہوں کی ایک نسل بھی موجود ہے۔ چوہے ایشیا میں زیادہ پائے جاتے ہیںیہ بہت موٹے ہوتے ہیں ۔ بعض چوہوں کا وزن 500گرام تک ہوتاہے۔ ایک بہت اہم بات کہ ایک نجی فرم کو پارلیمنٹ وغیرہ کے چوہے مارنے کے لیے سالانہ ساڑھے چھ لاکھ روپے کا ٹھیکہ ملاہواہے۔ یہ فرم کیا کرتی ہے؟ ایک اطلاع کے مطابق اس نے 430چوہے مارنے کا ریکارڈ پیش کیا۔ چوہوں کا ذکر ہر ملک کے لٹریچر میں آیاہے۔ ہمارے ہاں صوفی تبسم کی ایک نظم بہت مشہور ہے۔قارئین شائداندازہ لگانے بیٹھ جائیں کہ میں کسی حالیہ سیاسی واقعہ کی طرف اشارہ کررہاہوں ! بہرحال نظم یوں ہے کہ ''چی چُوں چی چُوں چا چا…گھڑی پہ چوہا ناچا…گھڑی نے ایک بجایا…چوہا نیچے آیا…!!''

٭پرویز مشرف کے خلاف پھر سے غداری کا کیس شروع ہورہاہے۔ وہ اس وقت دبئی میں ہے۔ اسے مفرور اوراشتہاری قرار دیاجا چکا ہے۔ اب ریڈ وارنٹ جاری کرنے کے بارے میں فیصلہ کیاگیا ہے مگر شائد اس لیے نہ لایا جاسکے کہ غداری ایک سیاسی معاملہ ہے اور ریڈ وارنٹ صرف سنگین فوجداری جرائم کے بارے میں جاری ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انٹرپول نے حسین حقانی کے خلاف ریڈ وارنٹ واپس کردیاہے۔ اس کے خلاف صرف توہین عدالت کارروائی بنتی ہے جس کی سزا چھ ماہ ہوتی ہے جب کہ ریڈ وارنٹ کے لیے کم ازکم دوسال قید کی سزا ضروری ہے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved