مٹے نامیوں کے نشاں کیسے کیسے
  5  مارچ‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

کوئی مت سمجھے کہ وہ قیامت تک زندہ رہے گا ۔۔۔ اختیارات اور دولت و طاقت کے نشے میں بدمست ہوکر غریبوں کا خون چوس ‘ چوس کر جائیدادیں بنانے والے قومی خزانے کو لوٹ کر صرف جیبیں ہی نہیں بلکہ غیر ملکی بنک اکاؤنٹس بھرنے والے‘ این جی اوز کی آڑ میں عالمی صیہونی طاقتوں کے ایجنڈے کوآگے بڑھا کر ڈالر اور پاؤنڈز سمیٹنے والے دینی مدارس میں دس گیارہ سال زکوٰۃ ‘ صدقات کا مال کھا کر پروان چڑھنے والے اور ڈالر خور این جی اوز کے دستر خوان پر جمع ہوکر اپنے سربلند اساتذہ کرام شیوخ الحدیث اور والدین کی تربیت کو بھلا کر سیکولر لادینیت کی بھینٹ چڑھنے والے بھی یاد رکھیں کہ یہ دنیا اس کی ساری آسائشات اور لذتیں سب عارضی ہیں۔ غیر ملکی این جی اوز کی راتب خوری کرکے ممکن ہے کہ تمہیں امریکہ‘ برطانیہ‘ سری لنکا یا فرانس کے سفارت خانوں میں داخلے کی اجازت مل جائے‘ ممکن ہے کہ ان ممالک کے تمہیں ویزے بھی مل جائیں ۔۔۔ وہاں جاکر وہاں کی رنگینیوں میں تمہیں موج مستی کے مواقع بھی میسر آجائیں ‘ ممکن ہے کہ ملالہ یوسفزئی کی طرح تمہیں وہاں سے کوئی ’’ایوارڈ‘‘ بھی مل جائیں ۔۔۔ مگر تم یہ سب کچھ حاصل کرکے بھی اللہ‘ اس کے رسول ﷺ اور اللہ کے پسندیدہ دین کا کچھ بھی نہیں بگاڑ پاؤ گے۔ یہ دین اللہ کا پسندیدہ دین ہے جو اس دین کی اخلاص سے خدمت کرے گا وہ دنیا اور آخرت میں کامیاب ہو جائے گا اور جس کسی نے جب ‘ جب بھی اس ’’دین مبین‘‘ کے احکامات کو اپنے ذاتی مفادات کے لئے بدلنے کی کوشش کیں جس کسی نے کسی لالچ میں آکر دین کے مفادات کا سودا کیا تو وہ زاندہ درگاہ ہوگیا‘ اگر ساری دنیا کے مجوس‘ مشرک‘ منافق اور یہود و نصاریٰ مل کر بھی چودہسو سال سے اس ’’دین‘‘ کاکچھ بھی نہیں بگاڑ سکے تو ڈالر خور این جی اوز کے ’’دستر خوانی‘‘ ’’مولوی نما‘‘ اور ’’علامہ نما‘‘ اسکالرز بھی اس دین کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے ۔۔۔ کچھ ’’مذہبی بھگوڑے‘‘ بے پیندے کے لوٹے بن کر سوشل میڈیا کے ذریعے سیکولر لادینیت کی حمایت میں قرآن وحدیث کی طرف نسبت کرکے تاویلیں گھڑنے کی کوششوں میں مصروف رہتے ہیں ۔۔۔ ان سے بھی گزارش ہے کہ وہ بھی اپنی ان مذموم حرکتوں سے باز آجائیں اور لوٹ آئیں واپس اسلام اور اس کے احکامات کی طرف ۔۔۔ مساجد‘ مدارس اور خانقاہوں کی طرف کیونکہ صبح کا بھولا اگر شام کو واپس آجائے تو اسے بھولا نہیں سمجھنا چاہیے ۔۔۔ دنیا کی یہ ساری رنگینیاں ایک نہ ایک دن ختم ہو جائیں گی ۔۔۔ یہ سرے محلوں سے لے کر پانامہ تک دولت چھپانے والے ۔۔۔ یہ ریلوے اراضی سیکنڈل کے شہکار‘ اشرف قاضیوں‘ سعید المظفر اور حسن بٹوں‘ قومی خزانے کو اربوں روپے کا چونا لگانے والے شرجیل میمنوں سے لے کر ڈاکٹر عاصم تک ۔۔۔ عطاء الحق قاسمی سے لے کر فواد حسن فواد اور احمد چیمہ تک ۔۔۔ ابھی ’’غضب کرپشن‘‘ کی عجب کہانیاں اور نجانے کتنی چھپی ہوئی ہیں ۔۔۔ یہاں ہر دفتر میں کوئی چھوٹا ہو یا بڑا ’’کرپشن‘‘ کے راستے تلاش کرنے کے مشن پر گامزن ہے ۔۔۔ اس دوران اگر کسی کے اندر کا ضمیر اسے کچوکے دینے کی کوشش بھی کرے تو وہ یہ سوچ کر اپنے ضمیر کو سلانے کی کوشش کرتاہے کہ جب ہمارے سروں پر مسلط حکمرانوں سے لے کر بیورو کریٹ تک سب ہی کرپٹ اور چور ہیں تو ۔۔۔ ہم نے تھوڑا سا حصہ وصول کرلیا تو کونسی بڑی بات ہے۔ کاش کہ ہم سب کچھ وقت قبرستانوں میں بھی گزار لیا کریں‘ قبرستانوں میں جاکر قبروں سے بھی باتیں کرلیاکریں‘ قبروں میں پڑے ہوئے صاحبان قبور کے حوالے سے بھی سوچ لیا کریں ۔۔۔ کیسے کیسے لوگ تھے کہ جو جاسوئے؟ کیسے بڑے بڑے نام تھے کہ جو مٹی کی نذر ہوگئے؟ کیا خوبصورت وجو د تھے کہ جنہیں خاک اوڑھا کر قبر کے گڑھے میں ڈال دیا گیا؟ وہ کہ جو اپنی ’’کرسی‘‘ کو بڑی مضبوط سمجھا کرتے تھے ۔۔۔ وہ کہ جو دس دس سال تک ملک کے بلاشرکت غیرے حکمران تھے ۔۔۔ وہ کہ جن کی شاعری پر لوگ سر دھنستے تھے ۔۔۔ وہ کہ جنہیں اپنے لبرل اور سیکولر ہونے پر بڑا ناز تھا ۔۔۔ وہ کہ جن کے قلم سے لکھے گئے لفظوں کی ایک دنیا قدر دان تھی۔ اگر کسی کو یقین نہ آئے تو اسے چاہیے کہ وہ اسلام آباد کے ایچ ایٹ قبرستان کا تفصیلی دورہ ضرور کرلے ۔ ایچ ایٹ قبرستان سے پوچھے کہ اس نے اپنے دامن میں کس کس کو سمیٹ رکھا ہے؟ ایچ ایٹ قبرستان اسے بتائے گا کہ یہاں اپنے وقت کا جوش ملیح آبادی‘ مولاناکوثر نیازی‘ احمد فراز‘ پروین شاکر‘ صدیق سالک سے لے کر قدرت اللہ شہاب اور نسیم حجازی تک تہہ خاک موجود ہیں ۔۔۔ کیا کبھی کوئی سوچ سکتا تھا کہ ان ’’ناموروں‘‘ کو بھی ایک نہ ایک دن مٹی کی چادر اوڑھنا پڑے گی؟ صرف ایچ ایٹ قبرستان ہی نہیں بلکہ پاکستان بھر کے قبرستان یہ بتا رہے ہیں کہ ہمارے ’’پیٹ‘‘ میں آنے کے بعد نہ کوئی لبرل رہتا ہے اور نہ سیکولر ۔۔۔ قبروں کے اندر منکر‘ نکیر کے سامنے صرف اور صرف مذہب اسلام پر کیا جانے والا عمل ہی کام آتاہے ۔۔۔ دنیا میں اسوہ رسول ﷺ کی‘ کی جانے والی پیروی ہی کام آتی ہے۔ محسن انسانیت ﷺ جو ’’انسانی حقوق‘‘ بتاکرگئے تھے ان انسانی حقوق کی ادائیگی ہی کام آتی ہے ۔۔۔ کاش! کہ ہم قبرستانوں کی اس پکار پر کان دھرلیں؟ اے کاش! کہ ہم دنیا کی چکا چوند میں گم ہونے کی بجائے‘ کرپشن کے ذریعے دولت سمیٹنے کی بجائے امریکہ اور یورپ کی خاطر اسلامی احکامات کو بدلنے کی کوشش کرکے ڈ الر سمیٹنے کی بجائے ہم سب اپنی اپنی اصلاح کرلیں‘ یہ محلات‘ یہ کاروبار ۔۔۔ یہ مال و دولت ‘ سب کچھ یہیں پڑا رہ جائے گا اور ہم سب ایک نہ ایک دن قبروں کے پاتال میں اتر جائیں گے۔ اب بھی وقت ہے سنبھلنے کا‘ اب بھی وقت ہے درست ہونے کا‘ وگرنہ یاد رکھیں ۔ نہ گور سکندر‘ نہ ہے قبر دارا مٹے نامیوں کے نشاں کیسے کیسے


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved