حکومت کو بے بس کرنے والاحیرت انگیز واقعہ
  4  مارچ‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

٭سینیٹ کے انتخابات کے نتائج اخبار میںخبروں کے صفحے پر پڑھ لیں۔ پتہ چل جائے گا، دولت کے انبار لٹانے والے کتنے 'محب وطن' لوگ ملک کے اعلیٰ ترین ایوان میں آئے ہیں۔بلوچستان میں تو25 کروڑ روپے فی ووٹ تک قیمت لگ چکی تھی۔ سندھ اسمبلی میں بھی 20 کروڑ تک بات پہنچنے کی خبر آگئی۔ کالے دھن کی اس منڈی میں 'سرخرو' ہونے والوں کے بارے میں کیا لکھاجائے! یہ لوگ اگلے چھ برسوں تک قوم کے اعصاب پر سوار رہیں گے۔ میں اس وقت ایک عجیب حیران کن معاملہ کا ذکر کر نا چاہتا ہوں جس کا علم ہونے پر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس بھی حیرت زدہ رہ گئے۔ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) نام کا ایک ادارہ ملک بھر میں ادویات کی تیاری اور قیمتوں وغیرہ کو کنٹرول کرنے کا کام کررہاہے۔ اس ادارے کے سربراہ چیف ایگزیکٹو نے سپریم کورٹ میں ایک عجیب درخواست دائر کی کہ ''ایورسٹ فارما'' نام کاایک ادارہ ممنوعہ ادویات تیار کررہا ہے۔ جن کے فارمولوں کو دنیا بھر میں منظور نہیں کیاگیا۔ یہ ادارہ ملک بھر میں کثیر تعداد میں غیر منظور شدہ جنسی نوعیت کی دوائیں پھیلا رہاہے۔ اس کا مالک محمد عثمان اتناطاقت ور ہے کہ پچھلے چاربرسوں میں ڈریپ کا کوئی افسر یا اہلکار اس کے ادارے کے اندر نہیں جا سکا۔ ڈریپ کے سارے لوگ اس سے ڈرتے ہیں۔ اس کے خلاف ذرا سی بھی کارروائی کی جاتی ہے تو نیب اورایف آئی اے والے اس شخص کی مدد کے لیے حرکت میں آجاتے ہیں اور ہمارے خلاف کارروائی شروع کردی جاتی ہے۔ اس بارے میں ہمارے خلاف اب تک30 مقدمے درج ہوچکے ہیں۔ ڈریپ کے سربراہ نے مزید کہا کہ دو اساز ادارے کو ڈی آئی جی مختار کی سرپرستی حاصل ہے جوڈریپ کو ہر وقت دھمکا تا رہتاہے۔ یہ ڈی آئی جی نہایت طاقت ور ہے۔ڈریپ والے چارسال سے بے یارو مددگار پھر رہے ہیں! یہ باتیں سن کر چیف جسٹس حیرت زدہ رہ گئے۔ انہوں نے کہا کہ میں اس شخص عثمان کو دیکھنا چاہتاہوں کہ وہ کیا چیز ہے؟ کہیں ایسا نہ ہو کہ مجھے بھی اس کے خلاف مقدمہ واپس لیناپڑے! اس موقع پر وفاقی سیکرٹری صحت نے بھی ڈریپ کے موقف کی حمائت کردی اور کہاکہ نیب اور ایف آئی اے والے اس دوا سازکمپنی کی مدد کر رہے ہیں اور وزارت صحت کو کسی کارروائی پر ہراساں کررہے ہیں۔ فاضل چیف جسٹس نے حیرت کااظہار کیا کہ سرکاری ادارے بھی اس قسم کی درخواستیں دائرکررہے ہیں۔ انہوں نے کمپنی کے مالک محمدعثمان، ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل نیب اور ڈی آئی جی رفعت مختار کو منگل کے روز عدالت میں پیش ہونے کا حکم جاری کردیاا ور آئی جی پولیس اسلام آباد کو ہدائت کی کہ وہ محمد عثمان کی عدالت میں حاضری کویقینی بنائیں! ٭قارئین کرام! اس ماتم نماداستان پر ملک کا چیف جسٹس حیرت کے عالم میں ہو تو میری اورآپ کی حیرت کی کیا اہمیت رہ جاتی ہے؟ بات محض ایک شخص کی نہیں ، پورے نظام کی ہے۔ اس میں ایک شخص ملک بھر میں عوام کو مفلوج کرنے والا زہر بیچ رہاہے اور پولیس نیب اور ایف آئی اے کے اعلیٰ حکام اسے پکڑنے کی بجائے اس کی پوری مدد کررہے ہیں ۔ اس کے خلاف کارروائی کرنے والوں کو ہراساں کررہے ہیں۔مزید یہ کہ ڈریپ والے کہہ رہے ہیں کہ ہم چار سال سے بے یارو مدد گار پھر رہے ہیں! چار سالوں میں کون وزیر صحت، کون وزیراعظم تھا؟ ان لوگوں نے اپنے ہی سیکرٹری صحت کی شکایات کوکیوں نظر انداز کیا ؟ کس مصلحت یا مفادات نے عوام کی تباہی کو روکنے سے منع کررکھا تھا۔اس سلسلے میں تو پچھلے چار سال والی پوری حکومت موردِ الزام قرار پاتی ہے! خونخوار مگرمچھ اور چمگادڑیں ملک کا خون چوستی رہیں اور خو د کو غیر قانونی کارروائیوں کا محاسبہ کرنے کی علمبردار نیب اور ایف آئی اے خود سنگین جرم کی سرپرست بنی رہیں!! استغفار! ان ظالموں کا کون محاسبہ کرے گا؟ ٭قومی اسمبلی کے سپیکر ایاز صادق نے15روز کے اندر بینکوں وغیرہ کے اربوں کے قرضوں معاف کرانے والوں کی فہرست طلب کرلی ہے۔ قومی اسمبلی میں بتایاگیا کہ50 ہزار بڑے افراد اربوں کھربوں کے قرضے معاف کراکے ہڑپ کر گئے! یہ مکروہ اور گھناؤنا کام جنرل پرویز مشرف نے این آر او کے ذریعے شروع کیا تھا۔ اس ملک دشمن قانون کے تحت عدالتوں میں بھاری قرضوں کی نادہندگی کے آٹھ ہزار مقدمے ختم کردیئے گئے۔ ان افراد میں بڑی بڑی 'نامور' سیاسی شخصیات بھی شامل تھیں۔ کھربوں کے ان قرضوں کی واپسی نہ ہونے پر کچھ بنک دیوالیہ ہونے کی حد تک پہنچ گئے۔ مہران بینک بھی ایسے ہی ایک سیکنڈل کے باعث بند ہوا تھا۔ ایک بار پھر پڑھئے کہ 50ہزار افراد نے قرضے معاف کرائے۔ میرے سامنے ایسے تقریباً 20ہزار افراد کی فہرستیں پڑی ہیں جو سٹیٹ بینک نے جاری کی تھیں۔ ان فہرستوں میں بہت سے ایسے عام مشہور نام ہیں جو مختلف شکلوں میں ملک کے اقتدار کی انتہائی بلندیوں تک بھی پہنچے۔ میں کچھ کہہ نہیں سکتا کہ 30 مئی کو تحلیل ہونے والی قومی اسمبلی کے سپیکر تین ماہ کی اس مدت میں کیا کارروائی کر سکیں گے؟یہ بہت طویل اور مشکل کام ہے جو محض فہرستیں پڑھنے سے انجام تک نہیں پہنچ سکتا۔ سپیکر اسمبلی یہ بات بخوبی جانتے ہیں کہ وہ اس ضمن میں کوئی کارروائی نہیں کرسکتے! انہو ںنے وقتی طورپر ایک بات کو ٹالنا تھا سو ٹال دیا۔

٭وفاقی وزیر ماحولیات مشاہد اللہ نے دھمکی دی ہے کہ اعلیٰ عدالتیں حدود میں نہ رہیں تو ان کو کنٹرول کرنے کے خلاف قانون سازی کی جائے گی۔ یہ ایک ایسے شخص کی بڑھک ہے جوخود ایک بار سرزنش کے طورپر حکومت سے نکالا جا چکا ہے اور اب ایک عرصے کے بعد واپسی ہوئی ہے۔ صحافتی آداب کے تحت مجھے اس کانام احترام سے لیناچاہئے مگر جوشخص اس ملک کی محترم ترین شخصیات قائداعظم، مادرملت اور لیاقت علی خاں کے بارے میں بد زبانی کرے کہ ان عظیم شخصیات کا بھی احتساب کیاگیاتھا تو میں اس کا نام احترام سے کیسے لوں؟ بعض افراد کی ناک کے ساتھ زبانوں سے بھی نکسیر پھوٹتی رہتی ہے۔ مسٹرمشاہد اللہ خاں! تاریخ کی کسی کتاب، کسی دستاویزات کے حوالے سے بتا سکتے ہو کہ قائداعظم ، مادر ملت اور لیاقت علی خاں کو کبھی، کسی وقت کس جرم یا بدعنوانی کے تحت کسی احتساب عدالت میں پیش ہونا پڑا؟ یہ صریح یاوہ گوئی ہے۔ ٭مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ نوازشریف عوام میں بہت مقبول ہوگئے ہیں۔ ان کا مقولہ 'مجھے کیوں نکالا' بہت مقبول ہورہاہے۔ مولانا! ذرا یہ فرمائیے کہ آپ مرکز میں نوازشریف کے حامی اور مدح سرار رہتے ہیں تو کیا آپ نے مدح سرائی کے اسی جذبے کے تحت بلوچستان میں نوازشریف کی حکومت الٹانے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیااور پھرنواز شریف کی دشمن جماعت اسلامی کے ساتھ مل کر پرانی مجلس عمل بحال کرلی ہے۔ یہ سب کچھ نوازشریف کی محبت اور مقبولیت کو عام کرنے کے لیے کیا ہے؟


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved