گھوڑوں کی منڈی
  3  مارچ‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

٭آج چاروں صوبوں کی اسمبلیو ںاور قومی اسمبلی میں 52 سینیٹروں کا الیکشن ہورہاہے۔ بہت سی داستانیں چھپ چکی ہیں۔ گھوڑوں کی نیلامیاں بھی عروج پر پہنچ گئیں۔ ایک ایک گھوڑے کی 25 کروڑ سے 40کروڑ تک قیمت سنی جا چکی ہے۔ اس خریداری میں اربوں روپے لٹا کر جو لوگ سینیٹ میں آئیں گے کیا وہ قوم کی ہڈیوں سے یہ اخراجات نہیں نکالیں گے۔ پھر مزید منافع بھی کمانا ہوگا! اورنام جمہوریت کے فروغ کا ! ٭پنجاب حکومت کے محکمہ تعلیم نے جولائی 2017ء میں سکولوں کی سطح پر تقریباً 1250 اساتذہ مختلف مضامین کے لیے بھرتی کیے۔ انہیں مسلسل آٹھ ماہ تک تنخواہ نہیں دی گئی۔ میں نے اس کالم میں محکمہ تعلیم کو توجہ دلائی ۔ اب ایک استاد نے مطلع کیا ہے کہ ایک ماہ (صرف ایک ماہ!) کی تنخواہ دے دی گئی۔ باقی سات ماہ کا کچھ نہیں بتایاگیا! محکمہ تعلیم سارے کا سارا عالمی بنک کی اربوں کی امداد پر چل رہاہے۔ اس میں لاکھوں روپے ماہوار آمدنی والے اعلیٰ افسروں کی فوج جمع ہے۔ ان لوگوں کو مہینہ ختم ہونے سے پہلے ہی تنخواہ مل جاتی ہے۔ شاندار بنگلے، قیمتی بڑی بڑی گاڑیاں، نوکر چاکر اور بے شمار سہولتیں! اور یہ لوگ قوم کے اصل معمار اساتذہ کو سات مہینے کی تنخواہ دینے کے روا دار نہیں! ان اعلیٰ مسند نشینوں کو صرف دو وقت فاقہ کرنا پڑ جائے تو انہیں سمجھ میں آجائے کہ بے چارے تھوڑی سی تنخواہ والے سینکڑوں اساتذہ اور ان کے گھر والے سات ماہ سے فاقہ کشی کی کس اذیت سے گزر رہے ہیں۔

٭اعلیٰ افسر شاہی کے گدی نشینوں کا مزاج یہ ہے کہ ان کا ایک ساتھی14 ارب روپے کی کرپشن پر حراست میں لیا گیا ہے تو اس افسری جتھے نے ہڑتال کردی اور اہم سرکاری دفاتر کوتالے لگوا دیئے۔ انہیںخدشہ تھا کہ احد چیمہ کیس میں کہیں ان کی کوئی شراکت نہ پکڑی جائے۔ مگر ہونی تو ہو کر رہے گی۔ احد چیمہ کی کروڑوں کی مالیت کی 21 بڑی بڑی جائیدادوں کی فہرست چھپ گئی ہے۔ یہ21 جائدادیں اس نے اکیلے تو نہیں بنائی ہوں گی؟ ان کے حصول کے لیے دوسروں کا تعاون ناگزیر تھا۔ اور ان 'ناگزیر' افراد نے بھی کیا کیا گل نہ کھلائے ہوں گے! ستم یہ کہ ریاست کے خلاف افسروں کی سنگین بغاوت کے اس مظاہرے میں تین ایڈیشنل سیکرٹری شریک رہے۔ چیف سیکرٹری نے پہلے تالے کھلوا دیئے مگر اپنے ساتھیوں کی سرخ آنکھیں دیکھ کر اب وہ بھی کہہ رہے ہیں کہ اعلیٰ افسروں کے احتجاج ( عملی بغاوت) کا جواز بنتا ہے! دوسرا ستم یہ کہ حکومت خود ریاست کو مفلوج کرنے والی اس کھلی بغاوت کی سرپرست بن گئی۔ احد چیمہ کا محاسبہ کرنے کی بجائے اس کی اگلے گریڈ میں ترقی کردی اور اسمبلی میں نیب کے خلاف قرارداد منظور کرا دی!! اسی پر کون سا نوحہ لکھا جائے، کیا تبصرہ کیا جائے؟ محافظ بیل ہی فصل کوکھانے لگے تو کیا نوحہ؟ ٭پرانا محاورہ کہ لنکا میں سب باو ن گز کے! عمران خاں نے ایک سے زیادہ بار گھن گرج کے ساتھ دعویٰ کیا کہ خیبرپختونخوا میں پچھلے چار برسوں میں ایک ارب 18 کروڑ نئے درخت لگا دیئے گئے ہیں ۔ ایک نجی ٹیلی ویژن کے مذاکرہ میں پختونخوا کے ایک اعلیٰ سرکاری زرعی افسر نے بتایا کہ صرف 39کروڑپودے لگائے گئے ، 73 کروڑ خود رو پودوں کو بھی اپنی کارکردگی میں شامل کرلیاگیا۔ مزید یہ کہ بیشتر کے صرف بیج اگائے گئے۔ یہ معاملہ صوبائی اسمبلی میں آیا تو وہاں مزید انکشاف ہوا کہ ایک ارب 18 کروڑ پودے اُگانا تو بہت دور کی بات ہے، یہ تعداد39کروڑ سے آگے نہیں گئی۔ ویسے 39 کروڑکی تعداد بھی کم نہیں۔ مگر ہوا یہ مبینہ طورپر صوبے کی نرسریوں سے لاکھوں پودے انتہائی مہنگے داموں خریدے گئے۔ چھ روپے قیمت والا 126 روپے میں اور30,20 روپے والا پودا پانچ سو روپے تک خریدا گیا ۔ اس خریداری وغیرہ پر24 ارب روپے ادا کیے گئے۔ سرکاری طورپر بتایاگیا ہے کہ تین ہیلی کاپٹروں کے ذریعے27 ٹن بیج جنگلاتی زمین پر پھینکا گیا۔ اس کے علاوہ اس بیج کو شمار کرلیاگیا جو درختوں سے پک کر نیچے زمین پر گر جاتا ہے۔ جب کہ خیبر پختونخوا کے سارے جنگلات سخت پہاڑوں پر اُگے ہوئے ہیں ۔ ان کے نیچے بیج نہ اُگ سکتا ہے نہ بارشوں وغیرہ میں ٹھہر سکتا ہے! نجی ٹیلی ویژن کے مذاکرے اور بعد میں صوبائی اسمبلی میں پیش کیے جانے والے سرکاری اعدادو شمار سن کر اور پڑھ کر ذہن حیرت میں گم ہے کہ یہ کیا ہورہاہے؟ ویسے یہ اعدادو شمار نہ بھی ہوں تو ایک ارب 18کروڑ پودے کہاں سے آئے؟ کتنے میں خریدے گئے؟ کیسے لگائے گئے؟ بہت سے اور انکشافات بھی ہیں۔ چلئے دوسری باتیں کرتے ہیں۔ ٭سابق وزیراعظم کا اتنے بڑے عہدہ سے اک دم سڑک پر آجانے کا رنج، غصہ اور صدمہ اوراس کیفیت میں غم و غصہ کا اظہار تو سمجھ میں آسکتا ہے مگر ان کی صاحبزادی سپریم کورٹ کے لیے گالی نما ریمارکس دینے میں ساری حدیں پار کر گئی ہیں۔ پانامہ کیس کا فیصلہ دینے والے سپریم کورٹ کے پانچ ججوں کو بے نقط سناتے سناتے انہیں بدترین انجام کی دھمکیاں دیں۔ اب کہا ہے کہ ان ججوں کو ناکامی، بدنامی اور سوائی کا سامنا کرنا پڑ رہاہے۔ یہ صریحاً بدزبانی ہے۔ دنیابھر میں عدالتوں کے بارے میں اس قسم کے نازیبا ریمارکس نہیں دیئے جاتے۔ امریکہ کے صدر نکسن کو اس کے عہدہ سے الگ ہونا پڑا ، وہ خاموشی سے چلا گیا۔ انگلستان کے ہونے والے بادشاہ، ولی عہد شہزادہ چارلس کی گاڑی کا تیزرفتاری کے جرم میں چالان کیاگیا، اسے عام آدمی کے مقابلے میں ڈیڑھ گنا جرمانہ کیاگیا۔ اس نے خاموشی کے ساتھ جرمانہ ادا کردیا ۔ پاکستان کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو کسی غیر قانونی اثاثوں کی بنا پرنہیں، صرف توہین عدالت پروزیراعظم کے عہدہ سے محروم کردیاگیا۔ انہوںنے کوئی واویلا نہیںکیا ، خاموشی کے ساتھ گھر چلے گئے۔ اور میاں نوازشریف کے خلاف پانچ سینئرججوں نے فیصلہ دیاتو قیامت اور زلزلے آگئے! یہاں تک کہہ دیاگیا کہ خدانخواستہ اب پاکستان باقی نہیں رہے گا! استغفار! ہمارے معاشرے میں خواتین کاایک خاص رکھ رکھاؤ ہوتا ہے۔ وہ آپس میں الجھ پڑتی ہیں مگر کبھی سرعام مخالف مردوں سے یوں لڑائی نہیں لڑتیں۔ کوئی خاتون کسی مرد کو سخت ترین بات کہے اور اس کے جواب میں وہ مرد انہی الفاظ میں اس خاتون کوکوئی جواب دے دے تو معاشرہ اسے قبول نہیں کرسکتا۔ پتہ نہیں مریم نواز کو کب اس بات کی سمجھ آئے گی؟ ٭اور یہ خبر کہ زرمبادلہ میں40کروڑ ڈالرکی مزید کمی ہوگئی ہے اور زرمبادلہ کے ذخائر 18 ارب ڈالر کی سطح پر گر گئے ہیں! 23ارب ڈالرسے 18 ارب ڈالر!! کون ذمہ دار ہے۔ ابھی تو آئی ایم ایف کی بھاری قسطیں بھی ادا کرنا ہے۔ یہ خبر پہلے ہی آچکی ہے کہ چین نے پاکستان میں سی پیک سکیم میں56ارب کی جو سرمایہ کاری کی تھی کرپشن اور بدعنوانیوں کی خبروں پر اس میں سے چھ ارب ڈالر کا سرمایہ واپس لے لیاگیا ہے۔کون ذمہ دار ہے، کون لوگ حکمران تھے؟


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved