جب ہم برف میں پھنسے؟
  6  مارچ‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

جس دن سینٹ الیکشن کا میلہ مویشیاں سجا...اس دن اس خاکسار نے راولپنڈی سے آزادکشمیر کے خوبصورت شہر ضلع باغ کی طرف علی الصبح ہی سفر شروع کر دیا... کہ جہاں مجلس ورثاء شہداء جموں وکشمیر کی طرف سے کشمیر کے شہیدوں کی یاد میں ایک بڑی کانفرنس کا اہتمام کیا گیا تھا... ہم مری' کوہالہ سے ہوتے ہوئے دھیر کوٹ کے راستے ارجہ پہنچے تو بارش نے آن لیا... لیکن شہداء کشمیر کے ورثاء مولانا محمد مسعود ازہر کے جانبازوں کے تعاون سے موٹر سائیکلوں اور کاروں پر مشتمل ایک بڑی ریلی کی صورت میں ہمیں لے کر... ضلع باغ کے قدیم اور معروف علمی ادارے دارالعلوم تعلیم القرآن میں منعقدہ کانفرنس میں پہنچے... ایک طرف بارش اپنی شدت دکھا رہی تھی تو دوسری طرف کشمیر کے شہیدوں کی یاد میں منعقدہ کانفرنس شیخ الحدیث مولانا امین الحق فاروقی کی زیرسرپرستی اور صدر انجمن تاجران حافظ محمد طارق کی زیرصدارت پوری آب و تاب سے جاری تھی... مولانا ابوجندل حسان اور مولانا عبدالعزیز ایثار نے اپنے خطابات میں شہداء کشمیر کے ورثاء کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تمہارے شہید جگر گوشوں کا لہو رائیگاں نہیں جائے گا... بلکہ شہیدوں کا خون جلد یا بدیر رنگ لا کر رہے گا... اور آزادی مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کا مقدر بنے گی۔ شیخ الحدیث مولانا امین الحق فاروقی اور حافظ محمد طارق نے جہاد کشمیر کے حوالے سے روزنامہ اوصاف کے کردار اور اس خاکسار کے کالموں کو سراہتے ہوئے کہا کہ باغ کے تاجر ہوں' علماء ہوں یا عوام 'کشمیر کی آزادی کے لئے دامے درمے سخنے اپنا کردار جاری رکھیں گے' انہوں نے کہا کہ آزادکشمیر کے مسلمانوں کے دل مقبوضہ کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کے دلوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں ... کشمیر کے مظلوم مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے بھارتی مظالم کو بھلانا ناممکن ہے۔ کانفرنس سے آخری خطاب اس خاکسار کا تھا... میں نے اپنے خطاب میں عرض کیا کہ بارش کی شدت اور موسم کے حسن کو دیکھ کر اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اب کشمیر نے پاکیزگی کی طرف سفر شروع کر دیا ہے ... 6فروری کے دن آزادکشمیر کی حکومت اور اپوزیشن نے مل کر متفقہ طور پر ختم نبوتۖ کے باغی ٹولے کو غیر مسلم اقلیت قرار دے کر... جہاد کشمیر کی کامیابی کی طرف عملی قدم اٹھایا ہے... کشمیر میں ایک لاکھ سے زائد مسلمان بھارتی درندوں کا مقابلہ کرتے ہوئے شہادتوں کے جام نوش کر چکے ہیں... پاکستان کے بعض سیاست دانوں ' اراکین پارلیمنٹ' حکمرانوں اور سیکولر میڈیا کا جہاد کشمیر کے حوالے سے کردار نہایت مشکوک رہا ہے ... حکمرانوں اور میڈیا کا یہی مشکوک کردار ہی آزادی کشمیر کی راہ میں رکاوٹ ہے ' بھارت میں ''گائے'' کو کاٹنے کا الزام لگا کر مسلمانوں کے گلے کاٹنا ہندوئوں کی عبادت بن چکی ہے' بابری مسجد کی شہادت کا المناک واقعہ ہو' گجرات کے مسلم کش فسادات ہوں یا ٹرین میں مسلمانوں کو زندہ جلانے کے واقعات... یہ سب بھارت کا مکروہ خونی چہرہ واضح کر رہے ہیں۔ صبح دس بجے سے شروع ہونے والی کانفرنس کا اختتام اذان عصر پر ہوا۔ عصر کی نماز کی ادائیگی کے بعد ہم باغ سے براستہ ڈھلی' لسڈنہ ضلع حویلی کہوٹہ کی طرف روانہ ہوئے... جہاں 4مارچ کو صبح 11بجے فاروڈ کہوٹہ کے شیر دل باسیوں نے شہداء کشمیر کانفرنس کے انعقاد کا اعلان کر رکھا تھا۔ 3 مارچ کی شام جب ہم باغ شہر سے نکلے تو بارش کا سلسلہ شروع تھا ہمارے ڈرائیور بھائی عامر خطرناک پہاڑی سلسلے کو بڑے ماہرانہ انداز میں کراس کرتے چلے جارہے تھے... میرے دائیں جانب بلند و بالا پہاڑ اور بائیں جانب سینکڑوں فٹ ہولناک کھائیاں تھیں... رات تقریباً8 بجے کا وقت ہوگا کہ کشمیر کے حسین موسم نے ایک دفعہ پھر توبہ شکن انگڑائی لی۔ اب آسمان سے پانی برسنے کی بجائے... روی کے گالوں کی طرح نرم و نازک برف کی برسات شروع ہوچکی تھی... دیکھتے ہی دیکھتے... ہماری گاڑی یا سڑک ہی نہیں ... بلکہ فلک بوس پہاڑوں نے بھی برف کی سفید چادر کو اوڑھنا شروع کر دیا... موسم کا حسن اور دلفریباں اپنی جگہ پر... مگر ٹوٹے پھوٹے خطرناک پہاڑی راستے کی پھلسن نے گاڑی کے سفر کو جاری رکھنا مزید خطرناک بنا دیا۔

لسڈنہ کے قریب فاروڈ کہوٹہ سے باغ کی طرف آنے والی کئی گاڑیاں پھنس چکی تھیں... عامر بھائی کی تمام تر مہارت برف کی پھلسن کے سامنے عاجز آچکی تھی... چیونٹی کی چال چلتے ہوئے بھی جب گاڑی... خود بخود ہی پھلسنا شروع ہوئی تو بھائی سیف اللہ' مولانا عبدالعزیز اور بشارت معاویہ نے بلند آواز سے کلمہ طیبہ کا ورد شروع کر دیا... فاروڈ کہوٹہ اب تقریباً ڈیڑھ گھنٹے کی مسافت پر تھا... مگر پھنسی ہوئی درجنوں گاڑیوں کے ڈرائیور بھائیوں نے ہمیں مخلصانہ مشورہ یہی دیا کہ اگر مزید آگے بڑھے تو ممکن ہے کہ آپ قیامت تک کی نیند میں چلے جائیں... چنانچہ ہم نے واپس باغ کی راہ لی۔ اس موقع پر مقامی کشمیری مسافر بھائیوں نے چاروں طرف پھیلی ہوئی برف میں جان توڑ دھکا لگا کر ہماری گاڑی کو واپسی کی راہ پر ڈالنے میں جو سنہرا کردار ادا کیا وہ یادگار کردار ہمیشہ ہمارے دلوں پر ثبت رہے گا۔ (جاری ہے)


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved